Showing posts with label عدنان. Show all posts
Showing posts with label عدنان. Show all posts

Wednesday, 3 February 2016

Referred back worth visiting places in balochistan

 Referred back- Revised 
Same composing mistakes are there. U may have a look. What u have corrected?     
   نظروںسے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقامپےر غائب    
 فےچر : عدنان علی لاشاری
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

    پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں آ گئے ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔تالا ب کے گرد بلند و بالاکھجور کے درخت ہوا کے زور سے جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب اےک بزرگ پر رکھا گےا ہے ۔ جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے یہ لوگ ان کے دشمن بن گئے اور ےہاں تک کہ انھےں جان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں وہ غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

   پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لاتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجےنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے ۔اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

   پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی ےہ علاقہ سےاحوں کے لےے گم نام ہے اور ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔
                     عدنان علی لاشاری
  رول نمبر:2k14/MC/153
            

-----------------------------------------------------------------
   Referred back.  Composing mistakes/  particularly of  ے  and ی

فیچر

 عدنان علی لاشاری
    نظروں سے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقام پیر غائب    
وطِن عزےز کو قدرت نے رعنائےوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، جہاں فطرت کے تمام حسےن رنگ بکھرے ہوئے ہےں ۔پاکستان کے بے شمار علاقے اےسے بھی ہےں ، جن کی مماثلت دنےا کا کوئی سےاحی مقام نہےں کر سکتا۔دنےا کا عظےم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹےاںِ، گلیشئےرزسے پگھلنے والے درےا ،سحرانگےز جھےلےں ،سر سبز مرغزار اور دنےا کی بلند ترےن شاہراہ رےشم بھی ےہیں واقع ہے جو دنےا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھےنچتی ہےں ۔دنےا کا بلند ترےن مےدان ےا سطح مرتفع دےوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے مےں ہےںاور ایسے دل فرےب مقامات بھی ہےں جو فطرت کے کےنوس پر حسےن تصوےر کی صورت مےں نطر آتے ہےں ۔

سےاحوں نے ایسی وادےوں،سحر انگےز جھےلوں اور پراسرار مقامات کی سےر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہےں جو زےادہ تر سےاحوں کی نگاہوں سے پوشےدہ ہےں ۔ان علاقوں مےں سے اےک سر سبز وشاداب علاقہ پےرغائب ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان مےں واقع ہے۔

     پےر غائب کا مقام کوئٹہ سے 70 کلو مےٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام پےر غائب رکھنے کے پےچھے اےک پرانی کہانی موجود ہے ۔برسوں سال پہلے اےک بزرگ اپنی بہن ”نانی“کے ہمراہ اس علاقے مےں لوگوں کو اسلام کی دعوت دےنے کے غرض سے آئے ،ےہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اس لےے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے اور انھےں اےک بارجان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنا بچاﺅ کرنے کے لےے بولان کی گھاٹےوں کے بےچ چھپ گئی اور ان گھاٹےوں مےں کافی دےر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو مےٹر کے فاصلے پر پل کے نےچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ان کا بھائی چٹا نوں کے درمےان چھپ گےا پھر تھوڑی ہی دےر مےں غائب ہو گےا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے ےہ علاقہ پےر غائب کے نام سے مشہورہے۔

       پےر غائب کا علاقہ بے آب و گےاہ پہاڑوں کے درمےان اےک سر سبز و شاداب وادی کی صورت مےں موجود ہے۔اس حسےن علاقے مےں پہنچتے ہی اےسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی مےں ہےں ،چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران پہاڑوں مےں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت مےں بہتا ہے اور ےہ حسےن آبشار دو مختلف حصوں مےں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی دل فرےب نظارہ پےش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوںکا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا اےک بہت بڑے تالاب مےں مل جا تا ہے ۔اس تالاب کے نےلے اور ٹھنڈے پانی مےں سے آبی حےات دل فرےب مناظر دکھاتے ہےں ۔

تالا ب کے گرد بلند و بالا کھجور کے درخت خوشی سے ہوا کے زور مےں جھومتے دکھائی دےتے ہےں،ےہ دل کش مناظرہمےں زندگی کی پرےشانےوں سے دور ، سکون کی دنےا مےں لے جاتے ہےں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سرےلے گےت پےش کرتے نظر آتے ہےں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگےز نظارہ پےش کرتی ہے۔ پےر غائب کی سےر و تفرےح کرنے کا مزہ بہار کے موسم مےں آتا ہے کےونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نےا سماں پےش کرتا ہے ۔ سردےوں کے موسم مےں ےہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کےونکہ ےہ سمندر سے 5,500 فٹ کی ا ±ونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف مےں تبدےل ہوتا دکھائی دےتا ہے ۔

        پےر غائب کے ارد گرد کوئی بہترےن ہوٹل موجود نہےں ہے جس کی وجہ سے سےاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہےں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹورےزم ڈےولپمےنٹ کارپورےشن ) نے زےارت مےں اےک ہوٹل قائم کےا ہے مگر وہ پےرغائب آنے والے سےاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لےے لوگ اپنے ساتھ کھانے پےنے کا سامان لے کر آتے ہےں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھےنک دےتے ہےں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 مےں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کی وجہ سے سےاحت پر بہت برا اثر پڑا ہے اور پےر غائب جےسی تسکےن بخش تفریحی مقامات وےرانگی کی نظر ہو گئے ہےںِ۔

حال ہی مےںخصوصی طور پر وزےراعظم نواز شرےف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے مےننےجنگ ڈائریکٹر چودھری کبےر احمد خان کو ےہ ہداےات دیں ہےں کہ بلوچستان مےں سےاحت کو بہتر بناےا جائے اسکے لےے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمےوں کے تفرےحی پےکےجےز متعارف کرانے اور سےاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دےا۔

       پےر غائب کا علاقہ پہاڑےوں مےں پوشےدہ ہونے کی وجہ سے بھی سےاحوں کے لےے گم نام ہے ۔ےہی وجہ ہے کہ اب تک غےر ملکی سےاحوں کی ےہاں تک رسائی نہ ہو سکی،بلکہ ہمارے ملک کے بھی بےشترلوگوں کو اس کا علم کم ہے۔ حالانکہ ےہ خوبصورت علاقہ دنےا بھر کے تفرےحی مقامات سے کسی طرح بھی کم نہےں۔
                      عدنان علی لاشاری 
                     رول نمبر:2k14/MC/153

Tuesday, 19 January 2016

Referred back Change in attitudes of teachers and students

Revised version but again  referred back

آپ کا موضوع اور اس آرٹیکل کا مواد ایک دوسرے سے میچ نہیں کھاتے۔ 

آپ نے اعداد و شمار تو جمع کرلئے لیکن یہ اعداد وشمار کیسے استعمال ہوں یہ سمجھ نہیں پائے
۔ برائے مہربانی اساتذہ اور طلبہ کے آپس کے رویوں کے بارے میں لکھیں کہ ان میں کیا تبدیل آئی ہے۔ 
لکھنے میں کوئی پرا گرافنگ نہیں۔ 
 آپ کو زیادہ سے زیادہ آٹھ سو الفاظ دینے ہیں ۔ لیکن آپ نے بارہ سو سے زائد دےئے پھر بھی موضوع پر نہ آئے۔ 
 اتنا ہمارے پا س ٹائیم نہیں ک ہ ایک ایک طالب علم کی تحریر تین تین مرتبہ ٹھیک کریں۔ صرف آپ کے کاس میں ایک سو اسٹوڈنٹ ہیں۔ اور ہر ایک کو چار چار چیزیں لکھنی ہیں۔ پارٹ ٹو اور ایم اے پریوئس کے اسٹوڈنٹ اس کے علاوہ ہیں۔
 آپ آﺅٹ لائن بناتے وقت اگر ہوم ورک کر لیتے اور توجہ دیتے تو نہ آپ کو اتنی زحمت ہوتی نہ مجھے۔ 
 اب اس آرٹیکل کا فیصلہ جب شایع کریں گے اس وقت ہوگا کہ اسے مسترد کریں یا کوئی شکل دے کر شایع کریں

آرٹےکل

اساتذہ اور طلبہ کے مبینہ رویوں میں تبدیلی 

عدنان لاشاری
استاد اور شاگرد کے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ ہوتا ہے کیونکہ حقیقی باپ صرف ایک انسان کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے لیکن ایک استاد اس انسان کو حقیقی انسان بناتا ہے اسے انسان ہونے کا احساس اور اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے،شعور دیتاہے ، اس دنیا میں آنے کا مقصد بتا تا ہے،زندگی گزرانے کے ڈھنگ سکھا تا ہے،اس کی زندگی سنوارتا ہے، اس میں اور دوسری مخلوقات کے درمیان کا فرق سمجھاتاہے یہی وجہ ہے کہ استاد کو باپ کا درجہ دیا جاتا ہے اور اسے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ 
اچھا استاد ماہر نفسیا ت بھی ہوتا ہے تو بجا ہوگا کیونکہ شاگرد کے ساتھ ایک استاد کا خیالات کا رشتہ بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے شاگرد تک زمانے کے نشیب وفراز، نیکی وبد ی اور زمانے کے اندھیر ے اجالوں کے بارے میں اپنے اخلاق اور اپنے علم کے ذریعے فرق بتلاتا ہے۔ 

 ایک وقت تھا جب شاگر د استاد کو اپنے روحانی باپ کادرجہ دیا کرتا تھا اسے اتنی ہی عزت دیتا تھا جتنی کہ ایک بیٹا اپنے باپ کودیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے زمانوں میں ایک طالبعلم ترقی وکامرانی کے وہ جھنڈے گاڑھتا تھا جسے دنیا آج تک اسے یادر کھتی ہے اس کے پس منظر میں ایسی کیا وجہ تھی جواب ہمیں نظر نہیں آتی کیا پہلے کے اساتذہ کا اندازِ تدریس آج کے اساتذہ سے زیادہ بہتر تھا ؟ یا پھر آج تعلیم کا قحط ہے یا پہلے کے طلبہ وسیع ذہن کے مالک تھے جو کہ آج نہیں ہیں؟ آج کل نئے تیکنیکی طریقوں سے تعلیم کو آراستہ کرایا جارہا ہے مگر پھر بھی ایک طا لبعلم علم کی روشنی سے کیوں دورجارہا ہے؟ کیا آج کے تعلیمی وسائل پچھلے زمانوں کے قلیل تعلیمی وسائل کے مقابلے میں اپنی وہ اہمیت بر قرارنہیں رکھ سکے یا پھرآج کا طالبعلم ایک روشن ذہن کے ساتھ جنم ہی نہیں لے رہا؟ آخر کیا وجہ ہے وقت گزرتا گیا اور یہ مثالیں کم ہوتے ہوتے بالکل ہی ختم ہوکر رہ گئی ہیں جس کے نتیجے میں نہ صر ف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی بھی پسپائی کا شکار ہے۔

 یہ بجاہے کہ استاد قوم کا معمار ہوتاہے جس کے ہاتھوں ملک وملت کے نونہال پر وان چڑھتے ہیں اور قوموں کی زندگی میں انقلاب بر پا ہوتے ہیں لیکن پرانے ادوار کے مقابلے میں آج استاد اور شاگر د کے درمیان قربت کے بجائے دوریاں ہی دوریاں پیدا ہوتی جارہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کی جانب سے طلبہ کی تربیت کانہ ہونا ۔خاص طور پر صوبہ سندھ کا تعلےمی مےدان مےں حال بہت برا ہے ۔
وزےر تعلےم نثار احمد کھوڑو نے اس بات کا اطراف کےا کہ سندھ کا تعلیمی نظام بہتری کے بجائے زبو حالی کی طرف جا رہا ہے اس کی اصل وجہ اساتذہ کا تربےت ےافتہ نہ ہونا ہے ،اس سلسلے مےں حکومتِ سندھ نے کےنےڈےن انٹرنےشنل ڈےولپمنٹ اےجےنسی کے ساتھ مل کراس سال5,000 اساتذہ کو تربےت دےنی ہے۔اےنول اسٹےٹس آف اےجوکےشن رپورٹ کے مطابق پچھلے آٹھ پرس مےں صرف 40,000اساتذہ کو تربےت دی ہے پر ےہ تسلی بخش نہےں ہےِِِ ۔ پچھلے ادوار میں استاد طالبعلم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی تر بیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے تاکہ جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرے تو وہ ایک اچھا انسان اور مہذب شہری بن کرنکلے اس کے عمل و کردار سے صاف عیاں ہوکہ وہ ایک پڑھا لکھا اور مہذب انسان ہے ۔

 آج جیسے جیسے تعلیمی میدان میں آسانیاں پیداہورہی ہیں ویسے ہی بہت سی مشکلات بھی جنم لے رہی ہیں جس کے سبب استاد اور طالبعلم کے رویے میں تبدیلیاں رونماہورہی ہیں۔ استاد اور طالبعلم کے رویوں میںجدید دور میں استاد کے پڑھانے کے انداز میں بھی بہتری آنی چاہیے تاکہ شاگردوں کے دلوںمیں علم حاصل کرنے کی لگن پیدا ہو۔ ادارہ تعلےم و آگاہی پروگرام کے ڈائرےکٹر کے مطابق سندھ ٹےچرز اےجوکےشن ڈےولپمنٹ اتھا رٹی (steda) اساتذہ کو بہترےن تربےت فراہم کرنے مےں کارآمد ثابت نہےں ہو رہی ۔
 اےجوکےشن فار آل(ای۔اےف۔اے) کے مطابق پرائمری اسکولوں کے ٹےچرز کو بہترےن تربےت کی ضرورت ہے کےونکہ پرائمری لےول کی پڑھائی بہتر ہو گی تو خود بہ خود طالب علموں کا تعلےم حاصل کرنے کی طرف رجحان بڑھتا جائے گا اس سلسلے مےں ای۔اےف۔اے اس پر بھرپور طرےقے سے کام کر رہی ہے تاکہ 2016 مےں پرائمری اےجوکےشن کو 100% بہتر بناےا جا سکے ۔ ۔اےم۔ڈی۔جی کا حدف تھا کہ2015 مےں سندھ کی تعلےمی شرح 88 فےصد ہو پر ےہ60فےصد تک رہی جب ہی اس سال حکومت سندھ نے بجٹ مےں 739 بےلےن روپے تعلےم پر خرچ کرنے کا حکم دےا ہے ۔سندھ اےجوکےشن سےکر ےڑی ڈاکٹر فضل ا ﷲ نے لاڑکانہ مےں پرےس کلب مےں بتاےا کہ سندھ مےں 5,775 اسکولز بند پڑے ہےں اور پورے ملک مےں سب سے زےادہ سندھ مےں40,000 گھوسٹ ٹےچرز ہےں۔

  یہ وہ دور نہیں جب والدین اساتذہ سے کہتے تھے کہ "کھال آپکی اور ہڈی ہماری"۔آج کل والدین اپنے بچوں کی پڑھائی پر بے بہا پیسہ خرچ کررہے ہیں تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انکے بچوں کو اعلیٰ معیاری تعلیم دی جائے نہ کہ استاد کے ڈر اور خوف سے اسکول جانا چھوڑ دیں۔اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رویوں کی تبدیلی کی ایک اور اہم وجہ ہمارا دوہرا اور طبقاتی نظام تعلیم بھی ہے ۔ ہمارے ملک میں یکساں نصاب اور اس نصاب کا ہماری مادری زبان میں نہ ہونا بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے جو کہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا لمیہ ہے ۔ 

ہمارے دوست ملک چےن کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے ہمارے بعد آزادی حاصل کی مگر وہ آج اےک ترقی ےافتہ ملک ہے،چےن کی اس ترقی کا راز بھی ان کے نطامِ تعلےم سے جڑا ہوا ہے۔ ایک طالب علم جو کہ سندھی یا اردو میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہ اپنی زندگی کے 10سال اپنی اسی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے مگر جیسے ہی وہ طالب علم کالج لیول پر پہنچتا ہے تو اسے وہاں سارا نصاب انگریزی زبان میں تھما دیا جاتا ہے جس کے باعث بہت سے طالب علم کو نصاب سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے پڑھائی سے جی چرانے لگ جاتے ہیں۔

ٹےچر اےنڈ لےرنےنگ ان پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسکولوں مےں اپنی مقامی زبان مےں کورس پڑھانا چاہیئے جس مےں اردو بھی شامل ہے تاکہ 85% عوام آسانی سے پڑھ سکے اور انگرےزی زبان سمجھنے والوں کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائینٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیم کی شرح55ہے اور تمام ممالک کے تعلیمی میدان میں پاکستان 160نمبر پر آتا ہے ۔

 اگر ہم ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کی کلاسز کے ماحول کا جائزہ لیں تو اکثر و بیشتر ہم دیکھتے ہیں کہ استاد کلاس مےں پڑھارہا ہے مگر طالب علم بغیر اجازت کلاس میں آجارہے ہوتے ہیں یا پھر کلاس میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اساتذہ اور طلبہ کے رویوں میں بہت فرق آچکا ہے جس نے طالب علم کے دل سے استاد کی عزت نکال دی ہے۔

ہمیںاپنے معاشرے کو اس بگاڑ سے بچانے اور ترقی کیلئے اساتذہ اور طلبہ کے مابین حائل اس خلیج کو دور کرنے کیلئے والدین، اساتذہ اور طلبہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو اس غیر یکساں اور طبقاتی تعلیمی نظام کو بدلنا ہوگا جس سے ہم اساتذہ اور طلبہ کے مابین تیزی سے بدلتے ان منفی رویوں کو روک سکتے ہیں۔

                         نامِ:عدنان لاشاری
   رول نمبر:2k14/MC/153 

Referred back.  Topic is good, but needs bit work 

 اپنے موضوع کے حساب سے کچھ اعداد و شمار کچھ ماہرین کی رائے بھی تو لکھیں۔
 کچھ رپورٹس، ریسرچ رپورٹس بھی ہوتی ہیں۔ خود سندھ یونیورسٹی کی ایجوکیشن فیکلٹی میں اس بارے میں تحقیق ہوتی ہے۔ 
اس میں آپ نے اپنے محسوسات یا پھر ”لوگ “ کہتے ہیں کہ اپروچ رکھا ہے۔
 اس کو ٹھیک سے آرٹیکل کی شکل دیں۔

 جس زبان میں لکھتے ہو اس زبان میں اپنانام بھی لکھنا ضروری ہوتا ہے
یہاں پر آپ کا نام ہم نے لکھا ہے۔
Name: Adnan Ali Lashari
Roll No. 153
Artical
﴿اساتذہ اور طلبہ کے مبینہ رویوں میں تبدیلی﴾
عدنان علی لاشاری
 اپنے موضوع کے حساب سے کچھ اعداد و شمار کچھ ماہرین کی رائے بھی تو لکھیں۔ کچھ رپورٹس، ریسرچ رپورٹس بھی ہوتی ہیں۔ خود سندھ یونیورسٹی کی ایجوکیشن فیکلٹی میں اس بارے میں تحقیق ہوتی ہے۔ اس میں آپ نے اپنے ممحسوسات یا پھر ”لوگ “ کہتے ہیں کہ اپروچ رکھا ہے۔ اس کو ٹھیک سے آرٹیکل کی شکل دیں۔

جس زبان میں لکھتے ہو اس زبان میں اپنانام بھی لکھنا ضروری ہوتا ہے

استاد اور شاگرد کے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ ہوتا ہے کیونکہ حقیقی باپ صرف ایک انسان کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے لیکن ایک استاد اس انسان کو حقیقی انسان بناتا ہے اسے انسان ہونے کا احساس اور اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے،شعور دیتاہے ، اسے اس کے اس دنیا میں آنے کا مقصد بتا تا ہے،زندگی گزرانے کے ڈھنگ سکھا تا ہے،اس کی زندگی سنوارتا ہے، اس میں اور دوسری مخلوقات کے درمیان کا فرق سمجھاتاہے یہی وجہ ہے کہ استاد کو باپ کا درجہ دیا جاتا ہے اور اسے معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔معاشر ے میں قدر کی نگا ہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اچھا استاد ماہر نفسیا ت بھی ہوتا ہے تو بجا ہوگا کیونکہ شاگرد کے ساتھ ایک استاد کا خیالات کا رشتہ بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے شاگرد تک زمانے کے نشیب وفراز، نیکی وبد ی اور زمانے کے اندھیر ے اجالوں کے بارے میں اپنے اخلاق اور اپنے علم کے ذریے فرق بتلاتا ہے، ایک وقت تھا جب شاگر د استاد کو اپنے روحانی باپ کادرجہ دیا کرتا تھا اسے اتنی ہی عزت دیتا تھا جتنی کہ ایک بیٹا اپنے باپ کودیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے زمانوں میں ایک طالبعلم ترقی وکامرانی کے وہ جھنڈے گاڑھتا تھا جسے دنیا آج تک اسے یادر کھتی ہے اس کے پس منظر میں ایسی کیا وجہ تھی جواب ہمیں نظر نہیں آتی کیا پہلے کے اساتذہ کا اندازِ تدریس آج کے اساتذہ سے زیادہ بہتر تھا ؟ یا پھر آج تعلیم کا قحط ہے یا پہلے کے طلبہ وسیع ذہن کے مالک تھے جو کہ آج نہیں ہیں؟ آج کل نئے تیکنیکی طریقوں سے تعلیم کو آراستہ کرایا جارہا ہے مگر پھر بھی ایک طا لبعلم علم کی روشنی سے کیوں دورجارہا ہے؟ کیا آج کے تعلیمی وسائل پچھلے زمانوں کے قلیل تعلیمی وسائل کے مقابلے میں اپنی وہ اہمیت بر قرارنہیں رکھ سکے یا پھرآج کا طالبعلم ایک روشن ذہن کے ساتھ جنم ہی نہیں لے رہا؟ آخر کیا وجہ ہے؟کے ساتھ جنم ہی نہیں لے رہا؟ آخر کیا وجہ ہے؟ وقت گزرتا گیا اور یہ مثالیں کم ہوتے ہوتے بالکل ہی ختم ہوکر رہ گئی ہیں جس کے نتیجے میں نہ صر ف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی بھی پسپائی کا شکار ہے۔ یہ بجاہے کہ استاد قوم کا معمار ہوتاہے جس کے ہاتھوں ملک وملت کے نونہال پر وان چڑھتے ہیں اور قوموں کی زندگی میں انقلاب بر پا ہوتے ہیں لیکن پرانے ادوار کے مقابلے میں آج استاد اور شاگر د کے درمیان قربت کے بجائے دوریاں ہی دوریاں پیدا ہوتی جارہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کی جانب سے طلبہ کی تربیت کانہ ہونا پچھلے ادوار میں استاد طالبعلم کی تعلییم کے ساتھ ساتھ اس کی تر بیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے تاکہ جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرے تو وہ ایک اچھا انسان اور مہذب شہری بن کرنکلے اس کے عمل و کردار سے صاف عیاں ہوکر وہ ایک پڑھا لکھا اور مہذب انسان ہے مگر آج جیسے جیسے تعلیمی میدان میں آسانیاں پیداہورہی ہیں ویسے ہی بہت سی مشکلات بھی جنم لے رہی ہیں جس کے سبب استاد اور طالبعلم کے رویے میں تبدیلیاں رونماہورہی ہیں۔ استاد اور طالبعلم کے رویوں میںجدید دور میں استاد کے پڑھانے کے انداز میں بھی بہتری آنی چاہیے تاکہ شاگردوں کے دلوںمیں علم حاصل کرنے کی لگن پیدا ہو۔ یہ وہ دور نہیں جب والدین اساتذہ سے کہتے تھے کہ "کھال آپکی اور ہڈی ہماری"آج کل والدین اپنے بچوں کی پڑھائی پر بے بہا پیسہ خرچ کررہے ہیں تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انکے بچوں کو اعلیٰ معیاری تعلیم دی جائے نہ کہ استاد کے ڈر اور خوف سے اسکول جانا چھوڑ دیں 22جون2015ءکو پنجاب کا ضلع چکوال کے ایک گاﺅں پنوال کے گورنمنٹ گرلز ایلمینٹری اسکول میں حساب سے استاد نے 14طلباءکو ٹیسٹ یاد نہ ہونے پر ایسی سخت سزا دی کہ انکے چہروں پر سیاہی لگا کر پورے اسکول میں گھمایا جب اساتذہ ایسی سزائیں دیں گے تو کونسا شاگرد اسکول جانے پر آمادہ ہوگا۔
اساتذہ اور طلبہ کے درمیان رویوں کی تبدیلی کی ایک اور اہم وجہ ہمارا دوہرا اور طبقاتی نظام تعلیم بھی ہے ۔ ہمارے ملک میں یکساں نصاب اور اس نصاب کا ہماری مادری زبان میں نہ ہونا بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے جو کہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا لمیہ ہے ۔ ایک طالب علم جو کہ سندھی یا اردو میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہ اپنی زندگی کے 10سال اپنی اسی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے مگر جیسے ہی وہ طالب علم کالج لیول پر پہنچتا ہے تو اسے وہاں سارا نصاب انگریزی زبان میں تھما دیا جاتا ہے جس کے باعث بہت سے طالب علم کو نصاب سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے پڑھائی سے جی چرانے لگ جاتے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائینٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیم کی شرح55ہے اور تمام ممالک کے تعلیمی میدان میں پاکستان 160نمبر پر آتا ہے ۔ اگر ہم ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کی کلاسز کے ماحول کو جائزہ لیں تو اکثر و بیشتر ہم دیکھتے ہیں کہ استاد کلاس میں پڑھارہا ہے مگر طالب علم بغیر اجازت کلاس میں آجارہے ہوتے ہیں یا پھر کلاس میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اساتذہ اور طلبہ کے رویوں میں بہت فرق آچکا ہے جس نے طالب علم کے دل سے استاد کی عزت نکال دی ہے۔
ہمیںاپنے معاشرے کو اس بگاڑ سے بچالے اور ترقی کیلئے اساتذہ اور طلبہ کے مابین حائل اس خلیج کو دور کرنے کیلئے والدین، اساتذہ اور طلبہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو اس غیر یکساں اور طبقاتی تعلیمی نظام کو بدلنا ہوگا جس سے ہم اساتذہ اور طلبہ کے مابین تیزی سے بدلتے ان منفی رویوں کو روک سکتے ہیں۔ 

Revised back Interview of Abdul Hafeez Abid

Revised version. U did not change English words which i had to .
عبدالحفیظ عابد
انٹرویو : عدنان لاشاری

حیدرآباد کے سینئر صحافی عبدا لحفیظ عابد جنھوں نے میٹرک میاں اقبال حسین ہائی اسکول اعلٰی ثانوی اور گریجویشن ماڈل کالج میر پور خاص سے کی۔ انھوں نے میٹرک سے ہی صحافتی میدان میں قدم رکھا۔عبدا لحفیظ عابد روزنامہ اُمت اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبہ کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی ”اےن۔اےن۔آئی“(نےوز نےٹ ورک انٹر نےشنل) میں80, کے عشرے سے حیدرآباد شہر سے نمائندگی کر رہے ہیں۔آپ حیدرآباد پریس کلب کے جنرل سیکرٹری بھی
رہ چکے ہیں۔ اُمت اخبارکے لئے انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ اور ہفتہ وار میگزین” تکبیر “کیلئے بھی لکھتے ہیں۔

سوال:آپ نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کہا ں سے کیا؟
ج:میں نے میٹرک کلاس سے ہی نوائے وقت لاہور میں کام کرنا شروع کیا۔ اُس کے بعد جسارت میںکچھ عرصے کام کیا ۔علاوہ ازیں ”زندگی“ جو کہ ہفتہ وار پرچہ نکلتا تھا اس میں کام کیا اور 1980ءسے اےن۔اےن۔آئی اور 1996ءسے اُمت اخبارحیدرآبادمیں بطور ریزیڈنٹ ایڈیٹر کام کر رہا ہوں۔

س: انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ اوردوسری رپورٹنگ میںنمایاں فرق کیا ہے؟
ج :انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ اور دوسری رپورٹنگ میں نمایاں فرق یہ ہے کہ انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ میں آپ حقائق تلاش کرتے ہیں کوئی واقعہ پیش آنے کے بعد عینی شاہدین سے ملتے ہیں،واقعتی شہادت جمع کرتے ہیں یا ایسی رپورٹ جس میں ڈاکیو منٹ از حد ضروری ہیں ، اس کے لئے ڈاکیومنٹس تلاش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ لوگوں کا نقطہ نظر بھی پیش کرتے ہیں اور اُن کے معاملات پرنظر ثانی کر کے خود بھی انویسٹی گیٹ کرتے ہیں۔

س: پاکستان میں انویسٹیگیٹیو رپورٹنگکس حد تک کی جاتی ہے؟
ج: حیدرآباد میں انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ کا رجحان کم ہے کیونکہ اس میں محنت بھی کرنی پڑتی ہے تمام حقائق ،شہادتیں اور ڈاکیومنٹس اکھٹے کرنے ہوتے ہیںعلاوہ ازیں یہ ُپر خطر بھی ہے۔چونکہ میڈیا کاکام صرف اطلاع دینا نہیں ہے بلکہ رائے عامہ قائم کرنا ، مثبت چیزیں تلاش کرنااو ر لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔قومی سطح کی انویسٹی گیٹیو رپورٹنگ کراچی سے زیادہ کی جاتی ہے چونکہ وہاں وسائل بھی زیادہ ہیں اور مسائل بھی۔
س:آپ کو تحقیقاتی صحافت کا شوق کیوں ہوا؟
ج: میرا مزاج اس طرح کا ہے کہ میں نے اب تک اُن اداروں میں کام کیا ہے جومیرا لکھا ہو ا شائع کرتے ہیں ،تنخواہوں کی پرواہ کئے بغیر اُس کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کہ جو میں نے لکھا ہے وہ چھپ جائے جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی اور میں حقائق کی راہ پر گامزن ہو گیا۔اس کے برعکس سب با خوبی جانتے ہیں کہ میں انویسٹی گیٹیو رپورٹس شائع کرتا ہوں جس کی بنا پر جو رپورٹ دوسرے اخباروں میں نہیں چھپتی اُس کا حصول مجھ تک ممکن ہوجاتا ہے اس طرح لوگو ں کی مجھے رہنمائی حاصل ہوئی۔ٍ

س:نیوز ایجنسی میں خبریں کس طرح منتقل کی جاتی ہیں ؟
ج:مختلف ادوار میں خبریں حاصل کرنے کے مختلف طریقہ کار اپنائے گئے ۔پہلے خبریں فون پر لکھوانا پڑتی تھیں اس کے بعد ٹےلیگراف آفےس سے ٹےلیگرام کی جاتی تھیں پھرٹیلےکس،ٹےلی پرنٹر،فےکس ، اس کے بعدای۔مےل نے اسے اور بھی آسان کردیا۔ اب تمام خبریں میل کی جاتی ہیں۔مثلاََ اےن۔اےن۔آئی کی مثال لیں جس میں سندھ کی خبریں پہلے کراچی اور اسلام آباد جاتی ہیں جہاں خبروں کو چیک کرنے کے بعداےڈےٹ کیا جاتا ہے اور پھر ان خبروں کو لاہور ،پشاور،کوئٹہ سے کراچی کو سروس کے طور پر بھیج دی جاتی ہیں اور وہاں سے اخبارات کو میل کر دی جاتی ہیں۔

س:الیکٹرونک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج:الیکٹرونک میڈیا نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے کہ پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے تربیت یافتہ لوگ جو کہ بہت کم تعداد میں تھے سب نے الیکٹرونک میڈیا کا رُخ کرلیا ہے ۔ علاوہ ازیں مہنگائی کے سبب کو بھی شخص ایک سے زیادہ اخبار کی خریداری کو ترجیح نہیں دیتاجبکہ الیکٹرونک میڈیا جو کہ ہر لمحے ایک نئی چیز پیش کر دیتا ہے۔

س: قاتلانہ حملے کے بعد صحافت ترک کرنے کا خیال آیا؟
ج:مجھ پر قاتلانہ حملے کو میں نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میں نے عہد کرلیا تھا کہ مجھے حق اور سچ کی آواز اسی طرح بلند رکھنی ہے اور حقائق کو قوم کے سامنے لاتے رہنا ہے۔دوسری جانب صحافیوں نے بھی میرے حق میں احتجاج کیا جس سے میری ازحد حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے اپنے مشن کو باوقار طریقے سے دوبارہ جاری رکھا۔

س:کچھ عرصے قبل اور موجودہ رپورٹرز کن تبدیلیوں کے مرتکب ہوئے ہیں؟
ج:جرنلزم بہت اہم شعبہ ہے لیکن ہمارے یہاں تربیتی اداروں کا فقدان ہے ۔اس کے علاوہ صحافتی یونین کی زمہ داری ہے کہ وہ نئے رپورٹرز کی رہنمائی کریںچونکہ ہمارے یہاں تربیتی اداروں کی کمی ہے میں نے بھی جو کچھ سیکھا ہے وہ عملی طور پر میدان میں کام کر کے سیکھا ہے اب یونیورسٹیز وغیرہ میں شعبے بنے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

س:ماس کمیونیکیشن کے طلباکو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج:ماس کمیونیکشن کے طلبا محنت کریںاور صرف ڈگری کے حصو ل کو اپنا مقصد نہ سمجھیںچونکہ ہر سال کئی طلبا ماس کمیونیکشن میں ڈگری حاصل کرتے ہیں لیکن اگر آپ نے اپنی اہلیت ثابت کرنی ہے تو خود کو منوانا بہت لازمی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ آخری سال کے چھ مہینے کسی بھی ادارے کے ساتھ عملی تربیت ضرور حاصل کریںِ۔
2k14/MC/153                    
                                  عدنان لاشاری      


Referred back. Please do not use English words while writing Urdu.
At least u should have written ur name in Urdu, that is must. Referred back. write urdu words instead of English and ur name in urdu also. What abt Abid Sb foto?
Name: Adnan Ali Lashari 
Roll No: 153
عبدالحفیظ عابد
انٹرویو 

حیدرآباد کے سینئر صحافی عبدا لحفیظ عابد جنھوں نے میٹرک میاں اقبال حسین ہائی اسکول لاہور علاوہ ازیں اعلٰی ثانوی اور گریجویشن ماڈل کالج میر پور خاص سے کی۔ انھوں نے میٹرک سے ہی صحافتی میدان میں قدم رکھا۔عبدا لحفیظ عابد اُمت اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں اس کے علاوہ نجی شعبہ کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی NNI میں 80s,سے حیدرآباد شہر سے نمائندگی کر رہے ہیں۔آپ حیدرآباد پریس کلب کے جنرل سیکٹری بھی رہ چکے ہیںاس کے علاوہ اُمت اخبارکے لئے Investigative reporting اور ہفتہ وار میگزین” تکبیر “کیلئے بھی لکھتے ہیں۔ 
سوال:آپ نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کہا ں سے کیا؟
ج:میں نے میٹرک کلاس سے ہی نوائے وقت لاہور میں کام کرنا شروع کیا۔ اُس کے بعد جسارت میںکچھ عرصے کام کیا ۔علاوہ ازیں ”زندگی“ جو کہ ہفتہ وار پرچہ نکلتا تھا اس میں کام کیا اور 1980ءسے NNI اور 1996ءسے اُمت اخبارحیدرآبادمیں بطور ریزیڈنٹ ایڈیٹر کام کر رہا ہوں۔
س:Investigative reporting اوردوسری رپورٹنگ میںنمایاں فرق کیا ہے؟
ج:Investigative reporting اور دوسری رپورٹنگ میں نمایاں فرق یہ ہے کہ investigative میں آپ حقائق تلاش کرتے ہیں کوئی واقعہ پیش آنے کے بعد عینی شاہدین سے ملتے ہیں،واقعتی شہادت جمع کرتے ہیں یا ایسی رپورٹ جس میں ڈاکیو منٹ از حد ضروری ہیں ، اس کے لئے ڈاکیومنٹس تلاش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ لوگوں کا نقطہ نظر بھی پیش کرتے ہیں اور اُن کے معاملات پرنظر ثانی کر کے خود بھی انویسٹی گیٹ کرتے ہیں۔
س: پاکستان میں Investigative reporting کس حد تک کی جاتی ہے؟
ج:ہمارے شہر حیدرآباد میں investigative reporting کا رجحان کم ہے کیونکہ اس میں محنت بھی کرنی پڑتی ہے تمام حقائق ،شہادت اور ڈاکیومنٹس اکھٹے کرنے ہوتے ہیںعلاوہ ازیں یہ ُپر خطر بھی ہے۔چونکہ میڈیا کاکام صرف اطلاع دینا نہیں ہے بلکہ رائے عامہ قائم کرنا ، مثبت چیزیں تلاش کرنااو ر لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔قومی سطح کی انویسٹی گیٹیو رپورٹنگ کراچی سے زیادہ کی جاتی ہے چونکہ وہاں وسائل بھی زیادہ ہیں اور مسائل بھی۔
س:آپ کو Investigative Journalism کا شوق کیوں ہوا؟
ج:میرا مزاج اس طرح کا ہے کہ میں نے اب تک اُن اداروں میں کام کیا ہے جومیرا لکھا ہو ا شائع کرتے ہیں ،تنخواہوں کی پرواہ کئے بغیر اُس کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں کہ جو میں نے لکھا ہے وہ چھپ جائے جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی اور میں حقائق کی راہ پر گامزن ہو گیا۔اس کے برعکس سب با خوبی جانتے ہیں کہ میں انویسٹی گیٹیو رپورٹس شائع کرتا ہوں جس کی بنا پر جو رپورٹ دوسرے اخباروں میں نہیں چھپتی اُس کا حصول مجھ تک ممکن ہوجاتا ہے اس طرح لوگو ں کی مجھے رہنمائی حاصل ہوئی۔ٍ
س:آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اُمت اخبار دوسرے اخباروں سے کس طرح مختلف ہے؟
ج:ہمارے یہاں کوئی بھی اخبار ڈیلی میگزین نہیں دیتا جبکہ اُمت اخبار اپنے ڈیلی میگزین صفحات کی وجہ سے منفرد ہے،جس میں رو زمرہ کی بنیاد پر حالات اور واقعات کی پوری رپورٹ شائع کی جاتی ہے جو کسی بھی آرٹیکل ، انٹرویو یا تبصرہ پر مشتمل ہوتا ہے ۔
س:نیوز ایجنسی میں خبریں کس طرح منتقل کی جاتی ہیں ؟
ج:مختلف ادوار میں خبریں حاصل کرنے کے مختلف طریقہ کار اپنائے گئے ۔پہلے خبریں فون پر لکھوانا پڑتی تھیں اس کے بعدTelegraph office سے Telegram کی جاتی تھیں پھر telex ،Fax,Teleprinter,Teleprinter اس کے بعد e-mail نے اسے اور بھی آسان کردیا۔ اب تمام خبریں میل کی جاتی ہیں۔مثلاََ NNI کی مثال لیں جس میں سندھ کی خبریں پہلے کراچی اور اسلام آباد جاتی ہیں جہاں خبروں کو چیک کرنے کے بعدedit کیا جاتا ہے اور پھر ان خبروں کو لاہور ،پشاور،کوئٹہ سے کراچی کو سروس کے طور پر بھیج دی جاتی ہیں اور وہاں سے اخبارات کو میل کر دی جاتی ہیں۔
س:الیکٹرونک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج:الیکٹرونک میڈیا نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے کہ پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے تربیت یافتہ لوگ جو کہ بہت کم تعداد میں تھے سب نے الیکٹرونک میڈیا کا رُخ کرلیا ہے ۔ علاوہ ازیں مہنگائی کے سبب کو بھی شخص ایک سے زیادہ اخبار کی خریداری کو ترجیح نہیں دیتاجبکہ الیکٹرونک میڈیا جو کہ ہر لمحے ایک نئی چیز پیش کر دیتا ہے۔
س:اخبارات میں اشتہارات کی قیمت کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے؟
 ج:اس کے لئے PID(پاکستان انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ)شعبہ ہے جو اخبارات کوAudit bureau of circulation) )ABC سرٹیفایڈکرتاہے۔ ABC کی بنیاد پر اشتہارات کی قیمت مقرر کی جاتی ہے جس کی زیادہ اشاعت ABCمقرر کرتا ہے اس کی زیادہ قیمت ہوگی مثلاََ نوائے وقت ،جنگ کے بہت زیادہ ریٹ ہیں۔
س: قاتلانہ حملے کے بعد صحافت ترک کرنے کا خیال آیا؟
ج:مجھ پر قاتلانہ حملے کو میں نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اس کے علاوہ میں نے عہد کرلیا تھا کہ مجھے حق اور سچ کی آواز اسی طرح بلند رکھنی ہے اور حقائق کو قوم کے سامنے لاتے رہنا ہے۔دوسری جانب صحافیوں نے بھی میرے حق میں احتجاج کیا جس سے میری ازحد حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے اپنے مشن کو باوقار طریقے سے دوبارہ جاری رکھا۔
س:کچھ عرصے قبل اور موجودہ رپورٹرز کن تبدیلیوں کے مرتکب ہوئے ہیں؟
ج:جرنلزم بہت اہم شعبہ ہے لیکن ہمارے یہاں تربیتی اداروں کا فقدان ہے ۔اس کے علاوہ صحافتی یونین کی زمہ داری ہے کہ وہ نئے رپورٹرز کی رہنمائی کریںچونکہ ہمارے یہاں تربیتی اداروں کی کمی ہے میں نے بھی جو کچھ سیکھا ہے وہ عملی طور پر میدان میں کام کر کے سیکھا ہے اب یونیورسٹیز وغیرہ میں شعبے بنے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
س:ماس کمیونیکیشن کے طلباکو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج:ماس کمیونیکشن کے طلبا کو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ محنت کریںاور صرف ڈگری کے حصو ل کو اپنا مقصد نہ سمجھیںچونکہ ہر سال کئی طلبا ماس کمیونیکشن میں ڈگری حاصل کرتے ہیں لیکن اگر آپ نے اپنی اہلیت ثابت کرنی ہے تو خود کو منوانا بہت لازمی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ آخری سال کے چھ مہینے کسی بھی ادارے کے ساتھ عملی تربیت ضرور حاصل کریںِ۔
2k14/MC/153                      
                                      Adnan lashari