Showing posts with label عذیر. Show all posts
Showing posts with label عذیر. Show all posts

Monday, 8 February 2016

Referred back Feature Paretabad

 bad composing format.  observe proper paragraphing. Location of area? change para no 4 and maek it soft, it is too critical.
 foto symbolising paretabad
Featureعذیر
پریٹ آباد میں سماجی تبدیلیاں
پریٹ آباد شہر حیدرآباد کا ایک مشہور علاقہ ہے۔ ایک ایسا علاقہ ہے جو کہ پورے شہر میں بدنام تھا اور غلباً ہے بھی۔اس علاقہ کی اس پزیرای ¾(بدنامی) کی نمایا وجہ جہالت ہے۔آج سے کچھ عرصے پہلے تک بھی یہاں غیر تعلیم یافتہ اور غیر مہذب لوگوں کی اکثریت پای ¾ جاتی تھی۔ اس بات کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والے لوگوں کا نیچلے طبقے سے تعلق ہے۔جہالت کی ایک اور وجہ ملازمت والے لوگوں کی تعداد میں کمی تھی۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ملازمت انسان کو وقت کی اہمیت کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سیکھاتی ہے اور سب سے اہم یہ کہ شعور دیتی ہے۔ایک اور وجہ لوگوں کا تعلیم کی طرف رجحان نا ہونا تھا۔مشکل سے کسی گلی میں کوئی تعلیم ےافتہ شخص ملتا تھا۔تعلیم سے اس دوری کی بڑی وجہ علاقے کا کاروبار کے حولے سے بہت وسیع ہونا نظر آتی ہے۔
حیدرآباد کے اس علاقے میں مختلف برادریوں کے لوگ رہائش پذیر ہیں اور ہر برادری کا ایک امنا کاروبار ہے جو کے غلباً انکی نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ اس کی چند مثالیں یہ ہیں: قریشی برادری کے جو لوگ اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں ان میں سے اکثریت گوشت کا کام کرتی ہے۔

انصاری برادری کے لوگوں کے کپڑے کے کارخانے ہیں، چھیپا برادری کے لوگ رنگ ریزی کرتے ہیں،آرائیوں کی اکثریت سبزی فروشی کا کام کرتی ہے، اسی طرح دیگر اور برادریاں اپنے اپنے کاروبار رکھتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں کا خاص طور پر نوجوانوں کا نہ ملازمت کی طرف کوئی خاص رجحان تھا اور نہ ہی تعلیم کی طرف۔                          
جب تعلیم ہی حاصل نہ کرتے تو جہالت کیسے جاتی۔ان ہی سب وجوہات کی بنا پر تعلیم اور تعلیم ےافتہ لوگوں کی کمی تھی تو دوسری طرف چور، ڈاکوﺅں ، جیب کتروں ، جواریوں ، بدمعاشوں اور جہایلوں کی اکثریت تھی۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ علاقے میں تعلیم عام ہونے لگی۔ چند لوگوں نے اس کام کے لے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی۔ جوں جوں لوگوں کا رجحان تعلیم کی طرف بڑھتا گیا، علاقے کا منظر ہی تبدیل ہوگیا۔ جہالت میں دن بہ دن کمی آتی گئی۔ اور پچھلے چند ہی سالوں میں قافی تیزی سے سماجی تبدیلیاں آئی۔ ان میں سب سے نمایہ تبدیلی یہ آئی کہ جہاں لوگ اسکول تک کی تعلیم مشکل سے حاصل کرتے تھے ۔ آج وہاں سے اسی جہالت والے علاقے سے طلبہ کی ایک کثیر تعداد یونیورسٹی تک پہنچ گئی ہے۔                        
جس علاقے میں تعلیم یافتہ لوگوں کی کمی تھی ، آج وہاں اسکولوں اور اساتذہ کی ایک ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ جہاں لوگوں کا رجحان غیر ضروری سرگرمیوں کی طرف تھا اب صبح و شام تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اسکولوں کی تعداد تو بڑھی جا بڑھی ، سینٹرز کی تعداد میں بھی نمایہ اضافہ ہوا ہے۔ گوےا ہر چوک پر ایک انگلیش لینگوج ، کمپیوٹر ےا کوچنگ سےنٹر نظر آتا ہے۔علاقے کے نوجوانوں کا آوارہ گردی اور گالی گلوچ سے سوشلیزیشن کی طرف شوق منتقل ہو گےا ہے۔                    
Infra-structure میں خاصی نمایہ تبدیلیاں آئی ہیں۔پیچھلے دس پندرہ سالوں میں کئی اچھی عمارتیں بہت تیزی سے تعمیر ہوئی ہیں، جنہوں نے علاقے کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ مختصراً کہا جائے تو پچھلے چند سالوں میں ایک نیا پریٹ آباد بن کر منظرِ عام پر آیا ہے۔ جہاں تعلیم بھی ہے اور لوگوں میں شعور بھی۔ البتہ اب بھی قافی چیزوں کا بہتر ہونا باقی ہے۔ مکمل بور پر اب تک تبدیل نہیں ہوا ہے۔ چند لوگوں میں جہالت اب بھی باقی ہے۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ جہالت کی شرح میں بہت کمی آئی ہے۔                   

Monday, 1 February 2016

Profile of Noaman Panhwar

foto is required
PROFILE By M Uzair
NOAMAN PANHWAR
A boy who believes in hardworking!

Noaman Panhwar had achieved the great success in Speech and Debate Competitions over years, served brilliantly in training new participants for speech and debate competitions, and is now working as Junior Officer in National Savings, the department under ministry of Finance, Government of Pakistan.

Mr. Panhwar actually proved that everything can be achieved by the true hard work. He as the brilliant student acquired much success one after other. In 2011 he was declared the Best Debater in All-Pakistan Inter-Universities Allama Iqbal Shield English Debate Contest (Sindh Region).
One year ago Panhwar secured Second Position in Inter-Departmental English Debate Competition at University of Sindh, Jamshoro. In the same competition of year 2009, he secured Third Position.
To Mr. Panhwar ‘Debate has been his passion since school life.’ He said, “Debate is an act of presenting your ideas and thoughts to others for convincing them.” He further added, “I have enjoyed my life as student in setting high goals then making struggles to achieve them.”

Besides his brilliance in competitions, Noaman acquired a good skill of teaching English language. Noaman continued teaching English in institutions for years with studies. He earned a great respect and fame in in the field of teaching. In this regards Mr. Noaman Panhwar has been awarded twice with Pride of Performance for rendering dedicated services for the students: once by Stream Line English language institute in Sept 2013, and second time by Student Care Centre in Dec 2014.
According to some of his university friends, “Noaman had the finest accent of speaking English among them.” They believed, ‘His way of delivering his speeches is appreciate able.’

Noaman was born in Hyderabad, completed his Matriculation in 2006 from Government High School no.1 Society, Intermediate in 2008 from Government Higher Secondary School Halepota. He was graduated in 2011 from University of Sindh, Jamshoro, and did his masters in 2014 from Quaid-e-Azam University, Islamabad. In October 2015 he was appointed in National Savings’ Head Office, Karachi as Junior Officer and currently working there.

Noaman has achieved many mile stones in his small career. He has received many awards: Certificate of Excellence by Azm-e-Nojawan Conference in recognition of meritorious performance in curricular and co-curricular activities on Feb 19, 2011, Award of 1st Position in All-Pakistan Inter-Universities Allama Iqbal Shield English Debate Contest (Sindh Region) which was organized by HEC (Higher Education Commission) at NED University, Karachi on 8th Jan 2011, award of 2nd & 3rd Positions in Inter-Departmental English Debate Competition on 2nd Nov 2010 & 18th March 2009 respectively, award of Pride o Performance by Stream Line English Language Institute in Sept 2009, and the same award from Student Care Centre in Dec 2014, award of the Best Student of the year by Stream Line English Language Institute in 2005.

Throughout his career he has had the opportunity to participate in various events such as All-Pakistan Muhammad Ali Jinnah Bi-Lingual Declamation Contest at University of Management and Technology, Lahore in January 2010, Round Table Discussion Conference on issue Challenges of the Youth which was organized by Ministry of Youth Affairs Sindh at Hotel Regent Plaza, Karachi in June 2009, Inter-Personal Communication Skills Workshop Training at University Of Karachi in Oct 2009 and so many others.

Noaman’s father said, “I am always proud of Noaman, he has been a brilliant son & student for years.” Noaman recently received a certificate from Bureau of STAGS, University of Sindh for his brilliance in as a student of university in 2009 & 2010. Noaman said, “I am looking forward to future. I am still to achieve much in future.”

He is the role model for many young students.

(Muhammad Uzair Shah-158)

Tuesday, 19 January 2016

Referred back Pollution in Hyderabad

We need urdu pieces in inpage format, not in words. This article is poor.  What type of pollution Hyd is facing? There are many types.  In case of article u need some reports, research reports, expert opinion, comparison with other cities.

 U should have correctly written ur name 
عذیر

آرٹیکل
ٹھنڈی ہواؤں کا شہر حیدرآباد آلودگی کا شکار
محمد عزیر
حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے مگر ٹھنڈی ہواؤں کی مناسبت سے شہر حیدرآباد پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ ایک طویل عرصے سے سخت سے سخت گرمی میں بھی حیدرآباد شہر کی شام پر سکون اور راتیں ٹھنڈی ہواؤں سے بھر پور ہوتی ہیں۔
ماحول کے حساب سے شہر حیدرآباد ایک اچھا اور پر سکون شہر تھا۔ جہاں نہ تو ٹریفک زیادہ تھا اور نہ آلودگی۔  ایک پر سکون ماحول ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ شہریوں کو مہیا تھا۔ ستمبر 2013 کے مطابق شہر حیدرآباد میں فضائی آلودگی کی شرح  00ـ0 فیصد تھی۔ اور صفائی سے نا مطمیئن لوگوں کی شرح 00ـ25 فیصد تھی۔ یہ شمار حیدرآباد کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ 
حیدرآباد شہر کی سڑکیں بہت اچھی تو نہیں مگر کم ٹریفک ہونے کی وجہ سے بہتر معلوم ہوتی تھی۔ صفائی کا نظام بھی قابل قبول تھا۔ ان سب باتوں کے نتیجے میں جب ایک شخص شام کے وقت سیر و تفریح کے لیے اپنے گھر سے نکل کر شہر میں گشت کرتا تھا تو مطمئین محسوس کرتا تھا۔
پچھلے چند سالوں میں حیدرآباد کے ماحول میں کئی منفی تبدیلیاں آئی ہیں جن کا شہر کے ماحول اور شہریوں پر بہت اثر پڑا ہے۔ ان تبدیلیوں میں چند نمایاں تبدیلیاں یہ ہیں۔
شہر کا صفائی کا نطام خاصا خراب ہو گیا ہے۔ سڑکوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ کچرے کے ڈھڑ نظر آتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں شہر حیدرآباد میں تعمیراتی کام بھی معمول سے زیادہ ہوا اور اسکے بعد صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پورا شہر مٹی سے بھر گیا۔ اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ شہر کی ٹھنڈی ہوائیں تو اب بھی ویسی ہی چل رہی ہیں مگر اب ان ہواؤں میں مٹی بھی موجود ہے۔سڑکیں گندی ہونے کے سبب ٹھنڈی ہوائیں مٹی کے طوفان میں تبدیل ہوگئیں ہیں۔ جس سے شہری زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔ اب سیر و تفریح تو دور اب اگر انسان کسی کام کے سلسلے میں بھی چند منٹ شہر کا گشت کرے، خاص طور پر موٹر سائیکل سوار، تو وہ پوری طرح سے مٹی میں آلودہ ہو جاتا ہے۔
یہ ایک بہت سادہ سا مسلئہ ہے جس کا حل حکومت با آسانی نکال سکتی ہے۔ صفائی کے ادارےشہر میں موجود ہیں بس ضرورت ہے تو انہیں بیدار کرنے کی۔ اور ایک بار پھر حیدرآباد کی ٹھنڈی ہوائیں اسکی مشہوری کی وجہ بن سکتی ہے نہ کہ لوگوں کی تکلیف کی۔
شہر حیدرآباد میں دن بہ دن ٹریفک بھی بڑھتا جا رہا ہے۔جس کے باعث سڑکیں جو کہ پہلے استمعال کے لیے کافی ہوتی تھیں اب چھوٹی پڑنے لگی ہیں۔ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک جام نظر آ تا ہے۔ جہاں مختلف گاڑیاں اپنے ہارن بجا رہی ہوتی ہیں۔ اس سے شہر کے پرسکون ماحول پربہت اثر پڑتا ہے۔
جس طرح شہر میں گاڑیوں کی تعداد بڑھی ہے اسی طرح سڑکوں کو بھی کشادہ کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومتی اداروں نے تعلقہ قاسم آباد اور تعلقہ لطیف آباد میں قابل قبول اور قابل ذکر کام کیا ہے۔ مگر تعلقہ حیدرآباد شہر کی سڑکوں کی حالت خاصی خراب ہے اور انہیں کشادہ اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ 

(محمد عزیر – 158)

Referred back Marraige ceremonies past and present

Referred back
We need urdu pieces in inpage format, not in words. This feature is poor.  
feature is reporting based. It objective is to entertainment. plz read what is feature 
 U should have correctly written ur name
عذیر
فیچر

شادی کا سماں
جدید طرز و طریقہ یا فرسودہ رسومات!
شادی انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس دنیا کی ابتداء سے ہر قوم، ہر مذہب اور ہر نسل میں شادی بیاہ کا رواج چلا آ رہا ہے۔ یہ دنیا کو چلانے والے اہم ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ شادی میں دو لوگ ایک رسومی طریقے سے ایک نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔
ابتداء دنیا سے لے کر آج تک مختلف قوموں اور مختلف معاشروں میں شادی بیاہ کے طور طریقے، رسم و رواج الگ الگ ہوتے ہیں۔ اگر صرف ہمارے معاشرے کی بات کی جائے تو اس میں ہر خاندان میں کوئی ایک نہ ایک نئی یا دوسروں سے مختلف رسم ضرور مل جاتی ہے۔
یوں تو شادی بیاہ کی تقریبات میں بشتر رسومات ہوتی ہیں۔ مگر چند ایک رسومات ایسی ہیں جو کہ عموما ہر خاندان اور ہمارے معاشرے کے ہر فرقے میں پائی جاتی ہے۔ جن میں سرفہرست مایوں مہندی کی رسم ہے۔
یہ بات تو ہر عام و خاص کے علم میں ہے کہ پچھلی ایک صدی میں نئی نئی ایجادات کی مدد سے دنیا کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا  ہے۔ اور اس تبدیلی کا ایک گہرا اثر انسان کی سماجی زندگی پر بھی پڑا ہے۔جیسا کے شادی بھی ایک سماجی روایت ہے تو شادی کے طور طریقے بھی جدید ٹیکنالوجی اور انسان کی سوچ میں آنے والی تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔
شادی بیاہ کی رسومات کا آغاز شادی کی تاریخ طے ہونے سے ہوتا ہے۔موجودہ دور میں جو ماحولیتی صورتحال ہےاس کے مطابق شادی کسی ایسے مہینے میں ہونی چاہیے جس میں نہ تو زیادہ ٹھنڈ ہو اور نہ ہی زیادہ گرمی تکہ لوگ با آسانی شادی کی تقریب میں شرکت کر پائے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اسکے کچھ برعکس صورتحال نظر آتی ہے۔پرانے دور سے بزرگوں نے مذہبی کلینڈر کے مطابق چند ایک ماہ طے کیے ہوئے ہیں جن میں لوگوں کی اکثریت شادی بیاہ کرتے ہیں چاہے ان دنوں موسم کیسا ہی ہو حتکہ مون سون کا سسیزن ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات انسانی عقل سے بلاتر ہے اور فرسودہ رسومات کا ایک حصہ ہے۔
تھوڑا آگئے بڑھ کر اب اھر مایوں مہندی کی رسم کی بات کی جائے تو ایک دور تھا کہ دولہا، دولہن دونوں کو نکاح سے ساتھ دن پہلے مایوں میں بیٹھا دیا جاتا تھا۔ پھر نکاح کے دن تک انکے جسم پر  ابٹن ملا جاتا تھا۔ اکثر خاندانوں میں مایوں میں بیٹھنے کے بود دولہا دولہن نہ تو نکاح کے دن تک نہا سکتے تھےاور نہ کہیں شہر سے باہر جا سکتے تھے۔ گھر میں روز شام چند خواتین ڈھول لے کر بیٹھاکرتی اور خوب گانے گائے جاتے۔ البتہ آج کے دور میں ان سب باتوں کا کرنا ایسا لگتا ہےیہ کوئی دو تین صدی پہلے کی بات ہومگر ایسا تو ہمارے معاشرے میں پچیس تیس سال پہلے تک بھی ہوتا رہا ہے۔
اب اگر آج کے دور کی بات کی جائے تع ابٹن لگانے کی رسم تو صرف نام کی رہ گئی ہے۔ کہاں پہلے دولہا دولہن کے پورے بدن کو ابٹن سے ڈھک دیا جاتا تھا۔ اب تو صرف رسم کے طور پر تھوڑا سا ابٹن دولہا دولہن کے ہاتھ پر رکھے پان کے پتے پر لگا دیا جاتا ہے۔ آج کے دور کے مایوں مہندی میں رقص کا پروگرام بہت عام ہو گیا ہے۔ رسومات سے فراغت کے بعد ایک اچھے خاصے موسیقی اور رقص کے پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں دولہا اور دولہن بھی رقص کرتے دیکھائی پڑتے ہیں۔
کچھ نمایا تبدیلی رخصتی کے وقت بھی دیکھائی دیتی ہے۔ پہلے کی شادیوں میں رخصتی کا ایک الگ ہی سماں ہوتا تھا جہاں دولہن اپنے والدین سے بچھڑنے کے غم میں زار و قطار رو رہی ہوتی تھی اور اس منظر کو دیکھ کر موجودہ ہر شخص کا دل غمگین ہو جاتا تھا۔ البتہ اب اس طرح کا کوئی منظر مشکل ہی دکھائی دیتا ہے۔ کچھ رسمی طور پر دولہن اپنے گھر والوں کے گلے لگ جاتی ہے مگر وہ پچھلے دور جیسا غم نظر نہیں آتا۔ شاید اس کی ایک وجہ دنیا کا سمٹ جانا بھی ہے۔ آج کی جدید دنیا میں کوئی شخص کسی سے کہاں دور ہے شاید اس وجہ سے بھی جدائی کے پرانے جذبات نہ ابھرتے ہو۔
ایسی ہی بے شمار تبدیلیاں شادی کی پوری تقریب میں جگہ جگہ دکھائی دیتیں ہیں۔ جن میں چند فرسودہ پرانی رسومات کا ختمہ ہوا ہے اور چند جدید طور طریقوں نے جنم لیا ہے۔ البتہ شادی بیاہ کے موقعے پر ہمارے معاشرے میں ایک غریب شخص کو جہیز جیسی کئی رسومات سے پیش آنے والے مسائل کا سامنا ہے۔
(محمد عزیر - 158)