Showing posts with label فیچر. Show all posts
Showing posts with label فیچر. Show all posts

Monday, 25 April 2016

تیلیوں کا پیشہ اور روایات Mizan Raees

فیچر 
تیلیوں کا پیشہ اور روایات
تحریر: مزنہ رئیس الدین 
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں ان ہی پیشوں میں سے ایک پیشہ تیل کا روبار ہے اور اس پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگ تیلی کہلاتے ہیں ۔ تیلی لوگوں کی ھاری اکثریت کالی موری میں آباد ہے ۔ جو کہ ہیراآباد کے اختتام پر شروع ہو تاہے کالی موری سے پہلے یہاں کمبھاروں کا محلہ بھی ہوا کرتا تھا اور تیلی بھی آباد تھے ۔ مگر کمبھاروں کے بعد یہ علاقہ کالی موری کے نام سے جانا جاتا ہے اور اب یہاں تیلی لوگ آباد ہیں تیلیوں سے مراد یہ نہیں کہ وہ تیل میں نہا کر رہتے یا تیل لے کر گھومتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی ذات ہے۔ تیلی لوگ تقریبا 40, 50سال قبل انڈیا سے پاکستان ہجرت کر کے آئے ۔ کا آبائی علاقہ باڑمیئر ہے ۔ 
تیلیوں کا رہن سہن ، ، زبان ، چال چلن روایات کچھ الگ قسم کی ہی ہیں ۔ یہ لوگ سالوں سے تیل کا کاروبار کرتے آرہے ہیں ۔ اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان کے کاروبار میں مردوں کے ساتھ ان کی عورتیں بھی شامل ہیں مرد حضرات اگر تیل کی گھانیوں میں کام کرتے ہیں تو خواتین بھی کم نہیں وہ بھی گھر بیٹھ کر مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں سے تیل بنا کر فروخت کرتی ہیں ۔ گھانی سے مراد جس جگہ یہ کام سر انجام دیا جاتاہے اس کو گھانی کہا جاتاہے۔ گھانی میں تیل نکالنے کے لئے مختلف قسم کی مشینیں لگی ہوئی ہیں جن سے مختلف قسم کے تیل نکالے جاتے ہیں ۔ ان چکی نماں مشینوں میں سرسوں ، جامھے ، دھنیہ ،ناریل،وغیرہ کو ڈال کر پیسا جاتاہے اور پھر اس میں مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں سے تیل بنایا جاتاہے۔

 الگ الگ مقامات پر الگ الگ طریقوں سے کام کیا جاتاہے جیسا کہ شکار پور میں لکڑی کی چکی نما قسم کی مشین سے بیل کو باندھ کر اور اس کو گھما کر بھی تیل نکالا جاتاہے ہاں البتہ اس کام میں بیل کا بھی تیل نکل جاتاہے یہ الگ بات ہے۔

تیلیوں کی روایات اور رہن سہن ، بھی بالکل مختلف اور عجیب قسم کا ہے خواتین انتہائی قسم کی گھریلو ہیں۔ پڑھنے لکھنے کا بھی رجحان بالکل نہیں پایاجاتا۔ مرد حضرات پینٹ شرٹ کے لباس کو بالکل بھی زیب تن نہیں کرتے ۔سادہ قمیض شلوار ہی زیب تن کیا جاتا ہے جبکہ خواتین فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ والے لباس کو زیب تن کر تی ہیں پھر 80سالہ بڑھیا ہی کیوں نہ ہو وہ بھی اپنی اس روایت کو مرتے دم تک قائم رکھتی ہے ۔ 
اور بات کی جائے ان کی زبان کی تو وہ بھی کافی دلچسپ ہوتی ہے ہاں سامنے والے کو سمجھنا کافی مشکل ہوتاہے ”پانی کو پوئی “ چار پائی کو ماچا اور ساس کو ہاو ¿ بول کر پکارا جاتاہے ۔ ایک خاص کی روایت یہ بھی ہے کہ خواتین مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے سامنے بھی گھونگھٹ ڈال کر آتی ہیں ۔
دیکھا جائے تو یہ پیشہ اب کافی حد تک ختم ہوتا جا رہا ہے اور گھانیوں کا رجحان بھی کافی حد تک کم ہو گیا ہے کیونکہ اب اس جدید دور میں تیل کی بڑی بڑی فیکٹریوں نے گھانی کی جگہ لے لی ہے جس کی وجہ سے تیلوں کا پروفیشن اب ختم ہو تا جا رہا ہے مگر ابھی بھی کچھ تیل کی گھانیاں باقی ہےں کیونکہ ابھی روایتوں کے پابند لوگ ان ہی سے تیل خریدتے ہیں ان کا ماننا یہ ہے کہ گھانی سے خریدا ہوا تیل ہی اصلی ہوتاہے جبکہ فیکٹریوں سے آیا ہوا تیل ملاوٹ سے بنایا جاتاہے ۔

ان تلوں میں تیل نہیں جیسی مشہور کہاوت تیل کی گھانیوں کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ قول تیلیوں کے یہ کاروبار اب زیاد ہ نہیں چلتا مگر تیلی ہونے کی حیثیت سے وہ یہ ختم بھی نہیں کر سکتے ان کا معاشرہ بہ طور تیلی ہی ان کا اجاگر رکھتا ہے اور وہ فخر محسوس کرتے ہیں تیل بنا کر بیچنے پر اور بہ طور تیلی ہونے پر ۔


This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi, 

BS-III, Department of Media & Communication Stuies, University of Sindh 

#MizanRaees, #Teli, #Hyderabad, 

Friday, 11 March 2016

Inrceasing usage of face creams

Feature is always reporting based.
پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی کریمز کارجحان 
فیچر: فاطمہ جاوید

فیئر نیس کریم آپ کے چہرے سے داغ دھبوں کو مٹا نے کے ساتھ ساتھ آپکو ایک ایسی شخصیت بنا دیتی ہے جو ہمیشہ سے لوگوں کے لئے قابل حصول ہے آج کل معاشرے میں ہر شخص خوش و خرم ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت دکھنا چاہتا ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی خوبصورتی کے حصول کے لیے آج کے نو جوان ہر حد تک جانے کو تیار ہیں ۔

اسی لیے مختلف مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنی اپنی فیئر نیس کریمز کو متعارف کروایا ہے ۔ جن کا کام چہرے پر لگنے داغ دھبے ، گردو غبار چھائیاں چہروں سے ختم کرنا ہوتا ہے ۔ جس سے چہرے کی اصل خوبصورتی ظاہر ہونے لگتی ہے اور وہ کریمز چہرے پر داغ دھبوں کو مزید بڑھنے سے روکتی ہے ۔

آج کے معاشرے میں خوبصورت لوگوں کو زندگی کے ہر شعبوں میں خوبصورتی سے فائدہ ہوتا ہے آیا ہے خوبصورت لوگ یا آسانی ملازمت کے مواقعوں سے جگہ انتہائی آسانی کے ساتھ بنا لیتے ہیں ۔

شادی ہمارے معاشرے کا انتہائی جزو ہے ۔جس پر ہم اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ خوبصورت لڑکیوں کو کچھ زیادہ پڑھنے کی ضرورت پیش ہو تی ہے کیونکہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی نہ کوئی لڑکا /بے وقوف ان کو حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر بن رہا ہوگا یہی وہ سوال پیدا ہوتا ہے جب گتری یا ساﺅلی لڑکیوںمیں بھی یہ خواہش جنگل کی آگ کی طرح بھرکی ہے اور یہاں رجحان کی تبدیلی ہو تی ہے اور لرکیاں کریمز کو استعمال کی ضرورت بناتی ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح خوبصورت نظر آئیں ۔

ہمارے آج کے ماحول پر جن ہم نظر دورائیں تو ہمیں فیئر نیس کریمز کی جانب بڑھتا ہوا رجحان نظر آئے گا جن کی مالیت پاکستانی سے لے کر 5 , 5اور ، 10 , 10ہزار ہو تی ہے جس شخص کی جتنی اہمیت ہو تی ہے وہ اتنی ہی لگن سے خوبصورتی کی دوڑ میں آگے نظر آنا چاہتا ہے ۔
20%مرد حضرات کریمز کی طرف جانے کا رخ کرتے ہیں 
80%خواتین کریمز کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ۔ 

خواتین مرد حجرات کی نسبتاََ زیادہ خوبصورت بننا چاہتی ہیں کریمز کے بے جا استعمال فائدہ مند بھی ہوتے ہیں اور 
نقصان دہ بھی ہو تی ہیں ۔ 
کریمز کے استعمال سے انسان چند دنوں میں غورا تو ہو جاتا ہءلیکن پھر یہ بعد میں اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہے ۔ 

 فیئر نیس کریم آپ کے چہرے کو حسین اور تروتازہ بنادیتی ہے ۔ اس کا استعمال چھوڑتے ہی آپکا چہرہ پھر ویسا ہی ہوجاتا ہے ۔ آپکی رنگت کو نکھاردیتی ہے کریمز آپکو وقتی طور پر فائدہ دے سکتی ہے ۔لیکن بعد میں آپکو نقصان بھی پہنچاسکتی ہے

کریمز کو ملا کر فارمولا تیار کیا جاتا ہءاس کے استعمال سے آپ کے چہرے کے داغ دھبے اور چھائیاں ختم ہوجاتی ہیں اور چہرہ نرم ، ملائم اور تروتازہ ہو جاتا ہے ۔ آپ کا چہرہ دلکش نظر آنے لگتا ہے ۔کریمز کے بے جا استعمال سے آپکا چہرہ حسین و جمیل نظر آنے لگتا ہے ۔

حسین کے امتیاز کو بڑھانے کے لیئے جتنے نازک صدیوں سے کریمز کا استعمال کرتی آرہی ہیں ۔ خوبصورت اور حسین سے زیادہ حسین تر نظر آنا ہر ایک لڑکی کا خواب ہو تا ہے ، چاہے وہ کتنی ہی خوبصورت ہو پھر بھی کریمز کا ستعمال کرتی ہیں ۔

دیدہ زیب اور دلکش نظر آنے کے لیئے بارباں کریمز کا ستعمال کرتی اارہی ہیں ۔
خواتین تو خواتین مرد حضرات بھی کریمز کے استعمال سے پیچھے نہیں رہتے اور دید بے جاند نہ ہو گا کہ ہماری نو جوان نسل بھی کریمز کی طرف رخ کر رہی ہے لیکن کریمز کے استعمال سے آپ لمحوں میں غورے ہو جاتے ہیں ۔
حسین و آغاہی کے لیئے کریمز پیش و بہار تحفہ کالی رنگت کو نکھارنے کے لئے تحفہ 
اسی طرح ہم اپنے چہرے کی حفاظت کر کے اپنی عمر سے کم لگ سکتے ہیں خواتین برسا برس سے چہرے کی رنگت کو نکھارنے کے لئے گھریلوں ٹوٹکے استعمال کرتی آہی ہیں ۔

چہرے کی حفاظت و نگہداشت حسین و نکھار کا بنیادی اصول ہے صرف لڑکیاں ہی نہیں بلکہ لڑکے بھی اپنے آپ کی خوبصورت اور اسمارٹ نظر آنا چاہتے ہیں ۔ یہ سب کریمز کاا ستعمال ہے ۔
کریمز کے بے جا استعمال سے بوڑھا انسان بھی خوبصورت نظر آنے لگتا ہے کریمز کا بے جا استعمال آپ کے بوڑھاپے کو چھا دیتا ہے اور جوانی کو نکھار دیتا ہے ۔
"نہ کرالے باغیاں شکوہ گلوں کی بے حیائی کا 
حسین جو بھی ہو تے ہیں زرہ مغرور ہو تے ہیں "

 ماس کام بی ایس سال سوئم فرسٹ سیمسٹر
 سندھ یونیورسٹی

Under supervision of Sir Sohail Sangi

FatimaJaved, #Creams, 

Wednesday, 3 February 2016

Referred back worth visiting places in balochistan

 Referred back- Revised 
Same composing mistakes are there. U may have a look. What u have corrected?     
   نظروںسے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقامپےر غائب    
 فےچر : عدنان علی لاشاری
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

    پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں آ گئے ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔تالا ب کے گرد بلند و بالاکھجور کے درخت ہوا کے زور سے جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب اےک بزرگ پر رکھا گےا ہے ۔ جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے یہ لوگ ان کے دشمن بن گئے اور ےہاں تک کہ انھےں جان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں وہ غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

   پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لاتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجےنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے ۔اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

   پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی ےہ علاقہ سےاحوں کے لےے گم نام ہے اور ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔
                     عدنان علی لاشاری
  رول نمبر:2k14/MC/153
            

-----------------------------------------------------------------
   Referred back.  Composing mistakes/  particularly of  ے  and ی

فیچر

 عدنان علی لاشاری
    نظروں سے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقام پیر غائب    
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔

سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب رکھنے کے پےچھے اےک پرانی کہانی موجود ہے ۔برسوں سال پہلے اےک بزرگ اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے اور انھےں اےک بارجان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

       پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران پہاڑوں مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔

تالا ب کے گرد بلند و بالا کھجور کے درخت خوشی سے ہوا کے زور مےں جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

        پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لے کر آتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔

حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

       پےر غائب کا علاقہ پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی سےاحوں کے لےے گم نام ہے ۔ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔ حالانکہ ےہ خوبصورت علاقہ دنےا بھر کے تفرےحی مقامات سے کسی طرح بھی کم نہےں۔
                      عدنان علی لاشاری 
                     رول نمبر:2k14/MC/153

Beautification becomes costlier

This topic is not approved. Despite repeated reminders he did not turn up to explain his position
Un checked
Is this approved topic? plz show me slip
نام: بلال مسعود
رول نمبر: ۲۳۱
ٹوپک: فیچر 
حسن ہوا مہنگا 
حسین رکھنا نظر کا مر کز بننا تعریف سننا ہر عورت کا خواب آئینہ کے گھنٹہ آگے خود کو تیاری کے بعد اُسے اُمید ہوتی ہے کہ اس کے گھر والے ضرور اُسے سر ہا ئیں اِسی وجہ سے وہ ہزاروں مختلف قسم کے بیوٹی پروڈکٹس استعمال کرتی ہیں وہ مختلف کر یمنر میک اپ اور ساما ن چہرے کے مختلف حصوں اور ضرورت کے حساب سے، جلد کے حساب سے ، رنگت کے حساب سے اور پتہ نہیں کیا کیا ۔ جس طر ح عورت زیور کے بنا ادھوری لگتی ہے اِسی طر ح اب میک اپ کے بنا بھی دیدارکے قا بل نہیں لگتی ۔خود خواتین کا بھی یہ حال ہے کہ پہننے کے کپڑے کم ہوتے ہیں اور ڈریسنگ ٹیبل پرسجی چہرے پر لگانے کی اشیاءبے شمار ہوتی ہیں۔ مختلف قسم کی تو بے شمار کر یمنر ہوتی ہیں گورا کرنے کی، جھائیوں کی ، داغ دھبوں کی، آئلی جلد کی، نارمل جلدکی، کیل مہاسوں کی ، اس کی اُس کی کریم اُف ۔۔۔۔۔۔!اچھی طرح یاد ہے اپنا بچپن جب دادی نانی کے پاس ایک ہی کٹ (Kit)ہوتی تھی جس کی پوری چہرے پر لگانے والی سر خی پاﺅڈر ہوتا ہے جو کہ اس وقت حُسن کو نکھار نے کے لئے کافی مانا جاتا ہے اور آج کے درو میں حُسن کے نخروں کی تعدار آپ گن ہی نہیں سکتے ہیں۔ دکان پر موجود وارنٹی کے آگے اپنی ضرورت اور جلدکے حساب سے مہک آپ خریدنا بھی بڑی جنگ کی طرح ہے کہتے ہیں نہ خواتین نے اگر کہیں جانا ہوتو پھر پورا ہفتہ تیاری اور پھر اُس دن بھی سادہ دن تیاری کرنے کے بعد بھی گاڑی میں بیٹھے مرد حضرات کو پانچ منٹ میں آئی ، پانچ منٹ بس کی صدائیں سننے کو ملتی ہیں۔ جس کے بعد مرد حضرات کو انتظار کی وجہ سے لگی آپ پر خاتون یہ کہہ کر تیل ڈالتی ہیں کہ تیاری کا وقت ہی نہیں ملا بس جلدی میں کچھ نہیں کرسکی۔

 یقین مانیں اگر جلدی میں ہوئے تیار چہر ے پر آپ نگاہ دوڑایں گے تو دیکھ سکتے ہیں آنکھوں کی ان چھوٹی پلکوں پر کس قد ر تفسیہ کار ی کی گئی ہوتی ہے کہ آئی لانئر ، مسکا را ، کا جل ، آئی شیڈز وہ بھی کپڑوں کے رنگ کی منا سبت سے مختلف دو، تین رنگ اس طر ح لگائے ہوئے ہیں۔ کہ آنکھوں سے نگا ہیں ہٹتی ہی نہیں ۔اور پھر مرد حضرات انہی سحر انگیز نگاہوں کے تیر کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
حکومت کو بھی ان ظالمانہ اداﺅں کا اندازہ تھا یا پھر کہیے کہ ظلم ڈھانا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ میک اپ کی اشیاءپر بھی ٹیکس عائد کردیا گیا اور پھر ہر سال بجٹ میں اس پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ مطلب بجلیاں گرانے والیوں پر بجلی گرادی حکومت نے۔ خواتین اس خود پر ہونے والے اس ظلم پر ہائے ہائے کرتی نظر آتی ہیں۔ اپنی ناراضگی ، غصے کا اظہار کرتی ہیں کہ میک اپ کے سامان پر ٹیکس نہ لگائے جائیں لیکن کچھ خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سامان مہنگا ہو یا سستا اُس سے اُن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ یہ شوہروں کی ذمہ داری ہے ان کا درد سر ہے۔ وہ صرف خریدنے کی حد تک محدود ہیں خرچ کرنے کا ذمہ ان کے مرد حضرات پر ہے۔ اب اس کا نتیجہ تو یہ ہوا کہ بچارے مرد کی جیب پر ایک نیا عذاب ڈال دیا گیا ہے حکومت کی جانب سے ۔اسی کا جواب حاصل کرنے کے لئے جب ہم نے مرد حضرات سے بات کی تو ان کے خیالات کچھ یوں تھے ۔خواتین ، مردوں کو کمائی کی مشین یا نوٹ چھاپنے کی مشین سمجھتی ہیں اور روز نت نئی فرمائیں کرتی ہیں۔ ایک مہنگائی کا جن جو کہ بوتل میں بند ہونے کا نام نہیں لیتا دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے حکومت بھی رحم نہیں کھاتی ۔ تنخواہیں کم اور قیمتیں زیادہ ہیں گذارہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد حضرات میں بلڈ پریشر اور دل کے امراض جیسی بیماریوں کی شرح زیادہ ہے۔ جس کی شرح 27 فیصد ہے۔ 
اس کی وجوہات جاننے پر تفصیلات یہ ملا کہ خواتین میں اس کے بڑھتے رجحانات کی وجہ میڈیا میں دکھائے جانے والی رونمائی اس قدر اثر انگیز ہے کہ وہ خواتین کو جال میں پھنسا لیتے ہیں۔ ان پروگرامز میں اتنی خوبیاں نکھار نکھار کر بتائی جاتی ہیں کہ جیسے ان پر وڈکٹس کے بنا ءتو حل ممکن ہی نہ ہو اور پھر ان شوز میں برانڈز کی خاص طور پر رونمائی کی جاتی ہے۔ مورننگ شوز ، اشتہارات کی د کان بن کر وہ گئے ہیں برانڈز کی۔ جس کی وجہ سے ان کے نخرے مزید بڑھ گئے ہیں اور نتیجتاً قیمت میں اضافہ ہوا جس پر گورنمنٹ نے مزید ٹیکس عائد کر کے سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے گورنمنٹ نے اس سال میک اپ کی اشیاءکی مد میں 5 فیصد تک ٹیکس کا اضافہ کیا ہے ۔ کچھ نام نہاد میک اپ اشیاءکی فہرست یہ ہے:
1 ) میک 2 ) لورئیال 3 ) اوے 
4 ) میبیلین 5 ) ای ٹیوڈ 
اب خیالات کچھ یوں ہیں کہ مہنگائی نے ہر چیز کو پر لگا دئیے ہیں میڈیا نے رونمائی کر کے کہ لڑکیوں پر ایسا سحر طاری کردیا ہے کہ ان کی قیمتوں کا بھی ان پر اثر نہیں پڑتا، فرق تو صرف مردوں کی جیب کو پڑتا ہے۔ اب بچارے وہ کریں بھی تو کیا حسینہ کے آنکھ میں مسکارا تو اچھا لگتا ہے پر آنسو نہیں تو خود خون کے آنسو پی جاتے ہیں تو ہلال ہوجاتے ہیں ان نخروں کے آگے گلہ اور التجا حکومت سے ہے خواتین میں زیادہ مردوں کی ہے کہ رحم کیا جائے اور اتنے زیادہ ٹیکسز نہ لگائے جائیں قیمتوں میں کمی کی جائے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید پر بہت فرق پڑا ہے۔ عام ناخن پالش کی قیمت 200 روپے سے 500 روپے تک آگئی ہے جس کی وجہ سے خریداری پر گہرے اثرات پڑے ہیں اور یہ وجہ کاسمیٹکس پر لگنے والے ٹیکس ہیں۔

Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi

Feature on workshops


  آپ کو یہ فیچر ریوائیز کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ فیچر ہمیشہ رپورٹنگ بیسڈ ہوتا ہے اور اسکا مین مقصد انٹرٹینمنٹ ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں دوبارہ بھیجی گئی تحریر میں بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کو کسی طور پر بھی فیچر کی کیٹیگری میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تازہ ترین کوئی رپورٹ وغیرہ ڈالتے تو آرٹیکل ہو سکتا تھا۔ فی الحال یہ essay کی شکل میں ہے۔ جو کہ کسی طور پر میڈیا رائٹنگ نہیں۔ 
 مزید یہ کہ آپ نے یہ مقرر ہ تاریخ کے بعد بھیجی ہے۔

ورکشاپس

   (فیچر)

ورکشاپس سیکھانے یا شرکاءکو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے کے لئے ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ایک ایسا تعلیمی پروگرام ہے۔ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ورکشاپس کا بنیادی مقصد جدید دنیا کی ابھرتی ہوئی تبدیلیوں سے شرکاءکو متعارف کروانا ہے ورکشاپس کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یونیورسٹیوں کا پیچیدہ کام کم ہوجاتا ہے اور اس سے مزید نئی اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی تراکیب کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طالب علموں کی مشکلات میں کمی آئے۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

آج کل ورکشاپس کو مختلف کمپنیز فنڈز فراہم کررہی ہیں خاص طور پر کچھ بیرونی ممالک تاکہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ حاصل ہو اور نوجوان نسل کی تربیت ہو اور وہ مو ¿ثر آلات کے ساتھ پرسکون ماحول میں بہتر طریقے سے عمل حاصل کرسکیں اس کے ذریعے ضرورت مند طلبات کو مالی امداد دیکر انہیںتعلیم کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی ہٹاتے ہیں ۔

ورکشاپس کچھ اس طرح سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ طالب علم کی چھپی صلاحیت کو باہر نکال لاتی ہیں ورکشاپس کے ماحول میں وہ کھل کر اپنے اندر چھپے فن اور کانفڈنس کو اُبھارتا ہے ۔ ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے مل کر کام کرنے سے مختلف ذہنوں کے پوائنٹس مل جاتے ہیں جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔ 

ورکشاپس میں فراہم کیا جانا والا ماحول ون وے نہیںبلکہ ٹو وے ہوتا ہے مطلب پڑھنے والا بھی پڑھانے والا ہوتا ہے جس سے انسان کے اندر کی جھجک ختم ہوجاتی ہے ورکشاپس کا ماحول جماعت کی طرح ڈیکٹیٹر نہیں ہوتا بلکہ غلط ہو یا صحیح آزادی ¿ رائے خیال کی ہوتی ہے۔ تعلیمی فوائد میںایک فائدہ اہم یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔قابلِ ذکراور ہم بات تو میں بتانا ہی بھول گیا وہ یہ کہ ورکشاپس میں بہترین چائے کا وقفہ، کھانا اور شام کی چائے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔
غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے۔
 
Edited

ٍٍ ورکشاپس
 (فیچر)
ملک شاہ جہان انصاری 


سیکھنے اور سکھانے کا عمل دنیا میں ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ اسی عمل کی بدولت انسان غار سے نکل کر چاند پر جاپہنچا ۔اس سیکھنے اور سکھانے سے انسانوں کے آپس میں رابطے مضبوط ہوئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی گئی اور یہ کوشش کی جاتی رہی کہ تعلیم کو عام کرنے کے آسان سے آسان اور بہتر سے بہتر طریقے اختیار کئے جائیں۔ اگر ہم چند صدیوں پیچھے چلے جائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شہر ٹھٹہ ایک وقت میں علم و فنون کا مرکز ہوا کرتا تھا ۔یہاں ایک ہی درسگاہ میں سینکڑوں شاگرد موجود ہوتے تھے اور ایک استاد اس درسگاہ میں زبانی کلامی طریقے سے مختلف معلومات فراہم کرتا تھا جسے شاگرد اپنے ذہنوں میں محفوظ کرتے اور کچھ تحریر بھی کرلیتے تھے ۔زمانے میں جدت آئی اور درسگاہوں میں خاطر خواہ تبدیلیاں کی گئی ۔ان تمام تبدیلوں نے تعلیمی عمل کو مزید بہتر کردیا ۔ انہی خاطر خواہ اقدام میں ایک قدم ورکشاپ کا انعقاد بھی ہے ۔ 

ورکشاپس سیکھانے یا شرکاءکو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے یا ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ۔یہ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ان ورکشاپ میں طلبا کو معلومات فراہم کرنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں جن میں لیکچرز ، آڈیو، زیڈیو وغیرہ کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک بھی سکھایا جاتا ہے ۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر اصغر جو کہ گابا پبلیشر کے تحت مختلف تعلیمی ورکشاپ میں نگراں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ورکشاپ کا مقصد طلبا کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس کے زریعے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں اور اپنی غلطیوں کو درست کر سکیں ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے۔ جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔ 

ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔


غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے۔ 

feature is always reporting based, it should carry quotes, attribution, opinion of the related  or people from this field. Basic purpose of Feature is to provide entertainment, information is its secondary purpose. it lacks this criteria.
Its intro should be interesting. 
ٍٍ ورکشاپس
 (فیچر)
ملک شاہ جہان انصاری 
رول نمبر: 47
ورکشاپس سکھانے یا شرکاء کو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے کے لئے ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ایک ایسا تعلیمی پروگرام ہے۔ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ورکشاپس کا بنیادی مقصد جدید دنیا کی ابھرتی ہوئی تبدیلیوں سے شرکاء کو متعارف کروانا ہے ورکشاپس کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یونیورسٹیوں کا پیچیدہ کام کم ہوجاتا ہے اور اس سے مزید نئی اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی تراکیب کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طالب علموں کی مشکلات میں کمی آئے۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

آج کل ورکشاپس کو مختلف کمپنیز فنڈز فراہم کررہی ہیں خاص طور پر کچھ بیرونی ممالک تاکہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ
حاصل ہو اور نوجوان نسل کی تربیت ہو اور وہ مو ¿ثر آلات کے ساتھ پرسکون ماحول میں بہتر طریقے سے عمل حاصل کرسکیں اس کے ذریعے ضرورت مند طلبات کو مالی امداد دیکر انہیںتعلیم کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی ہٹاتے ہیں ۔
ورکشاپس کچھ اس طرح سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ طالب علم کی چھپی صلاحیت کو باہر نکال لاتی ہیں ورکشاپس کے ماحول میں وہ کھل کر اپنے اندر چھپے فن اور کانفڈنس کو اُبھارتا ہے ۔ ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے مل کر کام کرنے سے مختلف ذہنوں کے پوائنٹس مل جاتے ہیں جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔

ورکشاپس میں فراہم کیا جانا والا ماحول ون وے نہیں بلکہ ٹو وے ہوتا ہے مطلب پڑھنے والا بھی پڑھانے والا ہوتا ہے جس سے انسان کے اندر کی جھجک ختم ہوجاتی ہے ورکشاپس کا ماحول جماعت کی طرح ڈیکٹیٹر نہیں ہوتا بلکہ غلط ہو یا صحیح آزادی ¿ رائے خیال کی ہوتی ہے۔ تعلیمی فوائد میںایک فائدہ اہم یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔

قابلِ ذکراور ہم بات تو میں بتانا ہی بھول گیا وہ یہ کہ ورکشاپس میں بہترین چائے کا وقفہ، کھانا اور شام کی چائے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔
غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے

Saturday, 30 January 2016

Trend of beautification among males by Rafay

Let me know what changes u have made? if some changes why u did not changed
the file name?
فیچر
مردوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑ ھا تا ہو ا رجحان 
محمد رافع خان

جہاں خواتین کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ اپنے حسن میں اضا فے کے لیے اپنے شو ہر کی تنخواہ کا بیشتر حصہ بیو ٹی پا رلر میں خر چ کر تی ہیں وہیں ہمارے مر د حضرات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ تنخواہ کی کثیر تعداد بیو ٹی سلون پر خر چ کر دیتے ہیں ۔ آخر خوبصورت دکھنے کا ان کو بھی حق ہے ۔ جہاں پہلے مر د صر ف بال کٹوانے کو اپنا حسن سمجھتے تھے ۔ وہاں اب خواتین کی دیکھا دیکھی انہیں یہ بہت کم لگنے لگا ہے ۔ اسی لیئے ہمارے نو جوان کیا بزر گ بھی اکثر سلون پر دکھائی دیتے ہیں ۔ 

  مر دوں نے سو چا کہ اگر خواتین بیو ٹی پارلر جا کر خو د پر چار چاند لگوا سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔مرد حضرات بیوٹی سلون جا کر اپنے حُسن میں اضافہ کرتے ہیں جہاں صر ف بال کی کٹنگ ہی نہیں بلکے فیشل ، تھریڈنگ، ویکس،اور نہ جا نے کس کس قسم کے تجر بے اپنے آپ پر کر تے ہیں۔اسمارٹ ان بےوٹی سلون کے مالک عادل علی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں بیوٹی سلون کا سلسلہ ۰۸۹۱میں شروع ہوا پہلا بیوٹی سلون گاڑی کھاتہ میں شمع سلون کہ نام سے کھولا گےا۔ کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں خواتین مر د سے کم نہیں مگر یہ کہا جائے تو بہتر ہے کہ ہمارے مر د خواتین سے کسی طرح کم نہیں۔

 حیدرآباد میں اس وقت ۰۵ سے زیادہ بیوٹی سلون ہیں۔ اگر شا دی بیاہ کی بات کی جائے تو شا دی سے کا فی عرصے پہلے ہی دلہا کے بیو ٹی سلون کے چکر شروع ہو جا تے ہیں اور شا دی کے دن ان کا نقشہ ہی بدل دیاجاتاہے ۔ جہاں پر بیو ٹی سلون پر بڑھا تا ہوا رش نظر آ تا ہے وہاں پر حجام کی دکانیں اس کے بر عکس دیکھائی دیتی ہیں اور ان میں تعداد ان لوگوں کی ہو تی ہیں جو مہنگائی کی وجہ سے بیو ٹی سلون کا رخ نہیں کر پا تے ۔ 

گلوبل بیوٹی سلون کے حجام محمد نوید کا یہ کہنا ہے کہ مردوں میں بیوٹی سلون کی طرف بڑہتی ہوئی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یے بھی ہے کہ فلمی اداکاروں کو دیکھ کر مرد حضرات کہ دل میں یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ وہ بھی اُن کی طرح دکھائی دیں ۔محمد نوید کے مطابق مرد حضرات کاپہلے سے زیادہ بیوٹی سلون کا رخ کرنے کی وجہ ماحول میں تبدیلی بھی ہے پہلے سڑکوں پر نا تو اتنا زیادہ ٹریفک ہوتا تھا اور نا ہی ٹریفک کی وجہ سے دھول مٹی، مگر اب بڑہتے ہوے ٹریفک کی وجہ سے ماحول میں دھول اور مٹی بھی بڑھ گئی ہے جس سے زیادہ تر نقصان موٹر سائکل سوار کو ہوتا ہے۔ دھول اور مٹی ان کے چہرے اور بالوں کو نقصان دیتی ہے جس کی وجہ سے بال روکھے اور بےجان ہوجاتے ہیں اور چہرے کی سطح بھی خراب ہو جاتی ہے۔ بالوں کی رونق واپس حاصل کرنے کے لیے مرد حضرات بالوں میں پروٹین کا استعمال کرتے ہیں اور چہرے پر فیشل کرواتے ہیں۔

  ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کہ مقابلے حیدرآباد میں اس درجے کہ بیوٹی سلون نہیں ہیں جس درجے کہ کراچی میں موجود ہیںان کی کوشش ہے کہ بیوٹی سلون کو بہتر سے بہتر بنائیں تاکہ لوگوں میں مضید دلچسپی پیدا ہو۔ عید ہو یا کوئی تہوار مرد حضرات خاص طور پر اپنے حسن میں اضافے کے لیے بیو ٹی سلون کا رخ کر تے ہیں۔ خا ص طور پر عید کے مو قع پر چاند رات پر بیو ٹی سلون میں خا صہ رش دیکھائی دیتا ہے ۔ 

مر د حضرات مہینے میں ایک یا دو مر تبہ بیو ٹی سلون کا رخ ضرور کر تے ہیں ،چا ہے وہ بال کٹوا نے کے غرض سے ہو یا فیشل وغیر ہ کے مقصد سے ۔بیوٹی سلون پر آنے والے مرد حضرات کا کہنا ہے کے جو کام میں صفائی بیوٹی سلون کہ کاریگروں کہ ہاتھ میں ہے وہ کسی عام حجام میں نہیں اور ان کہ یہ بھی کہنا ہے کہ مہینے بھر کی دھول مٹی جو ان کہ چہروں میں اندرونی طور پر جمی ہوتی ہے اس کی صفائی کہ لیے بیوٹی سلون کا رخ کرنا پڑہتا ہے۔

ہر مرد کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ ظاہری طور پر بہتر دکھے ۔ اسی وجہ سے مردوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑھاتا ہوا رجحان دیکھائی دیتا ہے۔کسی عام حجام سے زیا دہ بیو ٹی سلون کو ترجیح دینے کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ بیوٹی سلون کا ما حول کسی عام حجام کی دکان سے زیا دہ بہتر ہو تا ہے ۔ پرُسکون اور آرام دہ ماحول بیو ٹی سلون کی طر ف دلچسپی کو بڑھا تا ہے ۔

 حیدرآبا د کے مشہو ر بیو ٹی سلون لکز،بوڈی فوکس، کلیپر،اسمارٹ ان وغیر ہ ہیں۔ جو کہ اپنی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کام سے بھی مشہور ہیں۔ کسی عام حجام کی دکان پر صفائی کا کوئی خا ص انتظام دیکھائی نہیں دیتا ۔ مگر بیو ٹی سلون کی کہانی اس کے بر عکس ہے۔ 

رول نمبر: 2K14/MC/140
 محمد رافع خان 
کلاس: BS-III 



When it was filed? Was it filed in due date? Feature is always reporting based. Some quotes, comments from related people



رول نمبر: 2K14/MC/140
نام: محمد رافع خان 
کلاس: BS-III 

فیچر
مر دوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑ ھتا ہوا رجحان


جہاں خواتین کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ اپنے حسن میں اضا فے کے لیے اپنے شو ہر کی تنخواہ کا بیشتر حصہ بیو ٹی پا رلر میں خر چ کر تی ہیں وہیں ہمارے مر د حضرات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ تنخواہ کی کثیر تعداد بیو ٹی سلون پر خر چ کر دیتے ہیں ۔ آخر خوبصورت دکھنے کا ان کو بھی حق ہے ۔ جہاں پہلے مر د صر ف بال کٹوانے کو اپنا حسن سمجھتے تھے ۔ وہاں اب خواتین کی دیکھا دیکھی انہیں یہ بہت کم لگنے لگا ہے ۔ اسی لیئے ہمارے نو جوان کیا بزر گ بھی اکثر سلون پر دکھائی دیتے ہیں ۔ 

مر دوں نے سو چا کہ اگر خواتین بیو ٹی پارلر جا کر خو د پر چار چاند لگوا سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔مرد حضرات بیوٹی سلون جا کر اپنے حُسن میں اضافہ کرتے ہیں جہاں صر ف بال کی کٹنگ ہی نہیں بلکے فیشل ، تھریڈنگ، ویکس،اور نہ جا نے کس کس قسم کے تجر بے اپنے آپ پر کر تے ہیں۔حیدرآباد میں بیوٹی سلون کا سلسلہ ۱۹۸۰ ؁میں شروع ہوا پہلا بیوٹی سلون گاڑی کھاتہ میں شمع سلون کہ نام سے کھولا گیا۔

کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں خواتین مر د سے کم نہیں مگر یہ کہا جائے تو بہتر ہے کہ ہمارے مر د خواتین سے کسی طرح کم نہیں۔ 
حیدرآباد میں اس وقت ۵۰ سے زیادہ بیوٹی سلون ہیں۔ اگر شا دی بیاہ کی بات کی جائے تو شا دی سے کا فی عرصے پہلے ہی دلہا کے بیو ٹی سلون کے چکر شروع ہو جا تے ہیں اور شا دی کے دن ان کا نقشہ ہی بدل دیاجاتاہے ۔

 جہاں پر بیو ٹی سلون پر بڑھا تا ہوا رش نظر آ تا ہے وہاں پر حجام کی دکانیں اس کے بر عکس دیکھائی دیتی ہیں اور ان میں تعداد ان لوگوں کی ہو تی ہیں جو مہنگائی کی وجہ سے بیو ٹی سلون کا رخ نہیں کر پا تے ۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کہ مقابلے حیدرآباد میں اس درجے کہ بیوٹس سلون نہیں ہیں جس درجے کہ کراچی میں موجود ہیں ان کی کوشش ہے کہ بیوٹی سلون کو بہتر سے بہتر بنائیں تاکہ لوگوں میں مضید دلشسپی پیدا ہو۔


 عید ہو یا کوئی تہوار مرد حضرات خاص طور پر اپنے حسن میں اضافے کے لیے بیو ٹی سلون کا رخ کر تے ہیں۔ خا ص طور پر عید کے مو قع پر چاند رات پر بیو ٹی سلون میں خا صہ رش دیکھائی دیتا ہے مہینے میں ایک یا دو مر تبہ بیو ٹی سلون کا رخ ضرور کر تے ہیں ۔ چا ہے وہ بال کٹوا نے کے غرض سے ہو یا فیشل وغیر ہ کے مقصد سے ۔بیوٹی سلون پر آنے والے مرد حضرات کا کہنا ہے کے جو کام میں صفائی بیوٹی سلون کہ کاریگروں کہ ہاتھ میں ہے وہ کسی عام حجام میں نہیں اور ان کہ یہ بھی کہنا ہے کہ مہینے بھر کی دھول مٹی جو ان کہ چہروں میں اندرونی طور پر جمی ہوتی ہے اس کی صفائی کہ لیے بیوٹی سلون کا رخ کرنا پڑہتا ہے۔
ہر مر د کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ ظاہری طور پر بہتر دکھے ۔



اسی وجہ سے مر دوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑھاتا ہوا رجحان دیکھائی دیتا ہے۔کسی عام حجام سے زیا دہ بیو ٹی سلون کو تر جیح دینے کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ بیوٹی سلون کا ما حول کسی عام حجام سے زیا دہ بہتر ہو تا ہے ۔ پر سکون اور آرام دہ ماحول بیو ٹی سلون کی طر ف دلچشپی کو بڑ ھا تا ہے ۔


حیدرآبا د کے مشہو ر بیو ٹی سلون لکز،بوڈی فوکس، کلیپروغیر ہ ہیں۔ جو کہ اپنی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کام سے بھی مشہور ہیں۔ کسی عام حجام کی دکان پر صفائی کا کوئی خا ص انتظام دیکھائی نہیں دیتا ۔ مگر بیو ٹی سلون کی کہانی اس کے بر عکس ہے۔ 



Mehndi of Mehar by Sajjad Lashari


Revised
سجاد علی لاشاری ماس کمیونیکیشن 2K14
رول نمبر: 163
کلاس: 3rd ایئر
(فیچر)
میہڑ کی مہندی

خواتین کا مہندی کے بغیر سجنا سورنا ہمیشہ ادھورا تصور کیا جاتا ہے اور اگر مہندی میہڑ کی ہو تو رنگ نکہارنے کے ساتھ ساتھ مہندی سرخ بھی ہو جاتی ہیں مہندی کی مناسبت سے میہڑ شہر ایک اپنی ہی انفرادیت رکہتا ہے میہڑ کی مہندی سندھ بہر میں اور اس کے مضافاتی علائقوں میں استعمال کی جاتی ہیں اور اسے تحفے کہ طور پر اندرونے اور بیرونے ملک بھی بھیجا جاتا ہے.

 مہندی ایک خاص قسم کہ ایک بیج سے اوگائی جاتی ہے اور پھر کڑی محنت کہ بعد اس کہ پتوں کو کارخانوں تک لیا جاتا ہے پھر اس کارخانوں میں مزدوروں کی مدد سے اس کو پیسا جاتا ہیں کچھ ایشیا ء اور کیمیکل ملا کر اسے زیادہ رنگ نکھارنے کے لیئے تیار کیا جاتا ہے اس کہ بعد تھلیوں میں پیک کیا جاتا ہے جس کہ بعد کارخانوں سے روانہ کر کے ڈیلروں کو بیج دیا جاتا ہے اس کہ بعد اسے اندرونے اور بیرونے سندھ میں تقسیم کرتے ہیں .


۔میہڑ کے مشہور دکاندار محمد صوفن کوسو نے مزید بات چیت کے دوران بتایا میہڑ کی مہندی جنگ آزادی سے بھی پہلے کی مشہور ایشیاء ہے اور اس مہندی کہ بھیج بھی ہندستان سے لائے گئے تھے میہڑ کی مہندی نے 1952 میں اپنی شوہرت کی بنیاد رکھی جس کہ بعد اس کی شوہرت کہ چرچے پورے بھارت میں کونج اٹھے۔

جنگ آزادی کہ بعد جب پاکستان الگ ہوا تو کچھ خاص کاریگر ہندستان میں رہ گئے تھے جس کہ بعد بچے کچے کاریگروں نے اس کے بنانے کے فارمولے کو مزید نکھارا اور ایک بار پہر سے میہڑ کی مہندی کو اپنی پہنچان ملی ۔اب سے چند سال پہلے پورے میہڑ شہر میں 15 مہندی کے کارخانے ہوتے تھے لیکن اب صرف 4 کارخانے اور 40 دکانیں ہیں اور کچھ لڑکے بھی ہیں جو کہ مہندی کے تھیلے اپنے ہاتھوں میں لیکر ریلوے اسٹیشن اور سپر ہائے وے پر بیچنے کے لیئے کھڑے ہو جاتے ہیں.


 مہندی کا ایک تھیلا 100روپے کا ہے لیکن اب کچھ مافیا نے مہندی میں ملاوٹ کی وجہ سے انتہائی کمی کی ہے جس کی وجہ سے فی تھیلا 50 روپیے سے 60 روپیے میں بیچا جا رہا ہے مزید میہڑ کے ایک قدیم موچی جو کہ بہت عرصے سے اپنا گذر سفر کر رہا ہے اس نے مزید مہندی سے جڑے ایک مشہور واقعہ کہ بارے میں مجھے بتایا کہ جہاں میہڑ کی مہندی کا ذکر آتا ہے وہی ایک حادثہ بھی دماغ میں اپنی جگہ لے لیتا ہے آج سے تین سال پہلے مہندی کہ کارخانے میں ایک نوجوان نے شرط پر مہندی کو پانی میں ملا کر پی لیا جس سے اس کی دماغ کی نسیں کمزور ہو کر فھٹ گئی اور موت واقعہ ہو گئی .


۔اس لڑکے کے خاندان والوں نے تین دن تک ہڑتال کی جس کے باعث پورا شہر بند رہا اس کے بعد مہندی کے کارخانے کے مالک اور لڑکے کے خاندان کے درمیان مذاکرات تہ پائے گئے جس کے باعث حالات زندگی معمول پر آگئی۔


میہڑ کی مہندی اس وجہ سے مشہور ہیں کیوں کہ یہ مہندی کیمیکل اور ہر ملاوٹ سے پاک ہے اس وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے میہڑ کی مہندی کے خریدار سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہم میہڑ کی ہی مہندی استعمال کرتے ہیں کیوں کہ اس سے بال نہیں جھڑتے اور بالوں کی جڑوں کو کمزور ہونے سے بھی بچاتیں ہے ۔مہندی کے ایک دکاندار محمد مراد نے بتایا کہ مہندی یہی پر بنتی ہے اس وجہ سے ہمیں ایک تھیلی میں 25 روپیہ کا منافہ ہوتا ہے اور سائیڈ افیکٹ نا ہونے کی وجہ سے لوگ زیادہ خرید تے ہیں 

Friday, 29 January 2016

Ghani Park Tando Allahyar by Misbah-ur-Ruda




غنی پارک
مصباح
ٹنڈوالہیار میں سیروتفریح کی بات آتی ہے تو لوگوں کی زبانوں پر غنی پارک کا نام سرفہرست رہتا ہے۔ ویسے تو ہر
 خوبصورت صبح کا آغاز مرغوں کی اذان ٬ چڑیاو ¿ں کے چہچہانے اور لوگوں کا مسجد کی طرف رخ سے ہوتا ہے لیکن ٹنڈوالہیار کی خواتین اور مرد حضرات کی صبح کا آغاز نماز کے بعد غنی پارک میں ورزش سے ہوتا ہے جہاں صبح سویرے ہی لوگ بہت بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ پارک لڑکوں کے کھیل کے لیے ایک بہترین گراو ¿نڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

 سردیوں میں بوڑھے بزرگ دھوپ کھاتے ٬ چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے اور نوجوان موبائل پر لگے نظر آتے ہیں جبکہ گرمیوں میں نوجوانوں اور بزرگوں کا رش تروتازہ ہوا کے لیے نظر آتا ہے رات کے ٹائم غنی پارک کو ڈیٹ پوائنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

اس پارک جس جگہ ہے وہاں کچھ عرصہ پہلے دلدل ہوا کرتی تھی جسے اب بنا کر ایک خوبصورت پارک کا نام دے دیا گیا
ہے۔

شروع میں یہاں بچوں کے لیے جھولے لگائے گئے تھے جس سے یہ خاص بچوں کی توجہ کا مرکز بنا لیکن آہستہ آہستہ  بچوں کی یہ خوشی دور ہوگئی اور جھولے خراب ہونے کی وجہ سے انھیں ہٹا دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی تقریبات ہوتی ہیں جن میں ہر طرح کی سیاسی پارٹیوں پارٹیز کے جلسے، جلوس، شادی بیاہ کی تقریبات ٬ مینا بازار ٬ رنگ برنگے فیسٹیول ٬ فٹ بال٬ ٹینس٬ اور ہر طرح کے گیمز کھیلے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف پروگرامز بڑی تعداد میں منعقد ہوتے ہیں۔ریلی میں جانے کے لیے لوگوں کو ایک مخصوص ٹائم دے دیا جاتا ہے اور پھر اسی ٹائم پر ریلی غنی پارک سے ہی نکالی جاتی ہے اور وہیں اختتام پزیر بھی ہوتی ہے۔ 

بچوں کا کہنا ہے کہ وہاں با قاعدہ کرکٹ کے لیے پچز ہیں جس کی وجہ سے کھیل کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے اس لیے ہم کھیل کے لیے غنی پارک کا رخ کرتے ہیں یہاں تازہ ہوا سے کھیل میں ہار اور جیت کا مقابلہ بہت زبردست ہوتا ہے اور ہم سب دوست یہاں کھیل سے زیادہ غنی پارک کا مزہ لینے آتے ہیں۔ 

الیکشن کے زمانے میں ”جیتے گی بھئی جیتے گی“ تو کبھی ”راجہ کی آئے گی بارات“ جیسی مختلف قسم کی آوازوں سے گونجتا ہے جہاں ایک طرف یہ لوگوں کے لیے ایک تفریح کی جگہ ہے وہیں جو لوگ اس کے آ س پاس رہتے ہیں ان کے لیے پریشانی کی بھی وجہ ہے ان سب کے لیے روز روز کا شوروگل ان کی زندگی میں بہت سی پریشانیوں کا سبب بنتا ہے لیکن زےادہ تر لوگوں کا دھیان اب اس آواز کی طرف نہیں جاتا کیونکہ انھیں اب ان آوازوں کی عادت سی ہوگئی ہے 

غنی پارک کو سرکاری باغ کہنا درست نا ہوگا کیونکہ یہ ڈاکٹر راحیلہ گل مگسی کی بدولت دلدل سے غنی پارک کی شکل میں منتقل ہوا کوئی بھی ریلی ہو ٬ ۱۴ اگست کا جشن ہو یا نئے سال کی آتش بازیاں سب سے پہلے غنی پارک ہی میں رونق کا سماں ہوتا ہے

غنی پارک میں ٹورنامینٹ ہوتے ہیں جس میں بہت سی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں ٹنڈوالہیار میں ۳ سال پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر ٹورنامینٹ رکھا جس میں تمام اسکولوں نے آگے بڑھ کر حصہ لیا لیکن اس سے پہلے اسکولوں نے اپنی ٹیمیں تیار کرنے کے لیے پورے اسکول سے بچوں کو چن چن کر نکالا اور ایک مضبوط ٹیم تیار کی اور پھر ان کا آپس میں میچ رکھا نویں کلاس کا دسویں کلاس سے اور گیارہویں کلاس کا بارہویں کلاس سے پھر ان چارو ں ٹیموں میں سے جن دو ٹیموں نے فتح حاصل کی ان کا ایک دوسرے سے فائنل کروایا گیا اور فائنل جس ٹیم کا مقدر بنا اس کو اسکول کی طرف سے ددسرے اسکولوں کی فائنل ٹیم سے مقابلے کے لیے بھیجا گیا اور آ خر میں ایگل ہاو ¿س ہائیر سکینڈری اسکول نے پورے ٹنڈوالہیار سے کامیابی حاصل کی اور دوسرے نمبر پر فاو ¿نڈیشن پبلک اسکول نے دوسری پوزیشن حاصل کی 

اس میچ کے دوران اسکولوں کی لڑکیاں کالے برکھے میں میچ دیکھنے آتیں تھیں جس سے ٹنڈوالہیار کے لوگوں نے ایک نیا ہی نام نکال دیا تھا ’ غنی پارک میں کالے کوے ‘ اس کے علاوہ رمضانوں میں بھی ٹورنامینٹ ہوتے ہیں اور ٹیمیں دوسرے شہروں یا گاو ¿ں سے آکر حصہ لیتی ہیں اور ساتھ ہی ڈھول بجا کر ماحول کو تازگی بغشتے ہیں اور اپنی اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں

غنی پارک لوگوں کے لیے ایک مکمل گزرگاہ ہے غنی پارک کے سامنے رہنے والے ایک لڑکے کا کہنا ہے کہ اچھی ہوا کی وجہ سے میرے والد صاحب ایک دفعہ گرمی کے باعث اور لائٹ نا آنے کی وجہ سے تختہ لگا کر غنی پارک میں سو رہے تھے کہ اچانک ایک کتا بھونکا ان کی آنکھ کھلی تو انھوں نے کتے کو اپنی طرف آتا دیکھا وہ ایک دم چونک اٹھے اور سامان کی پرواہ کئے بغیر گھر کی طرف
 دوڑ لگائی غنی پارک لوگوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے غنی پارک کبڈی اور مرغے کی لڑائیوں کا اہم مرکز ہے ویسے تو غنی پارک ایک عام سا میدان ہے لیکن لوگ کسی طور بھی اسے عام نہیں سمجھتے


Misbah-ur-Ruda
2k14/MC/52
Feature: Gani Park
Medium : Urdu 

Thursday, 28 January 2016

Circuit House Hyderabad


سمعیہ کنول
رول نمبر ۹۵
فیچر
سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد
سمعیہ کنول
 سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد ، شہر حیدرآباد کی ان قدیم عمارتوں میں سے ہے جو انگریزوں کی تعمیر کردہ ہیں اور تا حال زیرِ استعمال ہیں۔ سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد انگریزوں نے ۱۹۱۲ میں تعمیر کرواےا تھاجو ان کے سرکاری افسروں کے لئے ایک مخصوص عمارت تھی جہاں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے افسران صاحبان ٹھرا کرتے تھے۔آج بھی سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد اسی کام کے لئے استعمال کےا جاتا ہے مگر اب فرق اتنا ہے کہ اب یہ سرکاری عمارت حکومت پاکستان کے افسران کے لئے مخصوص کر دی گئی ہے۔

سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد میں رکنے والے ناموں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے بڑے نام شامل ہیں ، جن میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح جو پاکستان وجود میں آنے کے قبل تشریف لائے تھے، اان کے بعد ذولفقار علی بھٹو ، ان کی دختر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ،دورہ حکومت کے وزیر اعظم نواز شریف اور چیف منسٹر سندھ قائم علی شاہ موجود ہیں ۔

سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد میں رہل پہل زیادہ نہیں ہوتی مگر جب منسٹروں کی آمد کا امکان ہوتا ہے تو یہاں کی رونق اور سکیورٹی بہت بڑھادی جاتی ہے، مین سرکٹ ہاﺅس کی بلڈنگ میں صدر پاکستا ن ،وزیراعظم اور پاکستان کے سیاستدانوںکے بڑے نام ٹھرا کرتے ہیںاسی ہاﺅس کے احاطے میں ایک NXCنامی بلڈنگ موجود ہے جہاں قومی،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منسٹر ٹھرا کرتے ہیں ،مین سرکٹ ہاﺅ س ایک خوبصورت بلڈنگ ہے جس میں افسران کے کمروں کے علاوہ ایک میٹنگ حال موجود ہے جہاں سے منسٹر صاحبان پریس ریلیفس اور پریس کانفرنسس کرتے ہیںاگر وہ حال مہمانوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے چھوٹا پڑتا ہے تو پریس کانفرنس وہاں موجود ایک گارڈن میں منعقد کی جاتی ہیں ،جہاں خوش رنگ اور خوشبودار پھول اس بلڈنگ کی خوبصورتی بڑھاتے اور اسے مہکاتے ہیں۔

سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد کی سکیورٹی کے تمام فرائض ڈپٹی کمشنر سنبھالتے ہیں اور اس بلڈنگ کے نظم و نسق کی تمام ذمہ داریاں بھی ڈپٹی کمشنر کے پاس موجود ہوتی ہیں ،کسی بھی منسٹر ، چیف منسٹر ، وزیراعظم یا صدر کی آمد سے پہلے ڈپٹی کمشنر یہ اطلاع سرکٹ ہاﺅس پہنچا دیتا ہے اور انہیں سیکیورٹی خدشات کی بناءپر پابند بھی کرتا ہے کہ اس متعلق کوئی بھی معلومات باہر نہ جا سکے تاکہ کسی بھی غلط رونما ہونے والے واقعہ سے بچا جا سکے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف سرکٹ ہاﺅسس کا جلاﺅ گھیراﺅ کیا گیا تھا مگر سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد کو یہ شرف حاصل ہے کہ نا اس بلڈنگ کا کوئی شیشہ ٹوٹا اور نہ کوئی ٹائر اور پیٹرول پمپ اس کی نظر کیا گیا۔ سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد کو کسی طریقے کا جانی و مالی نقصان نہیں پہنچا یا گیاتھا ۔

ہر دورہ حکومت میں سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد میں منسٹروں کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے،وزیراعظم پاکستان نواز شریف اپنی پچھلی حکومت میں سرکٹ ہاﺅس حیدرآباد تشریف لائے تھے اور ۲۰۱۴ میں قائم علی شاہ کی آمد واقع ہوئی تھی۔حیدرآباد صوبہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے چناچہ یہاں قومی، صوبائی اور وفاقی حکومت کے ممبران کی آمد کا سلسہ زیادہ وقت تھمتا نہیں دکھتا۔ 

Wednesday, 27 January 2016

Thandi Sarak

feature should be reporting based. basic function of feature is to entertain. . This is not feature format
نام: محمد راحیل
رول نمبر: 68
موضوع : فیچر
ٹھنڈی سڑک

پاکستان کے پانچویں بڑے شہر حیدرآباد کی بات کی جائے اور اس گفتگو میں حیدرآباد شہر کی مشہور شاہراہ ٹھنڈی سڑک کا ذکر نہ آئے تویہ گفتگو نہ مکمل ہوگی ۔دنیا کے کئی ممالک میں اس نام کی سڑکیں موجود ہیں لیکن شہر حیدرآباد کی یہ سڑک بہت قدیم ہے یہ سڑک پاکستان بننے سے پہلے کی ہے اس سڑک پر موجود درخت انگریزوں کے دور سے لگے ہوئے ہیں اور یہ سڑک بّرصغیر کی تقسیم نو سے پہلے کی ہے شہر کے بالکل بیچوبیچ موجود ہے یہ سڑک 4.1کلو میٹر ہے اس سڑک کا کچھ حصہ محترمہ فاطمہ جناح کے نام سے اور کچھ حصہ کوٹ روڈ کے نام سے جاناجاتا ہے اس کو ٹھنڈی سڑک اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس سڑک سے گزرتے ہوئے ٹھنڈی ہوائیں محسوس ہوتی ہیں دن ہو یا رات ،دوپہر ہو یا شام،سردی ہو یا گرمی،خزاں ہو یا بہاراس پرسے گزرنے والا ہر شخص اس کی ٹھنڈی ہواﺅں سے محصور ہوتا ہے اور اس پر چلنے والی ٹھنڈی ہوائیں گزرنے والے کے دل کو جکڑ لیتی ہیں یہ سڑک خاصی قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت طویل ہے ۔گدّو چوک سے شروع ہونے والی اس سڑک کا خاتمہ شہر حیدرآبادکی مشہور ترین شاہراہ حیدرچوک پر ہوتا ہے اور یہ سڑک شہر کے کئی علاقوں کو آپس میںجوڑتی ہے شہر کے کئی مشہور مراکز اسی پر موجود ہیں جیسے سرکاری دفاتر،بینکز،انٹرنیشنل کرکٹ گراﺅنڈ،یونیورسٹی ،حیدرآبا دجم خانہ،شاپنگ سینٹر،سینمائ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ،چڑیا گھر، سرکٹ ہاﺅس ،شہباز بلڈنگ،ڈیفنس پلازہ،پیٹرول پمپس، پبلک سروس کمیشن آفس، سوک سینٹر،الیکٹرونک مارکیٹ،پی ٹی سی ایل آفس، کورٹ ،کتاب گھر،کھانے پینے کے مراکزاور بھی بہت سی مشہور اور اہم مراکز اسی شہر پر موجودہیں ۔اس سڑک کو کاروباری اور سرکاری حوالے سے بھی بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس شاہراہ پراسٹیٹ بینک، نیشنل بینک ،سوک سینٹر،الیکٹرونک مارکیٹ ،ہباز بلڈنگ،سرکٹ ہاﺅس،پبلک سروس کمیشن آفس سرکاری ملازمین کی رہائشگاہیں اور بھی بہت سے اہم سرکاری مراکز موجود ہیں اس پر موجود قدیم رہائشی عمارتیں جوکہ تقریباً ایک صدی سے قائم ہے یہ عمارتیںاس سڑک کی تاریخی اہمیت کو دن بہ دن بڑھا رہی ہیں اس سڑک پر ٹھنڈک کی وجہ کچھ لوگ ان درختوں کو بتاتے ہیںاکثر جگہوں پر یہ درخت آپس میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ دن کی تپتی دھوپ میں بھی پیدل چلنے والے لوگوں کو گرمی کا احساس نہیں ہونے دیتے اور یہ درداس سڑک کی خوبصورتی میںچار چاند لگا رہے ہیں یہ حیدرآباد شہر کی مشہور سڑک ہونے کے باوجود بہت سے مسائل اپنے پاس رکھتی ہے پہلے تو اس سڑک پر ٹریفک کی روانگی ہی سب سے بڑامسئلہ تھی اکثر ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے اس پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوجاتی تھی مگر آج سے چند سال قبل ایک پُل بنا کر ٹریفک کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے رات کے اوقات میں روشنی کا بہتر انتظام نہ ہونے کے باعث اس پرچھوٹے بڑے حادثات رونماءہوتے رہتے ہیں ۔سیکورٹی کے بہتر انتظامات نہ ہونے کے باعث اکثر بہت سی وارداتیں بھی ہوتی ہیںیہ سڑک حیدرآباد شہر میں بہت اہمیت کی حامل ہے اکثر لوگ کھانے پینے ،سیروتفریح اور صبح و شام کی واک کے لئے اس سڑک کی جانب رُخ کرتے ہیں ۔
شہر حیدرآباد کی مشہور ترین سڑک بہت اہمیت کی حامل ہے اس سڑک پر ہونے والے مسائل پرجلد از جلدقابوپانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سڑک اپنی تاریخی اہمیت برقرار رکھ سکے ۔

 It is too short. we need 600 words. can not be considered
نا م: محمد راحیل 
رو ل نمبر :  68 
ٹو پک : Feature 

ٹھنڈی سڑک 
حید رآباد شہر کی ٹھنڈی ہو اﺅ ں کا شہر کہا جا تا اور اس شہر کی با ت زکر لفتگو حیدر آباد شہر کی مشہو ر شا ئر ہ ٹھنڈی سڑک کا ذکر نہ آئے تو یہ گفتگو نا مکمل ہو گئی ۔ یہ سڑک شہر کے بلکل بیجو بیج موجو د اور بہت طویل ، قدیم اور خاصی اہمیت کی حا مل ہے اس سڑک کو ٹھنڈی سڑک اس لئے کہا جا تا ہے اس سڑک سے گزر تے ہو ئے دن ہو یا را ت ، دوپہرہو یا شا م ٹھنڈی سڑک ہو ائیں محسو س ہو تی ہیں اور یہا ں سے گزر نے والے کو یہ حوا ئیں بہت محسو ر کر تی ہےں یہ سڑک گڈو چو ک سے شرو ع ہو تی ہےں اور شہر حیدر آباد کی اس طویل سڑک کا خا تمہ حید ر چو ک پر ہو تا ہے حیدر آباد شہر کے اکثر دفا تر ہو ئلز ، بینکز ، کو ر ٹیز ، نیا ز اسٹیڈیم ، یو نیو ر سٹی آف اولڈ کیمپس ، حیدر آباد جم خا نہ ، شوپنگ سینٹر ، سینما ، اسٹیٹ لا ئف ، چریا گھر، سرکٹ ہا ﺅ س ، شہبا ز بلڈنگ ، ڈیفینس ہا ﺅ سنگ سو سائٹی پیڑول پمپز، پلک سر وس کمیشن اور بھی بہت سے اہم مرا کز موجو د ہیں یہ سڑک حید آباد شہر کی بہت مشہو ر سڑک ہو نے کے با وجو د اس سڑک پر رات کے اوقا ت میں بہتر انتظا م نہ ہو نے کے باعث اکثر را ت کے اوقات میں حا د ثا ت بھی رو نما ہوتے ہےں ۔ سیکو ر ٹی کے بہتےر انتظا ما ت نہ ہو نے کے با عث یہا ں واداتیں بھی ہو تیں ہیں ۔

Saturday, 23 January 2016

Referred back Hyderabad railway station by Maryam Malik

Feature is always reporting based and main purpose is entertainment. 
This is all either observation or secondary data. 
Even secondary data is not much interesting. There are many interesting incidents, events related to Hyd railway station
 Photo is also required
Referred back
ریلوے جنکشن حیدرآباد
 فیچر۔۔ تحقیق و تحریر: مریم ملک 
حیدرآباد جنکشن ریلوے اسٹیشن صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں کراچی پشاورمرکزی ریلوے لائن پر واقع ہے۔یہ پاکستان ریلویز کا ایک اہم ریلوے اسٹیشن اور حیدرآباد کھو کھرا پار براستہ میرپور خاص اور حیدرآباد بدین برانچ ریلوے لائنوں کا جنکشن ہے۔

یہاں سے ٹرینیں پاکستان کے مختلف شہروں کو جاتی ہیں۔جن میں کراچی، لاہور،فیصل آباد، راولپنڈی
،سیالکوٹ،سرگودھا،گوجرانوالہ، ملتان، پشاور، کوئٹہ، بہاولپور،سکھر،رحیم یار خان ،جھنگ،نوابشاہ،میرپور خاص،گجرات،جہلم،نوشہرہ،جیکب آباد،اٹک،خانیوال ،کوٹری ،بدین اورنارووال شامل ہیں، یہاں تمام ٹرینیں رکتی ہیں۔حیدرآباد ریلوے اسٹیشن سے نہ صرف شہریوں کو سفری سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ بلکہ تجارتی سامان کی ملک بھر میں با آسانی ترسیل بھی ممکن ہوتی ہے۔حیدرآباد کے تاجر مال گاڑیوں کے ذریعے اپنی خریدو فروخت کا سامان پاکستان کو مختلف شہروں سے منگواتے ہیں اور بھجواتے ہیں۔

پاکستان ریلوے نے حیدرآباد کی عوام کی سفری سہولیات کے لیے اچھے اقدامات کئے ہیں۔ یہاں موجود بکنگ آفس
 سے لوگ ایڈوانس بکنگ کروا کر اپنی سیٹ ریزرو کروا سکتے ہیں۔اس کو علاوہ انکوائری آفس لوگوں کو ٹرینوں کی ٹائمنگ سے آگاہ کرتارہتا ہے۔ٹرینوں کی آمدورفت سے با خبر رکھنے کے لئے الیکٹرانک ٹائم ٹیبل بھی نصب ہے۔ 
حیدرآباد ریلوے اسٹیشن 1849میں تعمیر ہوا۔حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کا پرانا نام       ©"Great Indian Peninsula Railway"(گریٹ انڈین جزیرہ نما ریلوے)تھا۔گریٹ انڈین جزیرہ نما ریلوے ایک کمپنی تھی۔جو سنٹرل ریلوے انڈیا اور پاکستان ریلوے سے پہلے بر صغیر میں کام کرتی تھی۔

ریلوے اسٹیشن پر لوگوں (مسافروں) کی سہولت کے لئے پلیٹ فارم پر لوہے کی چادر کے شیڈ ڈالے گئے ہیں۔ جو سخت گرمی میں لوگوں کو دھوپ سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان شیڈز میں پنکھے نصب ہیں۔ جو مسافروں کےلئے کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اس کے علاوہ خواتین اور مردوں کے لئے علیحٰدہ علیحٰدہ انتظار گاہیں بھی ہیں۔ جہاں مسافر سکون سے بیٹھ کر اپنی مطلوبہ ٹرین کا انتظار کر سکتے ہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے واش روم بھی موجود ہیں۔ اور ٹھنڈے پانی سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے چار پلیٹ فارم ہیں ۔ جہاں ٹرینیں رکتی ہیں اور مسافراپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں ریلوے اسٹیشن کو نظم ونسق کا ذمہ دار اسٹیشن ماسٹر ہے۔ ریلوے کے عملے میں بکنگ کلرک ، ٹکت چیکر ،انکوائری آفس کا عملہ اور سیکوریٹی کے لئے ریلوے پولیس کو اہلکار بھی اسٹیشن پر موجود رہتے ہیں۔ اور مسافروں کا سامان اٹھا کر ریزروسیٹ کت پہنچانے کے لئے قلی بھی ہر وقت تیار رہتے ہیں۔مسافروں کی اکثریت حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے عملے اور اسٹیشن پر موجود سہولیات سے مطمئین نظر آتی ہے۔ریلوے اسٹیشن پر موجود کھانے پینے کے اسٹال اخبارات و رسائل کے اسٹال بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز نظرآتے ہیں ۔ مسافران اسٹالوں سے اپنی ضروریات کی چیزیں خریدتے نظر آتے ہیں۔

Wednesday, 20 January 2016

Referred back- Males turning to beautification

Referred back. U corrected file name but did not corrected subject line. This should be same
فیچر ہمیشہ رپورٹنگ بیسڈ ہوتا ہے، اس مین بیوٹی پالر جانے والے مرد حضرات، وہان کے کاریگروں اور عمرانیات کے ماہرین کی رائے لازم ہے۔ یہ کب سے شروع ہوا، خاصو طور پر حیدرباد میں، س شہر میں کتنے ایسے پارلر ہیں۔ کوئی ڈیٰٹا؟ 
And also please read it thoroughly  to correct the spelling and language mistakes
فیچر
مر دوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑ ھا تا ہو ا رجحان 

محمد رافع خان

جہاں خواتین کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ اپنے حسن میں اضا فے کے لیے اپنے شو ہر کی تنخواہ کا بیشتر
 حصہ بیو ٹی پا رلر میں خر چ کر تی ہیں وہیں ہمارے مر د حضرات بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ تنخواہ کی کثیر تعداد بیو ٹی سلون پر خر چ کر دیتے ہیں ۔ آخر خوبصورت دکھنے کا ان کو بھی حق ہے ۔ جہاں پہلے مر د صر ف بال کٹوانے کو اپنا حسن
سمجھتے تھے ۔ وہاں اب خواتین کی دیکھا دیکھی انہیں یہ بہت کم لگنے لگا ہے ۔ اسی لیئے ہمارے نو جوان کیا بزر گ بھی اکثر سلون پر پا ئے جا تے ہیں ۔ 
      مر دوں نے سو چا کہ اگر خواتین پارلر کھول سکتی ہیں اور بیو ٹی پارلر جا کر خو د پر چار چاند لگوا سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ انہوں نے بھی بیو ٹی پارلر کی جگہ بیو ٹی سلون کو کما نے کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے جہاں صر ف بال کی کٹنگ ہی نہیں بلکے فیشل ، تھریڈنگ، ویکس،اور نہ جا نے کس کس قسم کے تجر بے اپنے آپ پر کر تے ہیں۔ جہاں ہر طر ف بیو ٹی پارلر نظر آ رہے ہو تے ہیں وہاں پر ہر جگہ بیو ٹی سلون دیکھا ئی دیتے ہیں ۔ جن کی تعداد شہر حیدرآبا د میں اتنی بڑھ گئی ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں خواتین مر د سے کم نہیں مگر یہ کہا جائے تو بہتر ہے کہ ہمارے مر د خواتین سے کسی طرح کم نہیں۔ 
      خواتین کے پارلر کے چکر ضرور لگتے ہیں مگر ہر طر ف دیکھائی دینے وا لے بیو ٹی سلون کی وجہ سے مر د بھی اسی تعداد میں جا تے ہو ئے نظر آ تے ہیں ۔ اگر شا دی بیاہ کی بات کی جائے تو شا دی سے کا فی عرصے پہلے ہی دلہا کے بیو ٹی سلون کے چکر شروع ہو جا تے ہیں اور شا دی کے دن ان کا نقشہ ہی بدل دیاجاتاہے ۔ جہاں پر بیو ٹی سلون پر بڑھا تا ہوا رش نظر آ تا ہے وہاں پر حجام کی دکانیں اس کے بر عکس دیکھائی دیتی ہیں اور ان میں تعداد ان لوگوں کی ہو تی ہیں جو مہنگائی کی وجہ سے بیو ٹی سلون کا رخ نہیں کر پا تے ۔ 
      عید ہو یا کوئی تہوار مرد حضرات خاص طور پر اپنے حسن میں اضافے کے لیے بیو ٹی سلون کا رخ کر تے ہیں۔ خا ص طور پر عید کے مو قع پر چاند رات پر بیو ٹی سلون میں خا صہ رش دیکھائی دیتا ہے مہینے میں ایک یا دو مر تبہ بیو ٹی سلون کا رخ ضرور کر تے ہیں ۔ چا ہے وہ بال کٹوا نے کے غرض سے ہو یا فیشل وغیر ہ کے غرض سے ہر مر د کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ ظاہری طور پر بہتر دکھے ۔ اسی وجہ سے مر دوں کا بیو ٹی سلون کی طر ف بڑھاتا ہوا رجحان دیکھائی دیتا ہے۔کسی عام حجام سے زیا دہ بیو ٹی سلون کو تر جیح دینے کی وجہ سے یہ بھی ہے کہ بیوٹی سلون کا ما حول کسی عام حجام سے زیا دہ بہتر ہو تا ہے ۔ پر سکون اور آرام دہ ماحول بیو ٹی سلون کی طر ف دلچشپی کو بڑ ھا تا ہے ۔
 حیدرآبا د کے مشہو ر بیو ٹی سلون لکز،بوڈی فوکس، کلیپروغیر ہ ہیں۔ جو کہ اپنی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کام سے بھی مشہور ہیں۔ کسی عام حجام کی دکان پر صفائی کا کوئی خا ص انتظام دیکھائی نہیں دیتا ۔ مگر بیو ٹی سلون کی کہانی اس کے بر عکس ہے۔ 

رول نمبر: 2K14/MC/140
نام: محمد رافع خان 
کلاس: BS-III 

Tuesday, 19 January 2016

Referred back Mehndi of Mehar

Referred back - Many mistakes of proof and spelling plz correct them. Users and consumers' point of view is also needed. Why Mehar Mehndi is so good and famous? Reason?  proper paragraphing is needed
 سجاد علی لاشاری ماس کمیونیکیشن
2K14
رول نمبر: 163
کلاس: III ایئر
﴾فیچر﴿
میہڑ کی مہندی
( نکہار, بہر, ? جنگ ازادی,  کوسو  see these words for example)

خواتین کا مہندی کہ بغیر سجنا سورنا ہمیشہ ادورا تصور کیا جاتا ہے اور اگر مہندی میہڑ کی ہو تو رنگ نکہارنے کے ساتھ ساتھ مہیندی سرخ بھی ہو جاتی ہیں مہندی کی مناسبت سے میہڑ شہر ایک اپنی ہی انفرادیت رکہتا ہے میہڑ کی مہندی سندھ بہر میں اور اس کے مضافاتی علائقوں میں استعمال کی جاتی ہیں اور اسے تحفے کہ طور پر اندرونے اور بیرونے ملک بھی بھیجا جاتا ہیں مہندی ایک خاص قسم کہ ایک بھیج سے اوگائی جاتی ہیں پھر کڑی محنت کہ بعد اس کہ پتوں کو کارخانوں تک لیا جاتا ہیں پھر اس کارخانوں میں مزدوروں کی مدد سے اس کو پیسا جاتا ہیں کچھ ایشیا ءاور کیمیکل ملا کر اسے زیادہ رنگ نکھارنے کے لیئے تیار کیا جاتا ہے اس کہ بعد تھلیوں میں پیک کیا جاتا ہے جس کہ بعد کارخانوں سے روانہ کر کے ڈیلروں کو بھیج دیا جاتا ہے اس کہ بعد اسے اندرونے اور بیرونے سندھ میں تقسیم کرتے ہیں ۔

میہڑ کے مشہور دکاندار محمد صوفن کوسو نے مزید بات چیت کے دوران بتایا میہڑ کی مہندی جنگ ازادی سے بھی پہلے کی مشہور ایشیاءہے اور اس مہندی کہ بھیج بھی ہندستان سے لائے گئے تھے میہڑ کی مہندی نے 1952 میں اپنی شوہرت کی بنیاد رکھی جس کہ بعد اس کی شوہرت کہ چرچے پورے بھارت میں کونج اٹھے۔
جنگ آزادی کہ بعد جب پاکستان الگ ہوا تو کچھ خاص کاریگر ہندستان میں رہ گئے تھے جس کہ بعد بچے کچے کاریگروں نے اس کے بنانے کے فارمولے کو مزید نکھارا اور ایک بار پہر سے میہڑ کی مہندی کو اپنی پہنچان ملی ۔

اب سے چند سال پہلے پورے میہڑ شہر میں 15 مہندی کے کارخانے ہوتے تھے لیکن اب صرف 4 کارخانے اور 40 دکانے ہیں اور کچھ لڑکے بھی ہیں جو کہ مہندی کے تھیلے اپنے ہاتوں میں لیکر ریلوے اسٹیشن اور سپر ہائے وے پر بیچنے کے لیئے کھڑے ہو جاتے ہیں مہندی کا ایک تھیلا 100روپے کا ہے لیکن اب کچھ مافیا نے مہندی میں ملاوٹ کی وجہ سے انتہائی کمی کی ہے جس کی وجہ سے فی تھیلا 50 روپیے سے 60 روپیے میں بیچا جا رہا ہے مزید میہڑ کے ایک قدیم موچی جو کہ بہت عرصے سے اپنا گذر سفر کر رہا ہے اس نے مزید مہندی سے جڑے ایک مشہور واقعہ کہ بارے میں مجھے بتایا کہ جہاں میہڑ کی مہندی کا ذکر آتا ہے وہی ایک حادثہ بھی دماغ میں اپنی جگہ لے لیتا ہے آج سے تین سال پہلے مہندی کہ کارخانے میں ایک نوجوان نے شرط پر مہندی کو پانی میں ملا کر پی لیا جا سے اس کی دماغ کی نسے کمزور ہو کر فٹ گئی اور موت واقعہ ہو گئی ۔اس لڑکے کے خاندان والوں نے تین دن تک ہڑتال کی جس کے باعث پورا شہر بند رہا اس کے بعد مہندی کے کارخانے کے مالک اور لڑکے کے خاندان کے درمیان مذاکرات تے پائے گئے جس کے باعث حالات زندگی معمول پر آگئی۔

Revised Govt college Hyderabad

again revised
وارث بن اعظم
2k14/MC/102

 فیچر: گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی)

وارث بن اعظم
2k14/MC/102
 فیچر: گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی)

 تعلیم جسکی وجہ سے انسان اچھے اور بُرے میں فرق سمجھتا ہے،تعلیمی ادارے ہر معاشرے کا اہم جزو ہوتے ہیں،معاشرے کی ترقی کار از تعلیمی اطوار سے وابستہ ہے، اچھے تعلیمی ادارے طالب علم کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
اگر صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے تعلیمی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے نظر گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی) پر پڑتی ہے۔ گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے پس منظر پر دیکھا جائے تو اس کالج کی بنیاد برٹش نمائندہ مس عینی بیسنٹ نے یکم اکتوبر 1917 میں رکھی اور کالج کا نام سندھ نیشنل آرٹس کالج رکھا گیا،1947 میں پاک بھارت تقسیم کے وقت کالج بند ہو گیا تھا،
 21جون1948میں اسے پھر سے کھولا گیااور اسکا نام گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی) رکھا گیا، پھلیلی اس لئے کہ یہ قدیم نہرپھلیلی کے قریب واقع ہے۔ عام طور پر اس کالج کو سندھ کا سب سے قدیم کالج کہا جاتا ہے، حال ہی میں یہ کالج100سال مکمل کرنے والا ہے۔

 ڈ پارٹمنٹس ، فیکلٹی ممبرزاور رقبہ کے لحاظ سے بھی یہ حیدرآباد کا سب سے بڑا کالج ہے، گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں فرسٹ ایئر، انٹر کے علاوہ بی اے،بی ایس سی،ایم اے، ایم ایس سی کی کلاسس بھی ہوتی ہیں،کالج میں 21 ڈ پارٹمنٹس ہیں اور ہر ڈ پارٹ کے لئے الگ سے جگہ مختص ہے، کالج کے ماحول پر نظر ڈالی جائے تو گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ایڈمنسٹریشن بلاک ہے پھر فزکس ڈپارٹمنٹ ہے اُس کے ساتھ ہی لائبریری ہے ،لائبریری کے اوپر دوسری منزل پر ایک کشادہ اسمبلی ھال(آڈیٹووریم) ہے کالج کی تقریباََ تمام تقریبات اسی ھال میں ہوتی ہیں جس میں نمایاں انٹر کالجیٹ تقریری مقابلہ کی تقریب ہے ۔اسکے بعد زولوجی ، فزیکل ایجوکیشن، کیمسٹری، میتھا میتکھس ، کلرک آفس،پرنسپل آفس اور دیگر ڈپارٹمنٹس ہیں۔

کالج میں ایک بڑا کرکٹ گراﺅنڈ ، بیڈ منٹن کورٹ، ٹیبل ٹینس روم، والی بال ھال اور وسیع سر سبز گارڈن ہے جس میں تقریباََ 300کے لگ بھگ درخت ہیں۔

کالج کے اندر پہلے اندرونِ سندھ کے طلبہ کے لئے ہاسٹل کی سہولت بھی تھی مگر ایک دور میں حیدرآباد شہر کے حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے جسے کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو طلب کیا گیااور شہر میں اُس وقت کوئی ایسی جگہ میسر نہیں تھی جس میں اُنھیں ٹھرایا جاتا تو اُن کے قیام کے لئے گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے ھاسٹل کی عمارت کو چُنا گیا اور تب سے لے کر اب تک ھاسٹل کی جگہ رینجرز کے زیرِاثر ہے۔

 گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے طلبہ میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے آگے چل کر کافی شہرت حاصل کی اور اپنے مادرِ علمی کا نام روشن کیا جن میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، مظہر الحق صدیقی، سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین، اداکار محمد علی وغیرہ شامل ہیں ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے تو اپنی وزارت کے دور میںاپنے مادرِعلمی کا دورہ بھی کیا تھا۔
پرنسپل، پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز،اسسٹنٹ پروفیسرز، لیکچرار کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت انکی تعداد تقریباََ 117 کے قریب ہے اسکے علاوہ70کے قریب دیگر اسٹاف جس میںکلرکس،مالی، قاصد، نائب قاصد لائبریرین، کارپینٹر، سیکورٹی گارڈ وغیرہ ہیں وہ شامل ہیں۔



 

Revised.
 U did not follow the instructions. Feature is always reporting based. Ur feature is based on secondary data and observation. It main purpose is to entertain, But nothing is there. Follow my first mail.
Also see composing mistakes.
Now editorial board will decide whether to reject it or publish it.

وارث بن اعظم
2k14/MC/102
 فےچر: گورنمنٹ کالج حےدرآباد (پھلیلی)

 تعلیم جسکی وجہ سے انسان اچھے اور بُرے میں فرق سمجھتا ہے،تعلیمی ادارے ہر معاشرے کا اہم جزو ہوتے ہیں،معاشرے کی ترقی کار از تعلیمی اطوار سے وابستہ ہے،
 اچھے تعلیمی ادارے طالب علم کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
اگر صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے تعلیمی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے نظر گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی) پر پڑتی ہے۔گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے
پس منظر پر دیکھا جائے تو اس کالج کی بنیاد برٹش نمائندہ مس عینی بیسنٹ نے یکم اکتوبر 1917 میں رکھی اور کالج کا نام سندھ نیشنل آرٹس کالج رکھا گیا،1947 میں پاک
 بھارت تقسیم کے وقت کالج بند ہو گیا تھا،
 21جون1948میں اسے پھر سے کھولا گیااور اسکا نام گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی) رکھا گیا، پھلیلی اس لئے کہ یہ قدیم نہرپھلیلی کے قریب واقع ہے۔ عام طور پر اس کالج
 کو سندھ کا سب سے قدیم کالج کہا جاتا ہے، حال ہی میں یہ کالج100سال مکمل کرنے والا ہے۔ ڈ پارٹمنٹس ، فیکلٹی ممبرزاور رقبہ کے لحاظ سے بھی یہ حیدرآباد کا سب سے بڑا کالج
 ہے، گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں فرسٹ ایئر، انٹر کے علاوہ بی اے،بی ایس سی،ایم اے، ایم ایس سی کی کلاسس بھی ہوتی ہیں،کالج میں 21 ڈ پارٹمنٹس ہیں اور ہر ڈ پارٹ کے لئے
 الگ سے جگہ مختص ہے، کالج کے ماحول پر نظر ڈالی جائے تو گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ایڈمنسٹریشن بلاک ہے پھر فزکس ڈپارٹمنٹ ہے اُس کے ساتھ ہی لائبریری
 ہے ،لائبریری کے اوپر دوسری منزل پر ایک کشادہ اسمبلی ھال(آڈیٹووریم) ہے کالج کی تقریباََ تمام تقریبات اسی ھال میں ہوتی ہیں جس میں نمایاں انٹر کالجیٹ تقریری مقابلہ کی
 تقریب ہے ۔اسکے بعد زولوجی ، فزیکل ایجوکیشن، کیمسٹری، میتھا میتکھس ، کلرک آفس،پرنسپل آفس اور دیگر ڈپارٹمنٹس ہیں، اسکے علاوہ کالج میں ایک بڑا کرکٹ گراﺅنڈ ، بیڈ منٹن 
کورٹ، ٹیبل ٹینس روم، والی بال ھال اور وسیع سر سبز گارڈن ہے جس میں تقریباََ 300کے لگ بھگ درخت ہیں۔
کالج کے اندر پہلے اندرونِ سندھ کے طلبہ کے لئے ہاسٹل کی سہولت بھی تھی مگر ایک دور میں حیدرآباد شہر کے حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے جسے کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو طلب کیا 
گیااور شہر میں اُس وقت کوئی ایسی جگہ میسر نہیں تھی جس میں اُنھیں ٹھرایا جاتا تو اُن کے قیام کے لئے گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے ھاسٹل کی عمارت کو چُنا گیا اور تب سے لے کر اب
 تک ھاسٹل کی جگہ رینجرز کے زیرِاثر ہے۔
 گورنمنٹ کالج حیدرآباد کے طلبہ میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے آگے چل کر کافی شہرت حاصل کی اور اپنے مادرِ علمی کا نام روشن کیا جن میں سابق وزیر اعظم
راجہ پرویز اشرف، مظہر الحق صدیقی، سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین، اداکار محمد علی وغیرہ شامل ہیں ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے تو اپنی وزارت کے دور میں
اپنے مادرِعلمی کا دورہ بھی کیا تھا۔
پرنسپل، پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز،اسسٹنٹ پروفیسرز، لیکچرار کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت انکی تعداد تقریباََ 117 کے قریب ہے اسکے علاوہ70کے قریب
دیگر اسٹاف جس میںکلرکس،مالی، قاصد، نائب قاصد لائبریرین، کارپینٹر، سیکورٹی گارڈ وغیرہ ہیں وہ شامل ہیں۔


Many mistakes in composing. Change intro . Feature is always reporting based and entertaining
وارث بن اعظم

2k14/MC/102
 فیچر: گورنمنٹ کالج حیدرآباد  (پھلیلی)

تعلیمی ادارے ہر معاشرے کا اہم جزو ہوتے ہیں اور اسکی ہی بدولت انسان نے زمین سے چاند تک کا سفر اور پتھر سے ایٹم بم تک رسائی حاصل کی ،تعلیمی ادارے طالب علم 
کی شخصےت پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ معاشرے کی ترقی کا راز تعلیم ہی ہے مشہور کہاوت ہے کہ © ©"اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اُس کی تعلیم کو تباہ کردو"ترقی ےافتہ قوموں 
کی ترقی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ لگتا ہے کہ اُن کی ترقی کا بنےادی راز تعلیم ہی ہے کےونکہ تعلیم اُن کی پہلی ترجیح میں شامل ہے۔
اسی طرح اگر صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے تعلیمی اداروں پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے نظر گورنمنٹ کالج حےدرآباد (پھلیلی) پر پڑتی ہے۔گورنمنٹ کالج حےدرآباد کے
پس منظر پر دیکھا جائے تو اس کالج کی بنےاد برٹش نمائندہ مس عینی بیسنٹ نے یکم اکتوبر 1917 میں رکھی اور کالج کا نام سندھ نیشنل آرٹس کالج رکھا گےا،1947 میں پاک
 بھارت تقسیم کے وقت ےہ کالج بند ہو گیا تھا،
21جون1948میں اسے پھر سے کھولا گےااور اسکا نام گورنمنٹ کالج حےدرآباد (پھلیلی) رکھا گےا ، پھلیلی اس لئے کہ یہ قدیم نہرپھلیلی کے قرےب واقع ہے۔ عام طور پر اس کالج
 کو سندھ کا سب سے قدیم کالج کہا جاتا ہے، حال ہی میں یہ کالج100سال مکمل کرنے والا ہے۔ ڈپارٹمنٹس ، فےکلٹی ممبرزاور رقبہ کے لحاظ سے بھی یہ حےدرآباد کا سب سے بڑا کالج
 ہے، گورنمنٹ کالج حےدرآباد میں فرسٹ اےئر، انٹر کے علاوہ بی اے،بی ایس سی،ایم اے، ایم ایس سی کی کلاسس بھی ہوتی ہیں،کالج میں 21 ڈپارٹمنٹس ہیں اور ہر ڈپارٹ کے لئے
 الگ سے جگہ مختص ہے، کالج کے ماحول پر نظر ڈالی جائے تو گےٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ایڈمنسٹریشن بلاک ہے پھر فزکس ڈپارٹمنٹ ہے اُس کے ساتھ ہی لائبریری
 ہے ،لائبرےری کے اوپر دوسری منزل پر ایک کشادہ اسمبلی ھال(آڈےٹوریم) ہے کالج کی تقریباََ تمام تقرےبات اسی ھال میں ہوتی ہیں جس میں نمایاں انٹر کالجےٹ تقریری مقابلہ کی
 تقریب ہے ۔اسکے بعد زولوجی ، فزیکل ایجوکیشن، کیمسٹری، میتھا میتکھس ، کلرک آفس،پرنسپل آفس اور دےگر ڈپارٹمنٹس ہیں، اسکے علاوہ کالج میں ایک بڑا کرکٹ گراﺅنڈ ، بےڈ منٹن 
کورٹ، ٹےبل ٹےنس روم، والی بال ھال اور وسےع سر سبز گارڈن ہے جس میں تقرےباََ 300کے لگ بھگ درخت ہیں۔
کالج کے اندر پہلے اندرونِ سندھ کے طلبہ کے لئے ہاسٹل کی سہولت بھی تھی مگر ایک دور میں حےدرآباد شہر کے حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے جسے کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو طلب کیا 
گےا اور شہر میں اُس وقت کوئی ایسی جگہ میسر نہیں تھی جس میں اُنھیں ٹھرایا جاتا تو اُن کے قیام کے لئے گورنمنٹ کالج حےدرآباد کے ھاسٹل کی عمارت کو چُنا گیا اور تب سے لے کر اب
 تک ھاسٹل کی جگہ رینجرز کے زیرِاثر ہے۔
 گورنمنٹ کالج حےدرآباد کے طلبہ میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے آگے چل کر کافی شہرت حاصل کی اور اپنے مادرِ علمی کا نام روشن کیا جن میں سابق وزیر اعظم
راجہ پرویز اشرف، مظہر الحق صدےقی، سابق گورنر اسٹےٹ بینک عشرت حسین، اداکار محمد علی وغےرہ شامل ہیں ، سابق وزےر اعظم راجہ پرویز اشرف نے تو اپنی وزارت کے دور میں
اپنے مادرِعلمی کا دورہ بھی کیا تھا۔
پرنسپل، پروفیسرز، اےسوسی ایٹ پروفیسرز،اسسٹنٹ پروفیسرز، لیکچرار کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت انکی تعداد تقریباََ 117 کے قریب ہے اسکے علاوہ70کے قریب
دےگر اسٹاف جس میںکلرکس،مالی، قاصد، نائب قاصد لائبرےرےن، کارپینٹر، سیکورٹی گارڈ وغیرہ ہیں وہ شامل ہیں۔