Showing posts with label علی اعزاز. Show all posts
Showing posts with label علی اعزاز. Show all posts

Saturday, 20 February 2016

Anthropology

 Revised 
پروف کی ابھی بھی بہت غلطیاں تھیں جو میں نے ٹھیک کی ہیں۔ 
شبہ کے سربراہ کا صحیح نام کیا ہے؟ یہ ہم نے آپ سے پہلے بھی پوچھا تھا۔ مکتار ہے یا مختیار؟ وہ اپنے نام کے ساتھ محمد لکھتے ہیں یا نہیں؟ 
کیا پورے شعبے میں دو ہی اساتذہ ہیں؟ یہ شعبہ پہلے آرکیالوجی کے ساتھ تھا۔ یعنی دونوں شعبے ساتھ تھے۔ اب الگ الگ ہیں یا ساتھ ہیں؟ طلبہ کی تعداد کتنی ہے؟ 
علی اعزاز
Bs Part 3
2k14/mc/126
اینتھروپالوجی
 سندھ یونیورسٹی کہ چھپن شعبہ میں سے ایک شعبہ علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم یعنی اینتھروپالوجی انسان کی تاریخ اور اُس کی قدیم روایتی تہذیب و ثقافت کہ علم کو اُجاگر کرتا ہے،
سندھ یونیورسٹی میں علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم اس کی شروعات 2008 میں نیچرل سائنس آرٹس فیکلٹی ڈاکڑ محمد مختیار قاضی نے کی جو کہ وقدیم چیزوں کہ علم میں بہت مقبول مانے جاتے ہےں،اُس سے پہلے سندھ یونیورسٹی میںاینتھروپالوجی اس کا کوئی نقطے نظر سامنے نہ تھا جیسے جیسے وقت گزارتا گےا لوگوں کو اُ س شعبہ کی اہمیت انسانی علم کی تاریخ اور قدیم چیزون کے روایتی ثقافت تہذیب کہ بارے میں جانے کی دلچسپی پیدا ہوتی گئی، قدرتی سائنس کہ شعبہ میںاینتھروپالوجی میں شاگردں کو کلاس روم کی کمی اور لائبریری بہت سی چیزوں کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔

آ رٹس فیکلٹی عمارت میں بہت سے اور بھی شعبہ کی وجہ سے اینتھرپالوجی کے طلبہ کو ان کہ اساتذہ کو اپنے لئے ایک الگ بلڈنگ کا مطالبہ منظور کیا گیا۔ اس سال 2016میں انہیں سندھ یونیورسٹی میں قائم سندھ ورسٹی کتاب گھر وہاں کی بلڈنگ کو خالی کروا کراینتھرپالوجی کے طلبہ اور اساتذہ کے لئے منظور کر دیا گےاہے۔اب اس شعبہ میں ڈاکٹر پروفیسر میڈم زاہدہ رحمان اور شعبہ کی بنیاد رکھنے والے ڈین محمد مختیار قاضی جیسے مشہور اساتذہ اپنے تاریخی علم انسان کے علم کو طلبہ میںفراہم کر رہے ہےں۔

 علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کو پاکستان میں بہت ہی کم اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ کہ پاکستان کہ کلچر میں علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کو نہیں پڑھاےا جاتا اور سندھ یونیورسٹی میں چار سال کا بیچلر ہی کراےا جاتا ہے۔ شعبہ میں اساتذہ کی کمی کی واجہ سے یہاں پر ماسٹرز نہیں کراےا جا رہا اگر انتظامیہ اس شعبہ کے طلبہ اساتزہ اور اس کے شعبہ پر تواجہ دے گے تو انسان کے علم میں تاریخی اور ہمارے آنے والی نسلوں کو انسانی علم اور قدیم چیزوں کی روایتی صقافت کو برقرار رکھنے میں بہت سی مدد مل سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو سندھ یونیورسٹی کے اس شعبہ میں جو اس کو قائم ہوے ان اٹھ نو سالوں میں ہی اینتھرپالوجی کے پاس کردہ شاگردوں مین سے 2k09شاگردہ ملیحہ شاہ اور 2k10شاگردہ افتخار پتافی نے سندھ ےونیورسٹی میں ہونے والے ڈاکڑ این اے بلوچ اسپیشل ایوارڈ ر دوسالوں تک حاصل کےا ہے۔

 یہاں سے چار سال کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس شعبہ کے ناموارشاگرآج چائنا اور اٹلی میں اپنی بقیہ تعلیم حاصل کرنے مین گامزن ہے شعبہ علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے شاگردوں کو اُن کی تعلیمی میار تو انہیں بہتریں طریقہ سے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں دی جارہی ہے دی جارہی ہے ، لکن پاکستان میں ان شعبوں سے منسلک شدہ طلبہ کو ان کے آنے والے بہتریں مستقبل کی ضمانت نہیںدی جا رہی ،

 حکومتِ پاکستان کوبھی چاہیے وہ اس شعبہ سے منسلک شدہ طلبہ کو ان کے بہترین مستقبل کی ضمانت دے اور انہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کرے تاکہ علمِ انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے یہ طلبہ اپنی اس محنت کواسی جوش اور جذبہ کے ساتھ جاری و ساری رکھیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------
 یہ کس شعبے کا ذکر ہےَ ؟ کوئی نام ہی نہیں دیا ہوا؟ 
کہیں پر بھی کاما ، فل اسٹاپ نہیں۔ کوئی پیرگراف بھی نہیں۔ جہاں نئی بات یا نئی انفرمیشن شروع ہوتی ہے وہاں نیا پیرا ہونا چاہئے۔ 
 ٰہ کیا لفظ ہے؟ ”صقافت“
 کیا مختا ر قاضی صاحب اپنا نام ”محمد مختیار “لکھتے ہیں؟ میرا خیال ایسا نہیں۔ 
 شروع کا جملہ جس کو پریکیٹ کیا ہے وہ اضافی ہے۔ اس کی ضرورت نہیں۔ 
 پروف کی بہت غلطیاں ہیں ایک بار لکنے کے بعد پڑھ لیتے تو خاصا بہتر ہو سکتا تھا۔ 

علی اعزاز 
Bs Part 3 
2k14/mc/126
علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم
یہ آرکیالوجی ہے یا اینتھروپالوجی؟
(یوں دیکھا جائے ملک میں یونیورسٹی تو بہت سی قائم شدہ ہےں مگر سندھ یونیورسٹی جو کہ اپنی جگہ اپنی قدیمی حصیت پر قائم ہے)
 سندھ یونیورسٹی کہ چھپن شعبہ میں سے ایک شعبہ علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم یعنی جواانسان کی تاریخ اور اُس کی قدیم روایتی تہذیب وصقافت کہ علم کو اُجاگر کرتا ہے سندھ یونیورسٹی میں علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم اس کی شروعات 2008 میں نیچرل سائنس آرٹس فیکلٹی ڈاکڑ محمد مختیار قاضی نے کی جو کہ وقدیم چیزوں کہ علم میں بہت مقبول مانے جاتے ہےںاُس سے پہلے علم سندھ یونیورسٹی میں انسان اور قدیم چیزوں کا علم اس کا کوئی نقطے نظر سامنے نہ تھا جیسے جیسے وقت گزارتا گےا لوگوں کو اُ س شعبہ کی اہمیت انسانی علم کی تاریخ اور قدیم چیزوں کے روایتی صقافت تہذیب کہ بارے میں جانے کی دلچسپی پیدا ہوتی گئی قدرتی سائنس کہ شعبہ میں علم اور انسان اور قدیم چیزوں کے علم میں شاگردں کو کلاس روم کی کمی اور لائبریری اور بہت سی چیزوں کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا آ رٹ فیکلٹی میں بہت سے اور بھی شعبہ کی وجہ سے علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے طلبہ کو انکلے اساتذہ کو اپنے لئے ایک الگ تعمیر بلڈنگ قائم کر نے کا مطالبہ منظور کروانے پڑھا جو کہ اس سال 2016میں انہیں سندھ یونیورسٹی میں قائم سندھ ورسٹی کتاب گھر وہاں کی بلڈنگ کو خالی کرعاکر علم انسان اور قدیم چیزوں کی علم کے طلبہ اور اساتذہ کے لئے منظور کر دیا گےا اب اس شعبہ میں ڈاکٹر پرروفیسر میڈام زاہدہ رحمان اور شعبہ کی بنیاد کردہ ڈین محمد مختیار قاضی جیسے مشہور اساتذہ اپنے تاریخی علم انسان کے علم کو طلبہ میں فراہم کر رہے ہےں علم انساں اور قدیم چیزوں کے علم کو پاکستان مین بہت ہی کم تر اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ کہ پاکتسان کہ کالیجوں میں علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کع نہیں پڑھاےا جاتا اور سندھ یونیورسٹی میں چار سال کا بیچلر ہی کرواےا جاتا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اس شعبہ مین اساتذہ کی کمی کی واجہ سے یہاں پر ماسٹرز نہیں کرواےا جا رہا اگر انتظامیاں اس شعبہ علم انسان ا ور قدیم چیزوں کا علم کے طلبہ اساتزہ اور اس کے شعبہ پر تواجہ رہے گی تو انسان کے علم میں تاریخی اور ہمارے آنے والی نسلوں کو انسانی علم اور قدیم چیزوں کی روایتی صقافت کو برقرار رکھنے میں بہت سی مدد مل سکتی ہے کیونکہ دیکھا جائے تو سندھ یونیورسٹی کے اس شعنہ مینں جو اس کو قائم ہوے ان اٹھ نو سالوں میں ہی علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے پاس کردہ شاگردوں مین سے 2k09شاگردہ ملیھا شاہ اور 2k10شاگردہ افتخار پتافی نی ہر سال سندھ ےونیورسٹی میں ہونے والے ڈاکڑ N.Aبلوچ اسپیشل ایورڈ کو بھی لگاتار دوسالوں تک اسی شعبہ علم انسان اور قدیم چیزوں کا علم کے شاگردں نے اپنی مہنت اوردلی کوششوں سے حاصل کےا جب کہ یہاں سے چار سال کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس شعبہ کے میاناز شاگراج چائنا اور اٹلی میں اپنی بقیہ تعلیم حاصل کرنے مین گامزن ہے شعبہ علم انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے شاگردوں کو اُن کی تعلیمی میار تو انہیں بہتریں طریقہ سے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں دی جارہی ہے دی جارہی ہے لکن پاکستان میں ان شعبوں سے منسلک شدہ طلبہ کو ان کے آنے والے بہتریں مستقبل کی ضمانت نہیںدی جا رہی اس لئے اس لئے میری ےہ رائے ہے کہ حکومتِ پاکستان کوبھی چاہیے وہ اس شعبہ سے منسلک شدہ طلبہ کو ان کے بہترین مستقبل کی ضامانت دے اور انہیں ہر قسم کی فرہامی دیں تاکہ علمِ انسان اور قدیم چیزوں کے علم کے یہ طلبہ اپنےی اس مہنت کواسی جوش اور جزبہ کے ساتھ جاری و ساری رکھیں اور پاکستان میں علم انسانی اور قدیم چیزوں کا علم اور اس کی روایاتی ثقافت کو ھمےشہ زندہ رکھنے مےں اپنی کوششوں کو پروان چڑھاتے جا ئےں۔

Thursday, 21 January 2016

Referred back -Profile of Ghulam Mohammed Bhutta

نام: علی اعزاز رول نمبر 126
پروفائل : غلام قادر بھٹہ

Referred back- Send foto separately, not inserted in text file. This is all ur observation.  get comments from area people.  And also refer guideline questions available on FB group abt writing profile


بہار کالونی کوٹری میںرہائش پذیز غلام محمد بھٹہ جو کہ قریب ہی کے ایک یونین کاﺅنسل میں انصاف کمیٹی کی ایک ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا، اور اپنی بیوی بچوں کا پیٹ گذر کررہا تھا، اور ساتھ میں ہی اس نے ایک گھر کے پاس چھوٹی سی دکان کھول رکھی تھی، جس سے وہ اپنے گھر کا مزیر خرچا برداشت کرتا تھا، غلام محمد بھٹہ کے دو بیٹے بہت محنت کش اور زہین تھے، جن میں سے غلام قادر بھٹہ بڑا بیٹا تھا، جو اس وقت علاقے کے سرکاری اسکول میں سے اپنی تعلیم حاصل کررہا تھا، غلام قادر بھٹہ جو کہ اس وقت صرف 16 سال کا تھا، اور میٹرک کے سالانہ امتحان کی تیاری کر رہا تھا، غلام قادر نے وہاں کی تعلیم کا نقلی نظام دیکھ کر اس طرح متاثر ہوا کہ وہ دوران امتحان کلاس روم سے باہر نکل آیا اور اس بات کا اسکے ذہن پر اتنا اثر ہوا کہ وہ پڑھائی سے دور جانے لگا۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی نقل کر کے امتحان میں پاس ہو کر ڈگری حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ ایمانداری سے محنت کر کے آگے بڑھا جائے اور کچھ کر دکھانے کا سوچا ۔ غلام قادر بھٹہ جو کہ بچپن سے ہی بہت محنت کش اور ذہین تھا، اس نے ارادا کیا کہ وہ اب اپنے ابو کی چھوٹی سے دکان جنرل اسٹور سنبھالے گا۔ اور اس طرح وہ دن رات اس دوکان کو سنبھالتا اور سوچ ویچار میں لگا رہتا تھا، کہ کس طرح بلندیوں پر پروان چڑھا جائے، اسی دوران ابو کا انتقال ہوگیا۔ اس صدمے نے اُسے اور اس کے پختہ ارادوں کو اور بھی مضبوط کردیا کیونکہ اب اپنی فیملی کار سربراہ وہی تھا۔
غلام قادر نے اپنی اس محنت کو جاری رکھتے ہوئے اپنے گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جنرل اسٹور کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی سروس بھی کرنا شروع کردی تھی، غلام قادر بھٹہ نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ لوگ کیا سوچیں گے، ساتھ ہی ساتھ موٹر سائیکلوں اور کاروں کی صفائی بھی کرنے لگا اور اپنے مقصد کو پایا تکمیل تک پہچانے کے لئے اس نے ہر وہ محنت مزدوری کی ، اس نے یہ ارادا کر دیا تھا کہ سخت محنت ، ایماندار، لگن سے ہی کامیابیوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
غلام قادر نے دن رات محنت کر کے اپنے علائقے میں پانچ سال کے اندر اندر سب سے بڑا دوکاندار اور کاروباری شخص بن گیا، اور اپنے کاروبار کو اتنا وسیع کر دیا کہ آج اُس کے کاروبار کو پورے کوٹری شہر میں بھٹہ ٹریڈرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور کوٹری شہر میں اسکا نام بڑے کاروباری لوگوں میں بھی شامل ہوگیا ہے اور آج بھی وہ بلندیوں کے پروان پر چرھاتا جارہا ہے۔ اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر محنت ، دل جوش اور 
جزبے اور پختہ ارادے سے کی جائے تو ایک نہ ایک دن اس شخص اور اس کی منزل ضرور حاصل ہوتی ہے۔ اس کی جیگتی جاگتی مثال غلام قادر بھٹہ ہمارے سامنے ہے۔

Need of flyouver at Kotri Phatak

at least it should be 600 words.  foto is required to prove ur point
نام: علی اعزاز رول نمبر 126

آرٹیکل
کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور کی ضرورت 


کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور کی ضرورت ، 1965 سے قائم شدہ کوٹری پھاٹک جو کہ انگریز دورِ حکومت کے بنائے ہوئے نیشنل ہائی وے ٹھٹھہ روڈ سے جاکر لگتا ہے، اور آج اس کوٹری پھاٹک سے چار اہم صنعتی، رہائشی کاروباری لوگوں کی گاڑیوں کا گذر ہوتا ہے۔ جن میں سب سے زیادہ انڈسٹریل ایریا والوں کی بڑی گاڑیوں کا گذر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئے دن ٹریفک کا جام ہونا معمول بن چکا ہے۔ اور کوٹری ریلوے پھاٹک جو کہ کراچی سے پشاور تک جانے والی تمام ریل گاڑیوں کا گذر بھی اسی ریلوے پھاٹک سے ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے ہر ایک ریل گاڑی گزرنے پر اس پھاٹک کو کم از کم پانچ منٹ کے لئے بند کیا جاتا ہے، اس دوران ٹریفک کا ہجوم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اسے ترتیب میں لانے کے لئے پورا دن گذر جاتا ہے،اسی دوران وہاں کے رہنے والے رہائشی لوگوں کو اپنے دفتروں، اسکولوں میں وقت پر پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے وہاں کے آس پاس کے رہائشی اور صنعت کروں کی روزمرہ زندگی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کوٹری ریلوے پھاٹک پر فلائی اوور کا بننا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

کوٹری پھاٹک کے زیر انتظامیہ اور دیگر افسران وزیر کا گذر ہوتا ہے اور وہ عوام کے اس مسائل سے اچھی طرح واقف بھی ہیں مگر آئے روز یہ کہہ کر اس بات کو رواں دواں کردیا جاتا ہے کہ ہم نے اعلیٰ افسران سے بات کی ہوئی ہے انشاءاللہ بہت جلد اس کا کوئی حل نکل جائے گا۔ پچھلے سات آٹھ سالوں سے یہی سلسلہ چلتا آرہا ہے۔مگر آج تک کوئی بھی اس فیصلے پر عملی فیصلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اگر کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور بن جاتا ہے تو نہ صرف وہاں کے رہائشیوں کے لئے فائدہ ہوگا۔ بلقے ہمارے سندھ کے صنعت کاروں کو بھی بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ مسئلا وقت پر بڑی گاڑیوں کا پہنچنا، وقت پر صنعتی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ضرورت کا سامان ان تک پہنچنا جس سے ہمارے ملک کی صنعتی معاشعت بہتر ہوسکتی ہے۔ اس لئے گورنمنٹ سندھ کو اس کوٹری پھاٹک پر فلائی اوور بنانے کے لئے کوئی نہ کوئی اقدامات اٹھانا چاہیئے۔