Showing posts with label سدرہ خالد. Show all posts
Showing posts with label سدرہ خالد. Show all posts

Saturday, 9 April 2016

Profile by Sidra Khalid - driving instructor

سدرہ خالد
بی-اس-ااا
ایم-سی/120/2k14
                                غلام علی بلوچ''ڈرائیونگ انسٹرکٹر"
پروفائل
''زندگی ہر ایک انسان کو بہترین بنانے کا موقع ضرور دیتی ہے"
 ایسے ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والا " غلام علی بلوچ" اسی ہی سوچ کا مالک ہے۔ جو اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جسے زندگی نے خود کو سنوارنے کا موقع دیا۔
کم عمری میں کام کی تلاش میں اور کاندھوں پر ذمیداریاں اٹھاۓ حیدرآباد آیا۔ اسٹیٹ لائف کی بلڈنگ جو اس وقت تعمیراتی مراحل میں تھی ، اس کے سامنے بنی بریانی بیچنے والی چھوٹی سی دکان میں ویٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔جس سے اس نے دن کا آٹھ روپے کمانا شروع کیا۔ ان پیسوں سے اسکی ضروریات پوری نہ ہونے کے سبب اس نے قاسم آباد کے ایک گھر میں  بطور نوکر ملازمت شروع کی۔ جہاں سے وہ  مہینے کا 700 روپے کمانے لگا اور اپنی سہولت کے لیے  20  روپے کی قسطوں پر خود کے لیے ایک سائیکل خریدی۔  وہ زیادہ کمانا چاہتا تھا تا کہ گھر والوں کو ایک اچھی رقم بھجوا سکے۔  جدھر ملازمت کرتا تھا وہیں کے ملازم جو اس گھر کا ڈرائیور تھا گاڑی سیکھنے کا مشورہ دیا۔
جس استاد نے اسکو گاڑی چلانا سکھائ وہیں اسے معاشرے کے رموزو اوقاف، ادب و آداب ، رہن سہن سے آگاہ کیا۔انھی استاد نےغلام علی کی زندگی بدل دی۔ 
 یہاں سے اسے 5 ہزار ماہانہ ملنے لگے جو آدھے گھر بھجواتا اور آدھے جمع کرنے لگا۔ کراۓ پر گھر لیا اور اپنے گھر والوں کو اپنے پاس بلالیا۔ انتھک محنت کے بعد خود کے لیے ایک اپنا گھر کرلیا۔ چند مویشی خریدے جن سے کاروبار شروع کیا۔ جسکی زمیداری اپنے چھوٹے بھائ کے سپرد کردی۔ 
سبحان الّلہ ڈرائیونگ سینٹر کے نام سے کاروبار شروع کیا۔
یہ وہ شخص ہے جس نے قلم تک نہیں کبھی اٹھایا۔ جو تعلیم سے ایک فیصد بھی آشنا نہیں۔ جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا  ، بیشک وہ ان پڑھ ہے مگر پڑھی لکھی سوچ کا مالک ہے۔
والدین کو اپنی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ماں باپ کی اتنی عزت کرتا ہے کہ دن کا آغاز اور دن کا اختتام ان کے قدموں کو چوم کے کرتا ہے۔
اس کا ماننا ہے کہ میری ہر مشکلات کا میری تکالیف کاحل میرے والدین کی دعائیں ہیں۔ 
آج میرا اپنا  سبحان اللّلہ ڈرائیونگ سینٹر ہے۔ جو کل تک دوسرے کی گاڑی چلاتا تھا آج اسکی خود کی گاڑیاں ہیں۔ جو کل تک کسی کے گھر میں ملازم تھا آج اسکا اپنا گھر ہے۔  جو کل تک ماہانہ 700 کماتا تھا آج ماہانہ 80،000 روپے  کما رہا ہے۔  
جیسے اس کے استاد نے اسکی زندگی سنواری آج وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہا ہے۔ اور آج وہ آگے بڑھنے کے لیے اور محنت کر رہا ہے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media University of Sindh

 #driving instructor #GhulamAliBaloch  #Profile, #SidraKhalid

Friday, 8 April 2016

Depression among youth - Sidra Khalid

Needs much improvements particularly for causes of suicide
آرٹیکل
سدرہ خالد
بی-ایس:ااا
ایم۔سی/2k14/120
Depression among youth - Sidra Khalid
سندھ کے نوجوان، اور ڈپریشن۔

حالات سےدل برداشتہ ہوکر خود کو ختم کرلینا انتہائ بزدلی کی بات ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں  کو کیوں کوئ اور راستہ نظر نہیں آتا سواۓ خودکشی کے۔ ایسی کیا وجوہات ہیں جو اس حد تک ایک بندہ  پہنچ جاتا ہے۔
ماہر نفسیات کا کہنا ہے پاکستان میں بڑھتے اس رجحان کی وجہ ڈپریشن ہے ۔جسے عام لفظوں میں ذہنی دباؤ کہا جاتا ہے۔
2015 کے میڈیکل سروے سے معلوم ہوا ہےکہ 129 افراد ایک ماہ میں خودکشی کرتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں تقریباّ 46 افراد ڈپریشن کی وجہ سے خود کو ختم کرلیتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد، بیروزگاری، والدین کی علیحدگی، بڑھتی ہوئ اقتصادی عدم استحکام، بچوں سے زیادتی، غنڈہ گردی، بڑھتی ہوئ مہنگائ ،سماجی ہم آہنگی، اس نقصان سے بچنے کے لیے آدمی یہ اذیت سہتا ہے۔۔
کبھی کبھی ہمارا معاشرہ بھی ایسا کرنے کے لیے مجبور کردیتا ہے۔  ہم پر معاشرے کا بہت دباؤہے۔ اور اس معاشرے  میں ہمارے اپنے ہی ہیں جو ہماری سوچنے کی صلاحیتوں  پرحاوی ہوجاتے ہیں۔
جن میں اکثر والدین، استاد،دوست و احباب دیگر وغیرہ شامل ہیں۔ 
یہ وہ لوگ ہیں جو اس دباؤ میں ڈالتے بھی ہیں اور نکالتے بھی ہیں۔ 
سندھ کی نوجوان نسل بھی اس سے بری طرح متاثر ہے۔ اس بڑھتے رجحان کی وجہ سے کئ لوگ خود کو ختم کر رہے ہیں۔
حال ہی میں شکارپور کا 25 سالہ نوجوان سمیت کمار معاشی حالات سے تنگ آکر خود کو موت کے حوالے کر بیٹھا۔
بدین کے 30 سال کے شخص نے بےروزگاری کی وجہ سے خود کو آگ لگادی ۔
تھرپارکر میں 12 سال کے بچے نے کنویں میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی وجہ صرف غربت کی آگ  میں وہ مزید جل نہیں پا رہا تھا۔
امتحان میں ناکامی کی وجہ سے بہت سے  طلبات اپنے والدین کے ڈر کی وجہ سے  اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
حکومت سے انصاف نہ ملنے پر بیشمار لوگ خود کو ختم کرنے پر مجبور ہیں۔

ایسے بہت سے بچے اور دوسرے افراد ہیں جو حالات سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں انھیں سمجھنے والا کوئ نہں ہوتا ان پر گھروالوں اور باہر والوں کا دباو اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، خود کو تنہا کر لیتے۔ہر ایک چیز سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔انھیں کسی چیز کا حل نظر نہیں آتا۔
 اور جب یہ دباؤ اپنی حد تجاوز کر جاتا ہے تو سبب اس نجات کا موت حل بنتی ہے۔
آخر کب تک ہم اس تسلسل کا شکار رہیں گے۔ کب تک خود کو خاموشی کی نیند سلا دیں گے۔ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کم کرنی پڑے گی۔
نوجوان نسل کے خودکش واقعات کے تناسب کو کم کرنے کے لیے طبی اور نفسیاتی مشاورت دینی چاہیے۔اس کی شروعات اپنے گھر سے کرنی چاہیے ماحول کی تبدیلی سے ہی ذہنی تبدیلی آئیگی۔
الغرض اس مقصد کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی ماہرین اور سماجی کارکنوں کو اس رجحان کی روک تھام کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل اس شکنجے سے آزاد ہو سکے۔ اور ہمارے ملک اور خود کے لیے بہتر کارکردگی کر سکے۔ 
Under Supervision of Sir Sohail Sangi 
Media and Communication Studies, University of Sindh
#Depression, #youth,   #suicide #SidraKhalid,