Showing posts with label پروفائل. Show all posts
Showing posts with label پروفائل. Show all posts

Monday, 25 April 2016

Aqib Mehmood profile by Mizan Raees


عاقب محمود (ڈائریکٹر آف سائبر کرائم ) پروفائل
مزنہ رئیس الدین 
B.S III MC/156/2K15

ٹیلٹ انسان کے لئے خدا کی طرف سے دیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے جسے ہر کوئی استعمال کرنا نہیں جانتا ۔ مگر یہ ہی ٹیلنٹ انسان کو فقیر سے امیر اور پتھر کو ہیرا بنا دیتا ہے ۔ ان ہی پتھروں میں سے ایک تراشا ہو اہیرا عاقب محمود ہیں عاقب محمود کا تعلق پاکستا ن کے مشہور شہر لاہور سے ہے اور لاہور کے معزز گھرانوں میں سے ایک ہے ۔ 

عاقب محمود نے ایک امیر ترین فیملی میں آنکھیں تو کھولی مگر وقت کس کا وفادار نہیں ہوتا اور کبھی ایک جیسا ہی نہیں ہوتا۔ اور کبھی ایک جیسا ہی نہیں ہوتا۔ ایسا کچھ عاقب محمود کے ساتھ بھی ہواعاقب کے والد ڈاکٹر خالد محمود ایک حادثاتی موت کا شکار ہو گئے جب عاقب محمود کی عمر 5سال تھی ۔ اور عاقب نے مشکل اور کڑے وقت کا سامنا کیا۔ اور غربت کا شکار ہو گئے جس کی وجہ ان کی دادی بنیں جنہوں نے انکو ان کا جائز حق دینے سے انکار کر دیا ۔ 

 انسان اگر ہمت کرے تو کیا نہیں کر سکتا یہ ہی بات عاقب محمود نے گرہ سے باند ھ لی اور 12سال کی عمر میں گھر سے باہر ٹریفک سگنل پر اخبار بیچنے نکل پڑے ۔ برا وقت ہمیشہ کا ساتھی بھی نہیں ہوتا اور خوش قسمتی بھی انسان کا ساتھ دے ہی جاتی ہے اور ایسا ہی عاقب محمود کی ملاقات ٹریفک سگنل پر ایک برٹش سفارت کار سے ہوئی جو آپ کو انگلش میں کم عمری میں بہترین انگلش بولنے کے ٹیلنٹ کی بناءپر آپ کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ اور عاقب کے بقول انہوں نے یہ ٹھان لی تھی کہ وہ کچھ کرکے دکھائیں گے ۔

 فروری 2008 میں عاقب نے ایک مائکروسافٹ کی چھوٹی سے برانچ قائم کی ۔ اور پھر اس کے بعد Avira اینٹی وائرس کی زبان میں منتقل کی اور اپنے آفیسر کو حیران کر دیا ۔ عاقب نے کئی سافٹ ویئربھی بنائے اور ساتھ ہی ایوارڈز حاصل کرنے کا سفر طے کرتے چلے گئے ۔ عاقب نے جب مائکروسافٹ کا امتحان پاس کیاتو انہوں نے گوگل ایپ کے بارے میں سوچا اور آخر کار یہ ثابت کر کے دکھا یا کہ وہ واقع ایک ٹیلنڈانسانوں میں سے ایک ہیں ۔ دسمبر 2011میں عاقب نے گوگل ایپ کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان میں گوگل ایپ کے امتحان میں بھی سب سے زیادہ مارکس حاصل کرنے کا تاج بھی اپنے سر کر لیا۔
 آج عاقب محمود بحثیت ڈائریکٹر سائبر لاء انٹیلی جنس برائے ایشیا و مشرق وسطیٰ اور انٹرنیشنل سائبر کرائیم کنٹرول ہیں اور اس کے سوا بھی عاقب محمود لوگوں کی مدد کرنے میں کوشان رہتے ہیں عاقب محمود کی مدد سے آج سوشل میڈیا کے لاکھوں بینک اکاو ¿نٹس ، بلیک میلنگ ، اور نیو ڈئی جیسے کیس کو حل کر چکے ہیں اور مسلسل ایسے ہی کیس سے لوگوں کی مدد کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔
 وہ دو گولڈ میڈل، سات سلور میڈل حاصؒ کئے۔ وہ گوگل، مائکرو سافٹ اور فیس بک کے Authorized ہیں 
جناب کو کتابیں لکھنے کا بھی شو ق ہیں دو کتابیں لکھ چکے ہیں اور آجکل تیسری کتاب لکھ رہے جو انکی ذاتی زندگی پر مبنی ہے اور عنوات ”توہین محبت ہے “ اور اس کے سوا عاقب محمود انتہائی دھیمے مزاج اور لیجے کے مالک ہیں ۔جس کی وجہ کم عمری میں کڑے وقت او رمشکلات کا سامنا کرنا ہیں ۔
عاقب اکثر غیر ملکی دوروں پر ہھتے ہیں۔ پچھلے پانچ مہینوں میں 21ملکوں کا دورہ کر چکے ہیں ۔

عاقب محمود کے ذاتی شوقوں میں کسی قسم کا نشہ تو نہیں پایا جاتا مگر وہ چائے کا استعمال نشے کی طرح کرتے ہیں ۔

عاقب محمود ان لوگوں کے لئے ایک زندہ مثال ہیں جو کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔ایک اخبار بیچنے والے سے لے کر ایک Cyber line کا ڈائریکڑ بننے تک کا سفر صرف اپنی انتھک محنت اور جدوجہد سے یہ ثابت کردیا کہ اگر ہمت کرے انسان تو کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔

 Mizan Raeesuddin
B.S III MC/156/2K15

Practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, University of Sindh 

#AqibMehmood,  #Profile, #MizanRaees, 

Saturday, 9 April 2016

Profile by Sidra Khalid - driving instructor

سدرہ خالد
بی-اس-ااا
ایم-سی/120/2k14
                                غلام علی بلوچ''ڈرائیونگ انسٹرکٹر"
پروفائل
''زندگی ہر ایک انسان کو بہترین بنانے کا موقع ضرور دیتی ہے"
 ایسے ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والا " غلام علی بلوچ" اسی ہی سوچ کا مالک ہے۔ جو اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جسے زندگی نے خود کو سنوارنے کا موقع دیا۔
کم عمری میں کام کی تلاش میں اور کاندھوں پر ذمیداریاں اٹھاۓ حیدرآباد آیا۔ اسٹیٹ لائف کی بلڈنگ جو اس وقت تعمیراتی مراحل میں تھی ، اس کے سامنے بنی بریانی بیچنے والی چھوٹی سی دکان میں ویٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔جس سے اس نے دن کا آٹھ روپے کمانا شروع کیا۔ ان پیسوں سے اسکی ضروریات پوری نہ ہونے کے سبب اس نے قاسم آباد کے ایک گھر میں  بطور نوکر ملازمت شروع کی۔ جہاں سے وہ  مہینے کا 700 روپے کمانے لگا اور اپنی سہولت کے لیے  20  روپے کی قسطوں پر خود کے لیے ایک سائیکل خریدی۔  وہ زیادہ کمانا چاہتا تھا تا کہ گھر والوں کو ایک اچھی رقم بھجوا سکے۔  جدھر ملازمت کرتا تھا وہیں کے ملازم جو اس گھر کا ڈرائیور تھا گاڑی سیکھنے کا مشورہ دیا۔
جس استاد نے اسکو گاڑی چلانا سکھائ وہیں اسے معاشرے کے رموزو اوقاف، ادب و آداب ، رہن سہن سے آگاہ کیا۔انھی استاد نےغلام علی کی زندگی بدل دی۔ 
 یہاں سے اسے 5 ہزار ماہانہ ملنے لگے جو آدھے گھر بھجواتا اور آدھے جمع کرنے لگا۔ کراۓ پر گھر لیا اور اپنے گھر والوں کو اپنے پاس بلالیا۔ انتھک محنت کے بعد خود کے لیے ایک اپنا گھر کرلیا۔ چند مویشی خریدے جن سے کاروبار شروع کیا۔ جسکی زمیداری اپنے چھوٹے بھائ کے سپرد کردی۔ 
سبحان الّلہ ڈرائیونگ سینٹر کے نام سے کاروبار شروع کیا۔
یہ وہ شخص ہے جس نے قلم تک نہیں کبھی اٹھایا۔ جو تعلیم سے ایک فیصد بھی آشنا نہیں۔ جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا  ، بیشک وہ ان پڑھ ہے مگر پڑھی لکھی سوچ کا مالک ہے۔
والدین کو اپنی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ماں باپ کی اتنی عزت کرتا ہے کہ دن کا آغاز اور دن کا اختتام ان کے قدموں کو چوم کے کرتا ہے۔
اس کا ماننا ہے کہ میری ہر مشکلات کا میری تکالیف کاحل میرے والدین کی دعائیں ہیں۔ 
آج میرا اپنا  سبحان اللّلہ ڈرائیونگ سینٹر ہے۔ جو کل تک دوسرے کی گاڑی چلاتا تھا آج اسکی خود کی گاڑیاں ہیں۔ جو کل تک کسی کے گھر میں ملازم تھا آج اسکا اپنا گھر ہے۔  جو کل تک ماہانہ 700 کماتا تھا آج ماہانہ 80،000 روپے  کما رہا ہے۔  
جیسے اس کے استاد نے اسکی زندگی سنواری آج وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہا ہے۔ اور آج وہ آگے بڑھنے کے لیے اور محنت کر رہا ہے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media University of Sindh

 #driving instructor #GhulamAliBaloch  #Profile, #SidraKhalid

Thursday, 31 March 2016

Profile of Danish Nawaz

 Referred back Same composing mistakes. 
              پروفائل
             دانش نواز
 عدنان علی لاشاری
زندگی کے اتار چڑھاﺅ انسان کو بہت کچھ سےکھا دےتے ہےں اور وہی شخص کامےاب ہوتا ہے جو محنت و لگن سے اپنی منزل کو پانے کے لےے جدوجہد کرتا ہے چاہے پھر وہ منزل دنےا کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہو۔پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری مےں مزاحےہ کردار ادا کرنے والوں کی طوےل فہرست موجود ہے مگر نوجوان مزاحےہ اداکار گنے چنے ہی ہےں جنھوں نے بھرپور طرےقے سے اپنا سکّہ ڈرامہ انڈسٹری مےں جمائے رکھا ہے انھی با صلاحےت نوجوانوں مےں دانش نواز کا نام سِِر فہرست ہے۔
    دانش نواز 4اگست 1978ءکو کراچی مےں پےدا ہوئے ابتدائی تعلےم کراچی کے نجی انگلش گرامر اسکول سے حاصل کی اورگورنمنٹ پرےمےئر کالج سے اےف۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ پڑھائی مےں زےادہ قابل شاگرد نہےں تھے کےونکہ انھےں بچپن ہی سے اداکار بننے کا شوق تھااوراس بات پر انھےں اکثر اپنے والد سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔ ان کے والد فرےد نواز بلوچ کا شمار بھی ڈرامہ انڈسٹری کے مشہور اور منجھے ہوئے اداکاروں مےں ہوتا ہے جنھوں نے بغےر کسی سفارش کے صرف محنت کر کے ڈرامہ انڈسٹری مےں ا ±ونچا مقام حاصل کےا۔دانش نواز اپنے گھر مےں سب سے چھوٹے اور لاڈلے صاحبزادے ہےں۔انکے دو بھائی فراز نواز اور ےاسر نواز اور اےک بہن صنم نواز ہے۔ےاسر نواز مشہور اداکار اور ڈائرےکٹر بھی ہے۔ دانش نواز نے 2002ءمےں اپنے کرئےر کا آغاز پی۔ٹی۔وی کے شو” ٹروٹی فروٹی“ کی مےزبانی سے کےا۔ اداکار خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دانش نواز کو شروع مےں اپنا کرئےر بنانے مےں کافی مشکلات درکار ہوئےں کےونکہ ہر کوئی انکے کام کی مماثلت ، انکے والد اور بھائی کے کام سے کرتا تھا جس کی وجہ سے انکی شناخت ختم ہوتی جا رہی تھی ۔2008ءمےں اپنے بھائی کی پروڈکشن مےں” نادانےاں“ ڈرامہ مےں پہلی بار مزاحےہ اداکاری کی جو قابلِ تعرےف ہے،اور انکے مداحوں نے انکی بہت حاصلہ افزائی بھی کی۔ پھر انھوں نے جون 2011 ءمےں اپنی اہلےہ انےلا دانش کی پروڈکشن مےں مزاحےہ ڈرامہ” اےکسٹراز“ کو ڈائرےکٹ کےا بلکہ خود بطوِر اداکار اس مےں شاندار طرےقے سے مزاحےہ اداکاری کی کہ ےہ ڈرامہ 3 سال تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس ڈرامے کے بعد انھےں ” لڑکا کراچی کا کڑی لاہور دی“ مےں کام کرنے کی پےشکش ملی اس ڈرامے نے انکے کرئےر کو پروان چڑھاےا ۔ےہ کہنا بجا ہوگا کہ اےکسٹراز ڈرامے کے بعد قسمت ان پر مہربان اےسی ہوئی کے ےکے بعد دےگرے ڈراموں کی پےشکش ملنی شروع ہوگئی بلکہ خود ےہ دانش نواز کے الفاظ ہےں کہ ”اس ڈرامے نے مجھے اسٹار بنا دےا“۔
    دانش نواز نے ”ہم تم“، ”او مےری بلّی“ ، ”مس گرم مصالحہ“ ،”بابو جی دھےرے چلنا“ ، ” نےنا“ ، پھر چاند پہ دستک اور” چار چاند“ جےسے مشہور ڈراموں مےں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنی اےک الگ پہچان بنائی ۔ اس کے علاوہ 2009ءمےں سنجےدہ کہانی پر مبنی ڈرامہ تنوےر فاطمہ بی۔اے مےں بھی دانش نواز نے سنجےدہ اداکاری کر کے اپنے مداحوں کو حےران کر دےا۔2012ءمےں دانش نواز ”ھم ٹی۔وی“ اےوارڈ کے بہترےن مزاحےہ اداکاری کے لےے نامزد بھی ہوئے۔2015ءمےں پاکستانی فلم ” رانگ نمبر“ مےں بھی بہرےن اداکاری کی جس سے انھےں بہت پذےرائی حاصل ہوئی۔
     دانش نواز سادگی پسند اور عاجزانہ طبےعت کے مالک ہےں ۔بقول انکے کہ ”عاجزی انسان کو ترقی و کامرانی کی منزلوں سے ہمکنار کرتی ہے اور کبھی بھی انسان کو ترقی کی بلندی سے گرنے نہےں دےتی“۔دانش نواز اپنی کامےابی کا سہرا اپنی اہلےہ انےلا دانش کو دےتے ہوئے کہتے ہےں کہ جب مےں اپنے کرئےر سے بالکل ماےوس ہوگےا تھا تو انےلا نے مےری حاصلہ افزائی کی اور مےرے لےے اےکسڑاز ڈرامہ پروڈکٹ کےا،جس سے مجھ مےں خود اعتمادی پےدا ہوئی۔دانش نواز کی اےک بےٹی ہے جسے وہ اپنی کلُ کائنات سمجھتے ہےں۔
       دانش نواز کی بہترےن اداکاری صرف پاکستان مےں ہی نےہں مانی جاتی بلکہ ہمارے پڑوسی ملک انڈےا مےں بھی بہت سرہائی جاتی ہے۔انڈےا کے مشہور ہداےت کار مہےش بھٹ نے اپنے اےک انٹروےو مےں کہا کہ” دانش نواز بہت محنتی اداکار ہے اور اسکی مزاحےہ اداکاری لاجواب ہے ، خاص طور پر انکے فی البدےہ مزاحےہ فقرے مزاج کو تازگی بخشتے ہےں “ اور انھوں نے اپنی مزاحےہ فلم مےں بطورمزاحےہ اداکار انھےں کام کرنے کی پےشکش کی جو انھوں نے منظور کر لی اور اگلے سال وہ فلم سےنما گھروں کی زےنت بنے گی۔
    اس مےں کوئی شک نہےں کہ دانش نواز محنتی اور با صلاحےت اداکار ہےں اسی وجہ سے انکا کام دنےا بھر مےں سرہاےا جا رہا ہے اور انکی زندگی مستقبل مےں کام کرنے والے نوجوان اداکاروں کے لےے بہترےن نمونہ ہے۔
 عدنان علی لاشاری
 رول نمبر:2k14/MC/153 
Under supervision of Sir Sohail Sangi
#SohailSangi #AdnanLashari, #Profile, #DanishNawaz

Friday, 11 March 2016

محمد رضا قریشی باڈی بلڈر

Referred back - Are u sending this first time or it was referred back? Let me know when u sent it  for first time. Is this approved topic?
  کیا یہ ٹاپک منظور شدہ ہے؟    
    محمد رضا قریشی (باڈی بلڈر)

رافع خان
موٹاپا کسے پسند ہوتا ہے، وزن گھٹائیں صحت پائیں یہ نسخہ بہت فائدے مندثابت ہوتا ہے مگر جب اس پر عمل کیا جاہے۔بیشتر موٹے افراد جو اس نسخے پر مکمل طور پر عمل نہیں کر پاتے اور یہ قبول کر لیتے ہیں کہ وہ موٹاپے کا شکار ہیں،مگر محمد رضا قریشی نے ہار نا مانی اور اس نسخے پر پورا اُترے ۔جہاں بچپن میں بچوں میں کھیلنے کودنے کا شوق پاےا جاتا ہے وہیں ان کا شوق اس کے برعکس دکھائی دےا۔ نہ انھیں پتنگ بازی کا شوق تھا ،نہ گلّی ڈندے سے محبت، نہ کبڈی کے دیوانے تھے، نہ کرکٹ بھاتی تھی،نہ کنچے کھیلا کرتے تھے،نہ فٹبال میں دلچسپی تھی۔ ہاں مگر کھانے پینے کے خاصہ شوقین تھے جس کی وجہ سے ےہ بچپن میں ہی موٹاپے کا شکار ہو گے۔
 طرح طرح کے کھانے کھانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، باہر کے کھانے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس کی وجہ سے موٹاپا دن بہ دن بڑھتا چلا گےا اور ان کی پریشانی کو بھی بڑھاتا چلا گےا۔ نہ تو یہ عام بچوں کی طرح دوڑ لگا سکتے تھے اور نا ہی ان کی طرح کھیل کود سکتے تھے، بے حد سُستی کا شکار ہو گے تھے۔ پڑھائی کا بھی خاصہ شوق نہیں تھا، فلموں کے شوقین تھے۔ بچپن میں اسکول سے غیر حاضر ہو کر فلم دیکھنے نکل جاےا کرتے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے والد کی مار سہنی پڑھتی۔ بچپن گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی کا رہا سہا شوق بھی جتم ہو گےا۔
محمد رضا قریشی ۷ جون ۵۸۹۱ کو شہر حیدرآباد میں پیدا ہوے۔ محمد رضا قریشی نے ابتدائی تعلیم پھلیلی کے سرکاری اسکول سے حاصل کی اور ۷۰۰۲ میں سٹی کالج سے انڑر کیا۔ موٹاپے کے باعس ۵۱ سال کی عمر میں ان کا وزن ۰۷ کلو تک پہنچ گےا تھا۔ موٹاپے سے تنگ آ کر انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے جاتمے کے لیے یہ کچھ بھی کر جائنگے۔ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے جم کا رخ کےا۔ آہستہ آہستہ ان میں بہتری دکھائی دینے لگی۔ جم کو انہوں نے اپنا شوق مقصد بنا لےا ۔ وقت کا خاصہ حصہ جم میں اپنے استاد کی نگرانی میں گزار دیا کرتے۔ موٹاپے کے خاتمے کے لیے خراک میں کئی کئی دن تک روٹی نہیں کھاتے اُبلے ہوے چاول پر گزارہ کرتے۔ انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے باڈی بلڈر بھی بن کر رھینگے اب یہی ان کا مقصد بن چکا تھا۔ 
اس شعبے میں انہوں نے دل و جان سے محنت کی، اپنے آپ پر کافی محنت کی۔ آخر کار کافی مشکلات کا سامنہ کرنے کے بعد وہ ددن آ ہی گےا اور ان کا مقصد پورا ہوا۔۶۰۰۲ میں ڈسڑرک حیدرآباد باڈی بلڈر کا خطاب ان کے نام ہوا۔ اس خطاب کے ملنے کے بعد باڈی بلڈنگ کو انہوں نے روزی روٹی کا ذرےعہ بنا لیا اور آج یے مسل مینیا جم میں بطور ٹرینر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ محمد رضا قریشی ایک اچھے ٹرینر ہیں، اپنے شاگردوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے ہیں۔ ان کی سوچ ےہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو وہ پڑھائی لکھائی میں اپنی توجہ صرف کر دیتے اورڈاکٹر یا انجینئر بن جاتے ، مگر انہوں نے ایسا نہ کےا ڈاکٹر یا انجینئر کے شعبے کو اپنانے کے بجاے انہوں نے باڈے بلڈنگ کو اپناےا اور ایک اچھے باڈی بلڈر بن کر سامنے آے۔ وہ اس لیے کیوں کے موٹاپے کے خاتمے کے لیے جن مشکلات ،جن پریشانیوں سے گزرے ہیں اور اپنے موٹاپے کو شکست دی ہے،ےہ اور لوگوں کو بھی جو موٹاپے کا شکار ہیں ان تمام مصیبتوں سے نکالیں اور انہیں اس مشکل سے نکالنے کے لیے بھی مدد
 کریں، کیوں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور ےہ ایسے لوگوں کے کام آئیں جو موٹاپے سے پرےشان ہیں۔
محمد رضا صادہ لباس استعمال کرتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی باتوں میں مزاح بھی پایا جاتا ہے۔ان میں غروروتکبّر نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھے باڈی بلڈر اور ایک اچھے ٹرینر میں موجود ہونی چاہیں۔

نام: محمد رافع خان
رول نمبر: 2k14/MC/140
کلاس: BS III

Under supervision of Sir Sohail Sangi

#Profile, MuhammadRafi, #SohailSangi, #BodyBuilder, #MuhammadRaza, #Hyderabad,

Tuesday, 23 February 2016

Referrred back Profile by Shaheryar

Referred back Nothing interesting, informative. Find some such aspects. It is short 600 words are needed
شہریار رول نمبر2K-14/MC-147 BS - Part-III
پروفائل 
آفاق احمد خان 
حیدرآباد محنت کرنے والوں کا شہر جہاں لوگ روز بہت سے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر خوابوں کو حقیقت کا رنگ وہی لوگ دیتے ہیں جو محنت کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔ آفاق احمد خان انہی محنت کرنے والے لوگوں میں سے ہیں جو محنت کرنے کی جستجو رکھتے ہیں اور محنت کرکے اپنے اصل مقام تک خود کو لے کر جاتے ہیں۔
 آفاق احمد خان کا تعلق حیدرآباد سے ہے 1985میں حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک کشن میکر تھے۔ آفاق احمد خان کو بچپن ہی سے پڑھائی سے بہت لگاﺅ تھا ڈان اخبار پڑھانا بچپن سے ہی اپنا شوق بنالیا تاکہ انگریزی زبان پر عبور حاصل کرسکیں۔ آفاق نے پانچویں جماعت کے بعد ہی چھوٹا موٹا کام کرنا شروع کردیا اور گھر چلانے میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ آفاق نے 2000ءمیں دسویں جماعت مکمل کی اور ایک ٹریولنگ کمپنی میں کام کرنا شروع کیا کیونکہ آفاق کا خواب تھا کہ وہ اعلی تعلیم کے لئے لندن جانا چاہتے تھے ٹریولنگ کمپنی میں کام کرکے سیکھا کہ لندن جانے کیلئے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنی نوکری کو جاری رکھا اور ساتھ ہی ساتھ کالج کی پڑھائی بھی کرتے رہے۔
 آفاق بہت خوش مزاج رہے ہیں بچپن سے بڑوں کی عزت کرنا سب سے خوش ہو کر ملنا ان کی عادت ہے ۔ سادہ لباس پہنتے ہیں اور ایک بہت اچھی شخصیت کے مالک ہیں۔ آفاق اپنی ماں سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کا یہ بھی خواب تھا کہ اپنی ماں کو اچھے گھر میں رکھیں اور لندن کی سیر کروائے اور انہی خوابوں کو لے کر آفاق نے اپنا کالج 2002ءمیں مکمل کیا اور لند ن جانے کے لئے خود کو تیار کرنا شروع کردیا۔ کالج مکمل کرنے کے بعد ٹریولنگ کمپنی سے نوکری چھوڑ کر PTCLمیں کام کرنا شروع کیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے لندن میں دوست بنانا شروع کئے اس کے ساتھ انگریزی امتحان کی تیار ی بھی کرتے رہے ایک سال کی کڑی محنت کے بعد انگریزی امتحان کے لئے تیار ہوئے اور باآسانی امتحان میں کامیاب ہوئے اور اسٹوڈنٹ ویزا کے لئے فارم داخل کیا ان کی شخصیت اور انگریزی کی بنیاد پر انہیں با آسانی ایک سال کا لندن کا ویز ا ملا اور پھر انہوں نے لند ن کی طرف اپنا پہلا قدم بڑھایا۔
 لندن جا کر اعلی تعلیم کے لئے لندن کی گرین وچ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ پیزا کی شاپ پر کام کرنا شروع کیا۔ آفاق کا خوا ب یہی تک نہیں تھا وہ اپنے والدین کو بھی اچھی زندگی دینا چاہتے تھے تو مزید محنت کی اور اپنے گھر ہر مہینے موٹی رقم بھیجا کرتے ۔
 آفاق نے اپنے والدین کو زندگی کی ہر آسائش میسر کی گاڑی ، بنگلہ، بینک بیلنس اور دس سال کے بعد 2012میں لندن سے MS.cماسٹرز کرکے واپس آئے اور یہاں بزنس کرنے کا فیصلہ کیا اور اب آفاق احمد خان پراپرٹی ڈیلنگ کرتے ہیں اور ایک ریسٹورنٹ بھی چلا رہے ہیں۔ 
Under supervision of Sir Sohail Sangi
#SohailSangi 
#Profile, #Shaheryar, #Hyderabad, 




Tuesday, 9 February 2016

Profile graphic designer Qazi Tahir

Edited
ایڈیٹنگ: سائرہ ناصر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57
پولیس سپاہی سے گرافک ڈیزائنر تک
پرو فا ئل :قا ضی محمد طاہر شیخ
بڑے کام کرنے کے لئے بڑی عمر کی نہیں بڑے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ بھی مضبوط عزائم کے ساتھ ۴۱ اگست ۷۸۹۱ ءکو حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا مقھیہ تھے جو قاضی کے نا م سے مشہور تھے تو انہوں نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔ طاہر کی شخصیت میں اپنے دادا کی طرح رہنما بننے والی خصوصیات تھیں اسی لیے اپنے والد کی طرح گورنمنٹ ملازمت پررکنے کے بجائے اونچی اڑان لی۔طاہر اپنے والد کے لئے
وہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جسکے بعداولاد والدین کا فخر بن جاتی ہے۔

انہوں نے لطیف نیا زی سکول سے میٹرک ، گو ر نمنٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور پھر بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ کوشش کی پر ماےوس نہیں ہوئے اور بلآ خروقتی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے بھرتی ہوگئے۔ لیکن لگن اور بے انتہا کوشش کے باوجود بھی ترقی نہیں کرسکے اور انہوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑ دی ۔

 پولیس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد طاہرنے تعلیم کی کڑی کو دوبارہ جوڑا اور ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیاساتھ ہی کمپیوٹرکے شارٹ کورسز کے لئے بھی داخلہ لیا جہاں سے انکی توجہ گرافک ڈیزائنگ کی طرف مبذول ہوئی ۔ انہوں نے ارینا ملٹی میڈیامیں داخلہ لیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اوراسی شعبہ میں کام شروع کیا ۔

قا ضی طاہر کو البتہ اس شعبہ میں ذےادہ وقت نہیں ہوا پر ماہرانہ صلاحیت انکے کام میں جھلکتی ہے۔ علم ایسی ندی کی مانند ہے جسکا بہتے رہنا لازمی ہے اور اس سے مستفید ہونا ہر ایک کا حق ہے، اس لئے طاہر اپنی مہارت نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بہت وسعت ہے کیونکہ سوچ کے دریا کو قوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا یہ بہت وسیع ہے جسے بس راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

طاہر کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ لوگ ہزاروں روپے خرچ کر کہے بڑے بڑے سینٹرز سے سند تو حاصل کر لیتے ہیں مگر ماہرانہ صلاحیت اور ہنرسے محروم رہتے ہیں، وہ اپنے شاگردوں پر بہت محنت کرتے ہیں اور انہیں کسی مقام پر دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔

وہ صاف گو شخصیت کے مالک ہیں وہ ہر کام سیدھے اور صاف انداز میں کرنا پسند کرتے ہیں۔ انکے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ طاہر کی شخصیت میں ایک خوبی اور خامی یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور وہ ہے انکی صاف گوئی وہ کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے صاف منہ پر کہہ دینا پسند کرتے ہیں جسکو سمجھنے والے لوگ پسند کرتے ہیں اور گرویدہ بن جاتے ہیں مگر کئی دفعہ لوگ لڑپڑتے ہیں کیونکہ سچی اور کھری بات برداشت کرنا ہر کسی کہ بس کی بات نہیں ۔

 سادگی پسند طاہر کی خواہشات کی کوئی فہرست نہیں ہے ۔ انہوں نے اب تک ازدواجی زندگی کے لیے نہیں سوچا ہے انکا کہنا ہے انکی زندگی کا مقصد ابھی لا حاصل ہے اسلیئے وہ ابھی کوئی فیصلہ کرکہ توجہ بانٹنا نہیںچاہتے ہیں۔


Seems good. fotos are roshni email

 میڈیا میں کوئی ”آپ“ نہیں ہوتا۔ سوائے انٹرویو کے۔ ورنہ ”انہوں “نے لکھا جاتا ہےمحمد بلال حسین صدیقی 
2k14/MC/57
پروفائل: قا ضی محمد طاہر شیخ

"ریجیکشن آر ما ئے مو ٹیویشن "
یہ وہ الفاظ ہے جو قا ضی محمد طاہر شیخ اکثر اپنی باتو ں میں استعما ل کر تے ہیں ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ۴۱ اگست ۷۸۹۱ ءمیں حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا انڈیا کے مقھیہ تھے جو قا ضی کے نا م سے مشہور تھے تو آپ نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔قا ضی محمد طاہر شیخ حیدرآباد کا ایک عام شہری بلکہ یہ وہ ایک شہری ہے جس نے لوگوں کے آگے ہا تھ پھیلانے کے بجا ئے ہمیشہ محنت کو تر جیح دی۔کہتے ہیں کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے بس اسی سوچ سے قا ضی محمد طاہر شیخ بہت متا ثر ہوئے اور اسی سوچ کو اپنی زندگی کے ساتھ منسلک کر لیا ۔بنا کچھ سوچے سمجھے قا ضی محمد طاہر شیخ نے ہر دفعہ محنت کو تر جیح دی اور اسی محنت کی وجہ سے آج لوگ انھے ایک ڈیزائینر کے نام سے جا نے جاتے ہیں۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم لطیف نیا زی سکول سے حا صل کی میٹرک مکمل ہو نے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے گو ر منٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور بیچلر کی تعلیم حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ پھرے لیکن محنت سے کبھی منہ نہ موڑااور پھر سندھ پولس میں کونسٹیبل کی حیثیت سے مقررہ ہوگئے تھو ڑے ہی عرصے میں (ڈی۔آی۔جی) کے ( پی۔ایس ۔او) مقررہ ہو گئے۔ 

گورمنٹ ملازم ہونے کے بعد ایک سکون کی سا نس لی اور سوچا کہ شاید مینے جو سوچا تھا وہ مقام حاصل کرلیا۔ لیکن زندگی نے ایک اور کروٹ لی جس سے انہیں احساس ہوا کہ شعبہ پولس میں پر موشن صرف تاریخ پیدائیش یا پھر تا ر یخ اپونٹمینٹ پر ہوتا ہے قا بلیت کی بنا پر شبعہ پولس میں کوئی پر مو شن نہیں ہوتے جس کی بنا پر انھوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑنے کا فیصلا کیا۔

سندھ پولس کا شعبہ چھوڑنے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے چار دن کا آن لائن کورس کیاجس کا نام سیفٹی افسر تھایہ کورس کرنے کے بعدقا ضی محمد طاہر شیخ نے کراچی کی فرینڈ کنسٹرکشن کمپنی میں سیفٹی سپروائزرکی حیثیت سے ملازمت کی۔اس ملازمت سے بھی قا ضی محمد طاہر شیخ کچھ خاصہ مطمئن نہ ہوئے اور واپس حیدرآباد آگئے۔بقایا تعلیم حاصل کرنے کے لیئے ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیااور کمپوٹر سے خاصہ ہونے کی وجہ سے قا ضی محمد طاہر شیخ کا دھیان گرافک ڈیزائنگ کی طرف متاثرہوئے اور ایم ۔اے انگلش کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائنگ کا کورس ارینا ملٹی میڈیا سے کیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اور وہ اس کام میں ایکسپرٹ ہوگئے ۔

آپ نے کبھی بھی اپنی پہلی ملازمت شبعہ پولس کو کبھی بھی برا نہیں سمجھا اور ہمیشہ یہ ہی سوچا کہ آج میں جو کچھ ہوں اسی وجہ سے ہوں کیونکہ وسائل کی کمی کے بعث قا ضی محمد طاہر شیخ نے وہ مقام حاصل کیا جس سے ان کے والد کا نام روشن ہوا۔

قا ضی محمد طاہر شیخ آج ایک گرافک ڈیزائنگ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیںحالنکہ ان کو اس شعبہ میں چند ہی سال ہوئے ہیں ۔ گرافک ڈیزائنگ کے شعبہ میں وہ ایکسٹ ڈُٹ ڈیزائینرکے نام سے جانے جاتے ہیںاب ان کی زندگی کا مقصد بس ایک ہی ہے کہ ان کے والد ان کے نام سے پہچانے جائیں۔جس کی وجہ سے انھوں نے گرافک ڈیزائنگ کی ٹرینگ دینا شروع کردی تاکہ نئی نسلوں کو گرافک ڈیزائنگ کا صحیح مقصد بتا سکیں۔ اور اس شعبہ سے متعلق بچوں کو آن لائن ورکنگ بھی سیکھا تے ہیں ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس کام سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیںآج کل حیدرآباد میں رہائیش پزیر ہیں۔

Under supervision of Sir Sohail Sangi

#SohailSangi # #Profile, 

#graphicDesigner, #QaziTahir, 

Monday, 8 February 2016

محمد وقاص آرائیں پروفائل : محمدشاہد خان Referred back

 Too short. Very poor. Name of personality not mentioned  in the piece. What is uniqueness and peculiarity of the personality?
Profile is reporting based, no quotes and comments/ opinion from his field.
foto is also required.
 I think This was already done in last semester. u were sent mail but u did not reply
نام : محمد وقاص آرائیں
رول نمبر: 66
بیچ: 2K14MC
پروفائل : محمدشاہد خان

حیدرآباد شہر میں پیدا ہونے والے محمد شاہد خان جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور ساتھ ہی ساتھ ہاکی کے کھیل پر بھی خاصی توجہ رہی ۔ اسکول سے پاس ہونے کے بعد آپ نے لطیف آباد گورنمنٹ ڈگری کالج سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی ۔ آپ کا بچپن سے ہی کھیلوں کی طرف بہت رحجان تھا جس کے باعث آپ کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہاکی پر بھی خاصی توجہ تھی ۔مگر آپ کے کھیل کے اس شوق کو والدین کی جانب سے سہرایا نہیں گیا ۔ اسی اثناء میں آپ کے والد نے آ پ کو گھر سے بے دخل کردیا تھا کئی مہینوں تک اپنے گھر سے دور رہے ۔ آپ نے زندگی میں کسی مقام تک پہنچنے کے لیے بہت جستجو کی گھر سے نکالے جانے کے باوجود آپ نے ہار نہ مانی اور نہ اس وجہ سے اپنی تعلیم کو متاثر ہونے دیا 1996 میں پاکستان ہاکی میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان ہاکی اولمپئین ٹیم کا حصہ بنے۔ بعد از1998 میں آپ نے سوچا کہ اچھا وقت ہے پر قسمت نے موقع نہ دیا اور ٹیم میں شامل نہ ہوسکے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا جو آپ کا شمول پاکستانی ٹیم میں ممکن نہ ہوسکا تو آپ نے اس کے بعد واپس اپنی تعلیم پر توجہ دی اور 2004 میں یونیورسٹی آف سندھ کے شعبہ صحت اور کھیل میں بیچلرکیا اور بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 2012 میں اس شعبہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے پروفیسر کی حیثیت سے منتخب ہوئے اور حیدرآباد بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر آف اسپورٹس بھی رہے ۔ اور آج آرم ریسلنگ میں ریفری کے فرائص سر انجام دے رہے ہیں اور اسی اثنا ء میں حال ہی میں ملائیشیا ہو کر آئیں ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت اتار چڑاؤ دیکھا پر تعلیم سے دوری اختیار نہ کی اسی وجہ سے ہر شعبہ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور آج اپنے مقام پر پہنچ گئے ۔

Wednesday, 3 February 2016

Referred back Profile of Akram Otho

Revised 
بغیر درستگی کے بھیج دیا ہے۔ پہلے بار جو نوٹ لکھا تھا اسکو پڑھیں ، اس کو ٹھیک کئے بغیر قوبل نہیں ہوگا۔ 
نا م: ملک شاہجہا ں
رول نمبر # 47
پروفائل : اکر م اوٹھو

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔
"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "
 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔

اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔


Foto is required/ Intro is not interesting. It is reporting based. 
There should be proper paragraphing What is his uniqueness>
 ملک شاہجہا ں تحریر
رول نمبر # 47 
پروفائل : اکرم اوٹھو 

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔

"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "

 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں
 ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔
اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔ 
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔ 

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔ 

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔ 

Tuesday, 2 February 2016

سعدیہ کار ڈرائیونگ ٹیچر - فرحانہ ناغڑ

Unchecked

رول نمبر: 2k14/MC/24
پروفائل : سعدیہ کار ڈرائیونگ ٹیچر
تحریر: فرحانہ ناغڑ


اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی میں بہت ہی پریشانیاں اٹھائی ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ ان لوگوں کا امتحان سمجھا جائے یا پھر ان کی قسمت جو انکو زندگی میں نہ قابل برداشت وقت دیکھنا پڑھ جاتا ہے اور ایسے ہی مشکل دور میں ان میں پریشانی اور مصیبت کا سامنہ کرنا آجاتا ہے کچھ لوگ اپنے آپ کو حالات سے تنگ آ کر خود کو نقصان پہنچا لیتے ہیں اور کچھ ہمت سے ہر مشکل کا سامنا کر کے دنیا کو دکھا دیتے ہیں کہ محنت اور سچی لگن سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ایسی ہی ایک خاتون سعدیہ ہیں جنہوں نے ایک عورت ہو کے اکیلے وہ کر دکھایا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ..



سعدیہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک معمولی سی لڑکی تھی جن کی زندگی اپنے گھر اور پڑھائی تک محدود تھی پر اچانک ان کے گھر میں ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے ان کے گھر کی خوشحالی کو ہلا کے رکھ دیا ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور چونکہ ان کہ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا اور دوسرے بہن بھائی بھی زیرے تعلیم تھے تو انہونے اپنے گھر کو سمبھا لنے کا ارادہ کیا اور وقتی طور پے اپنی پڑھائی سے دستبردار ہونے کا سوچا اس وقت یہ سوشولوجی میں ماسٹرز کر رہی تھیں 


۔

پڑھائی چھوڑنے کے بعد نوکری کی تلاش میں سر گردان رہی پر کہیں پر بھی ڈھنگ کی نوکری نہی ملی جس سے ان کا گھر چل سکے پھر انہونے ایک بلڈر کے پاس اکاؤنٹنٹ کی نوکری کی پر یہ نوکری وقتی تھی اور سرمایہ بھی بہت کم تھا۔ انہوں نے تھوڑی بہت بچت کر کے اور اپنے باقی گھروالوں کی مدد سے ایک پرانی کار خریدی جس سے یہ ڈرائیونگ کو سیکھنے لگی پر کچھ مالی مسائل کی وجہ سے گاڑھی بیچنی پڑی اور پھر یہ مزید مالی تنگی میں گھر گئی.



انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک ڈرائیونگ سینٹر میں کام کرنے لگی مگر اس ساتھ انہونے لوگوں کی گاڑیاں بھی ڈرائیور کے طور پہ چلانے لگی مگر جس انسٹیٹیوٹ میں وہ کام کرتی تھی وہ لوگ ان کے اس اقدام سے متفق نہیں ہوئے .

اسی لیے انہونے وہ ادارہ چھوڑ کر پرائیویٹ کام کرتی رہی اور ان کی محنت اور لگن سے انہونے ایک ڈرائیونگ اسکول کھول لیا جس میں یہ باقاعدہ کلاسس بھی دیتی ہیں اور گاڑی چلانا بھی سیکھاتی ہیں اور اس کے علاوہ ہائی وے پر بھی با آسانی شفٹیں لے جاتی ہیں اور اپنی زندگی کو ایک کامیاب طریقے سے گزار رہی ہیں اور یہ سب ان کی لگن محنت اور جستجو کی بنا پر ہوا ہے  


انہونے یہ بات ثابت کردی کہ اگر انسان میں ہمت طاقت اور حوصلہ ہو تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا بہادری سے کر سکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت .سعدیہ کی پرانی زندگی کو دیکھ کر یہ اندازہ نہی لگایا جا سکتا کے اتنی پریشانیاں جھیل کر وہ ایک مضبوط کردار بنیں گی .سعدیہ کی زندگی ان تمام لوگوںکے لیے ایک نمونہ ہے جو پریشانیوں کے سامنے جھک کر ان سے ہار کر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی زندگی کو مزید خراب کر لیتے ہیں .اگر انسان ہمت سے کام لے تو کر مشکل ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہو جاتی ہے کیوں کے کہتے ہیں نہ کہ محنت میں ہی عظمت ہے اور محنت کرنے والوں کو ان کا حق ضرور ملتا ہے . 

Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh



Monday, 1 February 2016

محمد رافع خان -- پروفائل

Referred back
پروفائل
 Intro should be interesting? what is unique? Photo also required.This is biography not profile


نام: محمد رافع خان
رول نمبر: 2k14/MC/140
کلاس: BS III
                             محمد رضا قریشی (باڈی بلڈر)    

محمد رضا قریشی ۷ جون ۱۹۸۵ ؁ کو شہر حیدرآباد میں پیدا ہوے۔ جہاں بچپن میں بچوں میں کھیلنے کودنے کا شوق پایا جاتا ہے وہیں ان کا شوق اس کے برعکس دکھائی دیا۔ نہ انھیں پتنگ بازی کا شوق تھا ،نہ گلّی ڈندے سے محبت، نہ کبڈی کے دیوانے تھے، نہ کرکٹ بھاتی تھی،نہ کنچے کھیلا کرتے تھے،نہ فٹبال میں دلچسپی تھی۔ ہاں مگر کھانے پینے کے خاصہ شوقین تھے جس کی وجہ سے یہ بچپن میں ہی موٹاپے کا شکار ہو گے۔



طرح طرح کے کھانے کھانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، باہر کے کھانے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس کی وجہ سے موٹاپا دن بہ دن بڑھتا چلا گیا اور ان کی پریشانی کو بھی بڑھاتا چلا گیا۔ نہ تو یہ عام بچوں کی طرح دوڑ لگا سکتے تھے اور نا ہی ان کی طرح کھیل کود سکتے تھے، بے حد سُستی کا شکار ہو گے تھے۔


پڑھائی کا بھی خاصہ شوق نہیں تھا، فلموں کے شوقین تھے۔ بچپن میں اسکول سے غیر حاضر ہو کر فلم دیکھنے نکل جایا کرتے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے والد کی مار سہنی پڑھتی۔ بچپن گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی کا رہا سہا شوق بھی جتم ہو گیا۔


محمد رضا قریشی نے ۲۰۰۷ ؁ میں سٹی کالج سے انڑر کیا۔ موٹاپے کے باعس ۱۵ سال کی عمر میں ان کا وزن ۷۰ کلو تک پہنچ گیا تھا۔ موٹاپے سے تنگ آ کر انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے جاتمے کے لیے یہ کچھ بھی کر جائنگے۔ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے جم کا رخ کیا۔ آہستہ آہستہ ان میں بہتری دکھائی دینے لگی۔


جم کو انہوں نے اپنا شوق مقصد بنا لیا ۔ وقت کا خاصہ حصہ جم میں اپنے استاد کی نگرانی میں گزار دیا کرتے۔ موٹاپے کے خاتمے کے لیے خراک میں کئی کئی دن تک روٹی نہیں کھاتے اُبلے ہوے چاول پر گزارہ کرتے۔ انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے باڈی بلڈر بھی بن کر رھینگے اب یہی ان کا مقصد بن چکا تھا۔



اس شعبے میں انہوں نے دل و جان سے محنت کی، اپنے آپ پر کافی محنت کی۔ آخر کار کافی مشکلات کا سامنہ کرنے کے بعد وہ ددن آ ہی گیا اور ان کا مقصد پورا ہوا۔۲۰۰۶ ؁ میں ڈسڑرک حیدرآباد باڈی بلڈر کا خطاب ان کے نام ہوا۔ اس خطاب کے ملنے کے بعد باڈی بلڈنگ کو انہوں نے روزی روٹی کا ذریعہ بنا لیا اور آج یے مسل مینیا جم میں بطور ٹرینر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔


محمد رضا قریشی ایک اچھے ٹرینر ہیں، اپنے شاگردوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو وہ پڑھائی لکھائی میں اپنی توجہ صرف کر دیتے اورڈاکٹر یا انجینئر بن جاتے ، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ڈاکٹر یا انجینئر کے شعبے کو اپنانے کے بجاے انہوں نے باڈے بلڈنگ کو اپنایا اور ایک اچھے باڈی بلڈر بن کر سامنے آے۔


وہ اس لیے کیوں کے موٹاپے کے خاتمے کے لیے جن مشکلات ،جن پریشانیوں سے گزرے ہیں اور اپنے موٹاپے کو شکست دی ہے،یہ اور لوگوں کو بھی جو موٹاپے کا شکار ہیں ان تمام مصیبتوں سے نکالیں اور انہیں اس مشکل سے نکالنے کے لیے بھی مددکریں، کیوں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور یہ ایسے لوگوں کے کام آئیں جو موٹاپے سے پریشان ہیں۔


محمد رضا صادہ لباس استعمال کرتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی باتوں میں مزاح بھی پایا جاتا ہے۔ان میں غروروتکبّر نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھے باڈی بلڈر اور ایک اچھے ٹرینر میں موجود ہونی چاہیں۔

Friday, 29 January 2016

Profile of Ghulam Mustafa Abbasi by Faryal



 پروفائل غلام مصطفٰي عباسي
فريال عباسي -
 
دڙي شھر ۾ ھڪ مڊل ڪلاس خاندان کان تعلق رکندڙ غلام مصطفٰي عباسي جنهن جي پيدائش 1938 ۾ دڙي شھر ۾ ٿي . تڏھن جي دور ۾ پاڪستان ۽ انڊيا هڪ قوم هئي ۽ تعليم حاصل ڪرڻ ھڪ عام ماڻهو جي لا۽ ڪافي مشڪل هو، اهو ائين جو تنهن جي زماني ۾ تعليم حاصل ڪرڻ جي لا۽ پري وڏن شھرن وڃڻو پوندو هو ڇو تہ ننڊڙن شھرن ۾ صرف ڏھ درجا پڙھايا ويندا هئا  اڳئي دور ۾ مائيٽ گهڻو ڪري پنهنجي ٻارڙن کي ڪاروبار ۾ آڻندا هئا تہ جئين هنن جو اهو ڪاروبار نسل بہ نسل موجود هجي ور اڄ جي دور ۾ اها سوچ آھستس آھستي ختم ٿيندي اچي .

غلام مصطفٰي عباسي کي پڙھڻ جو شوق هو ۽ والي بال جو هڪ بهترين رانديڪر هو ۽ ميٽرڪ کان پو۽ هائير ايجوڪيشن لا۽ نورمحمد هائي اسڪول حيدرآباد ۾ داخلا ورتي يارنهن ڪلاس جي تعليم حاصل ڪندي وقت نورمحمد هائي اسڪول ۾ والي بال جو ڪيپٽن ٿي رهيو جڏھن ٻارنهن ڪلاس پڙهي ورتئين تہ پنهنجي شھر ڏانهن واپس رک ڪيائين ۽ والي بال جي هڪ بهترين ٽيم جوڙين جنهن ۾  اڄ بہ  انهن  جي رڪارڊ ۾ هڪ بهترين رانديڪر جي حوالي نالو موجود آهي .

1955  ننڊي عمر ۾ عباسي لائبريري کوليائين جنهن ۾ اسلامي تاريخ ، سنڌي تاريخ، ادب، شاعري، جاسوسي ادب، ۽ ٻين
موضون جا ڪتاب پڻ شامل هئا انهي ڪتابن مان شھر جي تمام نوجوانن ، شاگردن، ۽ شھرين برپور فائدو ورتو اڄ بہ اها لائبريري  سندس گهر ۾ موجود آهي پر شھرين جي لاپرواهي جي موجب ڪجھ ڪتاب وڃائجو ويا . انهن لائبريري مان اڄ سندس نسل بہ پڻ فائدو وٺي رهي آھي .

پاڻ زنده دل تبيعت جو ماڻھو آهي هميشہ بيسهارا ماڻهون جي مدد ڪرڻ سندس اولين ترجيح رهي آهي پاڻ ڪڏهن ڪنهن جو محتاج نہ بڻائين هميشہ محنت مزدوري ڪري پنهجو خرچ ڪڊئين گذر سفر ڪرڻ لا۽ سڄي عمر سونارڪو ڪم  ڪندو رهيو سونارڪي جو هنر حيدرآباد مان سکهي پو۽ پنهنجي باڻيجن کي بہ سکيا ڏنائين دڙي شھر ۾ سندس مڪان هڪ اعلا درجي تي آهي هڪ بهترين رانديڪر ، هڪ بهترين استاد، هڪ بهترين سونارو اڄ بہ شھر جي ماڻھو توڙي ٺٽي شھر مان بہ ماڻهو پنهنجي سونارڪي ڪم سان ايندا آهن پر اڄ ھو هن حالت ۾ ناهي جو سونارڪو ڪم ڪري سڳهي ڪڻس پٽ جي گهڻي خواهش هئي پر الله کي جيڪو منظور هوندو آهي اهو ئي ٿيندو آهي ڪڻس ماشاالله پنج ڌيئرون آھن  ۽ پنهنجي ڀائيٽن جي پڙھائي ۾ برپور ڪردار ادا ڪيائين جيئن عمر وڌندي رهي هڪ مايوسي ۾ مبتلا ٿيندو رهيو سونارڪو ڪم تڪ ڇڏي ڏنائين ڪافي بيمار رهڻ لڳو هاڻي هو پنهنجي گهر ۾ آرام ڪندو آهي ۽ فريش ٿيڻ لا۽ گهر جي پاسي اوطاق تي وڃي پنهنجي دوستن سان ڪچهري ڪري واپس موٽندو آهي .

جنهن پنهنجي سموري زندگي محنت مزدوري ۾ گذاري انسانن سان محبت ۽ پيار وارو رشتو قائم رکيائين ۽ پنهنجي نسل سميت سڀنين کي محبت ۽ پيار جو سبق ڏيندو اچي چاهي امير هجي يا غريب هجي سڀنين سان هڪ هي رويو رکندو آهي اڄ انهن جا چاهيندڙ شاگرد انهن لا۽ دعاڳو آهن تہ شل اهڙا استاد اسان جي ملڪ ۽ پوري دنيا ۾ هجن تہ نفرت جي جنگ ختم ٿي سڀ پيار ۽ محبت سان رهن . 


فريال عباسي - 
  2k14/MC/119 :رول نمبر

Thursday, 28 January 2016

Profile of Raziqdino Sonaro by Misbah

پروفائل
                    طلبہ سیاست سے حکیم تک کا سفر : رازق ڈنو سونارو 
   

پروفائل   تحریر و تحقیق: مصباح


کچھ لوگ تاریخ پڑھ کر تاریخ کو سمجھتے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں جو تاریخ کا حصہ رہتے ہیں۔ اور یوں تاریخ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہانی ایک جیالے کی ہے جو سنار تھے ، پہلے سیاسی کارکن اور بعد میں حکم بن گئے۔ 

پیپلز پارٹی ضلع ٹنڈوالہیار کے انفارمیشن سیکریٹری رزاق ڈنو سونارو ۲۵ فروری ۱۹۵۶ میں پیدا ہوئے۔ شہباز کالونی ٹنڈواالہیار میں رہتے ہیں۔ ا بتدائی تعلیم اپنے ضلع سے حاصل کرنے کے بعد میٹرک اور انٹر ایس ۔ ایم کا لج سے کیا ۔پوسٹ گریجویٹ پولٹیکل سائنس میں کیا۔ اور ایم ۔اے ۱۹۷۷ میں سندھ یونیورسٹی سے کیا۔ آپ ۱۹۷۰ سے پی۔پی ۔پی کے میمبر ہیں۔

ان کا خاندانی کاروبار سونار کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہیں۔ہیپٹائٹس ۔بی اور ہیپٹائٹس ۔سی کا علاج بھی کرتے ہیں کسی عطا کئے ہوئے نسخے کے ذریعے ۔ خاندانی زبان سرائیکی ہے۔لیکن آپ کو انگلش ٬اردو٬سندھی٬ہندکو ٬مارواڑی غرض مقامی تمام زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

 ۲۶جون ۱۹۸۹ میں شادی ہوئی آپ کی ۳ بیٹیاں اور ۵ بیٹے ہیں ٬ آپ کی زوجہ بھی پی۔پی۔پی کی جرنل سیکریٹری ہیں۔ ضلع ٹنڈوالہیار میں مختیار بانو نام سے جانی جاتی ہیں۔ ۲ بےٹے پی۔پی۔پی میں عملہ طور تنظیم میں شامل ہیں۔ آپ کا ایک بیٹا نوکری جبکہ ایک سب سے بڑا بیٹا حادثے میں شہید ہوگیا اور ایک بےٹی اور ۲ بیٹے پڑھ رہے ہیں آپ کے کوئی بھائی نہیں ہیں جبکہ ۲ بہنیں ہیں۔ 

 رازق ڈنو سونارو ایس۔ایم کالج طلبہ یونین کے صدر بھی رہے ہیں۔ اور ۱۷۷۷ میں ڈگری کالج میں رہے۔ سیاسی مسئلے پر دو کتابیں لکھیں سندھی زبان میں۔ جس میں اس وقت کے حالات و صورتحال کے مطابق مطالبے کئے۔ ۱۹۸۱ کے بعد پی۔پی۔پی کے ہر کام میں آگے بڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔

رازق ڈنو سونارو لوگوں کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہے ہیں۔آپ ٹنڈواالہیار کی ایک بہت مشہور اور باوقار شخصیت ہیں۔ لوگ دور دور سے آپ کے پاس علاج کے لئے آتے ہیں۔ آپ کا علاج بہت فائدہ مند ہے۔ 

بچپن سے پی۔پی۔پی مےں دلچسپی ہونے کی وجہ سے پی۔پی۔پی میں شمولیت اختیار کی۔ آپ ایک سیاسی کارکن بھی ہیں قوم کی خدمت انجام دینے کے لئے اور اپنی پارٹی سے متعلق کام کے لئے اسلام آباد٬ لاہور ہر بڑے شہر میں جاتے رہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔

آپ سے پہلی ملاقات ۱۹۷۸ میں کی۔ ہر کارکن اپنے لیڈر کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ ہر لیڈر کارکنان کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے۔ جن کے مطابق وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی میں ۴۰ سال سے پہلے سے موجود ہیں۔اس وقت پیپلز پارٹی کے چئیرمین زوالفقار علی بھٹو سے فروری ۱۹۷۰ میں حیدرآباد میں ملاقات کی۔ ٹنڈواالہیار شہر کے پہلے پی۔پی۔پی صدر محمد رمضان سونارو جو رازق ڈنو سونارو کے ماموں تھے۔ ان ہی کے ساتھ چھوٹے کارکن کی طرح کام کرنا شروع کیا۔ 

۱۹۷۷ میں جب مارشل لا ختم ہوئی تو لاڑکانہ سے روہڑی اور روہڑی سے کراچی پھر حیدرآباد تک سفر کیا اور بہت لمبی ملاقات کی ۔ اسی ملاقات میں غلام مصطفی جتوئی، ممتاز بھٹو اور میر مرتضی بھٹو بھی موجود تھے۔ 

آپ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام بڑے بڑے عہدیداروں سے پی۔پی۔پی کے جلسے، جلوس اور اکثر وزیراعظم ہاﺅس سمیت المرتضی ہاﺅس میں بھی ملاقات ہوئی ۔ ان کے دوستانہ مزاج کو رازق ڈنو سونارو کہتے ہیں: میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ آپ نے سید قائم علی شاہ ، بلاول بھٹو ، آصف علی زرداری سب سے ملاقات کی ہوئی ہے۔ اور سب کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ رازق ڈنو سونارو پارٹی قیادت کے بہت قریب رہے ہیں۔

رازق ڈنو سونارو کو ان کی اعلی کارکردگی پر مختلف قسم کے اعزازات بھی ملے ہیں آپ کو حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ آپ کے کہنے کے مطابق خانہ کعبہ میں آپ کے چھوٹے بیٹے کی پیشانی پر اللہ نام ظاہر ہوا ۔ اور بڑے بیٹے کو پہلے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ 

آپ ایک جفاکش انسان ہیں جو لوگوں کے کام آنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ لوگ آپ میں موجود صلاحیتوں سے واقف ہیں اور آپ پر پورا یقین بھی کرتے ہیں۔ آپ کے پاس مسائل لے کر آتے ہیں تا کہ آپ ان کا کوئی حل نکال سکیں۔آپ ٹنڈوالہیار کے علاوہ بھی دوسرے شہروں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس سے قبل بھی بہت بار دے چکے ہیں۔ 

آپ نے اپنی پوری زندگی فلاح وبہبود کے کاموں کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اپنی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے دل کے بائے پاس کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو نے سرکاری طور پر پانچ لاکھ روپے دیے لیکن اللہ کی مہربانی سے اینجوگرافی کے زریعے دل کا وال کھل گیا اور آپریشن کی ضرورت نہ پڑی تو میں نے چار لاکھ اسی ہزار ایک لیٹر(لفافے) کے ساتھ واپس کردئیے ۔ جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے بلاول ہاﺅس میں بلا کر شاباشی دی یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ 

اس کے علاوہ بھی میری بہت سی یادیں پی۔پی۔پی سے آراستہ ہیں ، جو کسی تعریف کی محتاج نہیں ہیں۔

رازق ڈنو سونارو میں بہت سی خداداد صلاحیتیں موجود ہیں۔ آپ دائرے میں رہ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں آپ کو ایک سلجھا ہوا شخص یا کارکن کہنا غلط نہ ہوگا۔
PROFILE- RAZIQ DINO SONARO
 MISBAH-UR-RUDA     

       ROLL NO: 2K14/MC/52
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh 

Hyderabadi Charlie Chaplien by Simra Nasir

پروفائیل        
  حیدرآباد کا چھوٹا چارلی چیپلین 
 تحریر :  سمرہ ناصر
         ٹوٹل لفظ ۔660 
”جینا یہاںمرنا یہاں۔۔۔اس کے سوا جانا کہا۔۔۔“ کچھ لوگوںکی زندگی واقعی اس گانے کی مانند ہے۔وہ ایک ہی جگہ پر اپنی ساری زندگی وقف کردیتے ہیں۔او ر ا س ہی جگہ کو اپنی آخری جگہ بنا دیتے ہیں۔اس دنیا میںبہت سے مزاحیہ کردار ہیں جو اپنی پرواہ کیے بغیر ہمیں خوش کر تے ہیں ِ۔ایک ایسا ہی کردار حیدرآباد کے ریسٹورنٹ POINT300ُمیںہے۔وہ کارٹون کریکٹر کا ڈریس اپ کر کے بچوں اور بڑوں کے لیے مخصوص بن رہا ہے ۔یہ ہیںمحمد جمن جو بچوں کے لیے MICKEYMOUSEٰٰٰ کے نام سے وہاں جانے جاتے ہیں۔

بیس سالہ پاجمن پانچ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں ۔ سجا گو © ٹھ کے رہائشی محمدجمن کے والد کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں وہ اپنے گھروالوں کو زیادہ خوشحال رکھنے کے لیے چارلی چیپلین بن گئے ہیں۔MICKEYMOUSE کے گیٹ اپ میں محمد جمن چارلی چیپلین سے لے کر مائیکل جیکسن تک کا روپ د ھار لیتا ہے ۔ مزے مزے کے چٹکو ں سے بچوں اور بڑوں کو گدگودانا اور بریک ڈانس کر کے مزے کو اور بڑھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔بظاہر ہمیں یہ لوگ بہت خوش نظر آتے ہیں ۔ لیکن وہ یہ سب اپنی مجبوری کی وجہ سے کرتے ہیں ۔ 
محمد جمن مائیکل جیکسن کے بہت بڑے فین ہیں اوربریک ڈانس بھی خوب جانتے ہیں ۔بچے ان سے متاثر اور خوش بھی ہوتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کے ہم لوگوں کے لیے خوشی کا باعث تو بنتے ہیں لیکن یہی لوگ کبھی کبھی ا ہمیں د ھتکار دیتے ہیں اور ان کو غریب ہونے کا طعنہ       بھی مارتے ہیں ۔یہ بات انہیںناگوارگزرتی ہے۔محمد جمن کے ساتھ سولہ سالہ رضوان بھی اسی شعبہ میں کام کرتا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ”ہم بھی پڑھ لکھ جاتے تو آج عزت سے رہ رہے ہوتے ۔لیکن مجبوری انسان کو کہاںلا کر کھڑا کر دیتی ہے، یہ بات وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس پر گزرتی ہے ۔ہمارا بھی حق ہے کہ ہم خوش رہیں ،سکون کی زندگی گزاریں ، لوگ ہم سے اچھی طرح سے بات کر یں لیکن ان سب کے لیے ہم تب تک اچھے ہیںجب تک ہم انھیں ہنسارہے ہوتے ہیں ۔“

 زندگی بھی زمین کی طرح ہے جہاں موسم کی طرح تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔ سکندر صنم پاکستان کے نامور مزاحیہ کرداروں میں جانا جاتا ہے ۔وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔انھوں نے اپنی کامیڈی سے لوگوں کا دل جیت لیا ہے ۔انہوں نے بھی مجبوری اور غربت کی وجہ سے ہی اس کام کو اپنایا ۔شاید ہی کوئی اس بات کو سمجھ سکتا کے دوسروں کو خوش کرنے والا خود اندر سے خوش نہیںہوتا ۔

محمدجمن کو یقین ہے کہ ایک دن اس کی بھی زندگی تبدیل ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ہم دوسرں کو خوش کر کے ان کہ چہروں کو روشن کرتے ہیں مسکراہٹ پھیلاتے ہیں ان کے آنسوں دور کرتے ہیں لیکن اپنے آنسوں چھپانے کے لیے ہم ان کی خوشی میںپیش پیش رہتے ۔
 ہم میں سے زندہ وہی رہے گا    جو دلوںمیںزندہ رہے گا 
 اور دلوںمیں زندہ و ہی رہتے ہیں  جو آسانیاںبانٹتے ہیں ِ،محبتیںبانٹتے ہیں 
ایسے لوگ ہی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے آج تک زندہ ہے محنت ہی انسان کو آگے بڑھنے کا موقع دےتی ہے ۔محمد جمن بھی اسی حوصلے اور جذبے کے ساتھ اور محنت ولگن سے اپنے اس شعبے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کیا کوئی اس کیو پروموٹ کرنے والا ہے؟ جو ان کو ایک ماناہا ماکیڈین بنا دے یا پھر وہ حیدرآباد کے کسی چھوٹے سے ہوٹل پر اسی طرح زندگی گزار دے گا؟

وہ اپنی زندگی کوتھوڑا فلمی کرداروں سے بہت متاثر ہو کراپنے اس پیشے کو شارخ خان کا ایک ڈائلاگ کہتے ہیں: ’ ’ دل توں سبھی کے پاس ہوتا ہے لیکن ہر کوئی د ل والا نہیں ہوتا“ 
ہمیں بھی محمد جمن کی طرح اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے ۔ زندگی ہنسی خوشی بسر کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پروفائیل
حیدرآباد کا چھوٹا چارلی چیپلین
تحریر : سمرا شیخ





جینا یہاں مرنا یہاں۔۔۔ اس کے سوا جانا کہا۔۔

حقیقت یہی ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگی اس گانے کی مانند ہے۔وہ ایک ہی جگہ پر اپنی ساری زندگی وقف کردیتے ہیں۔اسی جگہ کو اپنی آخری جگہ بنا دیتے ہیں۔اس دنیا میں بہت مزاحیہ کردار ہیں جو اپنی پروا کیے بغیر ہمیں خوش کر تے ہیںِ ۔ایک ایسا ہی کردار حیدرآباد کے ریسٹورنٹ POINT300ُمیں ہے۔ وہ کارٹون کریکٹر کا دریس اپ کر کے بچوں اور بڑوں کے لیے محضوظ بن رہا ہے ۔محمد جمن جو بچوں کے لیے MICKEYMOUSEٰٰٰ کے نام سے وہاں جانے جاتے ہیں۔

پانچ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں اور ان کی عمر بیس سال ہے ان کا تعلق للجا گوٹ سے ہے ۔ محمد جمن کے والد کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اور محمد جمن اپنے گھروالوں کو اور بھی زیادہ خوشحال رکھنے کے لیے چارلی چیپلین بن گئے ہیں۔MICKEYMOUSE کے گیٹ اپ میں محمد جمن چارلی چیپلین سے لے کر مائیکل جیکسن تک کا روپ ڈھال لیتا ہے ۔

اپنے مزے مزے چیٹکولیوں سے بچوں اور بڑوں کو گدگودانا اور بریک ڈانس کر کے مزے کو اور بڑھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔بظاہر ہمیں یہ لوگ بہت خوش نظر آتے ہیں کیوں کہ وہ ہمیں خوش رکھ رہے ہوتے ہیں لیکن وہ یہ سب اپنی مجبوری کی وجہ سے کرتے ہیں ۔


محمد جمن مائیکل جیکسن کے بہت بڑے فین ہیں بریک ڈانس بھی خوب جانتے ہیں ۔بچے ان سے متاثر اور خوش بھی ہوتے ہیں ۔محمد جمن کا کہنا ہے کے ہم لوگوں کے لیے خوشی کا باعث تو بنتے ہیں لیکن یہی لوگ کبھی کبھی ان کو دہدکار دیتے ہیں اور ان کو غریب ہونے کا تانا بھی مارتے ہیں ۔

یہ بات محمد جمن اور ان کے ساتھی پرناگوارگزرتی ہے۔ محمد جمن کے ساتھ سولہ سال کا رضوان بھی اسی شعبہ میں کام کرتا ہے ان دونوں کا کہنا ہے کہ ہم بھی پڑھ لکھ جاتے تو آج
عزت سے رہ رہے ہوتے ۔۔۔لیکن مجبوری انسان کو کہاں لا کر کھاڑا کر دیتی ہے یہ بات وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس پر گزرتی ہے ۔ہمارا بھی حق ہے کہ ہم خوش رہیں سکون کی زندگی گزارے لوگ ہم سے اچھی طرح سے بات کرے اس بھی ہم خوش ہے لیکن ان سب کے لیے ہم تب تک اچھے ہیں جب تک ہم انھیں ہنسارہے ہوتے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی بھلے وہ کوئی پریشانی اور مشکلات ہی کیوں نہ ہو۔ زندگی بھی زمین کی طرح گھومتی رہتی ہے اور موسم کی طرح تبدیل ہوتی ہے ۔ہم بات کرے اپنی ایک مشہور ہنستی سکندر صنم کی جن کا نام پاکستان کے نامور مزاحیہ کرداروں میں جانے جاتے ہیں ۔یہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن پوری دنیا کے لیے مثال بن چکے ہیں


 ۔انھوں نے اپنی کامیڈی سے لوگوں کا دل جیت لیا ہے ۔وہ بھی کوئی بچپن سے مشہور نہیں تھے سکندر صنم نے مجبوری اور غربت کی وجہ سے ہی اس کام کو اپنایا لیکن کوئی بھی اس بات کو سمجھ نہیں سکتا کے دوسروں کو خوش کرنے والا کبھی بھی خود خوش نہیں ہوتا وہ بس مجبوری کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔

محمد جمن بھی اسی بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایک دن اس کی بھی زندگی تبدیل ہوگی۔

محمد جمن کا یہ کہنا ہے کہ ہم دوسرں کو خوش کر کے ان کہ چہروں کو روشن کرتے ہیں مسکراہٹ پھیلاتے ہیں ان کے آنسوں دور کرتے ہیں لیکن اپنے آنسوں چھپانے کے لیے ہم ان کی خوشی میں پیش پیش رہتے ۔

ہم میں سے زندہ وہی رہے گا جو دلوں میں زندہ رہے گا
اور دلوں میں زندہ و ہی رہتے ہیں جو آسانیاں بانٹتے ہیںِ ،محبتیں بانٹتے ہیں



ایسے بھی لوگ ہیں دنیا میں جو اپنی صلاحیاتوں کی وجہ سے آج تک زندہ ہے ان میں سے ہمارے اپنے معین اختر بھی ہیں جو اپنے فنی کامیابی کی وجہ سے خوب جانے جاتے ہیں۔وہ ایک مزاحیہ کرداری ،فلم ڈائیرکٹری،گلوکاری میں ماہر تھے۔محنت ہی انسان کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے ۔

محمد جمن بھی اسی حوصلے اور جذبے کے ساتھ اور محنت ولگن سے اپنے اس شعبے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کیا کوئی اس کیو پروموٹ کرنے والا ہے؟ جو ان کو ایک ماناہا ماکیڈین بنا دے یا پھر وہ حیدرآباد کے کسی چھوٹے سے ہوٹل پر اسی طرح زندگی گزار دے گا؟

وہ اپنی زندگی کوتھوڑا فلمی کرداروں سے بہت متاثر ہو کراپنے اس پیشے کو شارخ خان کا ایک ڈائلاگ کہتے ہیں۔

دل توں سبھی کے پاس ہوتا ہے لیکن ہر کوئی د ل والا نہیں ہوتا


ہمیں بھی محمد جمن کی طرح اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے ۔دوسروں کے دکھ سکھ میں برابر کا شریک ہونا چاہیے اور ہم اس دنیا میں دوسروں کا خیال رکھنے آئے ہیں توں بنا کسی مطلب سے زندگی ہنسی خوشی بسر کرے ۔

Wednesday, 27 January 2016

Profile of Dr Shahid Salah

To be checked and edited. Unable to find any uniqueness in the personality. 
نام : محمد راحیل 
رول نمبر: 68 
موضوع: پروفائل
ڈاکٹر شاہد صلاح الد ین 
زندگی میں آنے والی پریشانیاں انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہیں لیکن کامیاب وہی شخص ہوتا ہے جو ان پریشانیوں کاڈٹ کر سامنا کرتاہے محنت اور لگن سے اپنی منزل کی جانب اپنے قدم گامزن رکھتا ہے اور کامیابی حاصل کرنی کی جستجو میں اپنا دن رات صرف کردیتا ہے ،ضلع حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر۵ سے تعلق رکھنے والا ایسا ہی معزور شخص ڈاکٹر بن کے ہم سب کے لئے مثال اور انکی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔معزور ہونے کے باوجود آپ نے اپنی جدوجہد کے سفر کو جاری رکھا اور اپنی منزل کی جانب اپنے قدموں کو گامزن رکھا ۔

ڈاکٹر شاہد صلاح الدین 23نومبر1977ءکو ضلع حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر5میں پیدا ہوئے آپ کے والد کانام صلاح الدین ہے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کمپری ہینسو اسکول سے حاصل کی اور میٹرک اسی اسکول سے مکمل کیا ،1998ءمیں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم پبلک کالج سے مکمل کی ۔انٹر میڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی علم حاصل کرنے کی لگن میں کمی نہ آئی اور مزید حصول تعلیم کی جستجو میں لگے رہے۔


ڈاکٹر شاہد صلاح الدین کی خاص بات یہ ہے کہ آپ معزور ہونے کے باوجود علم سے بہت محبت کرتے ہیں اور اس کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور آج یہی وجہ ہے کہ آپ حیدرآباد شہر کے چند نامی گرامی ڈاکٹر ز میں سے ایک ہیں ۔آپ بچپن ہی سے معزور ہیں لیکن آپکی معزوری بھی آپکے ارادوں پر پانی نہ پھیر سکی اور آپ خود بھی تعلیم حاصل کرتے رہے اور دوران پڑھائی تعلیم کی روشنی سے تعلیمی شمعیں روشن کرتے رہے ۔ 

ایم ،بی،بی،ایس کرنے کے بعد آپ نے ایک سال چار مہینے اپنے علاقے کے کالج میں ملازمت اختیار کی ۔یونیورسٹی سے صنعت جاری ہونے کے بعد آپ نے کراچی پوسٹ گریجویٹ کالج سے ٹریننگ کی اور پھر اسکولر شپ کے ذریعے آپ جرمنی گئے اور وہاں سے کینسر میں ڈپلومہ کیا اور جرمنی سے ڈپلومہ مکمل کرنے بعد واپس پاکستان آگئے اور جناح ہسپتال کراچی میں بحیثیت کینسر اسپیشلسٹ فرائض انجام دینے لگے۔

ڈاکٹر شاہد صلاح الدین اپنے خاندان میں بننے والے پہلے ڈاکٹر ہیں جنہوں نے میڈیکل یونیورسٹی تک میرٹ پر رسائی حاصل کی کیونکہ آپکے والد کا ذریعہ معاش اتنا خاص نہیں تھا کہ وہ آپکے تعلیمی اخراجات برداشت کرسکتے ہوں اس لئے آپ نے فارغ اوقات مختلف ملازمتیں کیں جس میں ٹیچنگ، میڈیکل ریپ اور دیگر بھی چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہے ۔

تعلیم کی محبت آپکے دل میںکوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہی وجہ تھی کہ آپ نے آنے والی پریشانیوں کا ڈٹ کر سامنا کیا
 اور آگے کی جانب قدم بڑھاتے رہے آپکی جستجو کو دیکھ کر بہت لوگ متاثر ہوئے اور آپکو دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں تعلیم کی شمع روشن ہوئی ۔آج آپکی زندگی کو دیکھ کر بہت سے لوگ حصول تعلیم کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد صلاح الدین بہت سادہ اور نرم دل طبیعت کے انسان ہیں ۔آپ اپنے پیشے کے اعتبار سے دن ،رات لوگوں کی خدمت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور معاشرے کی خدمت کرنے میں آگے سے آگے نظر آتے ہیں ۔البتہ آپ کو اردو ادب میں بہت لگاﺅہے۔آپ میگزین،کتابیں،اخبار،ڈائجسٹ بہت شوق سے پڑھتے ہیں اور اکثر اردو مشاعروں کی محفلوںمیں بھی موجود ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد صلاح الدین معزور ہونے کے باوجود کامیاب ترین انسان ہیں کیونکہ آنے والی پریشانیوں سے ہار نہ مانی بلکہ ان سے سبق حاصل کیا اور مسلسل اپنی منزل کی جانب قدموں کو گامزن رکھا اور اپنی منزل کو حاصل کرنے کی جستجو میں اب بھی لگے رہتے ہیں۔

Tuesday, 26 January 2016

Referred back Profile of Memona



Referred back It is too short. we need atleast 600  words. Write in profile style, also quotes from her field etc.  Nothing unique is shown in the piece photo also needed.
 We need composed in inpage format. Word format particularly of cell fone is not workable
طاہرہ  جبین


رول نمبر: ٩٨ 

پروفائل: مس میمونہ 
مس میمونہ  لطیف آباد  کے  اسکول  پاکستان  پائلٹ میں  کیمسٹری کی ٹیچر  ہوا  کرتی تھی. انہو نے کیمسٹری  میں  ماسٹر  کیا  ہوا  تھا  اور وہ m.Phil کر  رہی تھی, اس وقت انکی رہائش لطیف آباد میں ہی تھی. انکی عمر اس  وقت ٢٨ سے  زائد  تھی, مس میمونا نویں کلاس کی کیمسٹری کی ٹیچر ہوا کرتی تھی انکے پڑھانے کا طریقہ  الگ  تھا  باقی  ٹیچر  سے انکا  انداز پڑھانے کے ساتھ  اخلاق میں بھی الگ تھا. انہیں ہر سال بیسٹ  ٹیچر کا  ایوارڈ ملتا وہ اسکی حقدار بھی تھی. وہ  یکھنے  میں کافی موتی اور غصّہ کی بہت تیز تھی.  انہونے آج تک کوئی سینڈل نہیں پہنی, مس میمونہ  ہمیشہ لڑکوں جوتے پہنتی اس وجہ سے یہ دوسرے ٹیچرز سے الگ لگتی تھی. میمونہ مس بہت سنجہدہ رہتی, باقی  ٹیچرز کی  طرح پڑھاتے وقت فضول سرگرمیاں برداشت نہیں کرتی کلاس میں ہسنا وہ برداشت نہیں کرتی   کلاس سے باہر نکال دیتی, انکی کلاس میں آج  تک کسی نے پڑھائی علاوہ کوئی اکتیوتی نہیں کی,  پڑھانے میں بھی سیریس ہوتی انکے سمجھانے کا طریقہ الگ تھا سمجاتے وقت کسی سے نہ کوئی بات کرتی نہ کرنے دیتی مس میمونہ کا اصول یہ تھا کہ کوئی ٹوپک سمجھاتے وقت یا کوئی بھی ٹوپک پہ ڈسکشن کرتے وقت کوئی آواز تک نہ نکالے. پر ہم رہے انکے  شاگرد جب انکا سمجھانا ختم ہوتا تو ہم یہ  بھول  جاتے کہ ہمارا سوال  کیا تھا ہمیں کیا  پوچھنا  تھا , اور جب وہ پوچھتی اور اگر ہمیں نہ یاد ہو تو سزا کے طور پر کلاس سے باہر ہوتے. میمونہ مس سارے سٹاف میں سب سے زیادہ سخت تھی. انہونے نے کبھی کسی ٹیچرز یا اپنے شاگرد سے ہنس کے بات نہیں کی کبھی ٹیچرز سے کوئی  مذاقیہ انداز میں بات نہیں کی نہ ہی انہونے نے  اتنے  سال  میں  کسی  ٹیچرز  سے  ایک  دوستانہ انداز  میں  بات  نہیں  کی  نہ  ہی   کبھی  کسی  سے  زیادہ  سلام دوا رکھی  میمونہ  مس  کا  یہ  انداز  دیکھ  کر  سب  نے  طرح  طرح  کے  نام  رکھے  تھے  جس  میں  ایک  خروس نام  زیادہ  مشور تھا. پر جو  بھی  ہو انکا  پڑھانے   کا  انداز  کافی  اچھا  لگتا  تھا  کیونک  کوئی  بھی  کیمسٹری  کی  پروبلم  سمجھاتی  تو اک  ہی باری میں  سمجھ  آجاتی اور جب سمجھا دیتی اسکے  سب  سے  سوالات کرتی واپس  ایسا کوئی  دن  نہیں  جب  میمونہ  کی  کلاس میں کسی کو  سزا  نہ  ملی  ہو  روز  ایک بچا  یا  بچی  کو  سزا  ضرور ملتی  اسکی    وجہ زیادہتر ان  بچوں  کو  سزا  ملتی  جو  زیادہ  ہنستے  تھے . جو  زیادہ  ہنستا  یا  سمائل  بھی  کرتا  تو  کلاس  سے  باہر ہوتا  انکی  کلاس  کا  ٹائم  اک  گھنٹے کا  ہوا  کرتا   تھا   اور  وہ اک  گھنٹہ ہمارے  لئے  بوہت  مشکل  سے  گزرتے  انکی  کلاس  کوئی  چھوڑنا  چاہے  تو  اسکی   سزا  پورے ہفتے  کلاس  سے  باہر  رکھتی  انھیں  ہر  چھوٹی  چھوٹی  چیزیں  بری  لگتی  تھی  زیادہ  تر  ان  سے  ہم  ڈرتے  تھے  بے  حد  سخت  مزاج  کی  یہ  مس  میمونہ  ان  سے  زیادہ  لوگ ڈرتے  تھے  انکی  کسی  سے  نہیں  بنتی  تھی  نہ  کسی  سٹوڈنٹس سے  نہ  کسی  ٹیچرز  سے  کیونکے  یہ  اخلاق کی  نہیں  تھی  سب  سے  تیز  آواز  میں   بات  کرتی.  

Thursday, 21 January 2016

Referred back -Profile of Ghulam Mohammed Bhutta

نام: علی اعزاز رول نمبر 126
پروفائل : غلام قادر بھٹہ

Referred back- Send foto separately, not inserted in text file. This is all ur observation.  get comments from area people.  And also refer guideline questions available on FB group abt writing profile


بہار کالونی کوٹری میںرہائش پذیز غلام محمد بھٹہ جو کہ قریب ہی کے ایک یونین کاﺅنسل میں انصاف کمیٹی کی ایک ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا، اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ گذر کررہا تھا، اور ساتھ میں ہی اس نے ایک گھر کے پاس چھوٹی سی دکان کھول رکھی تھی، جس سے وہ اپنے گھر کا مزیر خرچا برداشت کرتا تھا، غلام محمد بھٹہ کے دو بیٹے بہت محنت کش اور زہین تھے، جن میں سے غلام قادر بھٹہ بڑا بیٹا تھا، جو اس وقت علاقے کے سرکاری اسکول میں سے اپنی تعلیم حاصل کررہا تھا، غلام قادر بھٹہ جو کہ اس وقت صرف 16 سال کا تھا، اور میٹرک کے سالانہ امتحان کی تیاری کر رہا تھا، غلام قادر نے وہاں کی تعلیم کا نقلی نظام دیکھ کر اس طرح متاثر ہوا کہ وہ دوران امتحان کلاس روم سے باہر نکل آیا اور اس بات کا اسکے ذہن پر اتنا اثر ہوا کہ وہ پڑھائی سے دور جانے لگا۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی نقل کر کے امتحان میں پاس ہو کر ڈگری حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ ایمانداری سے محنت کر کے آگے بڑھا جائے اور کچھ کر دکھانے کا سوچا ۔ غلام قادر بھٹہ جو کہ بچپن سے ہی بہت محنت کش اور ذہین تھا، اس نے ارادا کیا کہ وہ اب اپنے ابو کی چھوٹی سے دکان جنرل اسٹور سنبھالے گا۔ اور اس طرح وہ دن رات اس دوکان کو سنبھالتا اور سوچ ویچار میں لگا رہتا تھا، کہ کس طرح بلندیوں پر پروان چڑھا جائے، اسی دوران ابو کا انتقال ہوگیا۔ اس صدمے نے اُسے اور اس کے پختہ ارادوں کو اور بھی مضبوط کردیا کیونکہ اب اپنی فیملی کار سربراہ وہی تھا۔
غلام قادر نے اپنی اس محنت کو جاری رکھتے ہوئے اپنے گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جنرل اسٹور کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی سروس بھی کرنا شروع کردی تھی، غلام قادر بھٹہ نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ لوگ کیا سوچیں گے، ساتھ ہی ساتھ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی صفائی بھی کرنے لگا اور اپنے مقصد کو پایا تکمیل تک پہچانے کے لئے اس نے ہر وہ محنت مزدوری کی ، اس نے یہ ارادا کر دیا تھا کہ سخت محنت ، ایماندار، لگن سے ہی کامیابیوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
غلام قادر نے دن رات محنت کر کے اپنے علائقے میں پانچ سال کے اندر اندر سب سے بڑا دوکاندار اور کاروباری شخص بن گیا، اور اپنے کاروبار کو اتنا وسیع کر دیا کہ آج اُس کے کاروبار کو پورے کوٹری شہر میں بھٹہ ٹریڈرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور کوٹری شہر میں اسکا نام بڑے کاروباری لوگوں میں بھی شامل ہوگیا ہے اور آج بھی وہ بلندیوں کے پروان پر چرھاتا جارہا ہے۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر محنت ، دل جوش اور 
جزبے اور پختہ ارادے سے کی جائے تو ایک نہ ایک دن اس شخص اور اس کی منزل ضرور حاصل ہوتی ہے۔ اس کی جیگتی جاگتی مثال غلام قادر بھٹہ ہمارے سامنے ہے۔