Showing posts with label فرحانہ ناغڑ. Show all posts
Showing posts with label فرحانہ ناغڑ. Show all posts

Monday, 15 February 2016

Institute of bio-technology Sindh University




بائیوٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ ۔ ایک تعارف


تحریر : فرحانہ ناغڑ 


رول نمبر:24

بائیوٹیکنالوجی آج کل ایک بہت ہی ایڈوانس فیلڈ بن گئی ہے۔بایؤٹیکنالوجی بائیولوجی سے ہی منسلک فیلڈ ہے جس کو پڑھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ طلباء ہمیں نظر آرہے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی میں ۲۰۰۲ میں بائیو ٹیکنالوجی کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں برانچ آف کیمسٹری کے نام سے متعارف کرایا گیاتھا۔اس کے بعد یہ کمسٹری ڈیپارٹمٹ میں ہی کام کرتا رہاتھا۔اور پھر ۲۰۰۴ میں اس وقت کے وائس چانسلر پیر مزہر الحق صدیقی نے اس میں جینیٹکس ڈیپارٹمنت شامل کردیا۔اورجینیٹکس ڈیپارٹمنٹ کی شمولیت کے بعد دونوں ڈیمارٹمنٹ ،ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور ڈیپارٹمنٹ آف جینیٹکس کی کلاسس چلتی رہی۔



جب طلباء کا رجحان اس فیلڈ میں بڑھا اور طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تو سندھ یونیورسٹی میں ہی اس ڈیپارٹمنٹ کو ایک الگ عمارت میں بنا دیا گیا جس میں بائیوٹیکنالوجی اور جینیٹکس کے طلباء کی کلاسس ہونے لگی اور اب تک ہو رہی ہیں۔جب بائیوٹیکنالوجی کا ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا تو یہاں پہ صرف ایم ایس سی پروگرام تھا ۔لیکن اس کے بعد ۲۰۱۳ میں بائیوٹیکنالوجی کے ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس کی کلاسس کا بھی آغاز ہوگیا اور تقریبا ۲ سال سے بائیوٹینالوجی میں بی ایس پروگرام بھی چل رہا ہے جس کے لئے زیادہ سے زیادہ طلباء داخلہ لیتے ہیں۔



ڈپارٹمنٹ آف بایؤٹیکنالوجی کے چار اساتذہ اعلیٰ مزید تعلیم کے لئے ملک سے باہر چائنہ گئے ہوئے ہیں جو وہاں پی ایچ ڈی کرر ہے ہیں ان چار پروفیسرز میں سے ایک پروفیسر،پروفیسر ڈاکٹر ستار قریشی اپنا پی ایچ ڈی مکمل کر کہ واپس آئیں ہیں باقی اساتزہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے مزید وقت لگے گا اس کے علاوہ دو فیکلٹی ممبر ز ابھی چائنہ مین ہیں جن کی واپسی کے لئے سال یا ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہے۔ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور جینٹکس تیزی سے اپنی فیلڈ مین مین کام کر رہے ہیں ۔اور ایک کامیاب فیلڈہونے کے باوجود اس ڈپارٹمنٹ کو ابھی بہت ساری سہولتیں ہیں جو مہیا نہیں کی جا رہی ہیں اور اسی لیے ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور جینیٹکس کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔



سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ جو ہے وہ فنڈز کی کمی ہے۔ڈیپارٹمنٹ کو صحیح طریقے سے فنڈز نہیں دئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے طالب علمون کو اپنی تعلیم کے حصول کے لئے بہت سی پریشانیں کا سامنہ کرنا پڑھتا ہے ۔ڈیپارٹمنٹ میں جو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ نہیں ہیں جسے لیب میں کام کرنے کے لئے جن اوزاروں کی ضرورت پڑھتی ہے ان میں سے بہت سارے ٹوٹ چکے ہیں اور کچھ بہت زیادہ پرانے ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ لیب سے بہت سارے کیمیکلز جن کی ایکسپیریمنٹ میں ضرورت پڑھتی ہے وہ بھی ختم ہو چکے ہیں اور اب تک اس کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے ہیں۔پہلے صرف ایم ایس سی پروکرام تھا پر اب بی ایس بھی ہوگیا ہے تو طلباء کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے مزید مشکلات سامنے آرہی ہیں۔



بائیوٹیکنالوجی کی فیلڈ میں بہت سی نئی ایجاد ہو رہی ہیں اور یہ ایک تیزی سے آگے بڑھنے والی فیلڈ بنی ہوئی ہے۔سب سے زیادہ ریسرچ ورک اسی ڈیپارٹمنٹ میں ہوتا ہے ۔جرائم کے لیے جو فنگر پرنٹ کا طریقہ استعمال ہوتا ہے وہ بھی بائیوٹیکنالوجی کے اصولوں کی وجہ سے ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی فصلوں کی نئی اقسام آرہی ہے وہ سب بائیوٹیکنالوجی کی ریسرچ کی بدولت ہے۔ماحول میں جو گلوبل کے حوالے سے جو بدلاؤ آرہا ہے اس میں بائیوٹیکنالوجی بہت اہم کام سر انجام دے رہی ہے۔مسئلا جو کھیتوں سے خارج ہونے والا فالتو یا خراب کچرا ہوتا ہے۔بائیوٹیکنالوجی اس بیکار مواد کو کارآمد چیزوں میں تبدیل کرتی ہے۔بائیوٹیکنالوجی کی فیلڈ کو اگر پروان چڑھایا جائے تو اور ڈیپارٹمنٹ کو سامان مہیا کیا جائے اورسبھی کیمیکلز مہیا کئے جائیں تو ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور بہتر اور اچھے مقام پر آسکتا ہے۔ 



جب یہ ادارہ وجود میںآیا تو ہر چیز مہیا کی جا تی تھی فنڈز بھی باقائدہ طور پر دئے جا تے تھے پر اب ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔اگر ڈیپارٹمنٹ کو باقائدہ فنڈز دئے جائیں گے تو بنیادی ضرورتیں پوری ہوجائیں گی اور طلباء بھی بہترطریقے سے اپنا کام انجام دے سکے گے۔



ڈیپارٹمنٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور جینیٹکس کے طلباء کو ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی بہت سی کلاسس ڈیپارٹمنٹ میں نہیں ہوتی اور ان کو کلاسس لینے کے لیے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے دور دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جانا پڑھتا ہے جو ان کے لئے مشکل ہوتا ہے کیونکہ چند ڈیپارٹمنٹ بہت فاصلے پر بنے ہیں تو یونیورسٹی کے سربراہن کو ان کی اس مشکل پر غور کر کے ان کی کلاسس کا ڈپارٹمنٹ میں یہ انتیظام کرنا چاہیے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اور بغیر کسی پریشانی کے کلاسس لے سکیں۔

Thursday, 4 February 2016

ڈبلیو ایم سی report by Farhana

            ڈبلیو ایم سی   رپورٹ
WMC Training workshop report By Farhana 
ڈبلیو ایم سی کی طرف سے لڑکیوں کے لئے پانچ دن کا ورک شاپ رکھا گیا جس میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی طلبات نے شرکت کی۔
پہلے دن سر قاضی آصف نے لیکچر دیا کہ ایلیکڑونک میڈیا کیا ہے اور اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور چیف گیسٹ کے طور پر مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو صاحب نے شرکت کی انھوں نے ہمیں محبت اور نفرت کے بیچ کا فرق بتایا اور کہا کہ میں صوفیزم سے اختلاف 
نہیں کرتا ہوں۔

اس ورک شاپ میں ہمیںسکھاےا گیا کہ جب الیکڑونک پر جب کوئی خبر بنتی ہے تو اسے کیسے پڑھا جاتا ہے۔قاضی آصف نے بتاےا کہ خبر میں ایک سادہ اور چھوٹا جملہ ہونا چاہئے جو کہ لوگوں کو با آسانی سمجھ آئے۔بڑے جملے کو نظرانداز کرنا چاہیے۔

 ٹیکنیکل ٹرمز میں مخصوص الفاظ کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اس کے علاوہ سمبلز اور ایبریویشن ایلیکٹرونک میڈےا میں استعمال ہوتی ہے۔کسی بھی خبر میں اگر شمار دینا ہو تو اس میں نمبر استعمال نہیں کرتے بلکہ الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔ہر لفظ کو آسانی سے پیش کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو بات آسانی سے سمجھ آجائے۔

  دوسرے دن ایک پرفیکٹ پیکج بنانا سکھاےا کہ ایک پرفیکٹ پیکج کیا ہوتا ہے۔یہ پیکج کس طرح بنتاہے پیکج کی دورانیہ نوے سیکنڈز ہوتی ہے۔ہمیں بتاےا گیا کہ پیکج میں سب سے پہلے ocاوسی بنتی ہے جو تقریبا ڈیڑھ لائن کی ہوتی ہے اور پھر وی او بنتا ہے جس میں ساڑھے چار جملے ہوتے ہیں ۔ اور سوٹ کے بارے میں بھی بتاےا گیا ۔ 

  تیسرے دن سر فاروق نے ہمیں کیمرہ ہنڈلنگ سکھائی اور کیمرے کے سامنے کس طرح آئی کانٹکٹ کیا جاتا ہے۔اور مائک کو کیسے پکڑا جاتا ہے۔اس کہ بعد ہمیں او سی کی پریکٹس کرائی گئیجس سے ہماری کا فی حوصلہ افزائی ہوئی۔ 

چوتھے دن ہمیں فیلڈ پر لے جاےا گیا جہاں ہمیں کیمرے سے کس طرح شوٹ کرنا چاہیے یہ سب بتاےا اور ساتھ ساتھ اس کی پریکٹس بھی کروائی گئی۔فیلڈ پر دو جگہ لے کر گئے جہاں دو گروپس بنائے گئے ایک گروپ نے اوڈےرولال کی شوٹ کی اور دوسرے گروپ نے بھٹ شاہ۔اس لئے ہمیں کچھ الگ چیز کرنے کو ملی جو ہم نے پہلے نہیں کی تھی۔ 

   پانچویں دن الیکٹرونک میڈےا کے بارے میں پزید معلومات فراہم کی گئیاس کے بعد سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے۔الیکٹرونک میڈےا کی یہ ورک شاپ ہمارے لئے بیت مفید تھی اس ورک شاپ کی وجہ سے ہمیں وہ سب کچھ سیکھنے کو ملا جو پہلے کبھی نہیں ملا ۔
اس کی بدولت ہمیں
 میڈیا کے بارے میں بہت ساری معلومات ملی اور میڈےا میں کس طرح کام کیا جاتا اس بارے میں معلوم ہوا۔یہ ایک بہت اچھی ورک شاپ تھی میڈیا کے حالے سے۔اس میں ہمیں میڈےا سے متعلق مختلف کام سکھانے کے ساتھ ساتھ بہت ساری سہولتیں بھی فراہم کی گئی۔ایک اچھا ماحول مہیا کیا گیا اور اس طرح کام کر کے ہمیں بیت مزہ آےا اور اس طرح کی ورک شاپ طلباءکے لئے ہونی چایئے کیونکہ ان چیزوں سے طلباءکی بیت زیادہ حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔
  

Tuesday, 2 February 2016

سعدیہ کار ڈرائیونگ ٹیچر - فرحانہ ناغڑ

Unchecked

رول نمبر: 2k14/MC/24
پروفائل : سعدیہ کار ڈرائیونگ ٹیچر
تحریر: فرحانہ ناغڑ


اپنے ارد گرد ہمیں بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی میں بہت ہی پریشانیاں اٹھائی ہیں۔ قدرت کی طرف سے یہ ان لوگوں کا امتحان سمجھا جائے یا پھر ان کی قسمت جو انکو زندگی میں نہ قابل برداشت وقت دیکھنا پڑھ جاتا ہے اور ایسے ہی مشکل دور میں ان میں پریشانی اور مصیبت کا سامنہ کرنا آجاتا ہے کچھ لوگ اپنے آپ کو حالات سے تنگ آ کر خود کو نقصان پہنچا لیتے ہیں اور کچھ ہمت سے ہر مشکل کا سامنا کر کے دنیا کو دکھا دیتے ہیں کہ محنت اور سچی لگن سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ایسی ہی ایک خاتون سعدیہ ہیں جنہوں نے ایک عورت ہو کے اکیلے وہ کر دکھایا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ..



سعدیہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک معمولی سی لڑکی تھی جن کی زندگی اپنے گھر اور پڑھائی تک محدود تھی پر اچانک ان کے گھر میں ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے ان کے گھر کی خوشحالی کو ہلا کے رکھ دیا ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور چونکہ ان کہ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا اور دوسرے بہن بھائی بھی زیرے تعلیم تھے تو انہونے اپنے گھر کو سمبھا لنے کا ارادہ کیا اور وقتی طور پے اپنی پڑھائی سے دستبردار ہونے کا سوچا اس وقت یہ سوشولوجی میں ماسٹرز کر رہی تھیں 


۔

پڑھائی چھوڑنے کے بعد نوکری کی تلاش میں سر گردان رہی پر کہیں پر بھی ڈھنگ کی نوکری نہی ملی جس سے ان کا گھر چل سکے پھر انہونے ایک بلڈر کے پاس اکاؤنٹنٹ کی نوکری کی پر یہ نوکری وقتی تھی اور سرمایہ بھی بہت کم تھا۔ انہوں نے تھوڑی بہت بچت کر کے اور اپنے باقی گھروالوں کی مدد سے ایک پرانی کار خریدی جس سے یہ ڈرائیونگ کو سیکھنے لگی پر کچھ مالی مسائل کی وجہ سے گاڑھی بیچنی پڑی اور پھر یہ مزید مالی تنگی میں گھر گئی.



انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک ڈرائیونگ سینٹر میں کام کرنے لگی مگر اس ساتھ انہونے لوگوں کی گاڑیاں بھی ڈرائیور کے طور پہ چلانے لگی مگر جس انسٹیٹیوٹ میں وہ کام کرتی تھی وہ لوگ ان کے اس اقدام سے متفق نہیں ہوئے .

اسی لیے انہونے وہ ادارہ چھوڑ کر پرائیویٹ کام کرتی رہی اور ان کی محنت اور لگن سے انہونے ایک ڈرائیونگ اسکول کھول لیا جس میں یہ باقاعدہ کلاسس بھی دیتی ہیں اور گاڑی چلانا بھی سیکھاتی ہیں اور اس کے علاوہ ہائی وے پر بھی با آسانی شفٹیں لے جاتی ہیں اور اپنی زندگی کو ایک کامیاب طریقے سے گزار رہی ہیں اور یہ سب ان کی لگن محنت اور جستجو کی بنا پر ہوا ہے  


انہونے یہ بات ثابت کردی کہ اگر انسان میں ہمت طاقت اور حوصلہ ہو تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا بہادری سے کر سکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت .سعدیہ کی پرانی زندگی کو دیکھ کر یہ اندازہ نہی لگایا جا سکتا کے اتنی پریشانیاں جھیل کر وہ ایک مضبوط کردار بنیں گی .سعدیہ کی زندگی ان تمام لوگوںکے لیے ایک نمونہ ہے جو پریشانیوں کے سامنے جھک کر ان سے ہار کر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی زندگی کو مزید خراب کر لیتے ہیں .اگر انسان ہمت سے کام لے تو کر مشکل ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہو جاتی ہے کیوں کے کہتے ہیں نہ کہ محنت میں ہی عظمت ہے اور محنت کرنے والوں کو ان کا حق ضرور ملتا ہے . 

Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh



رکشہ -فرحانہ ناغڑ

Unchecked
نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائمنٹ:فیچر 
میڈیم:اردو
                                     رکشہ
رکشہ تین پہیوں پر مشتمل سواری ہے جو ایک بندہ چلاتا ہے اور سواریاں اٹھا تا ہے۔رکشہ لفظ سب سے پہلے ۱۸۸۷میں ایجاد ہوا ۔رکشہ ایجاد ہونے سے پہلے لوگ سائیکل رکشہ میں سفرکیاکرتے تھے اور رکشہ بھی انہی سائیکل رکشہ کو دیکھ کر بنایا گیا ہے۔سائیکل رکشہ پیرں کی مدد سے چلنے ولا رکشہ ہے جو ابھی بھی بہت سی جگہوں پر چل رہا ہے۔لیکن سائیکل رکشہ کے بمقابلپیٹرول سے چلنے والے رکشے کو زیادہ ترجح حاصل ہے کیونکہ یہ زیادہ آرام دہ اور تیز سواری ہے۔اسی لئے رکشہ ایک مشہور ایجادکے طور پر سامنے آیا۔



رکشہ جاپان میں ۱۸۶۹ میں ایجاد ہوا۔lzuni yasoka نے suzuki tokyjiroسے پارڑنرشپ

کر کہ رکشہ بنایا ۔گھوڑا گاڑی جو ٹکیو کی سڑکوں پر نظر آتی تھی رکشہ اسی سے متاثر ہو کر بنایاگیاہے۔رکشہ لوگوں کے لئے ایکمفید سواری ہے جو سائیکل رکشہ سے زیادہ آرام دہ اور تیز ہے۔۱۹ ویں صدی میں رکشہ ایشین ممالک میں بھی مشہور ہوا۔اورمردوں کے روزگار کے لئے مفید ثابت ہوا ۔۱۲ویں صدی میں رکشہ باقی ملکوں میں بھی مشہور ہوا اس وقت وہاں کے لوگ ٹیکسیوں میںیا سائیکل رکشہ پر سفر کرتے تھے تو اس وقت پیٹرول رکشہ ان کے لئے ایک مفید ایجاد تھی۔



رکشہ تھائیلینڈ کی سڑکوں پر بھی نظر آتا ہے اس کے علاوہ پاکستان بنگلہ دیش میں بھی استعمال ہوتا ہے۔رکشے 
کا خاکہ کنگ لویس نے اپنی بیماربیوی کے لئے بنایاتھا جوجاپان میں رہا کرتے تھے۔اس نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ایسی سواری ہو جوتیز بھی ہو اور آرام دہ بھی تو یہی سوچ کے اس نے رکشے کا خاکہ بنایا اورپھر رکشہ بننے کے بعد یہ تیزی سے ترقی کرتا رہااور دنیا بھر میں مشہور ہوگیا۔رکشے کو جاپان میں لوگman powered vechicleکے نام سے جانتے ہیں ۔

رکشہجاپان میں دوسری ورلڈوار تک مشہور رہا اس کے بعد رکشے کی پیٹرول کی قیمتوں میں بدلاؤ شروع ہوگیاپاکستان میں رکشہ لاہور میں بنایا جاتا ہے۔اور جب سے رکشہ بنا ہے تب سے لے کر اب تک رکشے میں 
بہت بدلاؤ آگیا ہے پہلے رکشہ پیٹرول پر چلا کرتا تھا اس کے بعد ایل پی جی رکشہ چلا اور اب اس کے بعد سی این جی رکشہچل رہا ہے۔رکشے کو سی این جی رکشے میں منتقل کر کے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ اس سے ماحول میں آلودگی میں کمی آئے گیاور پیٹرول والے پرانے ماڈل کے رکشے بہت دھواں خارج کرتے ہیں جس سے ماحول آلودہ ہوتا ہے۔ سی این جی رکشہکچھ حد تک پیٹرول رکشہ سے بڑا ہوتا ہے اور آرام دہ بھی ہوتا ہے۔رکشے کی قیمتوں میں پچھلے بیس سالوں میں ۵۰۰ گناہاضافہ ہوا ہے .


مہنگائی کے سبب پہلے جس جگہ کا کرایہ ۱۰ سے ۸ روپے ہوتا تھا اب اسی جگہ کا کرایہ ۶۰ سے ۷۰ روپے لیا جا رہاہے۔اگر دیکھا جائے تو آج کل رکشہ مہنگائی کے سبب مہنگا معلوم ہوتا ہے اور بہت سے لوگ رکشے کی سواری کو برداشت نہیںکرپارہے ہیں حیدرآباد میں تو جگہیں قریب ہے تو رکشہ استعمال میں آتا ہے لوگ بچوں کے اسکول کے لئے بھی رکشہلگواتے ہیں مگر کراچی جسے بڑے شہر میں لوگ مہنگائی کے سبب دور کی جگہ کے لئے بس سے سفر کرتے ہیں۔ 



بھارت کے شہر ممبئی میں رکشے کے حوالے سے ایک دلچپ چیز یہ بھی ہے کہ وہاں کی خواتین مرد کے شانہ بشانہ ہوکر
رکشہ چلا رہی ہیں۔ممبئی میں ان عورتوں کی تعداد تقریبا۴۶۷ ہے جو رکشہ چلا رہی ہیں ۔وہاں کے ٹرانسپورٹ آفیسر کا کہنا ہےکہ رکشہ چلانے سے ان عورتوں کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔وہاں کی حکومت نے باقائدہ ان کو ڈرایؤنگ کا لائسینس دےدیا ہے .




ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ابروڈ میں عورتیں ٹیکسی چلا رہی ہیں اسی طرح ہمیں بھی اپنے ملک کی عورتوں کو اس کام کی اجازت دے کر ان کا اعتماد بڑھانا چاہئے۔پاکستان کے شہر لاہور میں بھی ایک خاتون ہیں جو رکشا چلا رہی ہے جس میں سواری وہ بس خواتین کی ہیاٹھا تی ہے اور اس رکشے کا رنگ گلابی رکھا ہے کیونکہ یہ صرف خواتین کو لئے ہے یہ رکشہ خاص طور پر خواتین کے لئے ہے جسمیں ڈرایؤر بھی خاتون ہے اور سواری بھی خواتین کی ہی ہوتی ہے۔آج کل کے دور میں رکشہ بہت کام آنے والی سواری ہے
جو لوگوں کے لئے آمدورفت کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے لوگوں کو بہت فائدے حاصل ہیں۔




لوگوں کا کہنا ہے کہ رکشے سے ہمیں بہت سے فائدے حاصل ہیں سب سے اہم بچوں کا اسکول کا مصلح حل
ہو گیا ہے اس کے علاوہ سامان لانا لے جانا بھی رکشے میں باآسانی ہوجاتا ہے۔حیدرآباد میں ٹیکسی کی سروس نہیں ہیں تو جنلوگوں کے پاس اپنی سواری نہیں ہے تو وہ لوگ رکشے سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور رکشہ ان کی آمدورفت کے ساتھ ساتھ انکے سامان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچادیتاہے۔قریب جانا ہو یا دور رکشہ ہر جگہ مفید ثابت ہوتا ہے۔اس میں باآسانیاپنے سامان کے ساتھ جایا جا سکتا ہے۔

Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh

Friday, 22 January 2016

Revised child labour by Farhana Naghar

Revised
                       

 نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائنمٹ:آرٹےکل
(کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا)
میڈیم:اردو
   ہمیںاپنے ارد گرد میںایسے بچے نظر آتے ہیں جو کم عمرمیں ہی مختلف کام کر رہے ہیں جو ان کی عمر سے کہی زیادہ ہیں۔ان کا موں کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی پرےشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے بچوں کی مزدوری پے یہ اندازہ لگایاہے کہ ۰۹۹۱ میں ۱۱ ملئن بچے ملک میں مزدوری کر رہے ہیںجن میں سے کچھ ۰۱ سال کی عمر سے بھی کم ہیں۔تقرےبا µ۸۱۲ ملئن بچے۵ سے ۷۱ سال کی عمر سے ہی مزدوری کر رہے ہیں۔۰۴ سے ۰۵ فیصد بچے ۸۱ سال سے کم عمرمیں ہی مزدوری پر لگے ہوئے ہیں ۔ایک تہائی سے زیادہ بچے کھیتی باڑی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔دیہی علاقوںمیں بچوں کو ۵ سے ۷ سال کی عمر میں کام پر لگایاہوا ہے۔سب سے زیادہ بچوں کا مزدوری کرنا ایشین ممالک میں نظر آتا ہے۔جہاں تقریبا ۲۲۱ ملئن بچے کام کر رہے ہیں ۔
       پاکستان میں غربت سب سے بڑی وجہ ہے بچوں کے کام کرنے کی ۔مہنگائی کے سبب اخراجات کو برداشت کرنا مشکل کام ہو گیاہے اےسے میں لوگ اپنے بچوں کو کم عمر میں ہی ملازمت پر لگایے ہوئے ہیں جن سے ان بچوں کی پرھائی بھی متاثر ہورہی ہے،کیونکہ ایک کمانے والے کے لئے گھر کے تمام افراد کا خرچہ اٹھانہ مشکل ہو گیا ہے ایسے میں وہ بچوں کو تعلیم سے ہٹا کر محنت مزدوری کے کاموں پر لگا دیتے ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر لوگوں کی تنخواہوں مےں اضافہ نہیں کیا جا رہا تو ایسے میں لوگ بہت مجبور ہو کہ اپنے بچوں کو گھر سے دور کام کرنے کے لئے بھج دیتے ہےں۔ جس عمر میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہئے اس عمر میں بچے کام کر رہے ہیں۔
       لوگ سمجھتے ہیںکہ جو بچے مختلف دکانوں پر مختلف کام کرتے ہیںیااپنے اسکول کی چھٹیوں میں کہیں نوکری کر رہے ہیںیہ سب مزدوری ہے لیکن ان چیزوں کو ہم مزدوری کے زمرے میں نہیں لے سکتے یہ کام صرف کام ہیں جو بچے اپنے فارغ وقت میں کر رہے ہوتے ہیں۔بچوں کا مزدوری کرنا اور بچوں کا کام کرنا یہ دو الگ باتیں ہیں۔مزدوری کرنے سے مراد ہے کہ بچوں کا چھوٹی عمر مےں اسکول نا جانا اور لوکوں کے گھر میں رہ کر ان کی غلامی کرنا خود سے اپنے لیے کچھ کرنے کی اجازت نہ ہونا اس طرح کے کام مزدوری میں آتے ہیں ۔اور اس طرح کے کام کرنے والے بچوں پر اکثر لوگ تشدد بھی کرتے ہیں اور ان کو کھانے کے لئے بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیتے ہیں۔ان کی عمر سے زیادہ بھاری کام ان سے کرواتے ہیںحد سے زیادہ مشکل کام ان کے سر کر دیتے ہیںاور سارا سارا دن صفائی کرواتے رہتے ہیں۔بہت سارے غریب والدین بچوں کو کام کے لیے دور بھج دیتے ہیں جہاں ان کے ساتھ ایسا سلوک رکھا جاتاہے۔
        حیدرآباد میں ۴سے ۵ سال کی عمر کے بچے مختلف کام کر رہے ہیں جسے چوڑیاں بنا رہے ہیں ۔ان چوڑیوں کے ہر بچہ روزانہ ۲۱ سیٹس بنا رہا ہے جس میں ۵۶ چوڑیاں پر سیٹ بنتی ہیں اور یہ کام ان کوایک دن میں مکمل کر کہ دینا ہوتا ہے جس کا معاوضہ ان کو تقریبا ۰۴ روپے ملتا ہے۔جو ان کی محنت کے سامنے بہت کم ہے۔ اور اس کام میں ان کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔کم عمر ہونے کی وجہ سے یہ کام ان کے لیے خاصہ مشکل ہے۔ اور یہ کام صرف حیدرآبادمیں ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی کچی آبادی میں بڑی تعداد میں ہو رہا ہے۔
         بچوں کے مزدوری کرنے کا خاتمہ اس صورت میں ہو سکتا ہے جب حکومت غریب طبقے پر توجہ دے ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی بہتر
 اقدام اٹھائے اور بہت سی جگہوں پر جہاں بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھ کر ان پر ظلم کر رہے ہےںان کے خلاف کوئی عمل کریں۔تا کہ باقی لوگ بھی اس چیزسے خبردار رہیں کہ بچوں کو بے جا تکلیف نا دیں۔کیونکہ بچے اگر چھوٹی عمر سے کسی بھی قسم کی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں تو وہ پھر آگے جا کر بڑے جرائم میںملوث ہوجاتے ہیںجیسے چوری،قتل،دہشت گردی وغیرہ جیسے خطرناک کاموں میںپڑجاتے ہیں۔
         مختلف تنظیمیں بچوں کے مزدوری کرنے کو ختم کرنے کے لئے کوشیشیں کر رہی ہیں جن میں بچوں کی تعلیم ان کا علاج مفت کیا جائے گا تا کہ ان کہ والدین کو مشکلات اور غربت کی وجہ سے بچوں کو کام کے لئے نہیںبھیجنا پڑے اور ان کی کچھ مدد بھی ہوجائے۔حکومت کچھ حد تک اقدام کر چکی ہے جس میں مفت گھر فراہم بھی کےے جا رہے ہیں۔اور فنڈز بھی مقرر کئے ہیں تا کہ لوگ غربت سے تھوڑا نقل کر اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف مائل کر سکیں۔اور اس عمل سے بچے مزدوری سے بچ سکتے ہیں اور اپنی ذندگی کو عام بچوں کی طرح گزار سکتے ہیں۔




Referred back. Same incorrect composing issue here with ur article.
                      

 نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائنمٹ:آرٹےکل
(کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا)
مےڈےم:اردو
کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا:
     ہمےںاپنے ارد گرد مےںک ¿ی اےسے بچے نظر آتے ہےںجو کم عمرمےں ہی مختلف کام کررہے ہےںجو ان کی عمر سے کہی زےادہ ہےں۔ان کا موں کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی پرےشانےوں 
مےں اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظےموں نے بچوں کی مزدوری پے ےہ اندازہ لگاےا ہے کہ ۰۹۹۱ مےں ۱۱ ملئن بچے ملک مےں مزدوری کر رہے ہےںجن مےں سے کچھ ۰۱ سال کی عمر سے بھی کم ہےں۔تقرےبا
µ۸۱۲ ملےئن بچے۵ سے ۷۱ سال کی عمر سے ہی مزدوری کر رہے ہےں۰۴ سے ۰۵ فیصد بچے ۸۱ سال سے کم عمر مےں ہی مزدوری پر لگے ہوئے ہےں ۔اےک تہائی سے زےادہ بچے کھےتی باڑی کے کام مےں لگے ہوئے
ہےں۔دےہی علاقوں مےں بچوں کو ۵ سے ۷ سال کی عمر مےں کام پر لگاےا ہوا ہے۔سب سے زےادہ بچوں کا مزدوری کرنا اےشےن ممالک مےں نظر آتا ہے۔جہاں تقرےبا ۲۲۱ ملئن بچے کام کر رہے ہےں ۔
       پاکستان مےں غربت سب سے بڑی وجہ ہے بچوں کے کام کرنے کی ۔مہنگائی کے سبب اخراجات کو برداشت کرنا مشکل کام ہو گےا ہے اےسے مےں لوگ اپنے بچوں کو کم عمر مےں ہی 
ملازمت پر لگایے ہویے ہےں جن سے ان بچوں کی پرھائی بھی متاثر ہورہی ہے،کےونکہ اےک کمانے والے کے لئے گھر کے تمام افراد کا خرچہ اٹھانہ مشکل ہو گےا ہے اےسے مےں وہ بچوں کو تعلیم سے ہٹا کر محنت مزدوری 
کے کاموں پر لگا دےتے ہےں۔اےک وجہ ےہ بھی ہے کہ مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر لوگوں کی تنخواہوں مےں اضافہ نہےن کیا جا رہا تو اےسے مےں لوگ بہت مجبور ہو کہ اپنے بچوں کو گھر سے دور کام کرنے کے لئے بھج دےتے ہےں۔
جس عمر مےں بچوں کو تعلیم حاصل کرنی چاےیے اس عمر مےں بچے کام کر رہے ہےں۔
       لوگ سمجھتے ہےں کے جو بچے مختلف دکانوں پر مختلف کام کرتے ہےں ےا اپنے اسکول کی چھٹﺅں مےں کہےں نوکری کر رہے ہےں ےہ سب مزدوری ہے لےکن ان چزوں کو ہم مزدوری کے
زمرے مےں نہےں لے سکتے ےہ کام صرف کام ہےں جو بچے اپنے فارغ وقت مےں کر رہے ہوتے ہےں۔بچوں کا مزدوری کرنا اور بچوں کا کام کرنا ےہ دو الگ باتےں ہےں۔مزدوری کرنے سے مراد ہے کہ بچوں کا چھوٹی
عمر مےں اسکول نا جانا اور لوکوں کے گھر مےں رہ کر ان کی غلامی کرنا خود سے اپنے لیے کچھ کرنے کی اجازت نہ ہونا اس طرح کے کام مزدوری مےں آتے ہےں ۔اور اس طرح کے کام کرنے والے بچوں پر اکثر لوگ
تشدد بھی کرتے ہےں اور ان کو کھانے کے لیے بھی ٹھےک طرح سے نہےں دےتے ہےں۔ان کی عمر سے زےادہ بھاری کام ان سے کرواتے ہےں حد سے زےادہ مشکل کام ان کے سر کر دےتے ہےںاور سارا سارا دن صفائی 
کرواتے رےتے ہےں۔بہت سارے غرےب والدےن بچوں کو کام کے لیے دور بھج دےتے ہےں جہاں ان کے ساتھ اےسا سلوک رکھا باتا ہے۔
        حےدرآباد مےں ۴سے ۵ سال کی عمر کے بچے مختلف کام کر رہے ہےں جسے چوڑےاں بنا رہے ہےں ۔ان چوڑےوں کے ہر کے بچہ روزانہ ۲۱ سےٹس بنا رہا ہے جس مےں ۵۶ چوڑےاں
پر سےٹ بنتی ہےں اور ےہ کام ان کو اےک دن مےں مکمل کر کہ دےنا ہوتا ہے جس کا معاوضہ ان کو تقرےبا ۰۴ روپے ملتا ہے۔جو ان کی محنت کے سامنے بہت کم ہے۔ اور اس کام مےں ان کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔کم عمر ہونے کی وجہ سے ےہ کام ان کے لیے خاصہ مشکل ہے۔ اور ےہ کام صرف حےدرآباد مےں ہی نہےں بلکہ اور بھی بہت سی کچی آبادی مےں بڑی تعداد مےں ہو رہا ہے۔
         بچوں کے مزدوری کرنے کا خاتمہ اس صورت مےں ہو سکتا ےے جب حکومت غرےب طبقے پر توجہ دے ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی بہتر اقدام اٹھائے اور بہت سی 
جگہوں پر جہاں بچوں کو زبردستی اپنے پاس رکھ کر ان پر ظلم کر رہے ہےںان کے خلاف کوئی عمل کرےں۔تا کہ باقی لوگ بھی اس چیز سے خبردار رہےں کہ بچوں کو بے جا تکلےف نا دےں۔کےونکہ بچے اگر چھوتی عمر سے
کسی بھی قسم کی زےاتی کا نشانہ بنتے ہےں تو وہ بھر آگے جا کر بڑے جرائم مےں ملوث ہوجاتے ہےں جےسے چوری،قتل،دہشت گردی وغےرہ جسے خطرناک کاموں مےں پڑجاتے ہےں۔
         مختلف تنظےمےں بچوں کے مزدوری کرنے کو ختم کرنے کے لئے کوششےں کر رہی ہےں جن مےں بچوں کی تعلیم ان کے علاج مفت کےا جائے گا تا کہ ان کہ والدےن کو مشکلات
اور غربت کی وجہ سے بچوں کو کام کے لیے نہےں بھجنا پڑے اور ان کی کچھ مدد بھی ہوجائے۔حکومت کچھ حد تک اقدام کر چکی ہے جس مےں مفت گھر فراہم بھی کےے جا رہے ہےں۔اور فنڈز بھی مقرر کئے ہےں تا کہ 
لوگ غربت سے تھوڑا نقل کر اپنے بچوں کو ےعلیم کی طرف مائل کر سکےں۔اور اس ومل سے بچے مزدوری سے بچ سکتے ہےں اور اپنی ذندگی کو عام بچوں کی طرح گزار سکتے ہےں۔ 

Revised - Interview of child specialist Masood

Revised version

 
          ڈاکٹر مسعود چائلڈ اسپیشلسٹ
نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائمنٹ:انڑویو
مییڈیم:اردو
سوال:چھوٹی عمر میں بچوں کو دل کی بیماریاں ہوتی ہیں جیسے پیدائشی طور پر دل میں سوراخ ہوتا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے اور اس بیماری سے بغیر علاج کے نجات مل سکتی ہے؟
جواب:جو پیدائشی طور پر دل میں سوراخ ہوتا ہے تو پیدائشی کچھ وجوہات ہوتی ہیںجب بچے کا دل بننا شروع ہوتا ہے تو کچھ ایسے نقص رہ جاتے ہیں جن سے دل 
  صحیح طریقے سے نہیں بن پاتا ۔تو علاج کے لئے اس کی حالت کے مطابق دیکھا جاتا ہے اگر چھوٹا سوراخ ہے تو وہ وقت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے اگر
   بڑا سوراخ ہو تو پھر اس کے لئے آپریشن کرنا پڑتا ہے۔

سوال:دل کے سوراخ میں مبتلا بچوں کا کس عمر میں علاج کروایا جاسکتا ہے؟
جواب:یہ تو دیکھ کر ہی بتاےا جا سکتا ہے کہ کس طرح کی دل کی بیماری اس بچے کو ہے تو دل کی بیماری کے جو سرجن ہوتے ہیں وہی بتا سکتے ہیں کے بچے کو آپریشن کے لئے 
  کب لانا ہے اور کب آپریشن کرنا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تب آپریشن کرتے ہیں ورنہ اگر دوائیوں سے ٹھیک ہو سکتا ہے تو دوائیاں دے کر علاج کیاجاتا
   ہے۔

سوال:بچوں میں استھما بھی پیدائشی طور پر دےکھنے کو ملتا ہے تو اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟
جواب:استھما سانس کی بیماریوں کی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اگر ماں باپ کو ہے تو وہ بچوں کو بھی ہوجاتا ہے۔لیکن اگر کسی کو کھانے پینے سے 
   الرجی ہو مثلا انڈا،چنے کی دال،مرغی،ٹماٹر،شہد یہ سب چیزیں گرم ہوتی ہیں ان کے اندر پروٹین ہوتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ الرجی ہوتے ہیں۔
   تو وہ سانس کی نالیوںمیں جمع ہوجاتا ہے جس سے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

سوال:نومولود بچوںمیں کونسی بیماریاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ان کا علاج کس طرح سے کیاجاتا ہے اور کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
جواب:بہت سی ہیں جو پیدائشی طور پر ہوتی ہیںجیسے ہونٹ کٹا ہوا بعض بچوں کی آنکھوں سے پانی بہت زیادہ آتا ہے۔تو اس میں آنکھ کا سوراخ بند ہوتا ہے۔
  ہاتھ پاﺅں ٹیڑ ھے ہوتے ہیں پھر ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ 

سوال:بچوں میں Inguinal hernia اور congiental diseaseبھی ہوتی ہے یہ کس طرح کی بیماری ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے 
  کیا کرنا ہوتا ہے؟
 جواب:Inguinal hernia ہرنیہ کی ایک قسم ہے ہمارے جسم میں مختلف سوراخ ہوتے ہیں inguinal پیٹ اور آنتھ کے درمیانی حصہ جو ہوتا ہے
   وہاں ایک سوراخ ہوتا ہے تو اس میں کھال کے نیچے آنتھ آجاتی ہے اور وہ آنتھ پھول جاتی ہے۔congiental پیدائشی ہوتی ہے جیسے دل الٹے
   ہاتھ کی جگہ سیدھے ہاتھ پر ہونا ،ہاتھ پاﺅں آڑھے ٹیڑھے ہونا یہ سب بیماریاں congiental disease ہوتی ہیں۔

سوال:والدین سے ملنے والی کونسی بیماریاں ہوتی ہیں؟
جواب:جو بیماریاں والدین سے ملتی ہیں ان میں تھلیسیمیا،کالایرکان وغیرہ ہوتی ہیں۔

سوال:بچپن میں جو بچے ذہنی طور پر معزور ہوتے ہیںاس کی وجہ کیا ہے؟
 جواب:بچوںمیں معزوری کے لئے بہت سی چیزیں ہوتی ہیں پیدائشی طور پر کچھ مسائل ہوجاتے ہیں جن سے ابنارملٹی ہوجاتی ہے۔

سوال:اس طرح کے بچوں کا اگر علاج کیا جائے تو کیاوہ نارمل ہوسکتے ہیں؟
جواب:علاج بیماری کو دیکھ کے ہو سکتا ہے کہ وہ صحیح ہو سکتی ہے یا نہیں اس کا باقائدہ چیک اپ کیا جاتا ہے اگر بہت زیادہ چھوٹی کھوپڑی ہے تو اس 
  کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے میں چیک اپ کر کے ہی بتایاجا سکتا ہے۔

سوال:دنےا بھر مےں پولیو بہت سے ممالک مےں ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان مےں اب تک اس پر قابو کےوں نہےں پاےا گےا؟
جواب:پولیو کے لئے حکومت اور لوگ کوشش کر رہے ہےں ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کو پو لےو کے قطرے پےلانے نہےں دےتے ان کو چھپا لےتے ہےں
  جب تک آخری بچے تک ہم نہےں پہنچے گے اور جب تک آخری بچہ قطرے نہےں پےلے گا تب تک اس چےز پر قابو نہےں پاےا جا سکتا۔
  کےونکہ اگر اےک بچے مےں پولیو ہے تو وہ باقی بچوں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوال:پولیو کا مرض کتنے فےصد بچوں مےں پاےا جاتا ہے؟
جواب:پولیو اگر ہمارے جسم مےں داخل ہو جائے تو نقصان نہےں کرتا مگر ۲ فےصد بچوں مےں ےہ ہوتا ہے کہ اگر پولیو کا جراثےم ان کے جسم مےں شامل ہوجائے توبھی ہمارے
  جسم مےں اےک قوت ہوتی ہے جو اس مرض سے قطروں کے ذرےعے بچاتے ہےں۔

سوال:بچوں کو مکمل طور پہ وےکذےنشن ملی ہو مگر پھر بھی وہ بےمارےوں کا شکار ہوجاتے ہےں اس کی کےا وجہ ہے؟
جواب:اگر والدےن دےر سے وےگذےن لگوانے آتے ےا ہم کبھی کبھار دےر سے پہنچتے ہےںےا پاکستان مےں وےکزےن کی کمی ہوجاتی ہے تو بچے وائرل ڈزےز کا نشانہ بن جاتے
  ہےں۔اس کے علاوہ اگر باقائدہ وےکزےن لگی ہر اہر نچہ پھی پھر بھی بےماری نشانہ بن جائے تو ہمارے جسم مےں فوجی ہوتے ہےں جو ان بےمارےوں سے لڑ کر انسان
  کو محفوظ رکھتے ہےں۔

سوال:چھوٹے بچے آج کل چپس چاکلےٹ جےسی چےزےں کھاتے ہےں تو ان چزوں کے ان کو کےا نقصانات ہےں؟
جواب:ان چزوں مےں مختلف قسم کے کےمیکلز موجود ہوتے ہےں جو بچوں کا پےٹ اور ہاضمہ خراب کرتے ہےںتو والدےن کو چائےے بچوں کو کھانا کھلائےں اور چزوں 
  سے دور رکھےں تا کہ وہ پےٹ کی بےمارےوں سے محفوظ رہےں۔



Referred back- It composing is incorrect.  Ap ne chhit "ye" ky bajye barri "ye" likh de hae. jo k fomrmat maintoot jati hae
 ap khud dekh len. Ye two ap ne shuru main bhi bheja tha. Refer back hua tha?  
          ڈاکٹر مسعود چائلڈ اسپےشلسٹ
نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائمنٹ:انڑوےو
مےڈےم:اردو
سوال:چھوٹی عمر مےں بچوں کو دل کی بےمارےاں ہوتی ہےں جےسے پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہے اور اس بےماری سے بغےر علاج کے نجات مج سکتی ہے؟
جواب:جو پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو پےدائشی کچھ وجوہات ہوتی ہےںجب بچے کا دل بننا شروع ہوتا ہے تو کچھ اےسے نقص رہ جاتے ہےں جن سے دل 
   صحےح طرےقے سے نہےں بن پاتا ۔تو علاج کے لئے اس کی حالت کے مطابق دےکھا جاتا ہے اگر چھوٹا سوراخ ہے تو وہ وقت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے اگر
   بڑا سوراخ ہو تو پھر اس کے لئے آپرےشن کرنا پڑتا ہے۔

سوال:دل کے سوراخ مےں مبتلا بچوں کا کس عمر مےں علاج کرواےا جاسکتا ہے؟
جواب:ےہ تو دےکھ کر ہی بتاےا جا سکتا ہے کہ کس طرح کی دل کی بےماری اس بچے کو ہے تو دل کی بےباری کے جو سرجن ہوتے ہےں وہی بتا سکتے ہےں کے بچے کو آپرےشن کے لئے 
  کب لانا ہے اور کب آپرشن کرنا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تب آپرےشن کرتے ہےں ورنہ اگر دوائےوں سے ٹھےک ہو سکتا ہے تو دوائےاں دے کر علاج کےا جاتا
   ہے۔

سوال:بچوں مےں استھما بھی پےدائشی طور پر دےکھنے کو ملتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہوتی ہے؟
جواب:استھما سانس کی بےمارےوں کی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے اےک تو ےہ کہ اگر ماں باپ کو ہے تو وہ بچوں کو بھی ہوجاتا ہے۔لےکن اگر کسی کو کھانے پےنے سے 
   الرجی ہو مثلا انڈا،چنے کی دال،مرغی،ٹماٹر،شہد ےہ سب چےزےں گرم ہوتی ہےںان کے اندر پروٹےن ہوتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ الرجی ہوتے ہےں۔
   تو وہ سانس کی نالےوں مےں جمع ہوجاتا ہے جس سے سانس لےنے مےں مشکل ہوتی ہے۔

سوال:نومولود بچوں مےں کونسی بےمارےاں دےکھنے کو ملتی ہےں اور ان کا علاج کس طرح سے کیا جاتا ہے اور کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
جواب:بہت سی ہےن جو پےدائشی طور پر ہوتی ہےںجےسے ہونٹ کٹا ہوا بعض بچوں کی آنکھوں سے پانی بہت زےادہ آتا ہے۔تو اس مےں آنکھ کا سوراخ بند ہوتا ہے۔
  ہاتھ پاﺅں ٹےڑھے ہوتے ہےں پھر ان کی عمر کو دےکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ 

سوال:بچوں مےں Inguinal hernia اور congiental diseaseبھی ہوتی ہے ےہ کسطرح کی بےماری ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے 
  کےا کرنا ہوتا ہے؟
 جواب:Inguinal hernia ہرنےہ کی اےک قسم ہے ہمارے جسم مےن مختلف سوراخ ہوتے ہےں inguinal پےٹ اور آنتھ کے درمےانی حصہ جو ہوتا ہے
   وہاں اےک سوراخ ہوتا ہے تو اس مےں کھال کے نےچے آنتھ آجاتی ہے اور وہ آنتھ پھول جاتی ہے۔congiental پےدائشی ہوتی ہے جسے دل الٹے
   ہاتھ کی جگہ سےدھے ہاتھ پر ہونا ،ہاتھ پاﺅں آڑھے ٹےڑھے ہونا ےہ سب بےمارےاں congiental disease ہوتی ہےں۔

سوال:والدےن سے ملنے والی کونسی بےمارےاں ہوتی ہےں؟
جواب:جو بےمارےاں والدےن سے ملتی ہےں ان مےں تھلےسیمیا،کالا ےرکان وغےرہ ہوتی ہےں۔

سوال:بچپن مےں جو بچے ذہنی طور پر معزور ہوتے ہےںاس کی وجہ کیا ہے؟
 جواب:بچوں مےں معزوری کے لئے بہت سی چےزےن ہوتی ہےں پےدائشی طور پر کچھ مسائل ہوجاتے ہےں جن سے ابنارملٹی ہوجاتی ہے۔

سوال:اس طرح کے بچوں کا اگر علاج کیا جائے تو کیا وہ نارمل ہوسکتے ہےں؟
جواب:علاج بےماری کو دےکھ کے ہو سکتا ہے کہ وہ صحےح ہو سکتی ہے ےا نہےں اس کا باقائدہ چےک اپ کیا جاتا ہے اگر بہت زےادہ چھوٹی کھوپڑی ہے تو اس 
  کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے مےں چےک اپ کر کے ہی بتاےا جا سکتا ہے۔

سوال:دنےا بھر مےں پولیو بہت سے ممالک مےں ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان مےں اب تک اس پر قابو کےوں نہےں پاےا گےا؟
جواب:پولیو کے لئے حکومت اور لوگ کوشش کر رہے ہےں ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کو پو لےو کے قطرے پےلانے نہےں دےتے ان کو چھپا لےتے ہےں
  جب تک آخری بچے تک ہم نہےں پہنچے گے اور جب تک آخری بچہ قطرے نہےں پےلے گا تب تک اس چےز پر قابو نہےں پاےا جا سکتا۔
  کےونکہ اگر اےک بچے مےں پولیو ہے تو وہ باقی بچوں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوال:پولیو کا مرض کتنے فےصد بچوں مےں پاےا جاتا ہے؟
جواب:پولیو اگر ہمارے جسم مےں داخل ہو جائے تو نقصان نہےں کرتا مگر ۲ فےصد بچوں مےں ےہ ہوتا ہے کہ اگر پولیو کا جراثےم ان کے جسم مےں شامل ہوجائے توبھی ہمارے
  جسم مےں اےک قوت ہوتی ہے جو اس مرض سے قطروں کے ذرےعے بچاتے ہےں۔

سوال:بچوں کو مکمل طور پہ وےکذےنشن ملی ہو مگر پھر بھی وہ بےمارےوں کا شکار ہوجاتے ہےں اس کی کےا وجہ ہے؟
جواب:اگر والدےن دےر سے وےگذےن لگوانے آتے ےا ہم کبھی کبھار دےر سے پہنچتے ہےںےا پاکستان مےں وےکزےن کی کمی ہوجاتی ہے تو بچے وائرل ڈزےز کا نشانہ بن جاتے
  ہےں۔اس کے علاوہ اگر باقائدہ وےکزےن لگی ہر اہر نچہ پھی پھر بھی بےماری نشانہ بن جائے تو ہمارے جسم مےں فوجی ہوتے ہےں جو ان بےمارےوں سے لڑ کر انسان
  کو محفوظ رکھتے ہےں۔

سوال:چھوٹے بچے آج کل چپس چاکلےٹ جےسی چےزےں کھاتے ہےں تو ان چزوں کے ان کو کےا نقصانات ہےں؟
جواب:ان چزوں مےں مختلف قسم کے کےمیکلز موجود ہوتے ہےں جو بچوں کا پےٹ اور ہاضمہ خراب کرتے ہےںتو والدےن کو چائےے بچوں کو کھانا کھلائےں اور چزوں 
  سے دور رکھےں تا کہ وہ پےٹ کی بےمارےوں سے محفوظ رہےں۔