Showing posts with label WMC. Show all posts
Showing posts with label WMC. Show all posts

Thursday, 4 February 2016

ڈبلیو ایم سی report by Farhana

            ڈبلیو ایم سی   رپورٹ
WMC Training workshop report By Farhana 
ڈبلیو ایم سی کی طرف سے لڑکیوں کے لئے پانچ دن کا ورک شاپ رکھا گیا جس میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی طلبات نے شرکت کی۔
پہلے دن سر قاضی آصف نے لیکچر دیا کہ ایلیکڑونک میڈیا کیا ہے اور اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور چیف گیسٹ کے طور پر مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو صاحب نے شرکت کی انھوں نے ہمیں محبت اور نفرت کے بیچ کا فرق بتایا اور کہا کہ میں صوفیزم سے اختلاف 
نہیں کرتا ہوں۔

اس ورک شاپ میں ہمیںسکھاےا گیا کہ جب الیکڑونک پر جب کوئی خبر بنتی ہے تو اسے کیسے پڑھا جاتا ہے۔قاضی آصف نے بتاےا کہ خبر میں ایک سادہ اور چھوٹا جملہ ہونا چاہئے جو کہ لوگوں کو با آسانی سمجھ آئے۔بڑے جملے کو نظرانداز کرنا چاہیے۔

 ٹیکنیکل ٹرمز میں مخصوص الفاظ کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اس کے علاوہ سمبلز اور ایبریویشن ایلیکٹرونک میڈےا میں استعمال ہوتی ہے۔کسی بھی خبر میں اگر شمار دینا ہو تو اس میں نمبر استعمال نہیں کرتے بلکہ الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔ہر لفظ کو آسانی سے پیش کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو بات آسانی سے سمجھ آجائے۔

  دوسرے دن ایک پرفیکٹ پیکج بنانا سکھاےا کہ ایک پرفیکٹ پیکج کیا ہوتا ہے۔یہ پیکج کس طرح بنتاہے پیکج کی دورانیہ نوے سیکنڈز ہوتی ہے۔ہمیں بتاےا گیا کہ پیکج میں سب سے پہلے ocاوسی بنتی ہے جو تقریبا ڈیڑھ لائن کی ہوتی ہے اور پھر وی او بنتا ہے جس میں ساڑھے چار جملے ہوتے ہیں ۔ اور سوٹ کے بارے میں بھی بتاےا گیا ۔ 

  تیسرے دن سر فاروق نے ہمیں کیمرہ ہنڈلنگ سکھائی اور کیمرے کے سامنے کس طرح آئی کانٹکٹ کیا جاتا ہے۔اور مائک کو کیسے پکڑا جاتا ہے۔اس کہ بعد ہمیں او سی کی پریکٹس کرائی گئیجس سے ہماری کا فی حوصلہ افزائی ہوئی۔ 

چوتھے دن ہمیں فیلڈ پر لے جاےا گیا جہاں ہمیں کیمرے سے کس طرح شوٹ کرنا چاہیے یہ سب بتاےا اور ساتھ ساتھ اس کی پریکٹس بھی کروائی گئی۔فیلڈ پر دو جگہ لے کر گئے جہاں دو گروپس بنائے گئے ایک گروپ نے اوڈےرولال کی شوٹ کی اور دوسرے گروپ نے بھٹ شاہ۔اس لئے ہمیں کچھ الگ چیز کرنے کو ملی جو ہم نے پہلے نہیں کی تھی۔ 

   پانچویں دن الیکٹرونک میڈےا کے بارے میں پزید معلومات فراہم کی گئیاس کے بعد سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے۔الیکٹرونک میڈےا کی یہ ورک شاپ ہمارے لئے بیت مفید تھی اس ورک شاپ کی وجہ سے ہمیں وہ سب کچھ سیکھنے کو ملا جو پہلے کبھی نہیں ملا ۔
اس کی بدولت ہمیں
 میڈیا کے بارے میں بہت ساری معلومات ملی اور میڈےا میں کس طرح کام کیا جاتا اس بارے میں معلوم ہوا۔یہ ایک بہت اچھی ورک شاپ تھی میڈیا کے حالے سے۔اس میں ہمیں میڈےا سے متعلق مختلف کام سکھانے کے ساتھ ساتھ بہت ساری سہولتیں بھی فراہم کی گئی۔ایک اچھا ماحول مہیا کیا گیا اور اس طرح کام کر کے ہمیں بیت مزہ آےا اور اس طرح کی ورک شاپ طلباءکے لئے ہونی چایئے کیونکہ ان چیزوں سے طلباءکی بیت زیادہ حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔
  

Monday, 1 February 2016

WMC workshop report By Misbah


Misbah-ur-Ruda
2k14/MC/52
wmc report
Medium: Urdu
WMC REPORT
ومن میڈیا سینٹر کی طرف سے انڈس ہوٹل حیدرآباد میں لڑکیوں کے لیے ۵ دن کی الیکٹرونک میڈیا کورس ٹرینگ رکھی گئی NED کی مدد سے جو قاضی آصف ٬ زویہ خان٬ نازیہ قریشی ٬ محمد فاروق نے مل کر رکھی تھی جس کا موزوں تھا Humanistics beliefs and practices of sufism to counter ‘ Extremism ‘ جس میں مختلف  ٹرینرز کو بلایا گیا پہلے دن پریس کانفرنس کا سیشن رکھا گیا جس میں پی ۔پی۔پی کے ایڈوائزر اور فیڈرل منسٹر حیدرآباد مولا بخش چانڈیو نے پریس کانفرنس کی اور لڑکیوں کو کچھ خاص باتیں بتائیں کہ حوصلہ رکھیں اور سچائی پر اپنا یقین رکھیں گی تو کوئی طاقت آپکو آگے جانے سے روک نہیں سکتی یہی پاکستان کی ترقی کا راز ہے تنقید برداشت کرنی ہونگی آج نفرتوں کی فضاء تھم گئی ہے آپ کی کوششوں سے ٬ آپ ہمت کریں اور اسلام کا راستہ اختیار کریں اس کے علاوہ سہیل سانگی ٬ خورشید فوزیہ شاہین نے شرکت کی اور اپنے تجربات کے بارے میں لڑکیوں کو بتایا پہلے دن کے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے الیکٹرونک میڈیا کی اسکرپٹ رائٹنگ کے بارے میں سمجھایا دوسرے دن بھی سیشن رکھے گئے جس میں پہلے سیشن میں زائد کلہوڑو صاحب آئے اور انھوں نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ کسی بھی خبر کے لئے کریڈیبلیٹی ہونا ضروری ہے اور خبر بنانے کا طریقہ آنا ضروری ہے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے بیسکس اوف رائٹنگ بتایا ایز ۔ لائف کا طریقہ بتایا اور کیمرے کے سامنے سب سے ایز۔لائف لی تیسرے سیشن میں زیب سندھی صاحب آئے اور پھر چوتھے سیشن میں سر قاضی آصف نے پیکج دکھایا اور اس کا طریقہ سکھایا تیسرے دن سر محمد فاروق نے ٹرینگ کا آغاز کیا اور سب سے پہلے سب کو اپنے تعارف کے ساتھ ایک خوبی اور ایک خامی بتانے کو کہا اور خود نے بھی بتائی پھر مسعود لوہار نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر سر محمد فاروق نے شوٹ کا طریقہ بتایا کہ کسی بھی شوٹ کے لئے پہلے اس کی تیاری کرنی چائیے پھر لڑکیوں کو ۲ گروپ میں تقسیم کر کے کیمرے کے تمام حصوں کا بتایا ٬ کیمرہ چلانا سکھایا اور لڑکیوں سے پریکٹس بھی کروائی پھر جامی چانڈیو صاحب آئے اور مزہبی انتہا پسندی کے بارے میں بتایا کہ سچ کو دیکھنا چاہئے کچھ لوگ سوچتے ہیں میری بات آخری ہے میں جو سوچ رہا ہوں وہ صحیح ہے باقی لوگوں کو ماننا پڑے گا چاہے کچھ بھی ہو نہیں مانیں گے تو آپ کو چھوڑینگے نہیں کیونکہ ان کا وجود نا گوار گزرتا ہے انتہا پسندی کی بنیاد وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عقل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے عقل انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے عقل کبھی خراب نہیں ہوتی انتہا پسندی سے مراد یہی ہے کہ عقل کھودیں اور خود کو اعلی سمجھیں آخری سیشن میں سر محمد فاروق نے پی۔ٹی۔سی سیکھائی اور پھر تمام لڑکیوں سے کیمرے کے سامنے پی۔ٹی۔سی لی چوتھے دن بھٹ شاہ اور اوڈیرو لال لے کر گئے لڑکیوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں گروپوں کو پیکج بنانے کا کہا گیا دونوں گروپوں نے وہاں موجود لوگوں سے معلومات حاصل کی اور ہر منظر کو کیمرے میں قید کیا اوڈیرولال میں مندر اور مسجد دونوں برابر میں تھے ایک ہی وقت میں آزانیں بھی ہوتی اور گھنٹیاں بھی بجتیں یہ ا س بات کا ثبوت ہے کہ ہندو ہو یا مسلم سب مل کر رہتے ہیں کسی میں کسی قسم کا کوئی اختلافات نہیں آخر میں تمام لڑکیوں نے وہاں کی پی۔ٹی۔سی دی پانچویں دن دونوں گروپوں سے رپورٹ بنانے کے لئے او۔سی اور وی۔او لیا گیا پھر پیر حسام الدین راشیدی نے آکر سوشل میڈیا ٹولز کے بارے میں بتایا اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر آخر میں سہیل سانگی نے تمام کڑکیوں میں سارٹیفیکیٹ تقسیم کئے اس ٹریننگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا اور اس میں بہت مزہ آیا


WMC workshop Report by Rebecca


Rebecca Ursani
BS-III Roll no: 2K14/MC/81
WMC Report.
A five days electronic media workshop was arranged by Women Media Center (WMC) from 18th of January to 22nd January at Indus Hotel, Hyderabad. The object of this workshop was to bring forward the women journalists and the topic to be discussed was Humanistic Beliefs and Practices of Sufism to Counter Extremism. The workshop was attended by the female students of Mass Communication department, University of Sindh which were around 25 in number. The first day went occupied with Mola Bux Chandio’s press conference where he spoke regarding his own political party. The journalists were given chance to put forward their interrogation, while the girls also participated in asking questions to Mola Bux Chandio. After his departure, we were learnt about script writing by Qazi Asif, reporter on News One. The basics of script writing, how to record in a correct manner and the basic terms of media language were taught to the students. Day second was spent in learning about news reporters, how to make news, what is the reality behind live reporting, On Camera (OC), Voice over (VO), live reporting and as live reporting. The third day was attended by a senior reporter Farooq Mohammad who taught us how to record the shots, what are the objectives that a reporter requires to make his report, how to operate camera in different angles, camera handling and we also practiced Piece to Camera (PTC) that developed a confidence among all the girls to speak before the camera lens. The fourth day was quite adventurous. The trainees were taken for a trip to Udero Laal and Bhitshah shrine to practice PTC in public. For that, the girls were divided into two groups and each group was to practice their PTCs at two different places. Group A was assigned Udero Laal whereas group B was assigned Bhitshah shrine. Udero Laal was a very new place to most of the girls as and all the girls found it unique because it was the place where different groups of people, Muslims and Hindus, practiced their religions under same roof. The girls were first given chance to observe the place and then prepare their PTC. Likewise, Bhitshah was reported by group B and they followed the same criteria. Day five was the day of distribution of certificates and practicing OC, VO and Sound on Tape (SOT). The certificates were awarded to each girl by Masood Lohar and senior most journalist, Sohail Sangi.