Showing posts with label شاہجہاں. Show all posts
Showing posts with label شاہجہاں. Show all posts

Wednesday, 3 February 2016

Feature on workshops


  آپ کو یہ فیچر ریوائیز کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ فیچر ہمیشہ رپورٹنگ بیسڈ ہوتا ہے اور اسکا مین مقصد انٹرٹینمنٹ ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں دوبارہ بھیجی گئی تحریر میں بھی موجود نہیں ہیں۔ اس کو کسی طور پر بھی فیچر کی کیٹیگری میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تازہ ترین کوئی رپورٹ وغیرہ ڈالتے تو آرٹیکل ہو سکتا تھا۔ فی الحال یہ essay کی شکل میں ہے۔ جو کہ کسی طور پر میڈیا رائٹنگ نہیں۔ 
 مزید یہ کہ آپ نے یہ مقرر ہ تاریخ کے بعد بھیجی ہے۔

ورکشاپس

   (فیچر)

ورکشاپس سیکھانے یا شرکاءکو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے کے لئے ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ایک ایسا تعلیمی پروگرام ہے۔ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ورکشاپس کا بنیادی مقصد جدید دنیا کی ابھرتی ہوئی تبدیلیوں سے شرکاءکو متعارف کروانا ہے ورکشاپس کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یونیورسٹیوں کا پیچیدہ کام کم ہوجاتا ہے اور اس سے مزید نئی اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی تراکیب کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طالب علموں کی مشکلات میں کمی آئے۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

آج کل ورکشاپس کو مختلف کمپنیز فنڈز فراہم کررہی ہیں خاص طور پر کچھ بیرونی ممالک تاکہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ حاصل ہو اور نوجوان نسل کی تربیت ہو اور وہ مو ¿ثر آلات کے ساتھ پرسکون ماحول میں بہتر طریقے سے عمل حاصل کرسکیں اس کے ذریعے ضرورت مند طلبات کو مالی امداد دیکر انہیںتعلیم کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی ہٹاتے ہیں ۔

ورکشاپس کچھ اس طرح سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ طالب علم کی چھپی صلاحیت کو باہر نکال لاتی ہیں ورکشاپس کے ماحول میں وہ کھل کر اپنے اندر چھپے فن اور کانفڈنس کو اُبھارتا ہے ۔ ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے مل کر کام کرنے سے مختلف ذہنوں کے پوائنٹس مل جاتے ہیں جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔ 

ورکشاپس میں فراہم کیا جانا والا ماحول ون وے نہیںبلکہ ٹو وے ہوتا ہے مطلب پڑھنے والا بھی پڑھانے والا ہوتا ہے جس سے انسان کے اندر کی جھجک ختم ہوجاتی ہے ورکشاپس کا ماحول جماعت کی طرح ڈیکٹیٹر نہیں ہوتا بلکہ غلط ہو یا صحیح آزادی ¿ رائے خیال کی ہوتی ہے۔ تعلیمی فوائد میںایک فائدہ اہم یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔قابلِ ذکراور ہم بات تو میں بتانا ہی بھول گیا وہ یہ کہ ورکشاپس میں بہترین چائے کا وقفہ، کھانا اور شام کی چائے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔
غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے۔
 
Edited

ٍٍ ورکشاپس
 (فیچر)
ملک شاہ جہان انصاری 


سیکھنے اور سکھانے کا عمل دنیا میں ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ اسی عمل کی بدولت انسان غار سے نکل کر چاند پر جاپہنچا ۔اس سیکھنے اور سکھانے سے انسانوں کے آپس میں رابطے مضبوط ہوئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی گئی اور یہ کوشش کی جاتی رہی کہ تعلیم کو عام کرنے کے آسان سے آسان اور بہتر سے بہتر طریقے اختیار کئے جائیں۔ اگر ہم چند صدیوں پیچھے چلے جائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شہر ٹھٹہ ایک وقت میں علم و فنون کا مرکز ہوا کرتا تھا ۔یہاں ایک ہی درسگاہ میں سینکڑوں شاگرد موجود ہوتے تھے اور ایک استاد اس درسگاہ میں زبانی کلامی طریقے سے مختلف معلومات فراہم کرتا تھا جسے شاگرد اپنے ذہنوں میں محفوظ کرتے اور کچھ تحریر بھی کرلیتے تھے ۔زمانے میں جدت آئی اور درسگاہوں میں خاطر خواہ تبدیلیاں کی گئی ۔ان تمام تبدیلوں نے تعلیمی عمل کو مزید بہتر کردیا ۔ انہی خاطر خواہ اقدام میں ایک قدم ورکشاپ کا انعقاد بھی ہے ۔ 

ورکشاپس سیکھانے یا شرکاءکو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے یا ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ۔یہ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ان ورکشاپ میں طلبا کو معلومات فراہم کرنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں جن میں لیکچرز ، آڈیو، زیڈیو وغیرہ کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک بھی سکھایا جاتا ہے ۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر اصغر جو کہ گابا پبلیشر کے تحت مختلف تعلیمی ورکشاپ میں نگراں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ورکشاپ کا مقصد طلبا کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس کے زریعے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں اور اپنی غلطیوں کو درست کر سکیں ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے۔ جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔ 

ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔


غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے۔ 

feature is always reporting based, it should carry quotes, attribution, opinion of the related  or people from this field. Basic purpose of Feature is to provide entertainment, information is its secondary purpose. it lacks this criteria.
Its intro should be interesting. 
ٍٍ ورکشاپس
 (فیچر)
ملک شاہ جہان انصاری 
رول نمبر: 47
ورکشاپس سکھانے یا شرکاء کو انکے پیشے کے متعلق تربیت دینے کے لئے ان کی تعلیمی کیرئیر کو نکھارنے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ جس کو عملی مہارت تکنیک یا خیالات کو متعارف کروانے کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے ایک ایسا تعلیمی پروگرام ہے۔ ورکشاپس ایک دن سے لیکر ایک ہفتے تک کے دورانیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ورکشاپس کا بنیادی مقصد جدید دنیا کی ابھرتی ہوئی تبدیلیوں سے شرکاء کو متعارف کروانا ہے ورکشاپس کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یونیورسٹیوں کا پیچیدہ کام کم ہوجاتا ہے اور اس سے مزید نئی اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی تراکیب کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طالب علموں کی مشکلات میں کمی آئے۔ ورکشاپس سے یونیورسٹی اور کلاس روم کی دہشت کو ختم کرکے ایک دوستانہ ماحول قائم کرنے کی ترغیب دی ہے ۔

آج کل ورکشاپس کو مختلف کمپنیز فنڈز فراہم کررہی ہیں خاص طور پر کچھ بیرونی ممالک تاکہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ
حاصل ہو اور نوجوان نسل کی تربیت ہو اور وہ مو ¿ثر آلات کے ساتھ پرسکون ماحول میں بہتر طریقے سے عمل حاصل کرسکیں اس کے ذریعے ضرورت مند طلبات کو مالی امداد دیکر انہیںتعلیم کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی ہٹاتے ہیں ۔
ورکشاپس کچھ اس طرح سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ طالب علم کی چھپی صلاحیت کو باہر نکال لاتی ہیں ورکشاپس کے ماحول میں وہ کھل کر اپنے اندر چھپے فن اور کانفڈنس کو اُبھارتا ہے ۔ ورکشاپس میں وہ مختلف لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا اور مل کر کام کرنا سیکھتا ہے مل کر کام کرنے سے مختلف ذہنوں کے پوائنٹس مل جاتے ہیں جس سے معلومات میںا ضافہ ہوتا ہے ، مختلف شعبوں سے منسلک لوگوں سے مل کر ان کے شعبے کے متعلق معلومات ملتی ہیں یہ ساری تبدیلیاں ایک کمرہ جماعت میں آنا ممکن نہیں۔

ورکشاپس میں فراہم کیا جانا والا ماحول ون وے نہیں بلکہ ٹو وے ہوتا ہے مطلب پڑھنے والا بھی پڑھانے والا ہوتا ہے جس سے انسان کے اندر کی جھجک ختم ہوجاتی ہے ورکشاپس کا ماحول جماعت کی طرح ڈیکٹیٹر نہیں ہوتا بلکہ غلط ہو یا صحیح آزادی ¿ رائے خیال کی ہوتی ہے۔ تعلیمی فوائد میںایک فائدہ اہم یہ بھی ہوتا ہے کہ ورکشاپ میں صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل عملی طور پر کرنے کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ عمل کرکے سیکھتا ہے ۔

قابلِ ذکراور ہم بات تو میں بتانا ہی بھول گیا وہ یہ کہ ورکشاپس میں بہترین چائے کا وقفہ، کھانا اور شام کی چائے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ان ورکشاپس کو اساتذہ بھی سرہاتے ہیں کیونکہ ان سے آگے بڑھنے کے کئی رستے کھلتے ہیں کئی ورکشاپ منعقد کرنے والے ادارے اچھے طالب علموں کو نوکریاں بھی دیتے ہیں اور اسکالر شپ بھی فراہم کرتے ہیں ۔
غرض یہ کہ تعلیم، عملی کام سیکھنے سے لیکر بھر پور تفریح کا ایک واحد نام "ورکشاپس"ہے

Referred back Furniture of Mehrabpur

Foto symbolizing Mehrabpur or furniture of Mehrabpur is needed. Why furniture of this town is so famous? 
 figures and facts how many carpenters are people are engaged in this work? how much they earn?
and others 
آرٹیکل
تحریر: ملک شاہ جہان 
رول نمبر: 47
 
محراب پور کا فرنیچر 

صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کا ایک شہر محراب پور اپنی ایک تاریخی حیثیت کا مالک ہے ۔میر محراب خان ٹالپر اپنے خاندان کے ساتھ اس شہر میںرہائش پذیر ہوئے تھے اس کے بعد یہاں کے رہائشیوں نے اس جگہ کا نام محراب پور رکھ دیا تھا ۔ایک وقت یوں بھی تھا کہ محراب پور دریائے سندھ کے راستے میںآتا تھا ۔1914ءمیں اس شہر کے لئے ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا گیا ۔یہ شہر ایک مرکز ہوا کرتا تھا بہت خوبصورت شہر جس میںدلکش بازار بھی واقع تھا ۔بروقت گزرتے عدم توجگی کا شکار ہونے کے باعث اس شہر نے اپنی خوبصورتی کھودی اور اب تصویر اور حالات کچھ اور ہی داستان سناتے ہیں ۔ہم پاکستانیوں نے سنوارا تو نہیں نہ بنا سکے ،بلکہ جو ہمارے بزرگوں نے ورثے میں چھوڑا اسے بھی سنبھال کے نہ رکھ سکے اور سب کھودیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی تاریخی حیثیت کھوچکے ہیں ۔
مگر محراب پور اپنے آپ میں ایک خصوصیت رکھتا ہے جو آج بھی قائم و دائم ہے ۔جس طرح شکارپور کا اچار،حیدرآباد کی چوڑیاں ،ملتان کا سوہن حلوہ اپنی اپنی پہچان پاکستان کے کونے کونے میںرکھتا ہے اس طرح محراب پور اپنے تیار کردہ فرنیچر میں اپنا سنگِ بنیاد رکھتا ہے ۔محراب پور کا فرنیچر یوں تو بیرونِ ملک مقبولیت نہیں رکھتا اور نہ ہی خریدا جاتا ہے مگر اس سے محراب پور کے فرنیچر کی ساخت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ محراب پور کا فرنیچر پاکستان کے کونے کونے میں اپنا نام اور مقام رکھتا ہے اور لوگوں کی توجہ اور پسند کا مرکز ہے بلکہ دوسرے لوگ یہاں آرڈر پر فرنیچر بنوانے آتے ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ فرنیچر محراب پور میں واقع ہے اور دوسرے نمبر پر چنیوٹ میں قائم ہے۔محراب پور شہر کے داخلی راستے سے لیکر شہر کے اندر موجود چوک تک تقریباً ایک ہزار رکاوٹیں موجود ہیںفرنیچر کی آڈھے محراب پور شہر کا کاروبار اور دکانیں فرنیچر کی ہیں ۔

فرنیچر کی بنائی میں مختلف قسم کی لکڑی استعمال ہوتی ہے۔لکڑی کو حاصل کرنا بھی ٹیڑھی کھیر ہے ،باآسانی حاصل نہیں محراب پور میں ہر قسم کی لکڑی جنگلات سے کاٹ کر لکڑی منڈی میںلاکر محفوظ کی جاتی ہے جہاں کے سیٹوپھر اُسے لکڑی کی قیمت ،اہمیت کے حساب سے اسے بیچتے ہیں ،دکاندار وہاں سے ضرورت اور گاہکوں کی ڈیمانڈ کے حساب سے لکڑی لاکر فرنیچر تیار کرتے ہیں۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستان کے کونے کونے سے یہاں آرڈر پر فرنیچر بنوانے آتے ہیں اور اپنی مرضی کے
 ڈیزائن ،کلر اور خصوصی طور پر لکڑی کا انتخاب کرتے ہیں۔زیادہ تر"دیال"لکڑی فرنیچر کے لئے پسند کی جاتی ہے گاہکوں کی جانب سے۔

"دیال "لکڑی خاصی مہنگی ہے پر بہت مضبوط اور خصوصیات کے لحاظ سے اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔مزید برآں شیشم ،بابول،سیڈار،پاٹن،برچھ،میپل،اوک،پوپلرلکڑی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے فرنیچر کی تیاری میں کم قیمت لکڑی میں پوپلر کا نام سرفہرست ہے بلکہ دیگر مختلف خصوصیات کی بِناءپر مشہور ہیں اور گاہک اپنی معلومات اور پسند کی روشنی میں لکڑی کا انتخاب کرتے ہیں اور آرڈر دیتے ہیں جس کے بعد مرحلہ آتا ہے کاریگری کا،محراب پور کا فرنیچر مشہور ہے اپنے مواد،معیار اورکام کی صفائی کی وجہ سے ۔کاریگروں کی صفائی اور مہارت کا اندازہ فرنیچر کی کٹنگ اور شکل وغیرہ کو دیکھ کر باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔

محراب پور سے روز کروڑوں کی رقم کا فرنیچر بنوا کرپورے پاکستان میں بھجوایا جاتا ہے وہاں آنے والے گاہکوں کا کہنا ہے کہ وہ فرنیچر کی پرکھ اور پہچان رکھتے ہیں خاص بات لکڑی ہے جو پسند کروائی جاتی ہے اُس لکڑی سے فرنیچر بنایا جاتا ہے بے ایمانی کی کوئی شکایت آج تک نہیں ملی یہاں کے کاریگر بہت ہنر مند اور ہاتھ میںصفائی رکھتے ہیںکہ فرنیچر کو دیکھ کر دل کوخوشی اور آنکھوں کو ٹھنڈک مل جاتی ہے قیمت وصول کام اور حاصل ہوتا ہے اسی لئے وہ یہاں آتے ہیں کام کروانے۔

محراب پور شہر آدھے سے زیادہ فرنیچر کی دکانوں اور لکڑی کے کاروبار پر مشتمل ہے پر ضرورت اس شہر کے
 ہنر کو مزید اجاگر کرنے کی ہے اور اُبھارنے کی ہے تاکہ بیرونی سطح پر بھی اس کو پزیرائی اور ترقی حاصل ہو۔

Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi


Referred back Profile of Akram Otho

Revised 
بغیر درستگی کے بھیج دیا ہے۔ پہلے بار جو نوٹ لکھا تھا اسکو پڑھیں ، اس کو ٹھیک کئے بغیر قوبل نہیں ہوگا۔ 
نا م: ملک شاہجہا ں
رول نمبر # 47
پروفائل : اکر م اوٹھو

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔
"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "
 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔

اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔


Foto is required/ Intro is not interesting. It is reporting based. 
There should be proper paragraphing What is his uniqueness>
 ملک شاہجہا ں تحریر
رول نمبر # 47 
پروفائل : اکرم اوٹھو 

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔

"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "

 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں
 ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔
اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔ 
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔ 

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔ 

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔