Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts
Showing posts with label آرٹیکل. Show all posts

Friday, 8 April 2016

Depression among youth - Sidra Khalid

Needs much improvements particularly for causes of suicide
آرٹیکل
سدرہ خالد
بی-ایس:ااا
ایم۔سی/2k14/120
Depression among youth - Sidra Khalid
سندھ کے نوجوان، اور ڈپریشن۔

حالات سےدل برداشتہ ہوکر خود کو ختم کرلینا انتہائ بزدلی کی بات ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں  کو کیوں کوئ اور راستہ نظر نہیں آتا سواۓ خودکشی کے۔ ایسی کیا وجوہات ہیں جو اس حد تک ایک بندہ  پہنچ جاتا ہے۔
ماہر نفسیات کا کہنا ہے پاکستان میں بڑھتے اس رجحان کی وجہ ڈپریشن ہے ۔جسے عام لفظوں میں ذہنی دباؤ کہا جاتا ہے۔
2015 کے میڈیکل سروے سے معلوم ہوا ہےکہ 129 افراد ایک ماہ میں خودکشی کرتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں تقریباّ 46 افراد ڈپریشن کی وجہ سے خود کو ختم کرلیتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد، بیروزگاری، والدین کی علیحدگی، بڑھتی ہوئ اقتصادی عدم استحکام، بچوں سے زیادتی، غنڈہ گردی، بڑھتی ہوئ مہنگائ ،سماجی ہم آہنگی، اس نقصان سے بچنے کے لیے آدمی یہ اذیت سہتا ہے۔۔
کبھی کبھی ہمارا معاشرہ بھی ایسا کرنے کے لیے مجبور کردیتا ہے۔  ہم پر معاشرے کا بہت دباؤہے۔ اور اس معاشرے  میں ہمارے اپنے ہی ہیں جو ہماری سوچنے کی صلاحیتوں  پرحاوی ہوجاتے ہیں۔
جن میں اکثر والدین، استاد،دوست و احباب دیگر وغیرہ شامل ہیں۔ 
یہ وہ لوگ ہیں جو اس دباؤ میں ڈالتے بھی ہیں اور نکالتے بھی ہیں۔ 
سندھ کی نوجوان نسل بھی اس سے بری طرح متاثر ہے۔ اس بڑھتے رجحان کی وجہ سے کئ لوگ خود کو ختم کر رہے ہیں۔
حال ہی میں شکارپور کا 25 سالہ نوجوان سمیت کمار معاشی حالات سے تنگ آکر خود کو موت کے حوالے کر بیٹھا۔
بدین کے 30 سال کے شخص نے بےروزگاری کی وجہ سے خود کو آگ لگادی ۔
تھرپارکر میں 12 سال کے بچے نے کنویں میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی وجہ صرف غربت کی آگ  میں وہ مزید جل نہیں پا رہا تھا۔
امتحان میں ناکامی کی وجہ سے بہت سے  طلبات اپنے والدین کے ڈر کی وجہ سے  اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
حکومت سے انصاف نہ ملنے پر بیشمار لوگ خود کو ختم کرنے پر مجبور ہیں۔

ایسے بہت سے بچے اور دوسرے افراد ہیں جو حالات سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں انھیں سمجھنے والا کوئ نہں ہوتا ان پر گھروالوں اور باہر والوں کا دباو اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، خود کو تنہا کر لیتے۔ہر ایک چیز سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔انھیں کسی چیز کا حل نظر نہیں آتا۔
 اور جب یہ دباؤ اپنی حد تجاوز کر جاتا ہے تو سبب اس نجات کا موت حل بنتی ہے۔
آخر کب تک ہم اس تسلسل کا شکار رہیں گے۔ کب تک خود کو خاموشی کی نیند سلا دیں گے۔ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کم کرنی پڑے گی۔
نوجوان نسل کے خودکش واقعات کے تناسب کو کم کرنے کے لیے طبی اور نفسیاتی مشاورت دینی چاہیے۔اس کی شروعات اپنے گھر سے کرنی چاہیے ماحول کی تبدیلی سے ہی ذہنی تبدیلی آئیگی۔
الغرض اس مقصد کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی ماہرین اور سماجی کارکنوں کو اس رجحان کی روک تھام کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل اس شکنجے سے آزاد ہو سکے۔ اور ہمارے ملک اور خود کے لیے بہتر کارکردگی کر سکے۔ 
Under Supervision of Sir Sohail Sangi 
Media and Communication Studies, University of Sindh
#Depression, #youth,   #suicide #SidraKhalid, 

Wednesday, 9 March 2016

بلال مسعو د - حیدر آباد میں سینما گھرو ں کا فقدان

Revised version recieved  too late
----------------------
Too many composing and language mistakes. Please revisit it and correct them, a few are underlined. 
What ever u wrote its away from topic. U should  have given population of Hyderabad, and number of cinemas in past which was not catering the r requirement. U have talked about over all film industry of Pakistan.  Make it Hyderabad based. some figures, reports experts opinion etc. Referred back. Let me know when u are  refiling it. 

Ur feature topic is also not approved and u are not responding despite repeated  emails and reminders
نا م: بلال مسعو د       رو ل نمبر :  132
آرٹیکل

               حیدر آباد میں سینما گھرو ں کا فقدان

 پاکستانی فلم انڈسٹری ایک عر صے سے تاریخی میں ڈوبی ہو ئی تھی ۔ انڈین فلمو ں کا را ج تحا ۔ اور حکو مت نے بھی انڈین فلمو ں نما ئش پر پابند ی لگا دی جسکا اجا م سینما گھرو ں کی تباہی ہو ا ۔ پر جس طر ح پر تاریک را ت کے بعد اجا لا ہو تا ہے اسی طرح رو ل کے بعد عرو ج آتا ہے ۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کے 1970 سے شکا ز زوال کا اختتا م پا نچ سا ل قبل ایک شاندار واپسی کے سا تھ ہو ا ۔ 

نجی چینلز اور پروڈکشن کمپنیز نے پاکستا نی فلم انڈسٹری کی گر تی دیوارکو دوبارہ سیا رہدیا اور لو گو ں کے زہنو ں میں انکے پسند ید ہ چیزوں کا نقش دوبا رہ تاز ہ کیابہترین فلز کی صو ر ت میں جس نے پاکستا نیو ں کا اور خا ص طو ر پر نوا جوا نو ں کا درمیا ں سینما گھرو ں کی طر ف مبزول کیا ۔ انڈین اداکا رو ں سے رجحا ن دوبا رہ اپنے پاکستان اداکارو ں کی طر ف لو ٹ گیا فلم انڈسٹری کی اس تروی کے سا تھ ضرو ر ت اس با تکی بھی تھا کہ اس تر قی کے سا تھ ضرو ر ت اس با ت کی بھی تھا کہ سینما گھرو ں کی تعداد بھی بڑھا ئی جا ئے ۔ 

مگر یہا ں توحال بر عکس یہی تھا ۔ بجا ئے فلم انڈسٹری کی کا میا بی کے ساتھ سینما گھروں کی تعداد بھی بڑھا ئی جا ئے مگر یہا ں تو حا ل بر عکس ہی تھا ۔ سینما گھرو ں کی تعمیر کی طر ف تو جہ رہنے کے التی گنگا بہنیں لگی اور خا ص طور پر پاکستان کے پانچو ں بڑے شہر حید رآباد میں سینما گھرو ں کی تباہی کا یہ حا لا تھا ۔ کہ حید رآباد میں موجو د 22 سینما گھرو ں میں سے اب صر ف اور صر ف 3 ہی کا ر آمد ہیں اور حیدر آبادو ں میں تفریح سبب بن رہے ہیں پر کیا 1.167 ملین کی آبادی والے شہر حیدر آباد کی تفریح کے لئے 3سینما گھروں نہیں ؟

ظاہر ہے جو ا ب ہے نہیں خا ص طو ر پر نئی پسند والد پاکستانی فلم جو کہ انٹر نیٹ پر دیکھا نہیں جا سکتی نہ ہی سی ڈی کی صو ر ت میں دکا نو ں یہ باسانی دستیا ب ہیں وہ صر ف سینما گھرو ں میں ہی دیکھیں جا سکتی ہیں ۔آج کا دور جس تیز رفتاری سے جلدیت کی طر ف بڑھ رہا ہے ہم آج بھی اس سے کو سو دور ہیں دنیا بھر 


میں کروٹ لیتی فلم انڈسٹری نے جدت کے سا تھ اب 30 کے دور میں پہنچ گئی ہے 30 فلز بنا ئی جا رہی ہے مگر پاکستان اور خا ص طو ر پر حیدر آباد میں اس کی نما ئش کے لئے 30 سینما گھرو ں کا فقدان ہے حدیر آباد میں کا ر آمد اصور ف 3 سینما گھرو سہنی مو ش ، بمبینو اور نیو مجسٹک سینما گھر جس میں سے واحد 30 سینما گھرو سہنی مو ش ہے ۔ میدا ن میں اکیلا گھڑا ہو نے کی وجہ سے یہ سینما گھر منہ مانگی قیمت وصو ل کر تا ہے جو کہ عام سینما گھرو ں سے زیا دہ ، وہ اں جا نیو الے نسل کی یہ شکا یا ت ایک طر ف مگر شو ق اور تفریح کی خا طر رح کر نا اہم با ت ہے ۔ انتظا میہ حیدر آباد کیو ں سینما گھرو ں کی تعمیر کی طر ف تو جہ نہیں دیتا ۔ 


کچھ منچلے تو شق اور تجسس مئن شہر قا ئد کا رخ بھی کر لیتے ہیں کیو ں فلم ریلیز ہونے سے قبل ہی اپنا بھر پو ر سجر کر چکی ہو تا ہے جس کی وجہ سے شا ئقین بتے صبری سے انتظا ر کر تے ہیں لیکن جب گنتی کے موجو د سینما گھرو ں پر بلا کا رش دکھا ئی دیتا ہے ۔ تو کر اچی کا رخ کر لیتے ہیں ۔ جس تیزی کے سا تھ حیدرآبادشہر اب تر قی کر رہا ہے ۔ اس میں شاتھ سخت ضرو ر ت اس با ت کی بھی ہے کہ تفریحی مقا ما ت کی تعمیرپر بھی غو ر کیا جائے کیو ں کہ یہ جدید شہر کے عنصر ہیں ۔ پاکستان کا پا نچو ا ں بڑا شہر ہو نے کے با وجو د بھی تفریحی مقا ما ت سے محرو م کیو ں ہے ؟ سند ھ کا دوسرا بڑا شہر مگر سو تیلے بیٹے سا سلو ک کیو ں ۔


گذشتہ چند سالو ں مین حیدر آباد کے اند ر بڑے مالز اور شاپنگ ارینا ز کی تعمیرا ت کا سلسلہ شروع ہے جس میں دکا نیں ، شو رو م ، فو ڈ کو ر ٹ تو موجو د ہیں ہی مگر قا بل عو ر با ت یہ ہے کہ جدید سینما ہیں سہنی پیلس بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں لو گو ں کو سہو لیا ت میسر کر نے کے لئے تا کہ ایک چھٹ تلے سب با آسانی حاصل ہو ۔ اور سا تھ سا تھ یہ با ت بھی اہم ہے کہ دو ر کی جدت نے ہما رے انداز بھی بدل رہے ہیں اب دکا نو ں کے بجا ئے شا پنگ مالز سے خریداری کر شا ں سمجھتے ہیں بڑے بڑے سینی پیکس میں فلم دیکھنے کو تفریحی سمجھتے ہیں بجائے دو ر قدیم کے سہنے تھیٹر میں اور یہ غلط بھی نہیں ہے انسا ن کو اپنا جینے کا طریقہ بہتر سے بہتریں کر نا چا ئیے ۔


بلڈز اس با ت خو د با خو د ہی جا نتے ہیں کہ حید رآبا د شہر میں تفریحی جگہ ، خا ص طو ر پر جدید سینما گھو ن کی تعمیر کی اشد ضرو ر ت ہے اسی وجہ کو باغو ر دیکھا گیا ۔ اور فیصلہ کیا گیا ۔
مگر حیرا ن کن با ت یہ ہے کہ اس شہر کی انتظا میہ کب نیند سے بیدا ر ہو گی اور احسا س ہوگا ۔کہ ان کا بھی کچھ فر ض ہے اس شہر ے تیں،۔ سر کا ری ، حکو م تی سطح پر نئی اور جدید 3D سینما گھرو ں کی تعمیر کے منصو بے بنا ئے جائیں تا کہ حیدر آبادیو ں کے لئے تفریح اور سکو ن کا با عث بنے مگر حا ل یہ ہے وہ سینما گھرجو حید رآباد کی تاریخ کا حصہ تھے اور لو گو ں کے رش میں گھر ے ہو ئے تھے ۔ جب پاکستانی فلم انڈسٹری کا سو ر ج سوا نہزے پر تھا ۔ 


اب ان سینما گھرو ں کی جگہ بازارو ں ، دکا نو ں ، بلڈنگ یا پھر شا دی بالو ں نے لے لی ہے۔ مطلب کے اچھے وقت کے لو ٹنے پر ان سینما گھرو ں کی خالی کا کوئی امید باقی نہ رہنے اور اب اس وقت میں جب سینما گھرو ں کی ضرورت ہے انتظا میہ ہا تھ پر ہا تھ دھرے بیٹھی ہے ۔ نئی تعمیرا ت کی طر ف کو ئی اقدا م نہیں ۔
کیو ں انظا میہ حیدر آباد کے شہریو ں کی تفریح کا نہیں سو نچتی شدید ضرو رت ہے اس با کی کہ حیدر آباد کے شہریو ں کے لئے فیصلے کئے جا ئیں خا ص طو رپر نو جوا ن نسل کی تفریح کے لئے اقدامات کئے جائیں اور وقت کو جدت اور کے حسا ب سے حیدر آباد مین سینما گھر تعمیر کئے جا ئیں خا ص طو ر پر 3D سینما گھر ۔
Under supervision of Sir Sohail Sangi
#BilalMasood, #SohailSangi, #Hyderabad, #Cinema, 

Saturday, 20 February 2016

Civil Hospital Hyderabad by Maryam Malik حیدرآباد سول اسپتال


آرٹیکل
حیدرآباد سول اسپتال
مریم ملک
سندھ کے دوسرے نمبر بڑے شہرحیدرآباد میں قائم سول اسپتال انتظامی لحاظ سے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے ماتحت ہے۔ ٹیچنگ اسپتال ہونے کے باعث اس اسپتال میں ھاﺅس جاب کرنے والے ڈاکٹر س اور پوسٹ گریجوئشن کرنے والے ڈاکٹرس کے علاوہ حکومت سندہ کے محکمہ صحت کے مقرر کردہ ڈاکٹر ز بھی یہاں تعینات کئے ہوئے ہیں۔ 

یہ اسپتال 1881 میں میڈیکل اسکول کے طور پر قائم ہوا تھا۔ 1942 میں اسے کالج کا درجہ دیا گیا۔ اور اب لیاقت یونیورسٹی آف میڈکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ماتحت ہے۔ 

یہ ہسپتال انتظامی تنازعات، افسران کی عدم دلچسپی، کرپشن اور مجرمانہ غفلت و خاموشی کے باعث شدید بد انتظامی کا شکار ہے ۔جہاں سندھ بھر سے آئے ہوئے مریضوں کو مشکلا ت اور مایوسی کا سامنا ہے۔بیشتر ڈاکٹرز واسٹاف وقت کی پابندی نہیں کرتے ، سو ل اسپتال کے کئی وارڈز اور ایڈمنسٹریشن بلاک موئن جو دڑو کا منظر پیش کررہے ہیں۔سندھ کے 15 سے زائد اضلاع کے لئے قائم و ا حد مرکزی سول اسپتال میں غریب مریض ہزاروں روپے خر چ کرکے علاج کی غرض سے اس اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

سالانہ کم وبیش ایک ارب روپے کی بجٹ ہونے کے باوجود سول اسپتال میں علاج کی سہولیات کا فقدان ،اکثر ادویات کی عدم فراہمی ، غیر معیاری ادوایات ، اسپتال میں سرکاری لیبارٹری ہونے کے باوجود مریضوں کو دیگر نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے جیسے مسائل ہر مریض کا مسئلہ ہیں۔ 

سول اسپتال میں مریضوں کے لئے وارڈ میں ایک بھی بیت الخلا قابل استعما ل نہیں، جہاں تک کہ تمام کے تما م واش روم کے دروازے ٹوٹے ہوئیں ہیں ، مریضوں اور ان کی عیادت کے لئے آنے والے ہزاروں افراد کو رفع حاجت کیلئے پانی تک کی سہولت مہیسر نہیں ہے۔

 اسپتال میں وارڈ کے زیاد ہ تر پچھلے حصہ میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر بنے ہوئے ہوئے ہیںایسا لگتا ہے سول اسپتال ،اسپتال نہیں گندگی اور غلاظت کا مرکز ہے، اسپتال آنے کے بعد مریضوں اور رشتہ داروں کو شدید اذیت اور مایوسی کا سامنا کرپڑتا ہے ۔ انتظامی امور میں نااہل سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو اسپتال کا میڈیکل سپرنٹینڈنٹ تعینا ت کئے جانے کے باعث اسپتال میں کرپشن ،مریضوں کو سہولیات کے فقدان پر افسران مفاہمت اور مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں۔ جبکہ اسپتال میں زیادہ تر ڈاکٹر ز اور عملہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھانے کے بجائے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے اسپتال انتظامی لحاظ سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

سول اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی سے لیکر گائنی، میڈیکل، ای این ٹی، بچکانہ وارڈ، برنس وارڈ، کارڈیک وارڈ یا انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں جانے سے محسوس ہوتا ہے کہ کئے دن سے بیڈ شیٹس بھی تبدیل نہیں کی گئی ہیں۔ بدبوء کے اس عالم میں مختلف وارڈز میں زیرعلاج مریضوں کے ساتھ آنے والے ان کے اٹینڈنٹ بھی کئی بیماریاں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
 اسپتال میں مقرر کردہ انیک ملازمیں مختلف سیاسی جماعتوں کے رکن ہونے کے باعث کئی مہینوں تک اسپتال کی جانب آنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔

 ایکسرے ، الٹراساﺅنڈ، سی ٹی اسکن کے علاوہ دیگر ٹیسٹیں بھی کی جاتی ہیں، لیکن ان کی مقرر کردہ فیس کسی بھی خانگی لیباریٹری سے کم نہیں ہے، اس صورتحال کے باعث مریض یا مریضوں کے ساتھ آنے والے اٹینڈنٹ کو مالی طور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سول اسپتال کے بچکانا وارڈ میں قائم یونٹس ہوں یا گائنی وارڈ میں لیبر روم ، ہر جگہ جونئر ڈاکٹرس ہی نظر آتے ہیں، جن کی سپروائزنگ پوسٹ گریجوئئشن کرنے والے ڈاکٹر کرتے ہیں۔

 اسپتال کے اسٹور روم سے ادویات کی چوری خبریں کئی بار اخبار ات کی زینت بن چکی ہیں۔ باوجود اس کے اسٹور کے انتظامات وہ ہی چلا رہیں، جن پر چوری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

 سول اسپتال کا حیدرآباد میں قائم یونٹ سٹی یونٹ کہلاتا ہے، جب کہ جامشورو میں بھی اسی اسپتال کا یونٹ ہے، جہاں پر بھی وہ تمام وارڈز موجود ہیں، جو سٹی یونٹ میں ہیں۔فرق یہ ہے کہ سٹی یونٹ میں ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا، جس کے لیے ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر کے علاوہ اور بھی آپریشن تھیٹر موجود ہیں،جبکہ اکثر آپریشن جامشورو میں کیے جاتے ہیں۔

 اسپتال کے سابقہ ایم ایس ڈاکٹر رفیق الحسن کھوکھر، ڈاکٹر خالد قریشی اور دیگر کے خلاف محکمہ نیب میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات بھی چل رہی ہے، جس میں امکانی گرفتاری کے خوف سے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت بھی لے رکھی ہے۔ اس اسپتال کے بجٹ سے کرپشن کی کہانی عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے، مگر اس کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدگی کا کبھی بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ کرپشن اس اسپتال کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، اگر اس پہ قابو نہیں پایا جاسکا اور اسی طرح ہی اندھیر نگری چوپٹ راجاچلتا رہا تواس اسپتال کا حال بھی موئن جو دڑوجیسا بن جائیگا اور اس اسپتال میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی یہ اسپتال کوس گھر بن جائے گا.
#HyderabadCivilHospital, #Hyderabad, 

Tuesday, 9 February 2016

DJ parties in Hyderabad

it is too short. 

شہریار رول نمبر2K-14/MC-147 BS - Part-III
آرٹیکل 
حیدرآباد میں ڈی جے پارٹیز 
موسیقی روح کی غذاہے اور مختلف لوگوں کی پسندموسیقی کو لے کے مختلف ہوتی ہے۔ پہلے دور میں کلاسیکل موسیقی کوپسندکرتے تھے لیکن اب نئے دور میں پاپ میوزک کو پسند کیا جاتا ہے۔

 حیدرآباد میں "ڈے جے پارٹیز"کا دور عروج پر چل رہا ہے اس وقت ہر مہینے 2سے 3پارٹیز لازمی ہوتی ہیں جو کہ پیسے کمانے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ میوزیکل تقریبات تو ہوتی ہی رہتی تھی حیدرآباد میں لیکن پھر بدلتے وقت کے ساتھ اب ڈی جے پارٹیز کا دور آگیا ہے
 اس قسم کی پارٹیز کا سلسلہ شروع ہوا 2012میں جب ایک نویں جماعت کے لڑکے نے ایک پارٹی آرگنائز کی جس کا نام "الف سے آزادی"تھا جو کہ ایک نہایت کامیاب پارٹی تھی اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے نوجوان لڑکوں نے ڈی جے پارٹیز کو اپنا پروفیشن بنا لیا ہے اوراس سے پیسے کما رہے ہیں۔

 ہر ڈی جے پارٹی کسی خاص موضوع پر مشتمل ہوتی ہے مثال کے طور پر نئے سال کے لئے New Year DJ Partyاس طر ح مختلف مواقعوں میں مختلف ڈی جے پارٹیز آرگنائز کی جاتی ہیں۔ ڈی جے پارٹی آرگنائز کرنے کا مقصد پیسے کمانا ہے۔ ہر ڈی جے پارٹی میں جانے کیلئے اس پارٹی کا ایک مخصوص انٹری ٹکٹ ہوتاہے ۔اس طرح کی پارٹیز کے لیے نوجوان بہت پر جوش ہوتے ہیں اور ہر کوئی کوشش میں ہوتا ہے کہ اس پارٹی کا حصہ بن سکے۔

 پارٹی کے حوالے سے لوگوں کو فیس بک کے ذریعے ایک ایونٹ پیج بنا کر آگاہ کیا جاتا ہے اس پیج پر پارٹی کے حوالے سے ہر معلومات موجود ہوتی ہے انٹری ٹکٹ کی قیمت سے لے کر پارٹی میں آنے والے فنکار اور پارٹی کس جگہ پر ہورہی ہے یہ سب معلومات موجود ہوتی ہیں۔آجکل سوشل میڈیا کو اس حوالے سے بہت استعمال کیا جا رہاہے۔ڈی جے پارٹیز کو صرف نوجوان لڑکوں میں مقبولیت حاصل ہے بلکہ لڑکیاں بھی ان پارٹیز کو پسند کرتی ہیں۔

 ڈی جے پارٹی کو کامیاب بنانے کیلئے چند چیزو ں کا ہونا لازمی ہے جیسے کہ اچھا فنکار بلایا جائے جسے حیدرآباد کی عوام پسند کرتی ہو اور اس کے ساتھ ایک اچھی اور مشہور جگہ ہونا لازمی ہے جس کا نام سن کر ہی لوگ دوڑے چلے آئیں ڈی جے پارٹی میں لائٹس ، ڈانسنگ فلور اور میوزیکل بینڈ ہوتا ہے جو کہ عوام کولطف اندوز کرتا ہے ۔ 

پارٹی آرگنائز کرنے کے پیچھے ایک پوری ٹیم ہوتی ہے ۔ پارٹی آرگنائز کرنا کسی ایک کے بس کی بات نہیں مگر آرگنائزنگ میں صرف انہی بندوں کا نام ہوتا ہے جو کہ پارٹی کے اوپر اپنا پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں ۔ اکثر و بیشتر اس قسم کی پارٹیز میںنقصان کا سامنا کرنا پڑتاہے او رکبھی کبھی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے ویسے تو اس قسم کی پارٹیز میں کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوتا مگر پھر بھی ڈی جے پارٹیز کی آرگنائزنگ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 

Education in Sindh by waris

see composing format.
There is no such institution or orgnaisation :  ڈپٹی اکاﺅنٹنٹ جنرل ایجوکیشن،سیکورٹی اینڈایجوکیشن
وارث بن اعظم
2K14/MC/102
آرٹیکل: سندھ میں تعلیم کا معیار

 دانشور کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کہ اگر تین طبقے اساتذہ، عدلیہ اور فوج ٹھیک ہو جائے تو پورے ملک کا نظام ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن "وجدان" کا کہنا ہے کہ اگر صرف اساتذہ
ہی اپنا فرض احسن طریقے سے نبھانا شروع کردیں تو ملک کو ترقی کی راہ پر سفر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا،کیونکہ عدلیہ اور فوج بھی اساتذہ ہی کی تربیت کا نتیجہ ہیں، جس طرح
کی تربیت ہو گی نتیجہ بھی ویسا ہی آئے گا۔

 کچھ عرصے پہلے ڈپٹی اکاﺅنٹنٹ جنرل ایجوکیشن،سیکورٹی اینڈایجوکیشن کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس کے مطابق اس وقت سندھ میں اساتذہ کی کل تعداد155,000ہے ،
جس میں سے 25000 گھوسٹ اساتذہ ہیں،
 
روز و شب کے میلے میں غفلتوں کے مارے لوگ
  شائد یہی سمجھتے ہیں ہم نے جس کو دفنایا تھا بس اُسی کو مرنا تھا

سندھ میں شعبہ تعلیم کی زبوں حالی ڈھکی چھپی بات نہیں، ایک طویل عرصے سے یہ شعبہ مخصوص رفتار کا شکار ہے، جو اسے پیچھے کی طرف 
دھکیل رہی ہے، یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ ان حالات کی ذمہ دار وہ وڈیرہ سوچ ہے جس نے اس نظام کو کھبی پنپنے ہی نہیں دیا،شعبہ تعلیم کی نا گفتہ با صورتحال کے حوالے سے اعداد
 و شمار ہمارے سامنے بکھرے پڑے ہیں، آئے دن صوبہ سندھ کے سرکاری اسکولوں کی داستانِ الم سناتی ہوئی اخباری رپورٹیں بھی نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں لیکن مسائل کا انبار 
جوں کا توں ہے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ ان میں سے اکثر کو غیر فعال قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ بقیہ اسکولوں کی تعداد فائلوں میں ہی نظر آتی ہے،جاگیردانہ
 نظام کے تحت کُچلے ہوئے غریب عوام کے لئے سرکاری اسکولوںمیں تعلیم حاصل کرنے کی عیاشی بھی چھینی جا چکی ہے، اساتذہ کے ذہنوں میں یہ بات پروان چڑھ چکی ہے کہ پڑھانے کی کیا
 ضرورت ہے، یہ ایک مخصوص ذہنیت ہے جو خصوصاََ سرکاری اسکولوں کے اسا تذہ کے ذہنوں میں بیٹھ گئی ہے۔

 سندھ میں تعلیمی اداروں کی کمی، پبلک سیکٹر ےونی ورسیٹیز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہونا، میرٹ کو نظر انداز کرنا، گھوسٹ اساتذہ کی تقرریاں، فنڈز میں ہیر پھیر،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے 
کہ آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی2013-14کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں تعلیم کے نام پر 13اعشاریہ53بلین کے فنڈ کا غلط استعمال ہوا ہے۔اسکے علاوہ ایسی بھی خبریں ہیں کہ سرکاری 
اسکولوں کی عمارتوں کو مقامی ذمینداروں اور جاگیرداروں کی جانب سے مویشی پالنے اور گیسٹ ہاﺅس کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔
دیگر ملکوں کے تعلیمی نظام پر نظردوڑائی جائے تو وہاں پر وقت کے ساتھ ساتھ کتابیں بدل دی جاتی ہیں مگر سندھ کا حال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے 1990 میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کوئی
 کتاب پڑھی ہے تو اُسکا بچہ وہی کتاب 2016میں پڑھ رہا ہے۔

حالیہ دنوں سندھ ہائیکورٹ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس مین کہا گیا ہے کہ سندھ کے تعلیمی نظام کو دہشتگردوں اور خود کش حملوں سے نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں رائج بد عنوانی، جاگیرداروں
اور وڈیروں سے خطرہ ہے، اسی رپورٹ کے مطابق غیر فعال اسکولوں سمیٹ تمام تعلیمی اداروں کے لئے سالانہ بجٹ مختص اور جاری ہو تا ہے جو کہ بد عنوانی کی نظر ہو رہا ہے۔ یہ رپورٹ ایوانوں 
میں بیٹھے اشرافیہ کے لئے باعثِ شر مندگی ہے کہ جہاں دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں کو دہشتگردی کے ذریعہ نشانہ بنا یا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف سندھ میں یہ حالات ہیں۔
معاشرے کی ترقی کا بنیادی راز تعلیم ہی ہے مگر سندھ کا حال یہ ہے کہ اسکول ہیںتو پڑھانے والا نہیں ہے ، پڑھانے والا ہے تو کتابیں نہیں ہیں اسکے ساتھ ہی نقل کا کلچر بھی زور و شور سے جاری ہے ،
 اندرونِ سندھ کا تو یہ حال ہے کہ میٹرک اور انٹر کے طلبہ کراچی کو چھوڑ کر وہاں کے اداروں کا رُخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں نقل کر کے اچھے نمبرحاصل کئے جاسکتے ہیں۔



Wednesday, 3 February 2016

Pollution in Kotri mill area

to be checked
In article give some current reference, it should be some thing happened regarding pollution in Pakistan, world etc , or some related incident in Kotri. Describe in 2 sentences what is pollution? Many spelling mistakes. 
There are some research reports and reports of govt org on the topic. u should have referred those.
سجا د علی لاشاری ماس کمیونیکیشن 2k14
رول نمبر: 163 
کلاس:iii ایئر 
 (آرٹیکل)

    انڈسٹریل ایریا کوٹری میں ماحولیاتی آلودگی 
 سجا د علی لاشاری 

اس دنیا کا نظام صفائی ستھرائی پر قائم ہے اور اللہ کو بھی صفائی بہت پسند ہے ےہ بات اللہ کی پاک
 کتاب سے ثابت ہے لکن نہ تو ہم اپنے گھر کو ساف ستھرہ رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے ماحول کوصاف 
کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب بھی ہم ریل گاڑی میں سفر کرتے ہیںتو راستے میں چمنی دیکھنے میں آتی ہے سے چمنی نکلتے دھواں کا رنگ کالا ہوتا ہے جو کے خوش گوار ماحول کو آلودہ بنانے کا باعث بنتا ہے اےسی فیکٹری کے مالکان یہ بھول جاتے ہیں کے وہ خود اور ان کے بچے بھی ایسی فظا میں سانس اور جنم لیتے ہےں جس فظا کو اپنی لاپرواہی کے بنا پر خراب کر رہے ہیں ۔ 

کوٹری انڈسٹریل ایریا میں(دوسو ساٹھ)فیکٹریز ہےںجن سے نکلتا دھوںکوٹری اور اس کے آس پاس بسنے والے گھروں گوٹھ اور شہروں کو بھی متاثر کر رہا ہے لےکن اب اس معملے نے سنجےدگی کی شکل اختیار کر لی ہے حکومت سندھ کا ےہ اعلان تو اپنے جگہ اہمےت رکھتا ہے کہ انڈسٹریز کو ترجی دینے سے بے روزگاری کا کافی حد تک خاتمہ ہو گےا ہے لکن اس سے کئی زےادہ زمینی ترکاری ، فضا ،اور انسانی جسم کو بھی خطرہ لاحق ہے بطورہ خاص چمڑہ رگنے والی فیکٹریز سے نکلنے والا زہر الود ہ پانی ٹریٹمینٹ پلانٹ سے گزارے بغیر نہروں اور دریاوں میں شامل کر دےا جاتا ہے جس سے کھیتوں میں اوگنے والی فصلیں بھی زہر الود ہو تی جا رہی ہےں آج جس قدر بھیانک اور موزی بیماریاں انسانی صحت کو لاحق ہےں پہلے کبھی نہ تھی لاکھو ں روپے ہضم کرنے والی انتظامی اداروں کے پاس ایتنا وقت نہیں کے وہ اب اس جانب تواجہ دے۔جبکہ صفائی کے ناقص نظام کی واجہ سے کوٹری جیسے شہر کی فظاءمیں ہر دن دھویں کی چادر بچھی رہتی ہے اور نہ ہی انتظامیاں کوئی خاص عملی اقدامات کو عمل مہ لانے کا کوئی خاص کردار ادا کررہی ہے ہم امومن گرمیوں کے موسم میں گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے نہروں اور دریاوں کا رخ کرتے ہےں جس سے جلد کے امراض کا شکار ہوتے ہےں اس جرم میں متعلقہ انظامیہ ، ادارے اور یسوریج کا گندا پانی شامل کرنے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔ ایک ریسرچر کے مطابق پلاسٹک کے برتن میں کھانا ڈالنے اور گرم کرنے سے کینسر کے اثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن مرغ چنہ فرخت کرنے والے پلاسٹک کے کےمےکل ڈرموں میں چنہ بھیگو کر رکھتے ہےں جس سے نہ جانے کیتنے بیکٹیرےا ہمارے پیٹ میں اپنا گھر بسا کر بےٹھے ہیں 

سائنس دانوں کے مطابق دنےاں میں ماحولیاتی تبدیلی انسا نی بقا کے لیے سب سے بڑ ا خطرہ ہے جس سے دنیا بھر کے سمند ر وں کی سطح ہر سال اٹھ سے دس فٹ بلند ہو رہی ہے اسی طرح آنے والے چالیس سالوں میں درجنوں ممکنہ خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے حکومت کو چاہیے کے ہر فیکٹریز میں ٹریٹمینٹ پلانٹ نصف کرواے تاکہ ائنداہ کے لیے اسے نقصانات سے بچا جا سکے اورہم اپنے بچوں کا مستقبل بھی سنوار سکے کیونکہ صحت مند اعوام ہی صحت مند پاکستان کا مستقبل ہے 

Referred back Furniture of Mehrabpur

Foto symbolizing Mehrabpur or furniture of Mehrabpur is needed. Why furniture of this town is so famous? 
 figures and facts how many carpenters are people are engaged in this work? how much they earn?
and others 
آرٹیکل
تحریر: ملک شاہ جہان 
رول نمبر: 47
 
محراب پور کا فرنیچر 

صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کا ایک شہر محراب پور اپنی ایک تاریخی حیثیت کا مالک ہے ۔میر محراب خان ٹالپر اپنے خاندان کے ساتھ اس شہر میںرہائش پذیر ہوئے تھے اس کے بعد یہاں کے رہائشیوں نے اس جگہ کا نام محراب پور رکھ دیا تھا ۔ایک وقت یوں بھی تھا کہ محراب پور دریائے سندھ کے راستے میںآتا تھا ۔1914ءمیں اس شہر کے لئے ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا گیا ۔یہ شہر ایک مرکز ہوا کرتا تھا بہت خوبصورت شہر جس میںدلکش بازار بھی واقع تھا ۔بروقت گزرتے عدم توجگی کا شکار ہونے کے باعث اس شہر نے اپنی خوبصورتی کھودی اور اب تصویر اور حالات کچھ اور ہی داستان سناتے ہیں ۔ہم پاکستانیوں نے سنوارا تو نہیں نہ بنا سکے ،بلکہ جو ہمارے بزرگوں نے ورثے میں چھوڑا اسے بھی سنبھال کے نہ رکھ سکے اور سب کھودیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی تاریخی حیثیت کھوچکے ہیں ۔
مگر محراب پور اپنے آپ میں ایک خصوصیت رکھتا ہے جو آج بھی قائم و دائم ہے ۔جس طرح شکارپور کا اچار،حیدرآباد کی چوڑیاں ،ملتان کا سوہن حلوہ اپنی اپنی پہچان پاکستان کے کونے کونے میںرکھتا ہے اس طرح محراب پور اپنے تیار کردہ فرنیچر میں اپنا سنگِ بنیاد رکھتا ہے ۔محراب پور کا فرنیچر یوں تو بیرونِ ملک مقبولیت نہیں رکھتا اور نہ ہی خریدا جاتا ہے مگر اس سے محراب پور کے فرنیچر کی ساخت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ محراب پور کا فرنیچر پاکستان کے کونے کونے میں اپنا نام اور مقام رکھتا ہے اور لوگوں کی توجہ اور پسند کا مرکز ہے بلکہ دوسرے لوگ یہاں آرڈر پر فرنیچر بنوانے آتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ فرنیچر محراب پور میں واقع ہے اور دوسرے نمبر پر چنیوٹ میں قائم ہے۔محراب پور شہر کے داخلی راستے سے لیکر شہر کے اندر موجود چوک تک تقریباً ایک ہزار رکاوٹیں موجود ہیںفرنیچر کی آڈھے محراب پور شہر کا کاروبار اور دکانیں فرنیچر کی ہیں ۔

فرنیچر کی بنائی میں مختلف قسم کی لکڑی استعمال ہوتی ہے۔لکڑی کو حاصل کرنا بھی ٹیڑھی کھیر ہے ،باآسانی حاصل نہیں محراب پور میں ہر قسم کی لکڑی جنگلات سے کاٹ کر لکڑی منڈی میںلاکر محفوظ کی جاتی ہے جہاں کے سیٹوپھر اُسے لکڑی کی قیمت ،اہمیت کے حساب سے اسے بیچتے ہیں ،دکاندار وہاں سے ضرورت اور گاہکوں کی ڈیمانڈ کے حساب سے لکڑی لاکر فرنیچر تیار کرتے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستان کے کونے کونے سے یہاں آرڈر پر فرنیچر بنوانے آتے ہیں اور اپنی مرضی کے
 ڈیزائن ،کلر اور خصوصی طور پر لکڑی کا انتخاب کرتے ہیں۔زیادہ تر"دیال"لکڑی فرنیچر کے لئے پسند کی جاتی ہے گاہکوں کی جانب سے۔

"دیال "لکڑی خاصی مہنگی ہے پر بہت مضبوط اور خصوصیات کے لحاظ سے اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔مزید برآں شیشم ،بابول،سیڈار،پاٹن،برچھ،میپل،اوک،پوپلرلکڑی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے فرنیچر کی تیاری میں کم قیمت لکڑی میں پوپلر کا نام سرفہرست ہے بلکہ دیگر مختلف خصوصیات کی بِناءپر مشہور ہیں اور گاہک اپنی معلومات اور پسند کی روشنی میں لکڑی کا انتخاب کرتے ہیں اور آرڈر دیتے ہیں جس کے بعد مرحلہ آتا ہے کاریگری کا،محراب پور کا فرنیچر مشہور ہے اپنے مواد،معیار اورکام کی صفائی کی وجہ سے ۔کاریگروں کی صفائی اور مہارت کا اندازہ فرنیچر کی کٹنگ اور شکل وغیرہ کو دیکھ کر باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

محراب پور سے روز کروڑوں کی رقم کا فرنیچر بنوا کرپورے پاکستان میں بھجوایا جاتا ہے وہاں آنے والے گاہکوں کا کہنا ہے کہ وہ فرنیچر کی پرکھ اور پہچان رکھتے ہیں خاص بات لکڑی ہے جو پسند کروائی جاتی ہے اُس لکڑی سے فرنیچر بنایا جاتا ہے بے ایمانی کی کوئی شکایت آج تک نہیں ملی یہاں کے کاریگر بہت ہنر مند اور ہاتھ میںصفائی رکھتے ہیںکہ فرنیچر کو دیکھ کر دل کوخوشی اور آنکھوں کو ٹھنڈک مل جاتی ہے قیمت وصول کام اور حاصل ہوتا ہے اسی لئے وہ یہاں آتے ہیں کام کروانے۔

محراب پور شہر آدھے سے زیادہ فرنیچر کی دکانوں اور لکڑی کے کاروبار پر مشتمل ہے پر ضرورت اس شہر کے
 ہنر کو مزید اجاگر کرنے کی ہے اور اُبھارنے کی ہے تاکہ بیرونی سطح پر بھی اس کو پزیرائی اور ترقی حاصل ہو۔

Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi


Tuesday, 2 February 2016

Undue use of English

Needs proper editing.
آرٹیکل : فاطمہ جاوید

Roshni Issue: 2
انگریزی زبان کا استعمال 
زبان ایسا ذریعہ اظہار ہے جسکے ذریعے ہم اپنے خیالات کا اظہار بہت آسانی سے کرتے ہیں اور یہ زبان ہی ہو تی ہے جس کے ذریعے ہماری شناخت ہو تی ہے بحیثیت پاکستانی ہماری شناخت ہماری زبان سے ہے اور ہماری قومی زبان کا درجہ اردو زبان کو حاصل ہے ۔ بحیثیت قومی زبان اردو زبان کو جو درجہ ملا ہے وہ اسکو حاصل نہیں ہے اردو زبان کے بجائے انگریزی زبان کو وہ درجہ حاصل ہے جو اردو زبان کا ہے ۔
ہر جگہ انگریزی زبان کا کثرت سے استعمال انگریزی زبان کو ہر جگہ بے تماشا اہمیت دینا ہر چیزیں ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو گئی ہے آج کل ہمارے معاشرے میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے جو شخص انگریزی اچھےءسے بولتا ہو۔ بس وہی شخص صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہے۔
اسی تصور کیوجہ سے بس انہی لوگوں کو ملازمتوں میں بھی صرف زبان اچھے سے بول سکتے ہیں چاہیے ان کی تعلیم قابلیت کچھ بھی نہ ہو اس کے بر عکس وہ افراد جو صرف اردو زبان میں مہارت رکھتے ہیں انکے لیئے ہمارے معاشرے میں خصوصاََ ملازمتوں میں کوئی جگہ نہیں ہو تی چاہے ان کی تعلیم قابلیت بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو ۔
آج کل اپر کلاس طبقے کو انگریزی زبان کا حد سے زیادہ استعمال ہے دیکھا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں تصور پیدا ہو گیا ہے کہ صرف اپر کلاس طبقہ ہی انگریزی زبان کا استعمال کرتا ہے ۔
ہمارے درمیان آج تعلیم کا معیار اس انگریزی زبا ن عبور کی حد تک رہے گئی ہے لوگوں کی سوچ بس یہاں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اچھی انگریزی زبان کا استعمال کرنے والا انگریزی زبان کی اہمیت سے انکار نہیں جس کی ضرورت ہمیں پوری دنیا میں پڑتی ہے 
کیا ہمیں اپنی اصل زبان کو بھول کر انگریزی کی اہمیت دینی چاہیے آخر میں پھر سے یہی بات کہنا چاہوں گی انگریزی زبان کے استعمال سے کوئی انگریز تو نہیں بن سکتا لیکن ہاں اسی کو ہم وطنوں کے لیئے بروئے کار لاکر انسانیت کا مسیحا ضرور بن سکتا ہے۔
انسان کی زندگی میں اگر رابطہ نہ ہو تو زندگی کسی بوج اور پریشانیوں سے کم نہ ہو گی لیکن دنیا میں استعمال ہونے والی مختلف زبانوں نے اس کام کو آسان کر دیا ہے ۔ فرینچ انگلش ، اردو اور چائنیز انسان کا دوسرے ممالک کے انسانوں کے ساتھ رہنا انتہا ئی آسان کر دیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان انگریزی ہے کیونکہ صرف یہ ایک عام آدمی کی زبان ہے بلکہ کمپیوٹر اور موبائل جیسی جدید ٹیکنالوجی میں بھی اس ہی زبان کا استعمال ہو تا ہے ۔
دنیا کے ہر کونے میں انگریزی بولی جاتی ہے چاہے وہ امریکہ کا ایک برا شہر نیویارک ہو یا سری لنکا کا ایک چھوٹا سا قصبہ 
دنیا میں چھ ارب سے زیا دہ لوگ کی آبادی اور 2سو سے زائد ممالک کا وجود ہے جہاں کوئی نہ کوئی شخص اس زبان کا استعمال جانتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ کتابوں کا وجود بھی اس ہی زبان میں ہے جس کی وجہ سے طالب علموں کا ریسرچ کرنا انتہا ئی آسان ہو جاتا ہے 
آج ہمارے ملک میں قومی زبان چاہے اردو ہو لیکن انگریزی کو سرکاری زبان ہونے کا درجہ حاصل ہے ہمارے ملک میں اگر ایک شخص ملازمت کرنا چاہے تو اس کی انگریزی زبان بولنے پر گرفت کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے اور یہ زبان کسی بھی شخص کو خوبیوں کو اضافی چار چاند لگادیتی ہے 
ہمارے ملک میں انگریزی بولنے کا رجحان ہر گزرتے ہو ئے دن کے ساتھ برھتا جا رہا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت پاکستان کے بڑے ملک میں انگلش لینگویج سینٹر کا وجود ہے جہاں لوگ اپنا قیمتی وقت گزار کر اس زبان کو بہتر ین انداز میں بولنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں اور اپنی زندگی طریقے سے گزار سکیں ۔
افراد ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر پر فرد لیے ملک کے مقدر کا ستارہ 
غور طلب بات یہ ہے کہ انگریزی کے استعمال سے ہم انگریز تو نہیں بن جائینگے ۔

فاطمہ جاوید
 ماس کام بی ایس سال سوئم فرسٹ سیمسٹر
 سندھ یونیورسٹی
Jan 2016

http://tribune.com.pk/story/1063486/rethinking-urdus-hegemony/

Saturday, 30 January 2016

Classical romantic stories and today's youth


آرٹیکل

رول نمبر: 2K14/MC/140
نام: محمد رافع خان
کلاس: BS-III 


پرا نے رومانوی قصے اور ان کا آج کے نو جوانوں پر اثر


کہا جا تا ہے کہ اگر آپ اپنے آج میں ہیں تو اپنا کل بھی یا د رکھیں۔ اگر کل آپکا حسین ہے تو اسے ساتھ لے کر چلیں۔ مگر ہماری نو جوان نسل اور کچھ کرے یا نہ کرے پر ا نے محبت بھر ے رومانوی قصے ضرور ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ چا ہے بات ہو ہیر رانجھا کی یا بات کریں شاہجہاں اور ممتاز کی سسی پنو یا شیری فرھاد یا رومیو جو لیرٹ وغیر ہ ۔ ہمارے نو جوان خو د کو ان ہی قصوں کا کر دار سمجھ کر مجنو اور لیلہ بن کر گھوم رہے ہیں۔


 سب سے زیا دہ نقصان اس میں ان کا ہو تا ہے۔ جو واقعی خو د کو اس کر دار میں ڈال کر یہ کر دار خو د پر حا وی کر لیتے ہیں اور خو د کو ان کرداروں سے منسلک کر تے ہیں ۔ یہی نہیں پا گل پن کی انتہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان ناموں سے پکار نے لگتے ہیں۔ اس میں زیا دہ تعداد پڑ ھنے والے لوگوں کی ہو تی ہے جو کہ اسکول کی زندگی سے ہی خو د کو ان کرداروں میں ڈھال لیتے ہیں ۔ اسکول کالج یونیور سٹی کی زندگی تک پہنچنے تک انہوں نے کتنی ہی بار محبت کر لی ہو تی ہے۔

کچھ لو گ خو د پر اس محبت اثر نہیں ڈالتے اور جو لو گ اس میں بری طرح شامل ہو کر اپنے اوپر حاوی کر کے خو د کو ان ہی کرداروں میں سے سمجھنے لگتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ ان کا انجام بھی ایسا ہو نا چا ہیے کسی اچھی کھانی کا ہوتا ہے ۔ پہلے تو یہ سب قصے صر ف کتابوں تک محدو د تھے مگر آج کل میڈیا کے ذریعے ان قصوں پر ڈرامے اور فلمیں بنائیں گئیں ہیں۔


جو آج کل بچہ بچہ دیکھ رہا ہے ۔ اور سو چتا ہے کہ ہم مل کر نہیں جی سکتے تو مر جا نا ہی بہتر ہے۔ بے شک یہ قصے جھو ٹے نہیں ہیں ان کی اپنی سچائی ہے مگر یہ اس زما نے کے قصے ہیں جب نفسا نفسی کا دور نہیں تھا۔ جب لو گ سچے تھے دھو کہ دینا ان کی فطر ت میں نہیں تھا۔ مگر آج کل کے نو جوان ان سب باتوں سے بے خبر اپنی ہی دھن میں ہو کر رہ رہے ہیں ۔ جوان کے دل میں آ رہا کر لیتے ہیں۔ ایسے کتنے ہی نو جوان لڑ کے اور لڑکیاں روزانہ بے نام سی محبت کے بھیت چڑ رہے ہو تے ہیں۔ 


ہسپتال میں ایسے کتنے ہی عاشق مر تے ہو ئے دیکھے جا تے ہیں جو صر ف اپنے محبوب کے لیے زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں جن سے صر ف کچھ عر صے کی محبت ہو تی ہے ۔ اور بھول جا تے ہیں کہ اپنے ما ں باپ اور ان کے اپنوں کو جو ان کی زندگی کی دعائیں دن رات مانگتے ہیں ۔

اگر پرا نے قصوں کی بات کر یں اور ان کی تاریخ پڑ ھی جا ئے تو جان لینگے کہ محبتیں شروع کیسے ہوئی اور ان کا انجام کیا تھا ۔ شاہجہاں جس کے لیے ایک بات مشہو ر ہے کہ ان کی محبت کی مشہو ر نشانی تاج محل ایک خوبصورت محل اپنی بیوی کے لیے بنایا ۔ وہ اپنی بیوی سے بہت پیا ر کر تے تھے ان کی بیوی جن کا نام ممتاز تھا ان کے لیے کہا جا تا ہے کہ وہ شاہجہاں کی 14ویں بیوی تھیں۔ ان کے لیے بنا ئے گئے محل کو دیکھ کر شاہجہان نے اپنے مزدوروں کے ہاتھ کٹوا دیئے تاکہ ایسا محل کوئی دوبارہ نہیں بنا سکے۔



یہ کس طرح کی محبت تھی جس میں اپنی خواہشات اور خوشیوں کے لیے دوسروں پر ظلم کیا گیا تھا ۔ ہمارے نوجوانوں کو وہ محبت تو نظر آئی جو انہوں نے اپنی بیوی سے کی مگر وہ ظلم نظر نہیں آ یا جو انہوں نے جنونی پن میں آکر اپنے مزدروں کے ساتھ کیا۔ خیر یہ تو بادشاہ قصہ تھا ۔ اگر شہزادوں کی بات کی جائے تو وہ بھی کم نہیں ۔ شہزادہ سلیم اور انار کلی کے قصے بھی مشہو ر ہیں۔ انار کلی کو محبت کی سزا یہ دی گئی کہ اس کو زندہ دیواروں میں چنوا دیا گیا کیا آیا اس کے حصے میں۔ شہز ا دہ سلیم نے اس کے مر نے کے بعد بھی کا فی عر صہ اسی جگہ حکمرانی کی ۔

آج کے دور میں نہ تو کوئی با دشاہ ہے نہ کوئی شہزا دہ نو جوان خو د کو خو د ہی سزا دے رہے ہیں۔ نہ ان کو اپنے مستقبل کی فکر ہے نہ کل کی پر واہ ۔ ان قصوں کو خو د پر حا وی کر کے بغیر یہ جا نے کہ اس کا انجام کیا ہوا تھا؟ صر ف ان کر داروں کا نام اور تھو ڑی بہت کہانی سن کر وہ تصور کر لیتے ہیں کہ ہم بھی ان ہی کرداروں میں سے ایک ہیں



۔ زندگی کا مقصد صر ف یہی تک ہے اور یہ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہمیں بھی ایسے ہی یا د رکھا جائے گااور ہمارے قصوں کو دھرایاجائے گا۔ ہم پیار کی ایک مثال قائم کرینگے اور ہمارے نام کی بھی مثالیں دی جائینگی مگر ما یو سی ان کے ہاتھ کچھ نہیں آ تا ۔ مستقبل الگ تباہ ہو جا تا ہے اورخدا کا دیا خوبصورت تحفہ جسے ہم زندگی کہتے ہیں اسی کی نا شکری کر تے ہیں اور اپنے لیئے مو ت کا سفر تعین کر لیتے ہیں۔



Saturday, 23 January 2016

بڑے شہر اور ڈاکٹرز مافیا

سمعیہ کنول    
رول نمبر 95

بڑے شہر اور ڈاکٹرز مافیا
بچپن سے ایک مشہور محاورہ سنتے آئے ہیں کہ نیم حکیم خطرہ ِ جان ہوتا ہے، مگر اس     محاورے  کی سمجھ ہم کو ابھی جا کرہوئی ہے کہ صرف نیم حکیم ہی خطرہِ جان نہیں ہوتا بلکہ ایسے حکیم ڈاکٹر زبھی خطرہ ِ جان ہوتے ہیں جو کہ انسانیت پردولت کو اس قدر فوقیت دیتے ہیں کہ بعض اوقات انسانیت و ہمدردی کا جذبہ بھی شرم سار ہو نے لگتا ہے

ڈاکٹر کا پیشہ ہمدردی ،دوستی اور انسانیت پرور ہونا چاہیے نہ کہ دولت و شہرت کی سیڑھی پر چڑھنے کے لیے غریب کے گلے کو دبا کر ۔۔۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی بد قسمتی جو دیکھنے میں آتی ہے اول تو وہ یہ ہے کہ زیادہ تر ہمارے ڈاکٹر صاحبان اپنی سرکاری ڈیوٹی پر پہنچ سکیں یا کہ نہ ۔۔۔مگر یہ ہی ڈاکٹر ز صاحبان اپنے اپنے مارکیٹ ، پلازے اور شاپنگ مال ٹائپ ، نالوں کے اوپر بنے کلینکوں پر لازمی و ٹائم پر پہنچنے کو ترجیح ضرور دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ مریضوں کو جلد از جلد چیک کر کے زیادہ سے زیادہ فیس بٹوری جائے اور اوپر لیبارٹری کے ٹیسٹ اورمیڈیکل سٹورز پر اپنے کمیشن کو ترجیح دیتے ہوئے مہنگی سے مہنگی دوائی لکھتے ہیں، جو کہ مریض کو دوائی کا طالب ہونے کے بجائے دعا کاطالب بنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ 

ہمارے ہاں ڈاکٹر ز بھی معافیا گروپ کی صورت دھار چکے ہیں جو ایسا  معافیا ہے کہ جن کے خلاف کوئی جلد از جلد نہ تو آواز اُٹھاتا ہے اور نہ ہی ان کے اوپر کوئی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، جس کو چاہیں ، جیسے چاہیں ، جسطرح چاہیں کاٹ کر دوبارہ سی سکتے ہیں، کسی کی جیب اور کسی کا جسم کاٹنے کے یہ ماہر چند ڈاکٹرز انسانیت کی بھی قدر نہیں کرتے۔

اکثر مریض تو ایسے ہوتے ہیں جن کو مرض کچھ بھی نہیں ہوتی مگر ڈاکٹرز صاحبان کی مہربانیوں کی وجہ سے انکا جسم متعدد بیماریوں کی آماج گاہ بن چکا ہوتا ہے۔ ادھر ایک مزے کی بات کہ ہمارے ہاں تو آجکل میڈیکل سٹورز کے کمپوڈرز بھی آدھے ڈاکٹر بن گئے ہیں، کئی علاقوں میں تو ان میڈیکل سٹورز پر رش زیادہ ہوتی ہے، اور بعض علاقوں میں سرکاری ہسپتالوں میں صرف پوسٹ مارٹم ہی ہو سکتا ہے علاج نامی کچھ نہیں۔۔۔۔؟ 

یہ بات یہاں پر ہی اگر اکتفا کرے تو انسان کچھ صبر کا دامن تھامے رکھے مگرنہیں، سرکاری ہسپتالوں کا جو دیگر سپورٹر عملہ بھرتی ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو کسی صدر سے کم نہیں سمجھتے اور ان کا رویہ اس قدر تند و تیز ہوتا ہے کہ عام و مہذب انسان سرکاری ہسپتال کو جانا بھی پسند نہیں کرتا۔ 

ہمارے ہاں کچھ ایسی لیبارٹریز بھی موجود ہیں جن کے ٹیسٹ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ، ایک ہی انسان کا ایک ہی ٹیسٹ دو مختلف لیبارٹریز میں آنے والی مختلف رپورٹس اور فیسوں کے تضاد کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے،اور ہمارے ڈاکٹرز صاحبان بھی مریض کے مرض کی تشخیص کیے بغیر ہی ہائی ڈوز دوائی تجویز کر دیتے ہیں جو مریض کو افاقہ تو نہیں دے سکتی ہاں البتہ مریض کی جیب اور جان دونوں پر بوجھ ضرورپڑتی ہے۔

انتہائی شرمندگی کا مقام تو ہمارے لیے اس وقت ہو جاتا ہے جب گائناگالوجسٹ ڈاکٹرز صاحبان   کے بے شمار کھلے پرائیوٹ کلینک اور ہسپتالوں میں بے چاری عورت کی تذلیل کی جاتی ہے ، اور عین الوقت مریض کو در بدر کی ٹھوکروں پر بے یار و مدد گا ر چھوڑ کر اپنے آپ کو سبگدوش سمجھ لیتے ہیں۔ 

نارمل کیس ہوتا بھی ہو تو کچھ ڈاکٹرز صاحبان اتنا سنجیدہ و نازک بنا کر پیش کرتے ہیں کہ لواحقین مریض کی جان کی پنا ہ مانگتے ہیں اور اکثر تو فیس کی پریشانی  میں اس قدر گم ہو جاتے ہیں کہ مریض کی پرواہ ہی نہیں رہتی، 

اگر وہ ہی سرکاری ہسپتال  میں ہو توخون کے بندوبست کی پریشانی آ ہ ٹپکتی ہے، ہم کیا کریں اتنے ظالم اور بے حس  لوگ ہو گئے ہیں کہ ہم کو کسی کے دکھ درد کی سمجھ تو ہوتی نہیں اور اوپر سے ایسے مریضوں کو دیکھ کر ہماری امید کی کرن جاگ جاتی ہے کہ اب ہمارے پاس لکشمی آنے والی ہے یہ نہیں کہ
   مریض کی جا ن کوجلد از جلد اور کم سے کم خرچہ میں اور چھوٹے سے چھوٹے آپریشن کے ساتھ ٹھیک  کرلیا جائے
ڈاکٹرز صاحبان اپنے پرائیوٹ کلینک ایسی ایسی جگہ پر کھول رکھے ہیں کہ انسانی عقل دھنگ رہ جاتی ہے اور ان کی صفائی اور ستھرائی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے یہ کسی سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر صاحب کا کلینک ہوگا، اوپر سے ان کی فیس اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ انسان نہ بھاگنے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی بتانے کے۔ 

سرکاری ہسپتالوں کی تو یہ حالت زار ہے کہ ان کو دیکھ کر کلیجہ منہ میں آتا ہے ، کچھ بڑے شہروں کی سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں تو  اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر کچھ علاج تو ضرور ہے مگر دیگر میں تو ایک سرنج تک آپ کو میسرنہیں ہو تی تو باقی کسی بھی قسم کی سہولت کی توقع رکھنا تو اپنے آپ 
کو خود دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

ہا ں ایک بات اگر آپ کی اثر و رسوخ کے حامل ہیں تو پھر آپ کے مزے ہیں ورنہ رسوائی کے ساتھ ساتھ گندے باتھ روم ، بینچ و بیڈ کی کھٹمل ،راہ داریوں میں جگہ جگہ نسوار کے دھبے اور سگریٹ کے فلٹرز کے ساتھ سپرٹ کی بدبو آپکا مقدر ہیں۔



                                   

Friday, 22 January 2016

Revised child labour by Farhana Naghar

Revised
                       

 نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائنمٹ:آرٹےکل
(کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا)
میڈیم:اردو
   ہمیںاپنے ارد گرد میںایسے بچے نظر آتے ہیں جو کم عمرمیں ہی مختلف کام کر رہے ہیں جو ان کی عمر سے کہی زیادہ ہیں۔ان کا موں کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی پرےشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے بچوں کی مزدوری پے یہ اندازہ لگایاہے کہ ۰۹۹۱ میں ۱۱ ملئن بچے ملک میں مزدوری کر رہے ہیںجن میں سے کچھ ۰۱ سال کی عمر سے بھی کم ہیں۔تقرےبا µ۸۱۲ ملئن بچے۵ سے ۷۱ سال کی عمر سے ہی مزدوری کر رہے ہیں۔۰۴ سے ۰۵ فیصد بچے ۸۱ سال سے کم عمرمیں ہی مزدوری پر لگے ہوئے ہیں ۔ایک تہائی سے زیادہ بچے کھیتی باڑی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔دیہی علاقوںمیں بچوں کو ۵ سے ۷ سال کی عمر میں کام پر لگایاہوا ہے۔سب سے زیادہ بچوں کا مزدوری کرنا ایشین ممالک میں نظر آتا ہے۔جہاں تقریبا ۲۲۱ ملئن بچے کام کر رہے ہیں ۔
       پاکستان میں غربت سب سے بڑی وجہ ہے بچوں کے کام کرنے کی ۔مہنگائی کے سبب اخراجات کو برداشت کرنا مشکل کام ہو گیاہے اےسے میں لوگ اپنے بچوں کو کم عمر میں ہی ملازمت پر لگایے ہوئے ہیں جن سے ان بچوں کی پرھائی بھی متاثر ہورہی ہے،کیونکہ ایک کمانے والے کے لئے گھر کے تمام افراد کا خرچہ اٹھانہ مشکل ہو گیا ہے ایسے میں وہ بچوں کو تعلیم سے ہٹا کر محنت مزدوری کے کاموں پر لگا دیتے ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر لوگوں کی تنخواہوں مےں اضافہ نہیں کیا جا رہا تو ایسے میں لوگ بہت مجبور ہو کہ اپنے بچوں کو گھر سے دور کام کرنے کے لئے بھج دیتے ہےں۔ جس عمر میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہئے اس عمر میں بچے کام کر رہے ہیں۔
       لوگ سمجھتے ہیںکہ جو بچے مختلف دکانوں پر مختلف کام کرتے ہیںیااپنے اسکول کی چھٹیوں میں کہیں نوکری کر رہے ہیںیہ سب مزدوری ہے لیکن ان چیزوں کو ہم مزدوری کے زمرے میں نہیں لے سکتے یہ کام صرف کام ہیں جو بچے اپنے فارغ وقت میں کر رہے ہوتے ہیں۔بچوں کا مزدوری کرنا اور بچوں کا کام کرنا یہ دو الگ باتیں ہیں۔مزدوری کرنے سے مراد ہے کہ بچوں کا چھوٹی عمر مےں اسکول نا جانا اور لوکوں کے گھر میں رہ کر ان کی غلامی کرنا خود سے اپنے لیے کچھ کرنے کی اجازت نہ ہونا اس طرح کے کام مزدوری میں آتے ہیں ۔اور اس طرح کے کام کرنے والے بچوں پر اکثر لوگ تشدد بھی کرتے ہیں اور ان کو کھانے کے لئے بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیتے ہیں۔ان کی عمر سے زیادہ بھاری کام ان سے کرواتے ہیںحد سے زیادہ مشکل کام ان کے سر کر دیتے ہیںاور سارا سارا دن صفائی کرواتے رہتے ہیں۔بہت سارے غریب والدین بچوں کو کام کے لیے دور بھج دیتے ہیں جہاں ان کے ساتھ ایسا سلوک رکھا جاتاہے۔
        حیدرآباد میں ۴سے ۵ سال کی عمر کے بچے مختلف کام کر رہے ہیں جسے چوڑیاں بنا رہے ہیں ۔ان چوڑیوں کے ہر بچہ روزانہ ۲۱ سیٹس بنا رہا ہے جس میں ۵۶ چوڑیاں پر سیٹ بنتی ہیں اور یہ کام ان کوایک دن میں مکمل کر کہ دینا ہوتا ہے جس کا معاوضہ ان کو تقریبا ۰۴ روپے ملتا ہے۔جو ان کی محنت کے سامنے بہت کم ہے۔ اور اس کام میں ان کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔کم عمر ہونے کی وجہ سے یہ کام ان کے لیے خاصہ مشکل ہے۔ اور یہ کام صرف حیدرآبادمیں ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی کچی آبادی میں بڑی تعداد میں ہو رہا ہے۔
         بچوں کے مزدوری کرنے کا خاتمہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب حکومت غریب طبقے پر توجہ دے ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی بہتر
 اقدام اٹھائے اور بہت سی جگہوں پر جہاں بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھ کر ان پر ظلم کر رہے ہےںان کے خلاف کوئی عمل کریں۔تا کہ باقی لوگ بھی اس چیزسے خبردار رہیں کہ بچوں کو بے جا تکلیف نا دیں۔کیونکہ بچے اگر چھوٹی عمر سے کسی بھی قسم کی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں تو وہ پھر آگے جا کر بڑے جرائم میںملوث ہوجاتے ہیںجیسے چوری،قتل،دہشت گردی وغیرہ جیسے خطرناک کاموں میںپڑجاتے ہیں۔
         مختلف تنظیمیں بچوں کے مزدوری کرنے کو ختم کرنے کے لئے کوشیشیں کر رہی ہیں جن میں بچوں کی تعلیم ان کا علاج مفت کیا جائے گا تا کہ ان کہ والدین کو مشکلات اور غربت کی وجہ سے بچوں کو کام کے لئے نہیںبھیجنا پڑے اور ان کی کچھ مدد بھی ہوجائے۔حکومت کچھ حد تک اقدام کر چکی ہے جس میں مفت گھر فراہم بھی کےے جا رہے ہیں۔اور فنڈز بھی مقرر کئے ہیں تا کہ لوگ غربت سے تھوڑا نقل کر اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف مائل کر سکیں۔اور اس عمل سے بچے مزدوری سے بچ سکتے ہیں اور اپنی ذندگی کو عام بچوں کی طرح گزار سکتے ہیں۔




Referred back. Same incorrect composing issue here with ur article.
                      

 نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائنمٹ:آرٹےکل
(کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا)
مےڈےم:اردو
کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا:
     ہمےںاپنے ارد گرد مےںک ¿ی اےسے بچے نظر آتے ہےںجو کم عمرمےں ہی مختلف کام کررہے ہےںجو ان کی عمر سے کہی زےادہ ہےں۔ان کا موں کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی پرےشانےوں 
مےں اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظےموں نے بچوں کی مزدوری پے ےہ اندازہ لگاےا ہے کہ ۰۹۹۱ مےں ۱۱ ملئن بچے ملک مےں مزدوری کر رہے ہےںجن مےں سے کچھ ۰۱ سال کی عمر سے بھی کم ہےں۔تقرےبا
µ۸۱۲ ملےئن بچے۵ سے ۷۱ سال کی عمر سے ہی مزدوری کر رہے ہےں۰۴ سے ۰۵ فیصد بچے ۸۱ سال سے کم عمر مےں ہی مزدوری پر لگے ہوئے ہےں ۔اےک تہائی سے زےادہ بچے کھےتی باڑی کے کام مےں لگے ہوئے
ہےں۔دےہی علاقوں مےں بچوں کو ۵ سے ۷ سال کی عمر مےں کام پر لگاےا ہوا ہے۔سب سے زےادہ بچوں کا مزدوری کرنا اےشےن ممالک مےں نظر آتا ہے۔جہاں تقرےبا ۲۲۱ ملئن بچے کام کر رہے ہےں ۔
       پاکستان مےں غربت سب سے بڑی وجہ ہے بچوں کے کام کرنے کی ۔مہنگائی کے سبب اخراجات کو برداشت کرنا مشکل کام ہو گےا ہے اےسے مےں لوگ اپنے بچوں کو کم عمر مےں ہی 
ملازمت پر لگایے ہویے ہےں جن سے ان بچوں کی پرھائی بھی متاثر ہورہی ہے،کےونکہ اےک کمانے والے کے لئے گھر کے تمام افراد کا خرچہ اٹھانہ مشکل ہو گےا ہے اےسے مےں وہ بچوں کو تعلیم سے ہٹا کر محنت مزدوری 
کے کاموں پر لگا دےتے ہےں۔اےک وجہ ےہ بھی ہے کہ مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر لوگوں کی تنخواہوں مےں اضافہ نہےن کیا جا رہا تو اےسے مےں لوگ بہت مجبور ہو کہ اپنے بچوں کو گھر سے دور کام کرنے کے لئے بھج دےتے ہےں۔
جس عمر مےں بچوں کو تعلیم حاصل کرنی چاےیے اس عمر مےں بچے کام کر رہے ہےں۔
       لوگ سمجھتے ہےں کے جو بچے مختلف دکانوں پر مختلف کام کرتے ہےں ےا اپنے اسکول کی چھٹﺅں مےں کہےں نوکری کر رہے ہےں ےہ سب مزدوری ہے لےکن ان چزوں کو ہم مزدوری کے
زمرے مےں نہےں لے سکتے ےہ کام صرف کام ہےں جو بچے اپنے فارغ وقت مےں کر رہے ہوتے ہےں۔بچوں کا مزدوری کرنا اور بچوں کا کام کرنا ےہ دو الگ باتےں ہےں۔مزدوری کرنے سے مراد ہے کہ بچوں کا چھوٹی
عمر مےں اسکول نا جانا اور لوکوں کے گھر مےں رہ کر ان کی غلامی کرنا خود سے اپنے لیے کچھ کرنے کی اجازت نہ ہونا اس طرح کے کام مزدوری مےں آتے ہےں ۔اور اس طرح کے کام کرنے والے بچوں پر اکثر لوگ
تشدد بھی کرتے ہےں اور ان کو کھانے کے لیے بھی ٹھےک طرح سے نہےں دےتے ہےں۔ان کی عمر سے زےادہ بھاری کام ان سے کرواتے ہےں حد سے زےادہ مشکل کام ان کے سر کر دےتے ہےںاور سارا سارا دن صفائی 
کرواتے رےتے ہےں۔بہت سارے غرےب والدےن بچوں کو کام کے لیے دور بھج دےتے ہےں جہاں ان کے ساتھ اےسا سلوک رکھا باتا ہے۔
        حےدرآباد مےں ۴سے ۵ سال کی عمر کے بچے مختلف کام کر رہے ہےں جسے چوڑےاں بنا رہے ہےں ۔ان چوڑےوں کے ہر کے بچہ روزانہ ۲۱ سےٹس بنا رہا ہے جس مےں ۵۶ چوڑےاں
پر سےٹ بنتی ہےں اور ےہ کام ان کو اےک دن مےں مکمل کر کہ دےنا ہوتا ہے جس کا معاوضہ ان کو تقرےبا ۰۴ روپے ملتا ہے۔جو ان کی محنت کے سامنے بہت کم ہے۔ اور اس کام مےں ان کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔کم عمر ہونے کی وجہ سے ےہ کام ان کے لیے خاصہ مشکل ہے۔ اور ےہ کام صرف حےدرآباد مےں ہی نہےں بلکہ اور بھی بہت سی کچی آبادی مےں بڑی تعداد مےں ہو رہا ہے۔
         بچوں کے مزدوری کرنے کا خاتمہ اس صورت مےں ہو سکتا ےے جب حکومت غرےب طبقے پر توجہ دے ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی بہتر اقدام اٹھائے اور بہت سی 
جگہوں پر جہاں بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھ کر ان پر ظلم کر رہے ہےںان کے خلاف کوئی عمل کرےں۔تا کہ باقی لوگ بھی اس چیز سے خبردار رہےں کہ بچوں کو بے جا تکلےف نا دےں۔کےونکہ بچے اگر چھوتی عمر سے
کسی بھی قسم کی زےاتی کا نشانہ بنتے ہےں تو وہ بھر آگے جا کر بڑے جرائم مےں ملوث ہوجاتے ہےں جےسے چوری،قتل،دہشت گردی وغےرہ جسے خطرناک کاموں مےں پڑجاتے ہےں۔
         مختلف تنظےمےں بچوں کے مزدوری کرنے کو ختم کرنے کے لئے کوششےں کر رہی ہےں جن مےں بچوں کی تعلیم ان کے علاج مفت کےا جائے گا تا کہ ان کہ والدےن کو مشکلات
اور غربت کی وجہ سے بچوں کو کام کے لیے نہےں بھجنا پڑے اور ان کی کچھ مدد بھی ہوجائے۔حکومت کچھ حد تک اقدام کر چکی ہے جس مےں مفت گھر فراہم بھی کےے جا رہے ہےں۔اور فنڈز بھی مقرر کئے ہےں تا کہ 
لوگ غربت سے تھوڑا نقل کر اپنے بچوں کو ےعلیم کی طرف مائل کر سکےں۔اور اس ومل سے بچے مزدوری سے بچ سکتے ہےں اور اپنی ذندگی کو عام بچوں کی طرح گزار سکتے ہےں۔ 

Thursday, 21 January 2016

referred back Girls of Tando Allahyar and sports

REvised
               NAME: MISBAH-UR-RUDA                                
       ROLL NO: 2K14/MC/52                  
ARTICLE                    


آرٹیکل
ٹنڈوالہیارمیں لڑکیوں کی کھیلوںمیں دلچسپی / ٹنڈوالہیار میں لڑکیوں کے کھیل:
مصباح خان
پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکیاں کھیل کے میدان میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں کھیل کے میدان میں خواتین کے بہت بڑے بڑے نام ہمارے سامنے موجود ہیں ٹنڈو الہیار شہر میں جہاں لڑکے کھیلوں میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں وہیں     
لڑکیاں بھی گھروں ِ سے باہر نکل کھیلنے کو بے تاب نظر آتی ہیں لیکن وہیں دوسری طرف ایک لڑ کی ہو نے کی وجہ سے ا نہیں کھیلنے کی ا جازت نہیں دی جا رہی ہو تی گھر والے لڑ کیوں کے باہر نکلنے کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے ؟ کیا لڑکی ہونا گناہ ہے ؟ نہیں ہے ٬ بلکل نہیں ہے جہاں گھر والے لڑکوں کو گھر سے نکالنے میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے وہیں کچھ گھر والے لڑ کیوں کے باہر جا نے سے بھی پریشان نہیں ہیں اور بلکہ ان کا حوصلہ  بڑ ھانے کے لئے خود آگے بڑھ کر ان کو مستقبل کی راہوں مےں ہموار کر تے ہیں ٹنڈوالہیار میں لڑکیاں مختلف کھیل کھیلتی رہی ہیں اور آج بھی بڑی تعداد میں دکھائی دیتی ہیں اسکولوں کی طرف سے بڑھ چڑ ھ کر کر کٹ میں حصہ لیتی ہیں چند دنوں پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر ایک ٹورنامنٹ رکھا جس میں تمام لڑکیوں کی صلاحیت ابھر کر سامنے آئی اسکولوں مےں ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈری اسکول٬ اقراء ہائیر سکینڈری اسکول٬ فاﺅنڈیشن پبلک اسکول اور ان کے علاوہ بھی بہت سے اسکول شامل تھے اس سے قبل لڑکیاں پر زور انداز میں کرکٹ کی پریکٹس کے لئے مختلف گراﺅنڈ میں نظر آ ہیں لڑکیوں کی دلچسپی دیکھ کر جو لوگ اپنی بیٹیوں کو گھر سے نکلنے نہیں دے رہے تھے ؑؑؑٓؑٓ±َانھوں نے بھی اپنی بچیوں کی قابلیت دیکھ کر ان کو باہر جانے کی ٬ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ا جازت دی

سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدآباد میں موجود ایک بہت بڑا اسکول ہے (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول نے راشدآباد میں ٹنڈوالہیار کی تمام لڑکیوں کے کھیلنے کے لئے ٹورنامینٹ منعقد کیا جس میں ہر قسم کے گیم وغیرہ تھے تمام اسکولوں کی لڑکیوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ٹینس٬فٹبال ٬بیڈ مینٹن ٬ہاکی اور کرکٹ وغیرہ سب کھیل موجود تھے کرکٹ کے میدان مےں ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈ ری اسکول کی لڑکیاں بازی مارکر اول نمبر پر رہیں جبکہ دوسرے کھیلوں جیسے فٹبال میں فاﺅنڈیشن پبلک اسکول کی لڑکیاں اول نمبر پر اور ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈری اسکول کی لڑکیاں دوسری پوزیشن حاصل کر کے کامیاب رہیں اس کے علاوہ ہر کھیل میں کوئی نہ کوئی اسکول اول نمبر پر رہا یہ موقع تمام لڑکیوں کے لئے بہت مستفیض ثابت ہوا سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدآباد میں جہاں لڑکیاں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے پر بازی مار رہیں تھیں وہیں دوسرے کاموں میں بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں لڑائی جھگڑے میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور ایک دوسرے کو یہ بتا دیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں لڑکیوں کے کھیل کے دوران جہاں وہ کمزور ہونے لگتیں تو دوسری لڑکیاں نارے بازی کر کے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتیں اور اسی حوصلے اور ہمت سے جو اعتماد اور یقین والدین اور اساتزہ نے لڑکیوں پر جو    یقین دکھایا تھا تمام لڑکیوں نے اس یقین پر کھرا اتر کر دکھایا اور کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور خود کی ایک الگ پہچان بنائیاس کے علاوہ ٹنڈوالہیار مےں کیلیگرافی ٬پینٹنگ ٬تقریر٬گانے اور نعت کا مقابلہ بھی رکھا گیا جس میں بھی لڑکیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اعلی اعلی قسم کی تصاویر سے ماحول خوبصورت بنایا اور پیارے پیارے نام لکھ کر مقابلے کو رونق بخشی جہاں اس مقابلے میں طالب علم شامل تھیں وہیں اساتزہ اور خواتین بھی اس کھیل مےں پےچھے نہیں رہیں لڑکیوں اور خواتین کی اس محنت اور کوششوں کے بعد انھیں پہلی اور دوسری پوزیشن سے نوازا گیا ساتھ ہی جو لڑکیاں تھوڑا پیچھے رہ گئیں تھیں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان میں سارٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے جو لڑکیاں کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھیں ان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ ہماری یہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ملک کی تقدیر بدل دیں گی مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر بھی اس بات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی اس قابلیت سے فائدہ اٹھائے اس حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب اس جنون میں ایک تاریخی منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ کسی بھی طرح نہ تو قابل قبول ہے اور نا ہی ملک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی کھیل کے میدان مےں سکہ جمانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ خود میں سے کمزوری کو ختم کیا جائے آج ہم ایک دوسرے سے ہر معاملے میں اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں 

سنو ! گھر بیٹھ کر شیرنی مت بنو بلکہ اپنی صلاحیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں شیرنی بنو وہ شیرنیاں بنو جنہوں نے کھیل کے میدان میں اپنی پوری زندگی لگادی اور کھیل کی دنیا کو اس مقام پر لے آئیں کہ آج پوری دنیا کے لوگ اس سے بہت سے مزے اور فائدے اٹھاتے ہیں کھیلوں پر ہمارا موقف واضح ہے اور کھیل ہماری طاقت ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کھیل کے میدان میں نا اہلی اور سستی دکھا کر ہمارا  کھیل پر موقف نرم ہو اور صلاحیت ہونے کے باوجود بھی کھیل کے میدان میں حصہ نا لینے کے مسئلے پر پس پشت ڈال دی جائے


Mistakes in composing.  which can only be seen  on web site. It is problem of Chhoti " ye" and barri "ye"
COntent is ok,  If she has some pix of sports  competition that will be great
NAME: MISBAH-UR-RUDA ROLL NO: 2K14/MC/52 ARTICLE
 مصباح
 ٹنڈوالہیار کی لڑکیوں کی کھیل میں دلچسپی / ٹنڈوالہیار میںلڑکیوں کے کھیل:
                         

مصباح
ٹنڈوالہیار کی لڑکیوں کی کھیل میں دلچسپی /
 ٹنڈوالہیار میںلڑکیوں کے کھیل:
پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ل ©ڑکیاں کھیل کے میدان میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں کھیل کے میداں میں خواتیں کے بہت بڑے بڑے نام ہمارے سامنے موجود ہیں ٹنڈو الہیار شہر میں جہاں لڑکے کھیلوں میں دلچسپی لیتے نظر ا ¿تے ہیں وہیں لڑکیاں بھی گھروں ِ سے باہر نکل کھےلنے کو بے تاب نظر ا ¿تی ہےں لیکن وہیں دوسری طرف ایک لڑ کی ہو نے کی وجہ سے ا نھےں کھےلنے کی ا جا © ©زت نہےں دی جا رہی ہو تی گھر والے لڑ کےوں کے باہر نکلنے کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے ؟ کیا لڑکی ہونا گناہ ہے ؟ نہیں ہے ٬ بلکل نہیں ہے جہاں گھر والے لڑکوں کو گھر سے نکالنے میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے وہیں کچھ گھر والے لڑ کےوں کے باہر جا نے سے بھی پرےشان نہےں ہےں اور بلکہ ان کا حوصلہ بڑ ھانے کے لئے خود ا ¿ گے بڑھ کر ان کو مستقبل کی راہوں مےں ہموار کر تے ہےں


ٹنڈوالہےار مےں لڑکےاں مختلف کھےل کھےلتی رہی ہےں اور ا ¿ج بھی بڑی تعداد مےں دےکھائی دےتی ہےں اسکولوں کی طرف سے بڑہ چڑ ھ کر کر کٹ مےں حصہ لےتی ہےں چند دنوں پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر اےک ٹورنامنٹ رکھا جس مےں تمام لڑکےوں نے کی صلاحےت ابھر کر سامنے ا ¿ئیں اسکولوں مےں اےگل ہاﺅس ہائےر سےکےٹذری اسکول٬ اقراء ہائر اسکول٬ فاﺅنڈےشن اسکول اور بہت سے اسکول شامل تھے اس سے قبل لڑکےاں ¿پرزور انداز مےں کرکٹ کی پرےکٹس کے لئے مختلف گراﺅنڈ مےں نظر ا ¿ ہےں لڑکےوں کی دلچسپی دےکھ کر جو لوگ اپنی بےٹےوں کو گھر سے نکلنے نہےں دے رہے تھے ؑؑؑٓؑٓ ±َانھوں نے بھی اپنی بچیوں کی قابیلیت دیکھ کر ان کو باہر جانے کی ٬ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ا جازت دی


سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدا ¿باد میں موجود ایک بہت بڑا اسکول ہے (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول نے راشدا ¿باد میں ٹنڈوالہیار کی تمام لڑکیوں کے کھیلنے کے لیے ٹورنامینٹ منعقد کیا جس میں ہر قسم کے گےم وغےرہ تھے تمام اسکولوں کی لڑکےوں نے اس مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےا ٹےنس٬فٹبال ٬بےڈ مےنٹن ٬ہاکی اور کرکٹ وغےرہ سب کھےل موجود تھے کرکٹ کے مےدان مےں اےگل ہاﺅس ہائےر سےکنڈری اسکول کی لڑکےاں بازی مارکر اول نمبر پر رہےں جبکہ دوسرے کھےلوں جےسے فٹبال مےں فاﺅنڈےشن پبلک اسکول کی لڑکےوں نے اول نمبر اور اےگل ہاﺅس ہائےر سےکنڈری اسکول کی لڑکےاں دوسری پوزےشن حاصل کر کے کامےاب رہےں اس کے علاوہ ہر کھےل مےں کوئی نہ کوئی اسکول اول نمبر پر رہا ےہ موقع تمام لڑکےوں کے لئے بہت مستفےض ثابت ہوا


سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدا ¿باد مےں جہاں لڑکےاں کھےل کے مےدان مےں اےک دوسرے پر بازی مار رہی تھےں وہےں دوسرے کاموں مےں بھی کسی سے پےچھے نہےں تھےںلڑائی جھگڑے مےں بھی اپنی صلاحےتوں کے جوہر دکھائے اور اےک دوسرے کو ےہ بتا دےا کہ ہم بھی کسی سے کم نہےں لڑکےوں کے کھےل کے دوران جہاں وہ کمزور ہونے لگتےں تو دوسری لڑکےاں نارے بازی کر کے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتےں اور اسی حوصلے اور ہمت سے جو اعتماد اور ےقےن والدےن اور اساتزہ نے لڑکےوں نے دکھاےا تھا تمام لڑکےوں نے اس ےقےن پر کھرا اتر کر دکھاےا اور کھےل کے مےدان مےں اپنا لوہا منواےا اور خود کی اےک الگ پہچان بنائی۔


اس کے علاوہ ٹنڈوالہےار مےں کےلیگرافی ، پےنٹنگ،تقرےر ،گانے اور نعت کا مقابلہ بھی رکھا گےا جس مےں بھی لڑکےوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لےا اعلی اعلی قسم کی تصاوےر سے ماحول خوبصورت بناےا اور پےارے پےارے نام لکھ کر مقابلے کو رونق بخشی جہاں اس مقابلے مےں طالب علم شامل تھےں وہےں اساتزہ اور خواتےن بھی اس کھےل مےں پےچھے نہےں رہےں لڑکےوں اور خواتےن کی اس محنت اور کوششوں کے بعد انہےں پہلی اور دوسری پوزےشن سے نوازا گےا ساتھ ہی جو لڑکیاں تھوڑا پیچھے رہ گئیں تھیں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان میں سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے جو لڑکیاں کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھیں ان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ ہماری یہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ملک کی تقدیر بدل دیں گی مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر بھی اس بات پر کوئی عمل درامد نہیں ہوسکا ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی اس قابلیت سے فائدہ اٹھائے اس حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب اس جنون میں ایک تاریخی منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ کسی بھی طرح نہ تو قابل قبول ہے اور نا ہی ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی کھےل کے مےدان مےں سکہ جمانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ خود میں سے کمزوری کو ختم کیا جائے آج ہم ایک دوسرے سے ہر معاملے میں اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں


سنو ! گھر بیٹھ کر شیرنی مت بنو بلکہ اپنی صلاحیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں شیرنی بنو وہ شیرنیاں بنو جنہوں نے کھیل کے میدان میں اپنی پوری زندگی لگادی اور کھیل کی دنیا کو اس مقام پر لے آئیں کہ آج پوری دنیا کے لوگ اس سے بہت سے مزے اور فائدے اٹھاتے ہیں کھیلوں پر ہمارا موقف واضح ہے اور کھیل ہماری طاقت ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کھیل کے میدان میں نا اہلی اور سستی دکھا کر ہمارا  کھیل پر موقف نرم ہو اور صلاحیت ہونے کے باوجود بھی کھیل کے میدان میں حصہ نا لینے کے مسئلے پر پس پشت ڈال دی جائے

Need of flyouver at Kotri Phatak

at least it should be 600 words.  foto is required to prove ur point
نام: علی اعزاز رول نمبر 126

آرٹیکل
کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور کی ضرورت 


کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور کی ضرورت ، 1965 سے قائم شدہ کوٹری پھاٹک جو کہ انگریز دورِ حکومت کے بنائے ہوئے نیشنل ہائی وے ٹھٹھہ روڈ سے جاکر لگتا ہے، اور آج اس کوٹری پھاٹک سے چار اہم صنعتی، رہائشی کاروباری لوگوں کی گاڑیوں کا گذر ہوتا ہے۔ جن میں سب سے زیادہ انڈسٹریل ایریا والوں کی بڑی گاڑیوں کا گذر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن ٹریفک کا جام ہونا معمول بن چکا ہے۔ اور کوٹری ریلوے پھاٹک جو کہ کراچی سے پشاور تک جانے والی تمام ریل گاڑیوں کا گذر بھی اسی ریلوے پھاٹک سے ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے ہر ایک ریل گاڑی گزرنے پر اس پھاٹک کو کم از کم پانچ منٹ کے لئے بند کیا جاتا ہے، اس دوران ٹریفک کا ہجوم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اسے ترتیب میں لانے کے لئے پورا دن گذر جاتا ہے،اسی دوران وہاں کے رہنے والے رہائشی لوگوں کو اپنے دفتروں، اسکولوں میں وقت پر پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے وہاں کے آس پاس کے رہائشی اور صنعت کروں کی روزمرہ زندگی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کوٹری ریلوے پھاٹک پر فلائی اوور کا بننا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

کوٹری پھاٹک کے زیر انتظامیہ اور دیگر افسران وزیر کا گذر ہوتا ہے اور وہ عوام کے اس مسائل سے اچھی طرح واقف بھی ہیں مگر آئے روز یہ کہہ کر اس بات کو رواں دواں کردیا جاتا ہے کہ ہم نے اعلیٰ افسران سے بات کی ہوئی ہے انشاءاللہ بہت جلد اس کا کوئی حل نکل جائے گا۔ پچھلے سات آٹھ سالوں سے یہی سلسلہ چلتا آرہا ہے۔مگر آج تک کوئی بھی اس فیصلے پر عملی فیصلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اگر کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور بن جاتا ہے تو نہ صرف وہاں کے رہائشیوں کے لئے فائدہ ہوگا۔ بلقے ہمارے سندھ کے صنعت کاروں کو بھی بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ مسئلا وقت پر بڑی گاڑیوں کا پہنچنا، وقت پر صنعتی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ضرورت کا سامان ان تک پہنچنا جس سے ہمارے ملک کی صنعتی معاشعت بہتر ہوسکتی ہے۔ اس لئے گورنمنٹ سندھ کو اس کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور بنانے کے لئے کوئی نہ کوئی اقدامات اٹھانا چاہیئے۔









Wednesday, 20 January 2016

New Saeedabad turning to become business centre

نام : محمد زبیر 
رو ل نمبر : 2K14/MC/67 
ٹو پک : Article 

نیو سعید آباد میں لو گو ں کا کا رو با رکی طر ف بڑھتا ہو ا رجحا ن 
پاکستان میں معیشیت کی بحا لی کے بہت سے اقدا م اتھا ئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بحا ل ہو نا شرو ع ہو ئی ہے اسی وجہ سے لو گو ں نے پاکستا ن کی معیشت میں پیسہ لگا نا شرو ع کیا ہے آج پاکستا ن کی معیشت پچھلے پانچ سا لو ں کے مقا بلے میں بہتر دکھا ئی دیتی ہے ۔ پاکستان میں واقع ضلع مٹیا ری کے شہر نیو سعید آباد میں لو گو ں کا کا رو با ر کی طر ف بہت زیا دہ را غب ہو رہے ہیں ۔نیو سعید آباد میں 1990 ءتک کا رو باری لحا ظ سے دو یا تین کا رو باری شخصیت تھی ۔ جس میں سب سے بڑی کا رو باری شخصیت سیٹھ ہا شم مو ڑی تھے ۔ سعید آباد کے لو گ اپنے استعما ل کی اشیا ءخریدنے کے لئے حیدر آباد کا رک کر تے تھے 1990 کے بعد سعید آباد کے لو گو ں نے کا رو بار کی طرف تو جہ دی آج سعید آباد میں بہت سی بڑی بڑی کا رو باری شخصیت ہے ان کا روباری شخصیت میں سب سے بڑے کا رو باری شخصیت لو گ میمن برادری ہے ۔ میمن برادری کے علا وہ اور بھی چھو ٹے بڑے کا رو باری لو گ ہیں ۔ 
آج سعید آباد میں آئے دن دکا نو ں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان دکانوں کی تعداد تقریباً 1200 سو ہے ۔ ان دکا نو ں میں وہا ں کے لو گو ں کی تما م ضرو رت کی اشیا ءموجو د ہے سعید آباد کی عورتیں بھی مر دو ں سے پیچھے نہ رہی انہو ں نے بھی کا روبار کر نے کے لئے اور عورتوں کی سہولت کےلئے گھر وں میں ہی تما م اشیا ءرکھ لی ہے ۔ ان گھروں میں عو رتو ں اور مردون کی تما م اشیا ءبا آسانی مل جاتی ہے ۔ اور ان گھریلو کاروبار میں تما م معیا ر کی چیزیں ملتی ہے اور اسی وجہ سے لو گو ں نے حیدر آباد آکر خریداری کر نا بہت کم کر دیا ہے اس کے علا وہ سعید آباد میں ایک شاپنگ مال بنا نے کے بنیا د رکھی گئی اس عما رت کو 4 منزلہ تعمیر کیا جا ئیگااس میں چھو ٹی بڑی دکانو ں کی تعداد 75 ہے اس شاپنگ ما ل کے بننے سے سعید آبادشہر کو ایک نئی پہچا ن ملے گی ۔ میرے نظر میں سعید آباد میں کا رو بار کی طر ف آنے کی سب سے بڑی وجہ بڑے کا رو باری لو گو ں کو دیکھ کر دوسرے چھو ٹے کارو بار لو گاس طر ف آنا شرو ع ہو ئے اور اس کاروبا ر میں آنے کی ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ لو گ کھیتی باڑی کو چھو ڑ کر کا رو با ر کی طر ف آنا شروع ہو ئے اور یہی وجہ تھیں کہ لو گ کا روبا ر کی طر ف آنا شرو ع ہو ئے ۔

Tuesday, 19 January 2016

Changing trends in fashon by Mizna

Edited
 Mizna-final
مزنہ رئیس 
2k14/MC
   فیشن کی دوڑ آرٹیکل
بدلتا فیشن

آج کے فیشن کو جنگل میںلگی آگ سے تشبیہ دیا جا سکتا ہے. ہر شخص فیشن کی دوڑ میں شامل ہے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتا ہے .
پاکستان اقتصادی طور پر بھلے مستحکم نہ ہو پر دنیائے فیشن میں ضرور مستحکم ہے۔ہر انسان یہی چاہتا ہے کے نئی روایتوں اور نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے ۔ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا انسان کی فطرت میں شامل ہے . 

فیشن کا سب سے بڑا بدلاﺅ خاص طور پر لباسوں میں دیکھا جا سکتا ہے .فیشن گِرگٹ کی مانند ہے جو کہ وقت کے ساتھ رنگ بدلتا رہتا ہے ، کبھی پیروں تک لمبی قمیض ہے تو کبھی گھٹنوں تک چھوٹی ، کبھی چوڑی دار پاجامہ ہے تو کبھی پٹیالا شلوار، کبھی چوڑے پائنچے والے فلیپر ہیں تو کبھی سگریٹ پینٹ غرض یہ کہ موسم سے ذیادہ تیز تبدیلی کی رفتار فیشن کی ہے۔ تہذیب کچھ یوں تھی کے خواتین لمبے بال اور مرد چھوٹے بال رکھتے تھے پر آج کا کلچر اس کے برعکس ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ہر انسان فیشن کے جنون میں ہے اور یہ جنون وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے . 

مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ انسان کو زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لئے ہر قدم اٹھانا پڑتا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو معاشرہ جاہل ، پسماندہ سوچ جیسے کلمات سے نوازتا ہے، جو کہ ہمارے معاشرے کا کڑوا سچ ہے۔ 

فیشن کو اندھی تقلیدبنانے میںمشہور شخصیات کا بھی حصہ ہے ۔ لوگ اپنے آئڈیل کے پہناوے، اسٹائل کو کاپی کرنا پسند کرتے ہیں ، نہ صرف پہناوا بلکہ ہیئر اسٹائل ,گلاسز ,جوتے ,پرس یہاں تک کہ ان کی طرح چال چلت کو بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر چاہے سلمان خان کی طرح کندھوں تک بال ہوں یا عامر خان کی طرح گنجے سَر پر نشان کا فیشن ۔

مختلف ممالک میں فیشن بھی مختلف ہی دیکھے جاتے ہیں . ۵۱۰۲ کی درجہ بندی کے مطابق فیشن کی دنیا میں حکمرانی کا تاج انگلستان اور امریکا کے سر پر ہے ۔ ساری دنیا اور ہمارا ملک پاکستان بھی ان کے نقشِ قدم پر گامزن ہے۔ خاص طور پر اَپر کلاس طبقہ مغربی تہذیب کو اپنانا فیشن سمجھتا ہے۔ جسکی دیکھا دیکھی مڈل کلاس طبقہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ جس طرح جِینس شرٹ فیشن ہے اسی طرح اجرک سوٹ بھی ثقافتی فیشن ہے بس فرق بنانے والوں اور اسکے ذریعے کمانے والوں کا ہے۔

 کشیدہ کاری، سندھی کڑھائی ، ور گج اور کاشی کا کام اندرون ِ اور بیرونِ ملکوں میں اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے کئی غریب گھروں کا چولھا جلتا ہے۔ اسی فیشن کی وجہ سے جہاں روزگار کے مواقع ملتے ہیں وہیں مہنگی قیمتوں کی وجہ سے جیب پر بھاری اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Original
 Mizna-final
مزنہ رئیس 
میڈیم : اردو
کیٹگری : آرٹیکل
بدلتا فیش 
دنیا میں آگ کی طرح پھیل رہا ہے.ارد گرد دیکھا جائے تو یہ ہی نظر آتا ہے کے ہر بندہ فیشن کے بارے میں اچھی طرح آگاہ ہے یا پھر یوں کہا جاسکتا ہے کے ہر شخص اس دوڑ میں آگے نکلنا چاہتا ہے .
پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جو اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہے مگر پھر بھی یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کے پاکستان کا کوئی بھی شعبہ اس سے بے خبر ہو .ہر انسان یہی چاہتا ہے کے نئی روایتوں اور نیے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے .یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں بدلاو ¿ چاہتا ہے .جیسا کے سب سے بڑا بدلاو ¿ لباسوں میں دیکھا جاسکتا ہے .آج سے تقریباً ?? سے ?? سال پہلے جس طرح کے لباس پہنے جاتے تھے ان کا اب نام و نشان بھی نظر نہیں آتا .یہ فرق اس بات سے واضح نظر آتا ہے کے تقریباً ?? سال پہلے خواتین کے لباس میں کمیز کے ساتھ شلوار ہوا ر کر تی تھی مگر اب شلوار کی جگہ کیپری پاجاما ,سگرٹ پاجامہ اور فلیپر پاجامہ نے لے لی ہے اور پرانے زمانے کی خواتین بڑے بالوں کو اہمیت دیتی تھیں اور مرد چھوٹے بال رکھتنے تھے مگر آج کا نظام کچھ الٹا ہے جیسا کے خواتین چھوٹے بالوں کو فیشن سمجھتی ہیں اور مرد بڑے بال رکھنے لگے ہیں .نظر دوڑائی جائے تو ہر انسان فیشن کے جنوں میں ہے اور یہ جنوں وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے .مگر سچ یہ بھی ہے کے انسان کو زمانے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے زمانے کے فیشن کی پیروی کرنی پڑتی ہے اور یہ ضرورت بن چکا ہے .اگر ہم زمانے کے مطابق اپنے اندر بدلاو ¿ نہیں لاین گے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کے یہ لوگ جاہل ہیں اور پھر سوسائٹی بھی قبول نہیں کر پاتی یہ کڑوا تو ہے مگر سچ ہے .
آجکل ہر بندا کسی سیلبرٹی کی طرح نظر آنا چاہتا ہے.انکی طرح دکھنا اور ان کے اسٹائل کو اپنانا چاہتا ہے .ان کے کپڑے ,ہیر اسٹائل ,گلاسز ,جوتے ,پرس یہاں تک کے ان کی طرح چلنے اور بولنے کی بھی کوشش کرتا ہے اور اس کے سوا اب تو مشینری اور دوسری چیزوں میں بھی بدلاو ¿ لاتے ر?تے ہیں جیسے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ گاڑی ہو یا موٹر سائیکل یا پھر گھر کی کوئی مشینری ہی کیوں نہ ہو ہر چیز زمانے اور فیشن کے حساب سے نئی طرز کا لیتے ہیں اور یہ بدلاو ¿ آج سے نہیں پرانے زمانے سے ہے کے انسان اپنے اندر بدلاو ¿ لانا چاہتا ہے اور مسلسل لا رہا ہے جیسا کے ?? کی دہائی کا مشہور ہیرو جسے دنیا چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے نام سے جانتی ہے .اس کے زمانے میں بھی لوگوں نے ہیر اسٹائل وحید مراد جیسے رکھنا شروع کردئے تھے اور پھر امیتابھ کو دیکھ کر گلے میں مفلر ڈالنے کا فیشن چلا تھا اور اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ فیشن بھی بدلتے ر?تے ہیں اور لوگ اپنے آپ کو نہے طرز کے فیشن میں ڈھالتنے ر?تے ہیں اور یہ سچ ہے کے اس بدلتے فیشن کے ذمے دار بھی صرف ہم ہی ہیں .کہا جاتا ہے کے .
"چیزیں نہیں بدل رہیں ,ہم بدل رہے ہیں "
ہر نو جواں اپنے لک بدل رہا ہے .نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہمیشہ اسمارٹ اور ہر چیز میں آگے نظر آنا چاھتے ہیں .اور یہ بھی انسان کی فطرت میں ہی شامل ہے کے وہ ہمیشہ داد حاصل کرنے کا طلبگار رہتا ہے .
مختلف ممالک میں فیشن بھی مختلف ہی دیکھے جاتے ہیں . فیشن کی دنیا پر حکمرانی یو کے اور یو ایس اے کو زیادہ ہے اور ہمیشہ رہی ہے اور ہمارا ملک بھی ان کو دیکھ کر ان ہی کے نقش و قدم پر چل پڑتا ہے کسی دوسرے ملک میں فیشن کے آتے ہی ہمارے ملک کے اپر کلاس لوگ اس فیشن کو اپنانے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپر کلاس کو دیکھ کر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے لوور کلاس کے لوگ اس فیشن کو اپنانے لگتے ہیں کیوں کہ فیشن ہمیشہ اوپر کی طرف سے ہی نیچے کی طرف آتا ہے .فیشن میں بدلاو ¿ بھی آتے ر?تے ہیں. اور اب دیکھا جاتا ہے کے جب اپر کلاس طبقے کے پاس اپنے پیٹرن ختم ہونے لگے ہیں تو وہ اب دیہاتی پیٹرن ا ور ڈیزائن اور پرانے طرز کے فیشن کو دوبارہ ابھار دے رہے ہیں اور اپناتے جارہے ہیں جیسا کہ پرانے زمانے میں لمبی لمبی قمیضیں زیب تن کی جاتی تھی مگر پھر آہستہ آہستہ چھوٹی قمیضوں کو زیب تن کیا جانے لگا تھا مگر اب پھر سے لمبی قمیضیں فیشن میں ان ہوگئی ہیں .اور دیہاتی پیٹرن اور اسٹائل کو بھی فیشن میں اپنایا جارہا ہے مثلا : تھر کی کشیدہ کاری 
سندھی کڑھائی ور گج 
اور کاشی کا کام وغیرہ 
شامل ہیں . ان تمام اسٹایل کو اب فیشن میں لایا جارہا ہے . جو جدید دور کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ سارے کام آج کے زمانے کے مطابق ہورہے ہیں .








 Room for improvement
Mizna Raisuddin

2k14/156/MC

category:Article
بدلتا فیشن 
 مزنہ رئیس الدین 
دنیا میں آگ کی طرح پھیل رہا ہے.ارد گرد دیکھا جائے تو یہ ہی نظر آتا ہے کے ہر بندہ فیشن کے بارے میں اچھی طرح آگاہ ہے یا پھر یوں کہا جاسکتا ہے کے ہر شخص اس دوڑ میں آگے نکلنا چاہتا ہے .
پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جو اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہے مگر پھر بھی یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کے پاکستان کا کوئی بھی شعبہ اس سے بے خبر ہو .ہر انسان یہی چاہتا ہے کے نئی روایتوں اور نیے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے .یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں بدلاؤ چاہتا ہے .جیسا کے سب سے بڑا بدلاؤ لباسوں میں دیکھا جاسکتا ہے .آج سے تقریباً ١٥ سے ٢٠ سال پہلے جس طرح کے لباس پہنے جاتے تھے ان کا اب نام و نشان بھی نظر نہیں آتا .یہ فرق اس بات سے واضح نظر آتا ہے کے تقریباً ١٠ سال پہلے خواتین کے لباس میں کمیز کے ساتھ شلوار ہوا ر کر تی تھی مگر اب شلوار کی جگہ کیپری پاجاما ,سگرٹ پاجامہ اور فلیپر پاجامہ نے لے لی ہے اور پرانے زمانے کی خواتین بڑے بالوں کو اہمیت دیتی تھیں اور مرد چھوٹے بال رکھتنے تھے مگر آج کا نظام کچھ الٹا ہے جیسا کے خواتین چھوٹے بالوں کو فیشن سمجھتی ہیں اور مرد بڑے بال رکھنے لگے ہیں .نظر دوڑائی جائے تو ہر انسان فیشن کے جنوں میں ہے اور یہ جنوں وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے .مگر سچ یہ بھی ہے کے انسان کو زمانے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے زمانے کے فیشن کی پیروی کرنی پڑتی ہے اور یہ ضرورت بن چکا ہے .اگر ہم زمانے کے مطابق اپنے اندر بدلاؤ نہیں لاین گے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کے یہ لوگ جاہل ہیں اور پھر سوسائٹی بھی قبول نہیں کر پاتی یہ کڑوا تو ہے مگر سچ ہے .
آجکل ہر بندا کسی سیلبرٹی کی طرح نظر آنا چاہتا ہے.انکی طرح دکھنا اور ان کے اسٹائل کو اپنانا چاہتا ہے .ان کے کپڑے ,ہیر اسٹائل ,گلاسز ,جوتے ,پرس یہاں تک کے ان کی طرح چلنے اور بولنے کی بھی کوشش کرتا ہے اور اس کے سوا اب تو مشینری اور دوسری چیزوں میں بھی بدلاؤ لاتے رهتے ہیں جیسے موبائل ہو یا لیپ ٹاپ گاڑی ہو یا موٹر سائیکل یا پھر گھر کی کوئی مشینری ہی کیوں نہ ہو ہر چیز زمانے اور فیشن کے حساب سے نئی طرز کا لیتے ہیں اور یہ بدلاؤ آج سے نہیں پرانے زمانے سے ہے کے انسان اپنے اندر بدلاؤ لانا چاہتا ہے اور مسلسل لا رہا ہے جیسا کے ٧٠ کی دہائی کا مشہور ہیرو جسے دنیا چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے نام سے جانتی ہے .اس کے زمانے میں بھی لوگوں نے ہیر اسٹائل وحید مراد جیسے رکھنا شروع کردئے تھے اور پھر امیتابھ کو دیکھ کر گلے میں مفلر ڈالنے کا فیشن چلا تھا اور اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ فیشن بھی بدلتے رهتے ہیں اور لوگ اپنے آپ کو نہے طرز کے فیشن میں دھالتے رهتے ہیں اور یہ سچ ہے کے اس بدلتے فیشن کے ذمے دار بھی صرف ہم ہی ہیں .کہا جاتا ہے کے .
"چیزیں نہیں بدل رہیں ,ہم بدل رہے ہیں "
ہر نو جواں اپنے لک بدل رہا ہے .نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہمیشہ اسمارٹ اور ہر چیز میں آگے نظر آنا چاھتے ہیں .اور یہ بھی انسان کی فطرت میں ہی شامل ہے کے وہ ہمیشہ داد حاصل کرنے کا طلبگار رہتا ہے .