Showing posts with label بلال صدیقی. Show all posts
Showing posts with label بلال صدیقی. Show all posts

Monday, 25 April 2016

پرو فا ئل : قا ضی محمد طاہر شیخ

Words : 524 


محمد بلال حسین صدیقی 

2k14/MC/57
پرو فا ئل :قا ضی محمد طاہر شیخ:(کامیابی کی کنجی محنت میں ہے)"
بڑے کام کرنے کے لئے بڑی عمر کی نہیں بڑے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ بھی مضبوط عزائم کے ساتھ ۱۴ اگست ۱۹۸۷ ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا مقھیہ تھے جو قاضی کے نا م سے مشہور تھے تو انہوں نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔ طاہر کی شخصیت میں اپنے دادا کی طرح رہنما بننے والی خصوصیات تھیں اسی لیے اپنے والد کی طرح گورنمنٹ ملازمت پررکنے کے بجائے اونچی اڑان لی۔طاہر اپنے والد کے لئے وہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جسکے بعداولاد والدین کا فخر بن جاتی ہے۔ 



انہوں نے لطیف نیا زی سکول سے میٹرک ، گو ر نمنٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور پھر بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ کوشش کی پر مایوس نہیں ہوئے اور بلآ خروقتی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے بھرتی ہوگئے۔ لیکن وہاں کے ماحول نے انہیں جمنے نہیں دیا اور لگن اور بے انتہا کوشش کے باوجود بھی ترقی نہیں کرسکے اور انہوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑ دی ۔



سندھ پولیس کا شعبہ چھوڑنے کے بعد طاہرنے تعلیم کی کڑی کو ادوبارہ جوڑا اور ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیاساتھ ہی کمپیوٹرکے شارٹ کورسز کے لئے بھی داخلہ لیا جہاں سے انکی توجہ گرافک ڈیزائنگ کی طرف مبذول ہوئی جس کے لئے انہوں نے ارینا ملٹی میڈیامیں داخلہ لیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اوراسی شعبہ میں کام شروع کیا ۔



کامیابی کی کنجی محنت میں ہے ، قا ضی محمد طاہر شیخ کو البتہ اس شعبہ میں ذیادہ وقت نہیں ہوا پر ماہرانہ صلاحیت انکے کام میں جھلکتی ہے۔ علم ایسی ندی کی مانند ہے جسکا بہتے رہنا لازمی ہے اور اس سے مستفید ہونا ہر ایک کا حق ہے، اس لئے طاہر اپنی مہارت نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بہت وسعت ہے کیونکہ سوچ کے دریا کو قوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا یہ بہت وسیع ہے جسے بس راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ 

طاہر کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ لوگ ہزاروں روپے خرچ کر کہ بڑے بڑے سینٹرز سے سند تو حاصل کر لیتے ہیں مگر ماہرانہ صلاحیت اور ہنرسے محروم رہتے ہیں، وہ اپنے شاگردوں پر بہت محنت کرتے ہیں اور انہیں کسی مقام پر دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ 
طاہر ایک انتہائی صاف گو شخصیت کے مالک ہیں وہ ہر کام سیدھے اور صاف انداز میں کرنا پسند کرتے ہیں۔ انکے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ طاہر کی شخصیت میں ایک خوبی اور خامی یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور وہ ہے انکی صاف گوئی وہ کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے صاف منہ پر کہہ دینا پسند کرتے ہیں جسکو سمجھنے والے لوگ پسند کرتے ہیں اور گرویدہ بن جاتے ہیں مگر کئی دفعہ لوگ لڑپڑتے ہیں کیونکہ سچی اور کھری بات برداشت کرنا ہر کسی کہ بس کی بات نہیں ۔ 
طاہر سادگی پسند کرتے ہیں اسی لئے خواہشات کی کوئی فہرست نہیں ہے ۔ طاہر نے اب تک ازدواجی زندگی کے لیے نہیں سوچا ہے انکا کہنا ہے انکی زندگی کا مقصد ابھی لا حاصل ہے اسلیئے وہ ابھی کوئی فیصلہ کرکہ توجہ بانٹنا نہیں چاہتے ہیں
Edited by : SAIRA NASIR

Practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Department of Media and Communication Studies, University of Sindh 

Key words: #BilalSiddiqui, #QaziTahirShaikh, #Profile, #Hyderabad, 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------

original

words : 660 


محمد بلال حسین صدیقی 

2k14/MC/57
پرو فا ئل: قا ضی محمد طاہر شیخ
میڈیا میں کوئی ’’آپ‘‘ نہیں ہوتا۔ سوائے انٹرویو کے۔ ورنہ ’’انہوں ‘‘نے لکھا جاتا ہے
"ریجیکشن آر ما ئے مو ٹیویشن "
یہ وہ الفاظ ہے جو قا ضی محمد طاہر شیخ اکثر اپنی باتو ں میں استعما ل کر تے ہیں ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ۱۴ اگست ۱۹۸۷ ء میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا انڈیا کے مقھیہ تھے جو قا ضی کے نا م سے مشہور تھے تو آپ نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔قا ضی محمد طاہر شیخ حیدرآباد کا ایک عام شہری بلکہ یہ وہ ایک شہری ہے جس نے لوگوں کے آگے ہا تھ پھیلانے کے بجا ئے ہمیشہ محنت کو تر جیح دی۔کہتے ہیں کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے بس اسی سوچ سے قا ضی محمد طاہر شیخ بہت متا ثر ہوئے اور اسی سوچ کو اپنی زندگی کے ساتھ منسلک کر لیا ۔بنا کچھ سوچے سمجھے قا ضی محمد طاہر شیخ نے ہر دفعہ محنت کو تر جیح دی اور اسی محنت کی وجہ سے آج لوگ انھے ایک ڈیزائینر کے نام سے جا نے جاتے ہیں۔



آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم لطیف نیا زی سکول سے حا صل کی میٹرک مکمل ہو نے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے گو ر منٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور بیچلر کی تعلیم حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ پھرے لیکن محنت سے کبھی منہ نہ موڑااور پھر سندھ پولس میں کونسٹیبل کی حیثیت سے مقررہ ہوگئے تھو ڑے ہی عرصے میں (ڈی۔آی۔جی) کے ( پی۔ایس ۔او) مقررہ ہو گئے۔ گورمنٹ ملازم ہونے کے بعد ایک سکون کی سا نس لی اور سوچا کہ شاید مینے جو سوچا تھا وہ مقام حاصل کرلیا۔ لیکن زندگی نے ایک اور کروٹ لی جس سے انہیں احساس ہوا کہ شعبہ پولس میں پر موشن صرف تاریخ پیدائیش یا پھر تا ر یخ اپونٹمینٹ پر ہوتا ہے قا بلیت کی بنا پر شبعہ پولس میں کوئی پر مو شن نہیں ہوتے جس کی بنا پر انھوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑنے کا فیصلا کیا۔





سندھ پولس کا شعبہ چھوڑنے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے چار دن کا آن لائن کورس کیاجس کا نام سیفٹی افسر تھایہ کورس کرنے کے بعدقا ضی محمد طاہر شیخ نے کراچی کی فرینڈ کنسٹرکشن کمپنی میں سیفٹی سپروائزرکی حیثیت سے ملازمت کی۔اس ملازمت سے بھی قا ضی محمد طاہر شیخ کچھ خاصہ مطمئن نہ ہوئے اور واپس حیدرآباد آگئے۔بقایا تعلیم حاصل کرنے کے لیئے ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیااور کمپوٹر سے خاصہ ہونے کی وجہ سے قا ضی محمد طاہر شیخ کا دھیان گرافک ڈیزائنگ کی طرف متاثرہوئے اور ایم ۔اے انگلش کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائنگ کا کورس ارینا ملٹی میڈیا سے کیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اور وہ اس کام میں ایکسپرٹ ہوگئے ۔آپ نے کبھی بھی اپنی پہلی ملازمت شبعہ پولس کو کبھی بھی برا نہیں سمجھا اور ہمیشہ یہ ہی سوچا کہ آج میں جو کچھ ہوں اسی وجہ سے ہوں کیونکہ وسائل کی کمی کے بعث قا ضی محمد طاہر شیخ نے وہ مقام حاصل کیا جس سے ان کے والد کا نام روشن ہوا۔





قا ضی محمد طاہر شیخ آج ایک گرافک ڈیزائنگ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں حالنکہ ان کو اس شعبہ میں چند ہی سال ہوئے ہیں ۔ گرافک ڈیزائنگ کے شعبہ میں وہ ایکسٹ ڈُٹ ڈیزائینرکے نام سے جانے جاتے ہیں اب ان کی زندگی کا مقصد بس ایک ہی ہے کہ ان کے والد ان کے نام سے پہچانے جائیں۔جس کی وجہ سے انھوں نے گرافک ڈیزائنگ کی ٹرینگ دینا شروع کردی تاکہ نئی نسلوں کو گرافک ڈیزائنگ کا صحیح مقصد بتا سکیں۔ اور اس شعبہ سے متعلق بچوں کو آن لائن ورکنگ بھی سیکھا تے ہیں ان کی 
دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس کام سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیںآج کل حیدرآباد میں رہائیش پزیر ہیں۔ 

Key words: #BilalSiddiqui, #QaziTahirShaikh, #Profile, #Hyderabad, 

Tuesday, 9 February 2016

Profile graphic designer Qazi Tahir

Edited
ایڈیٹنگ: سائرہ ناصر
محمد بلال حسین صدیقی
2k14/MC/57
پولیس سپاہی سے گرافک ڈیزائنر تک
پرو فا ئل :قا ضی محمد طاہر شیخ
بڑے کام کرنے کے لئے بڑی عمر کی نہیں بڑے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ بھی مضبوط عزائم کے ساتھ ۴۱ اگست ۷۸۹۱ ءکو حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا مقھیہ تھے جو قاضی کے نا م سے مشہور تھے تو انہوں نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔ طاہر کی شخصیت میں اپنے دادا کی طرح رہنما بننے والی خصوصیات تھیں اسی لیے اپنے والد کی طرح گورنمنٹ ملازمت پررکنے کے بجائے اونچی اڑان لی۔طاہر اپنے والد کے لئے
وہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جسکے بعداولاد والدین کا فخر بن جاتی ہے۔

انہوں نے لطیف نیا زی سکول سے میٹرک ، گو ر نمنٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور پھر بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ کوشش کی پر ماےوس نہیں ہوئے اور بلآ خروقتی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے بھرتی ہوگئے۔ لیکن لگن اور بے انتہا کوشش کے باوجود بھی ترقی نہیں کرسکے اور انہوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑ دی ۔

 پولیس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد طاہرنے تعلیم کی کڑی کو دوبارہ جوڑا اور ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیاساتھ ہی کمپیوٹرکے شارٹ کورسز کے لئے بھی داخلہ لیا جہاں سے انکی توجہ گرافک ڈیزائنگ کی طرف مبذول ہوئی ۔ انہوں نے ارینا ملٹی میڈیامیں داخلہ لیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اوراسی شعبہ میں کام شروع کیا ۔

قا ضی طاہر کو البتہ اس شعبہ میں ذےادہ وقت نہیں ہوا پر ماہرانہ صلاحیت انکے کام میں جھلکتی ہے۔ علم ایسی ندی کی مانند ہے جسکا بہتے رہنا لازمی ہے اور اس سے مستفید ہونا ہر ایک کا حق ہے، اس لئے طاہر اپنی مہارت نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بہت وسعت ہے کیونکہ سوچ کے دریا کو قوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا یہ بہت وسیع ہے جسے بس راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

طاہر کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ لوگ ہزاروں روپے خرچ کر کہے بڑے بڑے سینٹرز سے سند تو حاصل کر لیتے ہیں مگر ماہرانہ صلاحیت اور ہنرسے محروم رہتے ہیں، وہ اپنے شاگردوں پر بہت محنت کرتے ہیں اور انہیں کسی مقام پر دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔

وہ صاف گو شخصیت کے مالک ہیں وہ ہر کام سیدھے اور صاف انداز میں کرنا پسند کرتے ہیں۔ انکے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ طاہر کی شخصیت میں ایک خوبی اور خامی یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور وہ ہے انکی صاف گوئی وہ کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے صاف منہ پر کہہ دینا پسند کرتے ہیں جسکو سمجھنے والے لوگ پسند کرتے ہیں اور گرویدہ بن جاتے ہیں مگر کئی دفعہ لوگ لڑپڑتے ہیں کیونکہ سچی اور کھری بات برداشت کرنا ہر کسی کہ بس کی بات نہیں ۔

 سادگی پسند طاہر کی خواہشات کی کوئی فہرست نہیں ہے ۔ انہوں نے اب تک ازدواجی زندگی کے لیے نہیں سوچا ہے انکا کہنا ہے انکی زندگی کا مقصد ابھی لا حاصل ہے اسلیئے وہ ابھی کوئی فیصلہ کرکہ توجہ بانٹنا نہیںچاہتے ہیں۔


Seems good. fotos are roshni email

 میڈیا میں کوئی ”آپ“ نہیں ہوتا۔ سوائے انٹرویو کے۔ ورنہ ”انہوں “نے لکھا جاتا ہےمحمد بلال حسین صدیقی 
2k14/MC/57
پروفائل: قا ضی محمد طاہر شیخ

"ریجیکشن آر ما ئے مو ٹیویشن "
یہ وہ الفاظ ہے جو قا ضی محمد طاہر شیخ اکثر اپنی باتو ں میں استعما ل کر تے ہیں ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ۴۱ اگست ۷۸۹۱ ءمیں حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا انڈیا کے مقھیہ تھے جو قا ضی کے نا م سے مشہور تھے تو آپ نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔قا ضی محمد طاہر شیخ حیدرآباد کا ایک عام شہری بلکہ یہ وہ ایک شہری ہے جس نے لوگوں کے آگے ہا تھ پھیلانے کے بجا ئے ہمیشہ محنت کو تر جیح دی۔کہتے ہیں کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے بس اسی سوچ سے قا ضی محمد طاہر شیخ بہت متا ثر ہوئے اور اسی سوچ کو اپنی زندگی کے ساتھ منسلک کر لیا ۔بنا کچھ سوچے سمجھے قا ضی محمد طاہر شیخ نے ہر دفعہ محنت کو تر جیح دی اور اسی محنت کی وجہ سے آج لوگ انھے ایک ڈیزائینر کے نام سے جا نے جاتے ہیں۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم لطیف نیا زی سکول سے حا صل کی میٹرک مکمل ہو نے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے گو ر منٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور بیچلر کی تعلیم حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ پھرے لیکن محنت سے کبھی منہ نہ موڑااور پھر سندھ پولس میں کونسٹیبل کی حیثیت سے مقررہ ہوگئے تھو ڑے ہی عرصے میں (ڈی۔آی۔جی) کے ( پی۔ایس ۔او) مقررہ ہو گئے۔ 

گورمنٹ ملازم ہونے کے بعد ایک سکون کی سا نس لی اور سوچا کہ شاید مینے جو سوچا تھا وہ مقام حاصل کرلیا۔ لیکن زندگی نے ایک اور کروٹ لی جس سے انہیں احساس ہوا کہ شعبہ پولس میں پر موشن صرف تاریخ پیدائیش یا پھر تا ر یخ اپونٹمینٹ پر ہوتا ہے قا بلیت کی بنا پر شبعہ پولس میں کوئی پر مو شن نہیں ہوتے جس کی بنا پر انھوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑنے کا فیصلا کیا۔

سندھ پولس کا شعبہ چھوڑنے کے بعد قا ضی محمد طاہر شیخ نے چار دن کا آن لائن کورس کیاجس کا نام سیفٹی افسر تھایہ کورس کرنے کے بعدقا ضی محمد طاہر شیخ نے کراچی کی فرینڈ کنسٹرکشن کمپنی میں سیفٹی سپروائزرکی حیثیت سے ملازمت کی۔اس ملازمت سے بھی قا ضی محمد طاہر شیخ کچھ خاصہ مطمئن نہ ہوئے اور واپس حیدرآباد آگئے۔بقایا تعلیم حاصل کرنے کے لیئے ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیااور کمپوٹر سے خاصہ ہونے کی وجہ سے قا ضی محمد طاہر شیخ کا دھیان گرافک ڈیزائنگ کی طرف متاثرہوئے اور ایم ۔اے انگلش کے ساتھ ساتھ گرافک ڈیزائنگ کا کورس ارینا ملٹی میڈیا سے کیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اور وہ اس کام میں ایکسپرٹ ہوگئے ۔

آپ نے کبھی بھی اپنی پہلی ملازمت شبعہ پولس کو کبھی بھی برا نہیں سمجھا اور ہمیشہ یہ ہی سوچا کہ آج میں جو کچھ ہوں اسی وجہ سے ہوں کیونکہ وسائل کی کمی کے بعث قا ضی محمد طاہر شیخ نے وہ مقام حاصل کیا جس سے ان کے والد کا نام روشن ہوا۔

قا ضی محمد طاہر شیخ آج ایک گرافک ڈیزائنگ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیںحالنکہ ان کو اس شعبہ میں چند ہی سال ہوئے ہیں ۔ گرافک ڈیزائنگ کے شعبہ میں وہ ایکسٹ ڈُٹ ڈیزائینرکے نام سے جانے جاتے ہیںاب ان کی زندگی کا مقصد بس ایک ہی ہے کہ ان کے والد ان کے نام سے پہچانے جائیں۔جس کی وجہ سے انھوں نے گرافک ڈیزائنگ کی ٹرینگ دینا شروع کردی تاکہ نئی نسلوں کو گرافک ڈیزائنگ کا صحیح مقصد بتا سکیں۔ اور اس شعبہ سے متعلق بچوں کو آن لائن ورکنگ بھی سیکھا تے ہیں ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس کام سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیںآج کل حیدرآباد میں رہائیش پزیر ہیں۔

Under supervision of Sir Sohail Sangi

#SohailSangi # #Profile, 

#graphicDesigner, #QaziTahir, 

Thursday, 21 January 2016

Referred back Bhittai Hospital Latifabad

This is not feature format. Referred back U should write ur name in the feature

 بھٹائی ہسپتال حیدر آباد
بلال صدیقی,
بھٹائی ہسپتال جو کہ "شاہ عبد الطیف بھٹائی"کے نام سے منسلک ہے اِس کی بنیاد 18اکتوبر 1980ءرکھی گئی ۔ بھٹائی ہسپتال حیدر آباد کے لوگوں میں ایک بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے جو کہ 35 سے زائد سالوں سے عوام کی خدمت کررہا ہے اس وقت بھٹائی ہسپتال کے MSڈاکٹر محمد اسلم ہیں ۔ یہ ہسپتال لطیف آباد یونٹ نمبر4 میں واقع ہے ۔ شروعات میں بھٹائی ہسپتال بس ایک عمارت پر مشتمل تھا جس کی بنیاد 1984ءمیں جناب سید احمد یوسف نے رکھی تھی لیکن وقت اور عوام کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سی نئی عمارتیں اور بہت سے نیو ڈیپارٹمنٹ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ بھٹائی ہسپتال میں داخل ہونے کا ایک بڑا دروازہ ہے جس کی بنیاد 2010ءمیں ڈاکٹر کنور نوید جمیل کی قیادت میں رکھی گئی ۔دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی پارکنگ کے لیے ایک بڑی جگہ ہے جہاں ڈاکٹر وں اور عملہ کی گاڑیاں پارک کی جاتی ہے ۔
بھٹائی ہسپتال میں شعبہ حادثات کی ایک الگ عمارت بنائی گئی ہے اس میں 24 گھنٹے ڈاکٹر اور عملہ موجود رہتا ہے جو مریضوں کی عیادت میں مصروف رہتا ہے جیسے ہی کوئی مریض کسی حادثے کا شکار ہوکر ہسپتال لایا جاتا ہے تو پورا عملہ اس کے علاج میں لگ جاتا ہے اور علاج کے ساتھ ساتھ ادویات بھی مفت دی جاتی ہیں ۔
بھٹائی ہسپتال میں ہر طرح کے مرض کا علاج کیا جاتا ہے جن میں ڈائیلائسس ، گائنا کولوجی ، کارڈیولوجی ، گردوں، آنکھوں ، دانتوں ، ہڈیوں ، گلے، اور شعبہ بچہ و زچہ شامل ہیں اور OPDکی سہولت بھی موجود ہے ۔ بھٹائی ہسپتال میں 2 آپریشن ٹھیٹر موجود ہیں جہاں ہر قسم کے آپریشن ہوتے ہیں ۔
گردوں کے بڑھتے ہوئے مرض کی وجہ سے انتظامیہ نے لوگوں کے علاج کے لیے ایک الگ عمارت بنوائی جس کی بنیاد 24 جنوری 2009 ءمیں کنور نوید جمیل کی قیادت میں رکھی گئی 2 منزلہ پر مشتمل اس عمارت میں ایک عدد آپریشن ٹھیٹر بھی موجود ہے اور ایک لائبریری جس کی بنیاد 30جنوری 2010ءمیں رکھی گئی ہے ۔ ڈائیلائسس کا شعبہ بھی اسی عمارت میں موجودہے جس کی بنیاد 16 نومبر 2007 ءمیں رکھی گئی ۔ انتظامیہ کی ایک الگ عمارت ہے جہاں بھٹائی ہسپتال کے MSکا ایک الگ کمرہ موجودہے اور اکاﺅنٹ آفس میں اسی عمارت میں موجود ہے ۔مین عمارت جس کی بنیاد جناب سید احمد یوسف نے رکھی تھی اس کے اندر میڈیکل بھی موجود ہے جہاں ادویات مفت دی جاتی ہیں اور اسی کے ساتھ OPDبھی موجود ہے جہاں ہر طرح کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ بچوں کے لیے ایک نرسری بنائی گئی ہے جہاں بچوں کا مکمل طور پر خیال رکھا جاتا ہے ۔ بچہ و زچہ کا ایک الگ شعبہ بنایا گیا ہے جہاں پر آپریشن ٹھیٹر کے ساتھ ساتھ بچوں کا وارڈ بھی موجود ہے ۔ہسپتال میں جنرل وارڈ کی بھی سہولت موجود ہے جہاں مردانہ اور زنانہ وارڈ الگ الگ بنائے گئے ہیں اور 24 گھنٹے مریض کی نگرانی کے لیے نرس اور ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں ۔بھٹائی ہسپتال میں ایکسرے کا ایک الگ شعبہ موجود ہے ۔
بھٹائی ہسپتال میں دانتوں، ہڈیوں ، گلے، دل ، آنکھوںاور ہر طرح کی جسمانی مرض کا علاج کیا جاتا ہے ۔ ہر ایک مرض کے لیے حیدر آباد کے قابل ڈاکٹر موجود ہیں ۔ بھٹائی ہسپتال میں سروینٹ کوارٹر کی سہولت موجود ہے جہاں عملے کی فیملیاں رہتی ہیں ۔
بھٹائی ہسپتال لطیف آباد کا ایک بہترین ہسپتال ہے جہاں ہمیشہ ہی سے لوگوں کا اچھی طرح سے علاج کیا جاتا ہے اور یہ ہسپتال اب لطیف آباد حیدر آباد پہچان بن چکا ہے ۔

Tuesday, 19 January 2016

حیدر آباد ، گندگی اور صحت Referred back

حیدر آباد ، گندگی اور صحت 

لکھنے والے کا نام نہیں۔ آرٹیکل میں کچھ اعدد و شمار، کچھ ماہرین کی رائے، اس حوالے سے رپورٹس وغیرہ ہوتی ہیں۔ اور اس کے اسباب بھی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ حل بھی تجویز کئے جاتے ہیں۔ شہر میں صفائی کا عملہ کتنا ہے؟ بلدیہ اس مد میں سالانہ کتنا پیسہ کڑچ کرتی ہے؟ ایسا کونسا اور کیسے نظام بن گیا ہے جس کی وجہ سے صفائی نہیں ہوتی وغیرہ ۔ آپ ان سوالات کے جوابات دیں، اور دوبارہ فائل کریں۔ 
 لکھنے والے کا نام میں ڈال رہا ہوں 
 بلال صدیقی
شہر حیدر آباد جو کہ شہر قرار کہلاتا تھا آج گندگی اور غلاظت کا ڈھیر بنا ہوا ہے حیدر آبادجو کہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے ہمیشہ سے ہی حکومت سندھ کی نظروں سے دور رہا ہے کبھی حیدر آباد کی سڑکیں کسی جھیل یا ندی کا منظر پیش کرتی ہیں تو کبھی کسی کوڑے دان کا ۔ سڑکوں کے کنارے لگے یہ کچروں کا ڈھیر اور یہ سڑکوں پر کھڑا پانی حکومت سندھ کی نہ اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس گندگی اور غلاظت کی وجہ سے شہریوں کو بہت سے مسائل کا سامنا در پیش ہے جن میں سے صحت سر فہرست ہے ۔ اس گندگی سے لوگوں میں ڈائریااور ملیریا جیسی خطر ناک بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیںاور یہ آگے چل کر خدا سے ملوادیں گی لیکن حکومت سندھ نے آج تک اس بات پر کبھی نوٹس نہیں لیا کیونکہ اس ملک میں ہمیشہ سے ہی عوام کو اُن کے حقوق سے دور رکھا گیا ہے خاص کر غریبوں کو ، کیونکہ اُن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ اچھے ہسپتال یا پھر پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کرواسکیں لہذا گورنمنٹ ہسپتال سے علاج کروانے پر مجبور ہوتے ہیں اور گورنمنٹ ہسپتالوں کا حال کچھ خاصہ ٹھیک نہیں جس کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔
دراصل یہ گندگی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول تک کو نقصان پہنچا تی ہے ماحول میں موجودہ آکسیجن کی وجہ سے لوگوں میں سانس کا مرض لاحق ہوتا جارہا ہے ۔ ماحول کی آلودگی سے نہ صرف انسانوں کو بلکہ جانوروں اور پرندوں تک نقصان پہنچتا ہے۔سیوریج کا نظام بھی درہم برہم ہے اور شہر حیدر آباد کی سڑکیں کسی جھیل یا ندی کا منظر پیش کرتی ہیں ۔ پایپ لائن پھٹنے یا ٹوٹنے کی وجہ سے گٹروں کا گندہ پانی سڑکوں پر جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں اور پیدل چلنے والے حضرات کو خاصاً مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے کھلے گٹر دکھائی نہیں دیتے اور آئے دن اس وجہ سے لوگ ایکسیڈینٹ کا شکار ہوتے ہیں جان کے ساتھ ساتھ مال کا بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور یہ گندہ پانی بہت سے بیماریوں کو جنم دیتا ہے جس میں ملیریا ، بخارشامل ہیں ۔اس گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے حکومت بھی کوئی اقدام نہیں اٹھا تی حتیٰ کے انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
دراصل ہم خود سستی اور کاہلی کی وجہ سے اس شہر کو گندہ کرتے ہیں اس شہر کے 80فیصد مسائل ایسے ہیں جو ہم خود حل کرسکتے ہیں مگر حل کون نکالے؟ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں پہلے خود ٹھیک ہونا پڑے گا کہ اگر ہم اس شہر کو اپنا گھرسمجھ لیں تو ہم اپنے گھر کی طرح اس شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں گے ۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن یہ بس کہنے کی حد تک ہے ہم اپنا گھر تو صاف کرتے ہیں لیکن گھر کا کچرا کبھی بھی گورنمنٹ کی مقررہ جگہ پر نہیں پھینکتے چونکہ وہ رہائش پزیر علاقوں سے دور ہوتی ہے ۔اس گندگی کا زیادہ زیادہ تر نقصان ان غریبوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کے پاس رہنے کے لیے نہ گھر اور نہ ہی پہننے کے لیے کپڑے ہوتے ہیں ۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ کچرا پھینکے کی کی مقررہ جگہ رہائش پزیر علاقوں کے نزدیک بنوائی جائے اور اسے روز صاف کرنے کے لیے کچھ لوگ تعینات کریں تاکہ حیدر آباد ایک صاف ستھرا شہر بن سکے اور عام عوام سے گزارش ہے کہ اس اقدام میں حکومت کا ساتھ دیں ۔