Showing posts with label مصباح. Show all posts
Showing posts with label مصباح. Show all posts

Monday, 15 February 2016

Comparative Region studies sindh University

to be checked. Maintain para. do not use English words,
دمصباح ۔ار۔رود
2k14/MC/52
آرٹیکل /پروفائیل
شعبہ اسلامک کلچر

شعبہ اسلامک کلچر کی بنیاد ۱۹۵۱ میں ڈاکٹر عبدلواحد جانجو خان ہیلیپوٹا نے رکھی جنھوں نے پہلے نصرپور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے لندن چلے گئے اور وہاں سے PHD کی ڈگری حاصل کی شعبہ اسلامک کلچر اس وقت یونیورسٹی آف سندھ کا دوسرا بڑا شعبہ تھا شعبہ اسلامک کلچر کو یونیورسٹی آف سندھ کے اولڈ کیمپس سے نئے کیمپس میں فیکلٹی آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں منتقل کیا گیا

 اس کا آغاز شروعات میں دو شعبوں سے کیا گیا جس میں شعبہ اسلامک کلچر اور شعبہ کمپیریٹو ریلیجن شامل ہیں  ڈاکٹر عبدلواحد ہالیپوٹا اس ڈپارٹمنٹ کے بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں آپ نے ۱۹۵۱ میں اس ڈپارٹمنٹ کے چئیرمین کا عہدہ سب سے پہلے سنبھالا اور ۱۹۶۸ تک اس عہدے کو باخوبی انجام دیا PHD اور M.PHILL کی ڈگری سے کلاسز کا آغاز کیا اور پھر آہستہ آہستہ تمام کلاسز کی اچھے طریقے سے شروعات کی

 ۱۹۹۴ میں شعبہ اسلامک کلچر کو فیکلٹی آف اسلامک کلچر کی حیثیت دی گئی جس کی پہلی فیکلٹی آف اسلامک کلچر ڈین عزیزونساء چنا بنیں جو ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۶ تک اس عہدے پر رہیں ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۰ تک ۱۵۰ PHD کی ڈگریاں دی گئیں جو اس وقت کی سب سے زیادہ دی جانے والی ڈگریاں تھیں پوری یونیورسٹی آف سندھ کی ڈاکٹر عبدلواحد ہالیپوٹا کی اچھی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبہ اسلامک کلچر ڈپارٹمنٹ کے چئیرمین کا عہدہ ۱۳ دسمبر ۱۹۶۸ سے ۱۲ دسمبر ۱۹۷۰ تک دوسری بار بھی ڈاکٹر عبدلواحد جانجو خان ہیلیپوٹا کو ہی دیا گیا پھر ۱۳ دسمبر ۱۹۷۰ سے ۱۲ دسمبر ۱۹۷۴ تک مسٹر احمد علی خواجہ نے شعبہ اسلامک کلچر ڈپارٹمنٹ کے چئیرمین کا عہدہ سنبھالا اور اپنی صلاحیت سے اس شعبہ کو ترقی دی

 اسی طرح اب تک ۲۱ چئیرمین آکر اپنی صلاحیت کا مظائرہ کرکے گئے ہیں جن میں پروفیسر ایس ایم سید٬ ڈاکٹر عبدلواحد جانجو خان ہیلیپوٹا ٬ ڈاکٹر احمد اقبال ٬ ڈاکٹر عبدلفاتح محمد ساغردین٬ پروفیسر عبدلرازق میمن ٬ پروفیسر زرینہ بانو میمن ، پروفیسر کلثوم پٹھان ، ڈاکٹر ممتاز بھٹو ، ڈاکٹر سناء اللہ بھٹو ، ڈاکٹر عبدلستار انصاری، ڈاکٹر محمد انور خان پٹھان، اور موجودہ چئیرمین ڈاکٹر محمد حافظ منیر احمد خان شامل ہیں

شعبہ اسلامک کلچر کی اس وقت بہت ضرورت تھی طلباء میں شعور اجاگر کرنے کے لیے خاص طور پر اس شعبے کا آغاز کیا نظریہ پاکستان کی بنیاد بھی اسلام کے اصولوں پر رکھی گئی تھی پہلے کے شعبہ اسلامک کلچر میں اور آ ج کے شعبہ اسلامک کلچر میں کچھ خاص فرق نہیں ہوا لیکن تعلیم کا معیار بہتر بنایا جا رہا ہے

پہلی فیکلٹی آف اسلامک کلچر ڈین عزیزالنساء چنا کے بعد ڈاکٹر ممتاز بھٹو٬ پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار انصاری٬ پروفیسر ڈاکٹر سنائاللہ بھٹو اور موجودہ ڈین ڈاکٹر محمد انور خان شامل ہیں ڈین آف اسلامک کلچر فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد انور خان کا کہنا ہے کہ ہم ۲۰۰۰ سے لے کر اب تک اسلامی کلچر میں شامل چیزوں پر تحقیقات کر رہے ہیں اور بہت سی تحقیقات بہت فائدہ مند بھی ہوئی ہمارے لئے ۱۹۹۴ میں فیکلٹی آف اسلامک کلچر کی حیثیت ملنے کے بعد اس شعبہ کو اور ترقی دے کر تین شعبوں میں آگے بڑ ھا یا گیا جس میں مسلم ہسٹری ٬ کمپیریٹو ریلیجن اور اسلامک کلچر شامل ہوئے اور ۳۰۰ M.PHILL کی ڈگری دیں

اب موجودہ وقت میں ۳ ماسٹر پروگرام ۳ بیچلر پروگرام چل رہے ہیں اس کے علاوہ ایم۔اے ٬ بی۔بی۔اے ٬ ایم۔اے اونرز شامل ہیں شعبہ اسلامک کلچرل میں ٹوٹل ۲ کمرے ہیں جس سے طلباء کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اساتزہ پریشان ہیں اساتزہ اور اسسٹینٹ پروفیسر ڈاکٹر نائد آرائیں کا کہنا ہے کہ شعبہ اسلامک کلچر میں طلباء میں شعور پیدا کرتے ہیں اور مزاہب کی رسوم و رواج کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں اور آنے والے وقتوں میں یہ رسو م و رواج کس طرح پروان چڑھیں گے اس بات کا علم دیتے ہیں

 شعبہ اسلامک کلچر میں ترقی کے بعد بی ۔ایس کا کورس ۴ سال کا کردیا گیا ہے اس کے علاوہ کورسز ہر سال تبدیل ہوتے رہتے ہیں اساتزہ اور طلباء کی تعداد میں ہر سال اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے شعبہ اسلامک کلچر کا وصف بہت اونچا ہے وہ طلبائ
 جو اسلامک کلچر سے ڈگری لے کر چلے گئے ہیں انھوں نے اپنے مستقبل کا آغاز اچھی طرح کردیا ہے جیسے کہ لیکچرز٬ ریسرچز جرنلسٹ٬ کنسلٹنٹ٬ بزنس اور پولٹیکل ایڈوائزر ، کے طور پر کام کر رہے ہیں

شعبہ اسلامک کلچر میں ہر کلاس میں تقریبا ۶۰ سے ۷۰ تک طلباء موجود ہیں شعبہ اسلامک کلچر میں ہر سال بہت سے ہونہار طلباء کو اعزازن گولڈ میڈلز بھی دئیے جاتے ہیں جس کے لیے دوسرے مختلف شعبے بھی اپنا کردار با خوبی سر انجام دیتے ہیں شعبہ اسلامک کلچر کو فیکلٹی کی حیثیت تو ملی لیکن اب تک اس شعبہ کو الگ بلٹنگ میں منتقل نہیں کیا گیا اس سلسلے میں بہت دفعہ کوشش کی گئی ہے لیکن کوئی مخصوص اقدام نہیں اٹھایا گیا

شعبہ اسلامک کلچر کی فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد انور خان نے اپنے شعبے کے لیے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں بھی کیا کہ شعبہ اسلامک کلچر میں طلباء کو اسلام کے بارے میں آگائی دیتے ہیں اسلامیات ہر شعبے میں لازمی نصاب میں شامل ہے شعبہ اسلامک کلچر کے طلباء کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شعبے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور
 ہمیں یہاں بہت مزہ بھی آتا ہے یہاں کا ماحول بہت سادہ اور اچھا ہے

Wednesday, 3 February 2016

Interview with Murtaza Dadahi by Misbah

Photo not clear. Question about press club  tell nothing it should be deleted. Lets know how u write ur name in Urdu. 
Misbah-ur-ruda
2k14/MC/52
MEDIUM: URDU 
INTERVIEW 
سید مرتضی شاہ ڈاڈائی

انٹرویو: مصباح 
مرتضی شاہ ڈاڈائی ۲۶ نومبر ۱۹۳۹ میں پیدا ہوئے آپ ایک بہت ہی مشہور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھی ٬ اردو٬ انگریزی اپنے والد سے حاصل  کرنے کے بعد ۱۹۵۳ میں چودہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ غزل٬ حمد ٬ گیت٬ وائی ٬ نظم ٬ بیت٬ قطعا٬ نعت ٬ منعقت٬ مناجات وغیرہ سے پہچان بنائی اور لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ۔ 

شاعری کے آغاز کے کچھ ہی عرصے بعد سندھی زبان میں کتابیں لکھنا شروع کیں۔ ’زھرو زم زم ‘ ۱۹۸۴ میں پہلی کتاب لکھی پھر ’تون پارس آﺅن لوھ‘ ۱۹۹۴ مےں لکھی پھر ئ’سٹھا سر ھا گل‘ ۱۹۹۶ میں لکھی پھر ’مان زرتون ماھتاب‘ ۲۰۱۱ مےں لکھی اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کتابیں لکھ کر بڑے بڑے شعراء مےں اپنا نام منوایا۔ اب تک جو مواد چھپا ہے ان مےں عشقیہ شاعری ٬ وطن کے گیت ٬ مزاحیہ نظم٬ مزاحیہ کا لم٬ زرعی نغمے اور میوزیکل فیچر ز شامل ہیں آپ پریس کلب کے بانی بھی رہ چکے ہیں۔ 

 جب میں نے ان سے انٹرویو لینے کے لئے رابطہ کیا تو آپ نے بہت خوش مزاج انداز میں حامی بھر لی اور مجھے خوش آمدید کہا مرتضی شاہ ڈاڈائی کے گھر مےں موجود کتابوں سے ان کی شاعری میں دلچسپی کا اندازہ ہو رہا تھا ان کے ساتھ کی جانے والی گفتگو نزر قارین ہے۔ 

س: شاعری کا آغاز کیسے کیا اور کن مشکلات کا سامنا رہا؟
 ج :  میرے والد زمیندار تھے اور مےں اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہوں گاﺅں میں اوطاقوں میں والد صاحب کے پاس گانے والے ٬ ادیب٬ شعراء وغیرہ آتے تھے اس سلسلے مےں فنکاروں سے دلچسپی ہوئی اور ۱۹۵۳ سے شاعری کا آغاز کیا اور شاعری مےں اللہ کے کرم سے کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔ 

س: آپ کی شاعری کے سلسلے مےں کن کن تنظیموں سے وابستگی رہی؟
 ج: بہت سی تنظیموں سے وابستگی رہی جیسے کہ بزم مسافر ٬ بزم طالب المولی ٬ بزم نور ادب ٬ سندھی ادبی ثقافتی سنگت٬ سندھ سید ایسوسیشین ٬ حلال احمر کمیٹی ٬ اینٹی نارکوٹکس کمیٹی٬ کرائم کنٹرول کمیٹی ٬ تعلیمی کمیٹی٬ پیشنٹ ویلفئیر سوسائٹی ٬ سٹیزن کمیٹی ہیلتھ مینجمینٹ کمیٹی٬ وتایو فقیر مینجمینٹ کمیٹی٬ ڈسٹرکٹ ہیریٹیج کمیٹی ٬ اور اس کے علاوہ بھی کافی عرصہ سے ریڈیو پاکستان اور پی۔ ٹی ۔وی میں کلام نشر ہوتے رہے ہیں۔ 

س: آپ نے مختلف ٹی۔وی چینلز کے ساتھ کام کیا اس سلسلے میں آپ کو کوئی اعزاز یا ایوارڈ ملے؟
 ج:  جی ہاں زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا جس میں حسن کردار گولڈ میڈل ایوارڈ٬ نئی زندگی گولڈن جوبلی ایوارڈ٬ قلندر لال شہباز ایوارڈ ٬ مہران کلچرل ایوارڈ٬ سوشل ویلفیئر کمیٹی ایوارڈ ٬ ریڈیو پاکستان حیدرآباد ایوارڈ ٬ بلدیہ حسن کارکردگی ایوارڈ اور اس کے علاوہ بھی کئی ایوارڈ شامل ہیں۔ ۱۹۹۲ میں ادبی دوستوں نے تاج پوشی کی۔ ٹنڈوالہیار میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ’مرتضی شاہ ڈاڈائی‘ ہال تعمیر کیا گیا۔


 س: آپ نے شاعری میں اپنا ایک الگ نام بنایا کیا لوگ آپ کی شاعری سے مطمئن تھے؟ 
 ج:  جی ہاں لوگ میری شاعری سے مطمئن تھے ۔ اور سب نے پسند بھی کی تھی محمد زمان اس وقت کے سب سے بڑے شاعر امیم فھیم کے والد انھوں نے پسند کی اور اس وقت کے بڑے بڑے شاعر کو بھی دکھایا وہ بھی مطمئن تھے۔ 

س: اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ بتانا چاہیں گے؟
 ج: واقعات تو بہت ہیں لیکن ایک واقعہ یہ کہ ۳۰ سال پہلے میرے والد زندہ تھے۔ باہر دروازہ پر ایک آدمی آیا تو وہ عمر رسیدہ تھا لاڑکانہ سے آیا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بڑے سائیں ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ نہیں بابا نہیں ہیں پھر انہوں نے محلے والوں سے پوچھا تو انہوں نے دوبارہ میرا گھر بتادیا وہ پھر میرے گھر آکر پوچھنے لگے کہ کیا بڑے سائیں ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ میں مرتضی شاہ ڈاڈائی کی بات کر رہا ہو ں۔ تو آپ نے مسکراکر جواب دیا کہ میں ہی مرتضی شاہ ڈاڈائی ہوں اس شخص کو یہ بات جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ میں نے اتنی کم عمری میں اتنی ساری کتابیں لکھیں ا س کے خیال میں میں ایک بزرگ تھا میں برسوں سے شاعری کر رہا ہوں اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔ 

س: شاعری کے لحاظ سے آپ کیا سمجھتے ہیں پاکستانی نو جوانوں کے ٹیلنٹ کا گراف کتنا اوپر ہے؟
 ج: پاکستانیوں میں ٹیلنٹ کا گراف بہت اونچا ہے نوجوانوں کو چاہیے کہ ایسی شاعری کریں جس سے امن وسلامتی ٬ بھائی چارہ پیدا ہو اس کے ساتھ ساتھ دوسری شاعری بھی کریں ہم نے جو زمانہ گزارہ تھا کسی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اگر شاعری کریں تو پہلے کسی بڑے شاعر کو دکھادیں اپنی اصلاح کے لئے پھر کسی فنکار کو شایع کرنے کے لئے دیں۔ 

س: آپ بطور پریس کلب کے بانی بھی کام کر رہے ہیں اس حوالے سے کیا کیا کام ہیں؟
 ج: پریس کلب میں بہت سے کام ہوتے ہیں جیسے نیوز دینا، اخبار نکالنا پریس کلب میں ہر ۲ سال میں صدر بدلتا ہے۔ موجودہ صدر بشارت قائم خانی ہے صدر کے علاوہ جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔پریس کلب میں کوئی اختلاف نہیں ہے سندھی٬ پنجابی٬ بلوچی سب شامل ہیں 

س: شاعری کے لحاظ سے آنے والی نئی نسل کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
 ج: شاعری کے لحاظ سے یہی مشورہ دوں گا کہ شاعری کا شوق رکھتے ہیں تو شاعری کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کی عزت کریں ماں باپ کے وفادار بنیں ٬ خواتین کا احترام کریں ہم جب بنیوں پر جاتے تھے تو خواتین جہاں بھی آتی تھیں تو ہم ان کو آتے دیکھ اپنا راستہ بدلےا کرتے تھے شاعری کے زرےعے اپنا نام بنائیں۔ 

س: آپ کو ایک کے بعد ایک کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
 ج: شاعری ایک کے بعد ایک مجموعے میں آگے بڑھتی گئی میری ۵ کتابیں شایع ہو گئیں اور چھٹی کتاب بھی لکھ دی لیکن چھپی نہیں ہے شاعری کو دیکھتے ہوئے کتابیں اپنے آپ بڑھتی گئیں میرے دماغ میں جو کچھ ہوتا تھا کتاب کی صورت میں لکھ دیا کرتا ہوں ۔ 

س: آپ کو یہ خیال کیسے آیا کہ گانے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر نشر کروانے چائیے؟
 ج: اس وقت جو میوزک موسیقار تھے ان میں ۱۰۰ سے زیادہ موسیقار جیسے عابدہ پروین تک سب کے گانے نشر ہوئے تھے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر اس وقت سندھ میں صرف حیدرآباد اور کراچی میں ایف۔ایم ریڈیو تھا ان سب کو دیکھ کر شوق
 بھی پیدا ہوا اور مشورہ بھی ملا


Misbah-ur-ruda 
2k14/MC/52, Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi


Monday, 1 February 2016

WMC workshop report By Misbah


Misbah-ur-Ruda
2k14/MC/52
wmc report
Medium: Urdu
WMC REPORT
ومن میڈیا سینٹر کی طرف سے انڈس ہوٹل حیدرآباد میں لڑکیوں کے لیے ۵ دن کی الیکٹرونک میڈیا کورس ٹرینگ رکھی گئی NED کی مدد سے جو قاضی آصف ٬ زویہ خان٬ نازیہ قریشی ٬ محمد فاروق نے مل کر رکھی تھی جس کا موزوں تھا Humanistics beliefs and practices of sufism to counter ‘ Extremism ‘ جس میں مختلف  ٹرینرز کو بلایا گیا پہلے دن پریس کانفرنس کا سیشن رکھا گیا جس میں پی ۔پی۔پی کے ایڈوائزر اور فیڈرل منسٹر حیدرآباد مولا بخش چانڈیو نے پریس کانفرنس کی اور لڑکیوں کو کچھ خاص باتیں بتائیں کہ حوصلہ رکھیں اور سچائی پر اپنا یقین رکھیں گی تو کوئی طاقت آپکو آگے جانے سے روک نہیں سکتی یہی پاکستان کی ترقی کا راز ہے تنقید برداشت کرنی ہونگی آج نفرتوں کی فضاء تھم گئی ہے آپ کی کوششوں سے ٬ آپ ہمت کریں اور اسلام کا راستہ اختیار کریں اس کے علاوہ سہیل سانگی ٬ خورشید فوزیہ شاہین نے شرکت کی اور اپنے تجربات کے بارے میں لڑکیوں کو بتایا پہلے دن کے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے الیکٹرونک میڈیا کی اسکرپٹ رائٹنگ کے بارے میں سمجھایا دوسرے دن بھی سیشن رکھے گئے جس میں پہلے سیشن میں زائد کلہوڑو صاحب آئے اور انھوں نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ کسی بھی خبر کے لئے کریڈیبلیٹی ہونا ضروری ہے اور خبر بنانے کا طریقہ آنا ضروری ہے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے بیسکس اوف رائٹنگ بتایا ایز ۔ لائف کا طریقہ بتایا اور کیمرے کے سامنے سب سے ایز۔لائف لی تیسرے سیشن میں زیب سندھی صاحب آئے اور پھر چوتھے سیشن میں سر قاضی آصف نے پیکج دکھایا اور اس کا طریقہ سکھایا تیسرے دن سر محمد فاروق نے ٹرینگ کا آغاز کیا اور سب سے پہلے سب کو اپنے تعارف کے ساتھ ایک خوبی اور ایک خامی بتانے کو کہا اور خود نے بھی بتائی پھر مسعود لوہار نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر سر محمد فاروق نے شوٹ کا طریقہ بتایا کہ کسی بھی شوٹ کے لئے پہلے اس کی تیاری کرنی چائیے پھر لڑکیوں کو ۲ گروپ میں تقسیم کر کے کیمرے کے تمام حصوں کا بتایا ٬ کیمرہ چلانا سکھایا اور لڑکیوں سے پریکٹس بھی کروائی پھر جامی چانڈیو صاحب آئے اور مزہبی انتہا پسندی کے بارے میں بتایا کہ سچ کو دیکھنا چاہئے کچھ لوگ سوچتے ہیں میری بات آخری ہے میں جو سوچ رہا ہوں وہ صحیح ہے باقی لوگوں کو ماننا پڑے گا چاہے کچھ بھی ہو نہیں مانیں گے تو آپ کو چھوڑینگے نہیں کیونکہ ان کا وجود نا گوار گزرتا ہے انتہا پسندی کی بنیاد وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عقل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے عقل انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے عقل کبھی خراب نہیں ہوتی انتہا پسندی سے مراد یہی ہے کہ عقل کھودیں اور خود کو اعلی سمجھیں آخری سیشن میں سر محمد فاروق نے پی۔ٹی۔سی سیکھائی اور پھر تمام لڑکیوں سے کیمرے کے سامنے پی۔ٹی۔سی لی چوتھے دن بھٹ شاہ اور اوڈیرو لال لے کر گئے لڑکیوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں گروپوں کو پیکج بنانے کا کہا گیا دونوں گروپوں نے وہاں موجود لوگوں سے معلومات حاصل کی اور ہر منظر کو کیمرے میں قید کیا اوڈیرولال میں مندر اور مسجد دونوں برابر میں تھے ایک ہی وقت میں آزانیں بھی ہوتی اور گھنٹیاں بھی بجتیں یہ ا س بات کا ثبوت ہے کہ ہندو ہو یا مسلم سب مل کر رہتے ہیں کسی میں کسی قسم کا کوئی اختلافات نہیں آخر میں تمام لڑکیوں نے وہاں کی پی۔ٹی۔سی دی پانچویں دن دونوں گروپوں سے رپورٹ بنانے کے لئے او۔سی اور وی۔او لیا گیا پھر پیر حسام الدین راشیدی نے آکر سوشل میڈیا ٹولز کے بارے میں بتایا اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر آخر میں سہیل سانگی نے تمام کڑکیوں میں سارٹیفیکیٹ تقسیم کئے اس ٹریننگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا اور اس میں بہت مزہ آیا


Friday, 29 January 2016

Ghani Park Tando Allahyar by Misbah-ur-Ruda




غنی پارک
مصباح
ٹنڈوالہیار میں سیروتفریح کی بات آتی ہے تو لوگوں کی زبانوں پر غنی پارک کا نام سرفہرست رہتا ہے۔ ویسے تو ہر
 خوبصورت صبح کا آغاز مرغوں کی اذان ٬ چڑیاو ¿ں کے چہچہانے اور لوگوں کا مسجد کی طرف رخ سے ہوتا ہے لیکن ٹنڈوالہیار کی خواتین اور مرد حضرات کی صبح کا آغاز نماز کے بعد غنی پارک میں ورزش سے ہوتا ہے جہاں صبح سویرے ہی لوگ بہت بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ پارک لڑکوں کے کھیل کے لیے ایک بہترین گراو ¿نڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

 سردیوں میں بوڑھے بزرگ دھوپ کھاتے ٬ چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے اور نوجوان موبائل پر لگے نظر آتے ہیں جبکہ گرمیوں میں نوجوانوں اور بزرگوں کا رش تروتازہ ہوا کے لیے نظر آتا ہے رات کے ٹائم غنی پارک کو ڈیٹ پوائنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

اس پارک جس جگہ ہے وہاں کچھ عرصہ پہلے دلدل ہوا کرتی تھی جسے اب بنا کر ایک خوبصورت پارک کا نام دے دیا گیا
ہے۔

شروع میں یہاں بچوں کے لیے جھولے لگائے گئے تھے جس سے یہ خاص بچوں کی توجہ کا مرکز بنا لیکن آہستہ آہستہ  بچوں کی یہ خوشی دور ہوگئی اور جھولے خراب ہونے کی وجہ سے انھیں ہٹا دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی تقریبات ہوتی ہیں جن میں ہر طرح کی سیاسی پارٹیوں پارٹیز کے جلسے، جلوس، شادی بیاہ کی تقریبات ٬ مینا بازار ٬ رنگ برنگے فیسٹیول ٬ فٹ بال٬ ٹینس٬ اور ہر طرح کے گیمز کھیلے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف پروگرامز بڑی تعداد میں منعقد ہوتے ہیں۔ریلی میں جانے کے لیے لوگوں کو ایک مخصوص ٹائم دے دیا جاتا ہے اور پھر اسی ٹائم پر ریلی غنی پارک سے ہی نکالی جاتی ہے اور وہیں اختتام پزیر بھی ہوتی ہے۔ 

بچوں کا کہنا ہے کہ وہاں با قاعدہ کرکٹ کے لیے پچز ہیں جس کی وجہ سے کھیل کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے اس لیے ہم کھیل کے لیے غنی پارک کا رخ کرتے ہیں یہاں تازہ ہوا سے کھیل میں ہار اور جیت کا مقابلہ بہت زبردست ہوتا ہے اور ہم سب دوست یہاں کھیل سے زیادہ غنی پارک کا مزہ لینے آتے ہیں۔ 

الیکشن کے زمانے میں ”جیتے گی بھئی جیتے گی“ تو کبھی ”راجہ کی آئے گی بارات“ جیسی مختلف قسم کی آوازوں سے گونجتا ہے جہاں ایک طرف یہ لوگوں کے لیے ایک تفریح کی جگہ ہے وہیں جو لوگ اس کے آ س پاس رہتے ہیں ان کے لیے پریشانی کی بھی وجہ ہے ان سب کے لیے روز روز کا شوروگل ان کی زندگی میں بہت سی پریشانیوں کا سبب بنتا ہے لیکن زےادہ تر لوگوں کا دھیان اب اس آواز کی طرف نہیں جاتا کیونکہ انھیں اب ان آوازوں کی عادت سی ہوگئی ہے 

غنی پارک کو سرکاری باغ کہنا درست نا ہوگا کیونکہ یہ ڈاکٹر راحیلہ گل مگسی کی بدولت دلدل سے غنی پارک کی شکل میں منتقل ہوا کوئی بھی ریلی ہو ٬ ۱۴ اگست کا جشن ہو یا نئے سال کی آتش بازیاں سب سے پہلے غنی پارک ہی میں رونق کا سماں ہوتا ہے

غنی پارک میں ٹورنامینٹ ہوتے ہیں جس میں بہت سی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں ٹنڈوالہیار میں ۳ سال پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر ٹورنامینٹ رکھا جس میں تمام اسکولوں نے آگے بڑھ کر حصہ لیا لیکن اس سے پہلے اسکولوں نے اپنی ٹیمیں تیار کرنے کے لیے پورے اسکول سے بچوں کو چن چن کر نکالا اور ایک مضبوط ٹیم تیار کی اور پھر ان کا آپس میں میچ رکھا نویں کلاس کا دسویں کلاس سے اور گیارہویں کلاس کا بارہویں کلاس سے پھر ان چارو ں ٹیموں میں سے جن دو ٹیموں نے فتح حاصل کی ان کا ایک دوسرے سے فائنل کروایا گیا اور فائنل جس ٹیم کا مقدر بنا اس کو اسکول کی طرف سے ددسرے اسکولوں کی فائنل ٹیم سے مقابلے کے لیے بھیجا گیا اور آ خر میں ایگل ہاو ¿س ہائیر سکینڈری اسکول نے پورے ٹنڈوالہیار سے کامیابی حاصل کی اور دوسرے نمبر پر فاو ¿نڈیشن پبلک اسکول نے دوسری پوزیشن حاصل کی 

اس میچ کے دوران اسکولوں کی لڑکیاں کالے برکھے میں میچ دیکھنے آتیں تھیں جس سے ٹنڈوالہیار کے لوگوں نے ایک نیا ہی نام نکال دیا تھا ’ غنی پارک میں کالے کوے ‘ اس کے علاوہ رمضانوں میں بھی ٹورنامینٹ ہوتے ہیں اور ٹیمیں دوسرے شہروں یا گاو ¿ں سے آکر حصہ لیتی ہیں اور ساتھ ہی ڈھول بجا کر ماحول کو تازگی بغشتے ہیں اور اپنی اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں

غنی پارک لوگوں کے لیے ایک مکمل گزرگاہ ہے غنی پارک کے سامنے رہنے والے ایک لڑکے کا کہنا ہے کہ اچھی ہوا کی وجہ سے میرے والد صاحب ایک دفعہ گرمی کے باعث اور لائٹ نا آنے کی وجہ سے تختہ لگا کر غنی پارک میں سو رہے تھے کہ اچانک ایک کتا بھونکا ان کی آنکھ کھلی تو انھوں نے کتے کو اپنی طرف آتا دیکھا وہ ایک دم چونک اٹھے اور سامان کی پرواہ کئے بغیر گھر کی طرف
 دوڑ لگائی غنی پارک لوگوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے غنی پارک کبڈی اور مرغے کی لڑائیوں کا اہم مرکز ہے ویسے تو غنی پارک ایک عام سا میدان ہے لیکن لوگ کسی طور بھی اسے عام نہیں سمجھتے


Misbah-ur-Ruda
2k14/MC/52
Feature: Gani Park
Medium : Urdu 

Thursday, 28 January 2016

Profile of Raziqdino Sonaro by Misbah

پروفائل
                    طلبہ سیاست سے حکیم تک کا سفر : رازق ڈنو سونارو 
   

پروفائل   تحریر و تحقیق: مصباح


کچھ لوگ تاریخ پڑھ کر تاریخ کو سمجھتے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں جو تاریخ کا حصہ رہتے ہیں۔ اور یوں تاریخ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کہانی ایک جیالے کی ہے جو سنار تھے ، پہلے سیاسی کارکن اور بعد میں حکم بن گئے۔ 

پیپلز پارٹی ضلع ٹنڈوالہیار کے انفارمیشن سیکریٹری رزاق ڈنو سونارو ۲۵ فروری ۱۹۵۶ میں پیدا ہوئے۔ شہباز کالونی ٹنڈواالہیار میں رہتے ہیں۔ ا بتدائی تعلیم اپنے ضلع سے حاصل کرنے کے بعد میٹرک اور انٹر ایس ۔ ایم کا لج سے کیا ۔پوسٹ گریجویٹ پولٹیکل سائنس میں کیا۔ اور ایم ۔اے ۱۹۷۷ میں سندھ یونیورسٹی سے کیا۔ آپ ۱۹۷۰ سے پی۔پی ۔پی کے میمبر ہیں۔

ان کا خاندانی کاروبار سونار کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہیں۔ہیپٹائٹس ۔بی اور ہیپٹائٹس ۔سی کا علاج بھی کرتے ہیں کسی عطا کئے ہوئے نسخے کے ذریعے ۔ خاندانی زبان سرائیکی ہے۔لیکن آپ کو انگلش ٬اردو٬سندھی٬ہندکو ٬مارواڑی غرض مقامی تمام زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

 ۲۶جون ۱۹۸۹ میں شادی ہوئی آپ کی ۳ بیٹیاں اور ۵ بیٹے ہیں ٬ آپ کی زوجہ بھی پی۔پی۔پی کی جرنل سیکریٹری ہیں۔ ضلع ٹنڈوالہیار میں مختیار بانو نام سے جانی جاتی ہیں۔ ۲ بےٹے پی۔پی۔پی میں عملہ طور تنظیم میں شامل ہیں۔ آپ کا ایک بیٹا نوکری جبکہ ایک سب سے بڑا بیٹا حادثے میں شہید ہوگیا اور ایک بےٹی اور ۲ بیٹے پڑھ رہے ہیں آپ کے کوئی بھائی نہیں ہیں جبکہ ۲ بہنیں ہیں۔ 

 رازق ڈنو سونارو ایس۔ایم کالج طلبہ یونین کے صدر بھی رہے ہیں۔ اور ۱۷۷۷ میں ڈگری کالج میں رہے۔ سیاسی مسئلے پر دو کتابیں لکھیں سندھی زبان میں۔ جس میں اس وقت کے حالات و صورتحال کے مطابق مطالبے کئے۔ ۱۹۸۱ کے بعد پی۔پی۔پی کے ہر کام میں آگے بڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔

رازق ڈنو سونارو لوگوں کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہے ہیں۔آپ ٹنڈواالہیار کی ایک بہت مشہور اور باوقار شخصیت ہیں۔ لوگ دور دور سے آپ کے پاس علاج کے لئے آتے ہیں۔ آپ کا علاج بہت فائدہ مند ہے۔ 

بچپن سے پی۔پی۔پی مےں دلچسپی ہونے کی وجہ سے پی۔پی۔پی میں شمولیت اختیار کی۔ آپ ایک سیاسی کارکن بھی ہیں قوم کی خدمت انجام دینے کے لئے اور اپنی پارٹی سے متعلق کام کے لئے اسلام آباد٬ لاہور ہر بڑے شہر میں جاتے رہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔

آپ سے پہلی ملاقات ۱۹۷۸ میں کی۔ ہر کارکن اپنے لیڈر کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ ہر لیڈر کارکنان کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے۔ جن کے مطابق وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی میں ۴۰ سال سے پہلے سے موجود ہیں۔اس وقت پیپلز پارٹی کے چئیرمین زوالفقار علی بھٹو سے فروری ۱۹۷۰ میں حیدرآباد میں ملاقات کی۔ ٹنڈواالہیار شہر کے پہلے پی۔پی۔پی صدر محمد رمضان سونارو جو رازق ڈنو سونارو کے ماموں تھے۔ ان ہی کے ساتھ چھوٹے کارکن کی طرح کام کرنا شروع کیا۔ 

۱۹۷۷ میں جب مارشل لا ختم ہوئی تو لاڑکانہ سے روہڑی اور روہڑی سے کراچی پھر حیدرآباد تک سفر کیا اور بہت لمبی ملاقات کی ۔ اسی ملاقات میں غلام مصطفی جتوئی، ممتاز بھٹو اور میر مرتضی بھٹو بھی موجود تھے۔ 

آپ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام بڑے بڑے عہدیداروں سے پی۔پی۔پی کے جلسے، جلوس اور اکثر وزیراعظم ہاﺅس سمیت المرتضی ہاﺅس میں بھی ملاقات ہوئی ۔ ان کے دوستانہ مزاج کو رازق ڈنو سونارو کہتے ہیں: میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ آپ نے سید قائم علی شاہ ، بلاول بھٹو ، آصف علی زرداری سب سے ملاقات کی ہوئی ہے۔ اور سب کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ رازق ڈنو سونارو پارٹی قیادت کے بہت قریب رہے ہیں۔

رازق ڈنو سونارو کو ان کی اعلی کارکردگی پر مختلف قسم کے اعزازات بھی ملے ہیں آپ کو حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ آپ کے کہنے کے مطابق خانہ کعبہ میں آپ کے چھوٹے بیٹے کی پیشانی پر اللہ نام ظاہر ہوا ۔ اور بڑے بیٹے کو پہلے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ 

آپ ایک جفاکش انسان ہیں جو لوگوں کے کام آنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ لوگ آپ میں موجود صلاحیتوں سے واقف ہیں اور آپ پر پورا یقین بھی کرتے ہیں۔ آپ کے پاس مسائل لے کر آتے ہیں تا کہ آپ ان کا کوئی حل نکال سکیں۔آپ ٹنڈوالہیار کے علاوہ بھی دوسرے شہروں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس سے قبل بھی بہت بار دے چکے ہیں۔ 

آپ نے اپنی پوری زندگی فلاح وبہبود کے کاموں کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اپنی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے دل کے بائے پاس کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو نے سرکاری طور پر پانچ لاکھ روپے دیے لیکن اللہ کی مہربانی سے اینجوگرافی کے زریعے دل کا وال کھل گیا اور آپریشن کی ضرورت نہ پڑی تو میں نے چار لاکھ اسی ہزار ایک لیٹر(لفافے) کے ساتھ واپس کردئیے ۔ جس پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے بلاول ہاﺅس میں بلا کر شاباشی دی یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ 

اس کے علاوہ بھی میری بہت سی یادیں پی۔پی۔پی سے آراستہ ہیں ، جو کسی تعریف کی محتاج نہیں ہیں۔

رازق ڈنو سونارو میں بہت سی خداداد صلاحیتیں موجود ہیں۔ آپ دائرے میں رہ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں آپ کو ایک سلجھا ہوا شخص یا کارکن کہنا غلط نہ ہوگا۔
PROFILE- RAZIQ DINO SONARO
 MISBAH-UR-RUDA     

       ROLL NO: 2K14/MC/52
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh 

Thursday, 21 January 2016

referred back Girls of Tando Allahyar and sports

REvised
               NAME: MISBAH-UR-RUDA                                
       ROLL NO: 2K14/MC/52                  
ARTICLE                    


آرٹیکل
ٹنڈوالہیارمیں لڑکیوں کی کھیلوںمیں دلچسپی / ٹنڈوالہیار میں لڑکیوں کے کھیل:
مصباح خان
پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکیاں کھیل کے میدان میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں کھیل کے میدان میں خواتین کے بہت بڑے بڑے نام ہمارے سامنے موجود ہیں ٹنڈو الہیار شہر میں جہاں لڑکے کھیلوں میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں وہیں     
لڑکیاں بھی گھروں ِ سے باہر نکل کھیلنے کو بے تاب نظر آتی ہیں لیکن وہیں دوسری طرف ایک لڑ کی ہو نے کی وجہ سے ا نہیں کھیلنے کی ا جازت نہیں دی جا رہی ہو تی گھر والے لڑ کیوں کے باہر نکلنے کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے ؟ کیا لڑکی ہونا گناہ ہے ؟ نہیں ہے ٬ بلکل نہیں ہے جہاں گھر والے لڑکوں کو گھر سے نکالنے میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے وہیں کچھ گھر والے لڑ کیوں کے باہر جا نے سے بھی پریشان نہیں ہیں اور بلکہ ان کا حوصلہ  بڑ ھانے کے لئے خود آگے بڑھ کر ان کو مستقبل کی راہوں مےں ہموار کر تے ہیں ٹنڈوالہیار میں لڑکیاں مختلف کھیل کھیلتی رہی ہیں اور آج بھی بڑی تعداد میں دکھائی دیتی ہیں اسکولوں کی طرف سے بڑھ چڑ ھ کر کر کٹ میں حصہ لیتی ہیں چند دنوں پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر ایک ٹورنامنٹ رکھا جس میں تمام لڑکیوں کی صلاحیت ابھر کر سامنے آئی اسکولوں مےں ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈری اسکول٬ اقراء ہائیر سکینڈری اسکول٬ فاﺅنڈیشن پبلک اسکول اور ان کے علاوہ بھی بہت سے اسکول شامل تھے اس سے قبل لڑکیاں پر زور انداز میں کرکٹ کی پریکٹس کے لئے مختلف گراﺅنڈ میں نظر آ ہیں لڑکیوں کی دلچسپی دیکھ کر جو لوگ اپنی بیٹیوں کو گھر سے نکلنے نہیں دے رہے تھے ؑؑؑٓؑٓ±َانھوں نے بھی اپنی بچیوں کی قابلیت دیکھ کر ان کو باہر جانے کی ٬ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ا جازت دی

سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدآباد میں موجود ایک بہت بڑا اسکول ہے (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول نے راشدآباد میں ٹنڈوالہیار کی تمام لڑکیوں کے کھیلنے کے لئے ٹورنامینٹ منعقد کیا جس میں ہر قسم کے گیم وغیرہ تھے تمام اسکولوں کی لڑکیوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ٹینس٬فٹبال ٬بیڈ مینٹن ٬ہاکی اور کرکٹ وغیرہ سب کھیل موجود تھے کرکٹ کے میدان مےں ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈ ری اسکول کی لڑکیاں بازی مارکر اول نمبر پر رہیں جبکہ دوسرے کھیلوں جیسے فٹبال میں فاﺅنڈیشن پبلک اسکول کی لڑکیاں اول نمبر پر اور ایگل ہاﺅس ہائیر سکینڈری اسکول کی لڑکیاں دوسری پوزیشن حاصل کر کے کامیاب رہیں اس کے علاوہ ہر کھیل میں کوئی نہ کوئی اسکول اول نمبر پر رہا یہ موقع تمام لڑکیوں کے لئے بہت مستفیض ثابت ہوا سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدآباد میں جہاں لڑکیاں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے پر بازی مار رہیں تھیں وہیں دوسرے کاموں میں بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں لڑائی جھگڑے میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور ایک دوسرے کو یہ بتا دیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں لڑکیوں کے کھیل کے دوران جہاں وہ کمزور ہونے لگتیں تو دوسری لڑکیاں نارے بازی کر کے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتیں اور اسی حوصلے اور ہمت سے جو اعتماد اور یقین والدین اور اساتزہ نے لڑکیوں پر جو    یقین دکھایا تھا تمام لڑکیوں نے اس یقین پر کھرا اتر کر دکھایا اور کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور خود کی ایک الگ پہچان بنائیاس کے علاوہ ٹنڈوالہیار مےں کیلیگرافی ٬پینٹنگ ٬تقریر٬گانے اور نعت کا مقابلہ بھی رکھا گیا جس میں بھی لڑکیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اعلی اعلی قسم کی تصاویر سے ماحول خوبصورت بنایا اور پیارے پیارے نام لکھ کر مقابلے کو رونق بخشی جہاں اس مقابلے میں طالب علم شامل تھیں وہیں اساتزہ اور خواتین بھی اس کھیل مےں پےچھے نہیں رہیں لڑکیوں اور خواتین کی اس محنت اور کوششوں کے بعد انھیں پہلی اور دوسری پوزیشن سے نوازا گیا ساتھ ہی جو لڑکیاں تھوڑا پیچھے رہ گئیں تھیں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان میں سارٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے جو لڑکیاں کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھیں ان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ ہماری یہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ملک کی تقدیر بدل دیں گی مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر بھی اس بات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی اس قابلیت سے فائدہ اٹھائے اس حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب اس جنون میں ایک تاریخی منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ کسی بھی طرح نہ تو قابل قبول ہے اور نا ہی ملک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی کھیل کے میدان مےں سکہ جمانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ خود میں سے کمزوری کو ختم کیا جائے آج ہم ایک دوسرے سے ہر معاملے میں اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں 

سنو ! گھر بیٹھ کر شیرنی مت بنو بلکہ اپنی صلاحیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں شیرنی بنو وہ شیرنیاں بنو جنہوں نے کھیل کے میدان میں اپنی پوری زندگی لگادی اور کھیل کی دنیا کو اس مقام پر لے آئیں کہ آج پوری دنیا کے لوگ اس سے بہت سے مزے اور فائدے اٹھاتے ہیں کھیلوں پر ہمارا موقف واضح ہے اور کھیل ہماری طاقت ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کھیل کے میدان میں نا اہلی اور سستی دکھا کر ہمارا  کھیل پر موقف نرم ہو اور صلاحیت ہونے کے باوجود بھی کھیل کے میدان میں حصہ نا لینے کے مسئلے پر پس پشت ڈال دی جائے


Mistakes in composing.  which can only be seen  on web site. It is problem of Chhoti " ye" and barri "ye"
COntent is ok,  If she has some pix of sports  competition that will be great
NAME: MISBAH-UR-RUDA ROLL NO: 2K14/MC/52 ARTICLE
 مصباح
 ٹنڈوالہیار کی لڑکیوں کی کھیل میں دلچسپی / ٹنڈوالہیار میںلڑکیوں کے کھیل:
                         

مصباح
ٹنڈوالہیار کی لڑکیوں کی کھیل میں دلچسپی /
 ٹنڈوالہیار میںلڑکیوں کے کھیل:
پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ل ©ڑکیاں کھیل کے میدان میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں کھیل کے میداں میں خواتیں کے بہت بڑے بڑے نام ہمارے سامنے موجود ہیں ٹنڈو الہیار شہر میں جہاں لڑکے کھیلوں میں دلچسپی لیتے نظر ا ¿تے ہیں وہیں لڑکیاں بھی گھروں ِ سے باہر نکل کھےلنے کو بے تاب نظر ا ¿تی ہےں لیکن وہیں دوسری طرف ایک لڑ کی ہو نے کی وجہ سے ا نھےں کھےلنے کی ا جا © ©زت نہےں دی جا رہی ہو تی گھر والے لڑ کےوں کے باہر نکلنے کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے ؟ کیا لڑکی ہونا گناہ ہے ؟ نہیں ہے ٬ بلکل نہیں ہے جہاں گھر والے لڑکوں کو گھر سے نکالنے میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے وہیں کچھ گھر والے لڑ کےوں کے باہر جا نے سے بھی پرےشان نہےں ہےں اور بلکہ ان کا حوصلہ بڑ ھانے کے لئے خود ا ¿ گے بڑھ کر ان کو مستقبل کی راہوں مےں ہموار کر تے ہےں


ٹنڈوالہےار مےں لڑکےاں مختلف کھےل کھےلتی رہی ہےں اور ا ¿ج بھی بڑی تعداد مےں دےکھائی دےتی ہےں اسکولوں کی طرف سے بڑہ چڑ ھ کر کر کٹ مےں حصہ لےتی ہےں چند دنوں پہلے مختلف اسکولوں نے مل کر اےک ٹورنامنٹ رکھا جس مےں تمام لڑکےوں نے کی صلاحےت ابھر کر سامنے ا ¿ئیں اسکولوں مےں اےگل ہاﺅس ہائےر سےکےٹذری اسکول٬ اقراء ہائر اسکول٬ فاﺅنڈےشن اسکول اور بہت سے اسکول شامل تھے اس سے قبل لڑکےاں ¿پرزور انداز مےں کرکٹ کی پرےکٹس کے لئے مختلف گراﺅنڈ مےں نظر ا ¿ ہےں لڑکےوں کی دلچسپی دےکھ کر جو لوگ اپنی بےٹےوں کو گھر سے نکلنے نہےں دے رہے تھے ؑؑؑٓؑٓ ±َانھوں نے بھی اپنی بچیوں کی قابیلیت دیکھ کر ان کو باہر جانے کی ٬ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ا جازت دی


سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدا ¿باد میں موجود ایک بہت بڑا اسکول ہے (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول نے راشدا ¿باد میں ٹنڈوالہیار کی تمام لڑکیوں کے کھیلنے کے لیے ٹورنامینٹ منعقد کیا جس میں ہر قسم کے گےم وغےرہ تھے تمام اسکولوں کی لڑکےوں نے اس مےں بڑھ چڑھ کر حصہ لےا ٹےنس٬فٹبال ٬بےڈ مےنٹن ٬ہاکی اور کرکٹ وغےرہ سب کھےل موجود تھے کرکٹ کے مےدان مےں اےگل ہاﺅس ہائےر سےکنڈری اسکول کی لڑکےاں بازی مارکر اول نمبر پر رہےں جبکہ دوسرے کھےلوں جےسے فٹبال مےں فاﺅنڈےشن پبلک اسکول کی لڑکےوں نے اول نمبر اور اےگل ہاﺅس ہائےر سےکنڈری اسکول کی لڑکےاں دوسری پوزےشن حاصل کر کے کامےاب رہےں اس کے علاوہ ہر کھےل مےں کوئی نہ کوئی اسکول اول نمبر پر رہا ےہ موقع تمام لڑکےوں کے لئے بہت مستفےض ثابت ہوا


سرگودیل اسپرٹ ٹرسٹ (ایس ۔ ایس۔ٹی) اسکول راشدا ¿باد مےں جہاں لڑکےاں کھےل کے مےدان مےں اےک دوسرے پر بازی مار رہی تھےں وہےں دوسرے کاموں مےں بھی کسی سے پےچھے نہےں تھےںلڑائی جھگڑے مےں بھی اپنی صلاحےتوں کے جوہر دکھائے اور اےک دوسرے کو ےہ بتا دےا کہ ہم بھی کسی سے کم نہےں لڑکےوں کے کھےل کے دوران جہاں وہ کمزور ہونے لگتےں تو دوسری لڑکےاں نارے بازی کر کے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتےں اور اسی حوصلے اور ہمت سے جو اعتماد اور ےقےن والدےن اور اساتزہ نے لڑکےوں نے دکھاےا تھا تمام لڑکےوں نے اس ےقےن پر کھرا اتر کر دکھاےا اور کھےل کے مےدان مےں اپنا لوہا منواےا اور خود کی اےک الگ پہچان بنائی۔


اس کے علاوہ ٹنڈوالہےار مےں کےلیگرافی ، پےنٹنگ،تقرےر ،گانے اور نعت کا مقابلہ بھی رکھا گےا جس مےں بھی لڑکےوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لےا اعلی اعلی قسم کی تصاوےر سے ماحول خوبصورت بناےا اور پےارے پےارے نام لکھ کر مقابلے کو رونق بخشی جہاں اس مقابلے مےں طالب علم شامل تھےں وہےں اساتزہ اور خواتےن بھی اس کھےل مےں پےچھے نہےں رہےں لڑکےوں اور خواتےن کی اس محنت اور کوششوں کے بعد انہےں پہلی اور دوسری پوزےشن سے نوازا گےا ساتھ ہی جو لڑکیاں تھوڑا پیچھے رہ گئیں تھیں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان میں سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے جو لڑکیاں کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھیں ان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ ہماری یہ چھپی ہوئی صلاحیتیں ملک کی تقدیر بدل دیں گی مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر بھی اس بات پر کوئی عمل درامد نہیں ہوسکا ہر کوئی چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی اس قابلیت سے فائدہ اٹھائے اس حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جب اس جنون میں ایک تاریخی منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ کسی بھی طرح نہ تو قابل قبول ہے اور نا ہی ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی کھےل کے مےدان مےں سکہ جمانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ خود میں سے کمزوری کو ختم کیا جائے آج ہم ایک دوسرے سے ہر معاملے میں اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں


سنو ! گھر بیٹھ کر شیرنی مت بنو بلکہ اپنی صلاحیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں شیرنی بنو وہ شیرنیاں بنو جنہوں نے کھیل کے میدان میں اپنی پوری زندگی لگادی اور کھیل کی دنیا کو اس مقام پر لے آئیں کہ آج پوری دنیا کے لوگ اس سے بہت سے مزے اور فائدے اٹھاتے ہیں کھیلوں پر ہمارا موقف واضح ہے اور کھیل ہماری طاقت ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کھیل کے میدان میں نا اہلی اور سستی دکھا کر ہمارا  کھیل پر موقف نرم ہو اور صلاحیت ہونے کے باوجود بھی کھیل کے میدان میں حصہ نا لینے کے مسئلے پر پس پشت ڈال دی جائے