Showing posts with label اردو. Show all posts
Showing posts with label اردو. Show all posts

Wednesday, 3 February 2016

Interview with Murtaza Dadahi by Misbah

Photo not clear. Question about press club  tell nothing it should be deleted. Lets know how u write ur name in Urdu. 
Misbah-ur-ruda
2k14/MC/52
MEDIUM: URDU 
INTERVIEW 
سید مرتضی شاہ ڈاڈائی

انٹرویو: مصباح 
مرتضی شاہ ڈاڈائی ۲۶ نومبر ۱۹۳۹ میں پیدا ہوئے آپ ایک بہت ہی مشہور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھی ٬ اردو٬ انگریزی اپنے والد سے حاصل  کرنے کے بعد ۱۹۵۳ میں چودہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ غزل٬ حمد ٬ گیت٬ وائی ٬ نظم ٬ بیت٬ قطعا٬ نعت ٬ منعقت٬ مناجات وغیرہ سے پہچان بنائی اور لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ۔ 

شاعری کے آغاز کے کچھ ہی عرصے بعد سندھی زبان میں کتابیں لکھنا شروع کیں۔ ’زھرو زم زم ‘ ۱۹۸۴ میں پہلی کتاب لکھی پھر ’تون پارس آﺅن لوھ‘ ۱۹۹۴ مےں لکھی پھر ئ’سٹھا سر ھا گل‘ ۱۹۹۶ میں لکھی پھر ’مان زرتون ماھتاب‘ ۲۰۱۱ مےں لکھی اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کتابیں لکھ کر بڑے بڑے شعراء مےں اپنا نام منوایا۔ اب تک جو مواد چھپا ہے ان مےں عشقیہ شاعری ٬ وطن کے گیت ٬ مزاحیہ نظم٬ مزاحیہ کا لم٬ زرعی نغمے اور میوزیکل فیچر ز شامل ہیں آپ پریس کلب کے بانی بھی رہ چکے ہیں۔ 

 جب میں نے ان سے انٹرویو لینے کے لئے رابطہ کیا تو آپ نے بہت خوش مزاج انداز میں حامی بھر لی اور مجھے خوش آمدید کہا مرتضی شاہ ڈاڈائی کے گھر مےں موجود کتابوں سے ان کی شاعری میں دلچسپی کا اندازہ ہو رہا تھا ان کے ساتھ کی جانے والی گفتگو نزر قارین ہے۔ 

س: شاعری کا آغاز کیسے کیا اور کن مشکلات کا سامنا رہا؟
 ج :  میرے والد زمیندار تھے اور مےں اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہوں گاﺅں میں اوطاقوں میں والد صاحب کے پاس گانے والے ٬ ادیب٬ شعراء وغیرہ آتے تھے اس سلسلے مےں فنکاروں سے دلچسپی ہوئی اور ۱۹۵۳ سے شاعری کا آغاز کیا اور شاعری مےں اللہ کے کرم سے کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔ 

س: آپ کی شاعری کے سلسلے مےں کن کن تنظیموں سے وابستگی رہی؟
 ج: بہت سی تنظیموں سے وابستگی رہی جیسے کہ بزم مسافر ٬ بزم طالب المولی ٬ بزم نور ادب ٬ سندھی ادبی ثقافتی سنگت٬ سندھ سید ایسوسیشین ٬ حلال احمر کمیٹی ٬ اینٹی نارکوٹکس کمیٹی٬ کرائم کنٹرول کمیٹی ٬ تعلیمی کمیٹی٬ پیشنٹ ویلفئیر سوسائٹی ٬ سٹیزن کمیٹی ہیلتھ مینجمینٹ کمیٹی٬ وتایو فقیر مینجمینٹ کمیٹی٬ ڈسٹرکٹ ہیریٹیج کمیٹی ٬ اور اس کے علاوہ بھی کافی عرصہ سے ریڈیو پاکستان اور پی۔ ٹی ۔وی میں کلام نشر ہوتے رہے ہیں۔ 

س: آپ نے مختلف ٹی۔وی چینلز کے ساتھ کام کیا اس سلسلے میں آپ کو کوئی اعزاز یا ایوارڈ ملے؟
 ج:  جی ہاں زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا جس میں حسن کردار گولڈ میڈل ایوارڈ٬ نئی زندگی گولڈن جوبلی ایوارڈ٬ قلندر لال شہباز ایوارڈ ٬ مہران کلچرل ایوارڈ٬ سوشل ویلفیئر کمیٹی ایوارڈ ٬ ریڈیو پاکستان حیدرآباد ایوارڈ ٬ بلدیہ حسن کارکردگی ایوارڈ اور اس کے علاوہ بھی کئی ایوارڈ شامل ہیں۔ ۱۹۹۲ میں ادبی دوستوں نے تاج پوشی کی۔ ٹنڈوالہیار میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ’مرتضی شاہ ڈاڈائی‘ ہال تعمیر کیا گیا۔


 س: آپ نے شاعری میں اپنا ایک الگ نام بنایا کیا لوگ آپ کی شاعری سے مطمئن تھے؟ 
 ج:  جی ہاں لوگ میری شاعری سے مطمئن تھے ۔ اور سب نے پسند بھی کی تھی محمد زمان اس وقت کے سب سے بڑے شاعر امیم فھیم کے والد انھوں نے پسند کی اور اس وقت کے بڑے بڑے شاعر کو بھی دکھایا وہ بھی مطمئن تھے۔ 

س: اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ بتانا چاہیں گے؟
 ج: واقعات تو بہت ہیں لیکن ایک واقعہ یہ کہ ۳۰ سال پہلے میرے والد زندہ تھے۔ باہر دروازہ پر ایک آدمی آیا تو وہ عمر رسیدہ تھا لاڑکانہ سے آیا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بڑے سائیں ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ نہیں بابا نہیں ہیں پھر انہوں نے محلے والوں سے پوچھا تو انہوں نے دوبارہ میرا گھر بتادیا وہ پھر میرے گھر آکر پوچھنے لگے کہ کیا بڑے سائیں ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ میں مرتضی شاہ ڈاڈائی کی بات کر رہا ہو ں۔ تو آپ نے مسکراکر جواب دیا کہ میں ہی مرتضی شاہ ڈاڈائی ہوں اس شخص کو یہ بات جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ میں نے اتنی کم عمری میں اتنی ساری کتابیں لکھیں ا س کے خیال میں میں ایک بزرگ تھا میں برسوں سے شاعری کر رہا ہوں اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔ 

س: شاعری کے لحاظ سے آپ کیا سمجھتے ہیں پاکستانی نو جوانوں کے ٹیلنٹ کا گراف کتنا اوپر ہے؟
 ج: پاکستانیوں میں ٹیلنٹ کا گراف بہت اونچا ہے نوجوانوں کو چاہیے کہ ایسی شاعری کریں جس سے امن وسلامتی ٬ بھائی چارہ پیدا ہو اس کے ساتھ ساتھ دوسری شاعری بھی کریں ہم نے جو زمانہ گزارہ تھا کسی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اگر شاعری کریں تو پہلے کسی بڑے شاعر کو دکھادیں اپنی اصلاح کے لئے پھر کسی فنکار کو شایع کرنے کے لئے دیں۔ 

س: آپ بطور پریس کلب کے بانی بھی کام کر رہے ہیں اس حوالے سے کیا کیا کام ہیں؟
 ج: پریس کلب میں بہت سے کام ہوتے ہیں جیسے نیوز دینا، اخبار نکالنا پریس کلب میں ہر ۲ سال میں صدر بدلتا ہے۔ موجودہ صدر بشارت قائم خانی ہے صدر کے علاوہ جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔پریس کلب میں کوئی اختلاف نہیں ہے سندھی٬ پنجابی٬ بلوچی سب شامل ہیں 

س: شاعری کے لحاظ سے آنے والی نئی نسل کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
 ج: شاعری کے لحاظ سے یہی مشورہ دوں گا کہ شاعری کا شوق رکھتے ہیں تو شاعری کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کی عزت کریں ماں باپ کے وفادار بنیں ٬ خواتین کا احترام کریں ہم جب بنیوں پر جاتے تھے تو خواتین جہاں بھی آتی تھیں تو ہم ان کو آتے دیکھ اپنا راستہ بدلےا کرتے تھے شاعری کے زرےعے اپنا نام بنائیں۔ 

س: آپ کو ایک کے بعد ایک کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
 ج: شاعری ایک کے بعد ایک مجموعے میں آگے بڑھتی گئی میری ۵ کتابیں شایع ہو گئیں اور چھٹی کتاب بھی لکھ دی لیکن چھپی نہیں ہے شاعری کو دیکھتے ہوئے کتابیں اپنے آپ بڑھتی گئیں میرے دماغ میں جو کچھ ہوتا تھا کتاب کی صورت میں لکھ دیا کرتا ہوں ۔ 

س: آپ کو یہ خیال کیسے آیا کہ گانے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر نشر کروانے چائیے؟
 ج: اس وقت جو میوزک موسیقار تھے ان میں ۱۰۰ سے زیادہ موسیقار جیسے عابدہ پروین تک سب کے گانے نشر ہوئے تھے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر اس وقت سندھ میں صرف حیدرآباد اور کراچی میں ایف۔ایم ریڈیو تھا ان سب کو دیکھ کر شوق
 بھی پیدا ہوا اور مشورہ بھی ملا


Misbah-ur-ruda 
2k14/MC/52, Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi


Referred back worth visiting places in balochistan

 Referred back- Revised 
Same composing mistakes are there. U may have a look. What u have corrected?     
   نظروںسے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقامپےر غائب    
 فےچر : عدنان علی لاشاری
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

    پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں آ گئے ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔تالا ب کے گرد بلند و بالاکھجور کے درخت ہوا کے زور سے جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب اےک بزرگ پر رکھا گےا ہے ۔ جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے یہ لوگ ان کے دشمن بن گئے اور ےہاں تک کہ انھےں جان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں وہ غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

   پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لاتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجےنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے ۔اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

   پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی ےہ علاقہ سےاحوں کے لےے گم نام ہے اور ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔
                     عدنان علی لاشاری
  رول نمبر:2k14/MC/153
            

-----------------------------------------------------------------
   Referred back.  Composing mistakes/  particularly of  ے  and ی

فیچر

 عدنان علی لاشاری
    نظروں سے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقام پیر غائب    
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔

سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب رکھنے کے پےچھے اےک پرانی کہانی موجود ہے ۔برسوں سال پہلے اےک بزرگ اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے اور انھےں اےک بارجان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

       پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران پہاڑوں مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔

تالا ب کے گرد بلند و بالا کھجور کے درخت خوشی سے ہوا کے زور مےں جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

        پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لے کر آتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔

حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

       پےر غائب کا علاقہ پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی سےاحوں کے لےے گم نام ہے ۔ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔ حالانکہ ےہ خوبصورت علاقہ دنےا بھر کے تفرےحی مقامات سے کسی طرح بھی کم نہےں۔
                      عدنان علی لاشاری 
                     رول نمبر:2k14/MC/153

Referred back Profile of Akram Otho

Revised 
بغیر درستگی کے بھیج دیا ہے۔ پہلے بار جو نوٹ لکھا تھا اسکو پڑھیں ، اس کو ٹھیک کئے بغیر قوبل نہیں ہوگا۔ 
نا م: ملک شاہجہا ں
رول نمبر # 47
پروفائل : اکر م اوٹھو

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔
"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "
 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔

اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔


Foto is required/ Intro is not interesting. It is reporting based. 
There should be proper paragraphing What is his uniqueness>
 ملک شاہجہا ں تحریر
رول نمبر # 47 
پروفائل : اکرم اوٹھو 

اکر م اوٹھو نے ما ر چ 1987 خیرپو ر کے ایک زمیندار کے گھر میں آنکھ کھو لی ۔ اکر م کے والد نام غلا م نبی اوٹھو کہ اپنی کئی زمین تھی اور تعلیم نہ ہو نے کی وجہ سے حسر ت کا سامنا کیا مگر بچپن سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کی اہمیت کا درس دےتے رہے اور سمجھا یا زند گی کے ہر میدا ن میں علم ضروری ہے خواہ و زمیندا ر ہی کیو ں نہ ہو۔ اس لئے علم حا صل کر و۔

"علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کے ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے "

 والد کے یہ الفا ظ اکر م کے زہن میں چگتہ ہو گئے اور آج تک اس پر دھول جمنے نہیں دی ابھی صر ف ساتویں جما عت میں
 ہی تھے کہ والد صا حب گزر گئے اور اکر م کو سایہ کا ر درخت کے ہٹنے کے بعد زند گی کی تپش کا اندازہ ہو ا اور رشتے دارو ں نے بجا ئے یتیم کے سر پر ہا تھ رکھنے کے اسکے سر سے چھت بھی چھین لی ۔ ساری زمین پر قبضہ جمع لئے اور ان ما ں بیٹے کو سہا را تلا شنے کے لئے بہن کے گھر جا نا پڑا اور پھر کھالو نے اکر م کی پرورش کی اور اس کو تعلیم جا ری رکھنے میں مدد فراہم کی اور اس طر ح اکر م نے خیر پو ر سے ہی تعلیم حا صل کی اور انٹر بھی وہیں سے کی اس بیچ اکر م چھو ٹی مو ٹی ملا ز متیں کر تا رہا تا کہ اپنی ما ہ کا ہا تھ بٹا سکے ۔کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے وقت سب کی اوقات بتا دیتا ہے © اکر م نے   سند ھ یو نیو ر سٹی جا مشو ر ہ سے اینتھرو پولو جی میں بی ایس اونرز کیا جس کے بعد اس کو تعلیم کا جو نو ن اسلا م آباد تک لے گیا اور وہا ں اکرم نے قائد اعظم یو نیو ر سٹی سے MSC اینتھرو پو لو جی کی ڈگری حاصل کی جس کی بعد اہم ترین امتحان CSS کی تیار ی بھرپو ر طریقے سے کی اور سا تھ سا تھ ملا ز مت بھی کر تے رہے مگر قسمت پھر پلٹی کھا گئی اور اکر م CSS میں پا س نہ ہو سکا اور امتحا ن میں رہ گیا ۔ افسو س نا ک اور تکلیف دے وقت اٹھو گھرانے پر کیونکہ غریب کو مواقعے بھی فرا ہم نہیں ہو تے مگر اکر م نے نہ ہمت ہا ری نہ ہا ر مانی کیونکہ اکرم ایک انتھا ئی مضبو ط عصا ب کا مالک ہے اس نے زند گی کی مشکلا ت سر پر سوا ر کر نا نہیں سیکھا بلکہ مات دیکر آگے بڑھنا سیکھا ہے ۔ اکرم نے زندگی میں ایک ہی بات سیکھی ہے کہ انسان کو کوئی چیز نہیں ہراسکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے ۔اپنوں کے غیرو ں جیسے والیہا نااخلا قیا ت نے اس کو پتھر بنا دیا مشکلات سے ٹکرا نے والا ۔ اکرم کے جونو ن نے اسے پہلے سے زیا دہ محنت پر مجبو ر کیا اور اب کی با ر عزم کیا کہ مضبو ط امنگ کے سا تھ پیپر دینے نکلا مگر شا ید قدرت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔امتحا ن دینے نکلا پر امید مگر راستے میں حا دثے کا شکا ر ہو گیا جس کی وجہ سے اس کا ہا تھ ٹو ٹ گیا اور وہ امتحا ن نہ دیے سکا تیسری کوشش کے لئے نکلا تو عمراس کے راستے کا پتھر بن گئی اور CSS کر نے کی خوا ہش پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ گیا مگر زند گی کا آخر نہیں ہو تا اس کی قا بلیت اور تعلیمی صلا حیت اتنی تھی کہ ایک سیمی گو ر نمنٹ NGO سند ھ ایجو کیشن فاﺅ نڈیشن نے اسے اسسٹنٹ مو نیٹرنگ آفیسر کی حیثیت سے منتخب کیا اکر م نے اپنے قابلیت سے بہت جلد اپنا لو ہا بنوا یا اور مو نیٹرنگ آفیسر سند ھ کا عہد ہ سنبھا ل لیا ۔ اکرم کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی محنتی، قابل اور پرتھیلا شخص ہے وہ کام کے معاملے میںاتنا جنونی ہے کہ نہ صرف اپنا کام کرلیتا ہے پردوسروں کی بھی مدد کرلیا کرتا ہے جس کی وجہ سے اسٹاف کی آنکھوں کا تارا ہے۔
اتنی تھکی ، بے در د تکلیف دے زند گی کے اثرا ت اکر م کی زند گی میں تب نظر آتے ہیںجب وہ اپنے قریبی اور عزیز دوستو ں میں ہو تا ہے اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اکرم انتہائی مزاحیہ انسان ہے مگر ایک ایسا وقت بھی گزرا جب ہم نے اس کی آنکھوں میںآنسو دیکھے وہ اپنی پریشانیاں بانٹا نہیں کرتا بہت کم لوگوں پر بھروسے کی عمارت ہے۔ور نہ بظاہر زند ہ دل انسا ن اکر م کھا نے پینے کا شوق رکھتا ہے بے انتہا، بس کہیں سے پتہ لگنے کی دیر ہے فلانح جگہ کی وہ چیز مشہو رہے اکر م اپنے مصروف حا لات میں سے وقت نکا ل کر پہنچ جاتاہے اور ضرور اس سے لطف اندوز ہو تا ہے ۔ مگر دیکھنے میں اسما ر ٹ بلکل فٹ بہترین قدامت اور خو ش شکل انسا ن جو کہ کا م محنت اور بھا گ دو ڑسے خو دپر چربی چڑھنے نہیں دیتا ۔ 
گزرے ایک وقت میں انڈر 18حیدر آباد کا بہترین کھلاڑی بھی رہ چکا ہے ۔ اکر م اب کرکٹ کو شو ق سے دیکھتا ہے اور اسکے حا ل پر افسو س کا اظہا ر بھی کر تا ہے فارغ اوقا ت میں کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خا ص طو رپر تعلیما تی کتا بیں ۔ اخبا ر پڑھنا معمو ل ہے پر اندز مختلف ہے پو رے ہفتے آنے والے ڈان اخبا رہفتہ یا اتوا ر کو ایک سا تھ پڑھنا پھر اس میں سے پسند آنے والی تحریروں جیسے آرٹیکل ،کا لم وغیر ہ کو کا ٹ کر جمع کر لینے کا شو ق ہے ۔ 

بے انتہا مصرو فیا ت ایک شو ق کے آڑے آرہی تھی جیسے بھی اکر م نے حل کر لیا ۔ وہ تھا گھو منے کا شوق اکر م نے شوق اور کام کو ایک سا تھ کر لیا اور اپنے کا م کے سلسلہ میں جب بھی جگہ جگہ جاتے تو اپنے تفریح کے شوق کو بھی پو را کر تے ۔ اکر م انتہا ئی مدد گا ر اور ددوستوں پر جا ن دینے والا شخص ہے کو ئی بھی کا م یا مدد درکا ر ہو فو راً حاضر ہو تا ہے خا ص طو ر پر نو جوا نو ں کو مختلف کا مو ں میں صر ف رکھتا ہے تاکہ کسی طو ر پر بھی یہ پیچھے نہ رہ جا ئیں ۔ ان تما م خو بیو ں کے سا تھ بہت جلد اور خطر ہ نا ک غصہ آجانے کی خا می بھی ہے اور اس کی وجہ اکرم کا گزرا بچپن اور اسکے سا تھ ہو ئے رویے ہیں ۔ 

اکر م اپنے والد ہ کی بہت خد مت کر تا ہے ان کا خیا ل رکھنا اس کے تما م کا مو ں میں اہم کا م ، پر ایک جو بہت ضرو ری کا م باقی ہے وہ ہے اکر م کی شا دی، جو کہ والدہ ، دوستوں اور سب کا سا تھ دینے کی وجہ سے کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہے جلد ہی عملی جامع بھی بہن لے گی ۔