Showing posts with label انٹرویو. Show all posts
Showing posts with label انٹرویو. Show all posts

Friday, 11 March 2016

Asif Memon by رافع خان

Referred back -Are u sending this first time or it was referred back? Let me know when u sent it  for first time. Is this approved topic?


  کیا یہ ٹاپک منظور شدہ ہے؟    
   very weak    
 آصف میمن 
انٹرویو: رافع خان
آصف میمن ۵۱ دسمبر ۰۷۹۱ میں شہر حیدرآباد میں پیدا ہوے۔انہوں نے ایم اے سٹی کالج حیدرآباد سے کیا ۔ انہوں نے حیدرآباد میں پہلی بار ایک بڑے پیمانے پر جم کھولا جو کہ کامیاب ثابت ہوا ور آج تک اس جیسا حیدرآباد میں جم کوئی نہیں ہے اس جم کا نام مسل مینیا ہے۔

سوال: آپ نے پہلا جم کب کھولا اور کس مقصد سے کھولا؟
جواب: میں نے پہلا جم ۶۰۰۲ میں مسل مینیا کے نام سے کھولا۔ جم کاروبار کے لیے کھولا گےا اور اس کا مقصد ےہ تھا کہ لوگ جم میں آ کر اپنے آپ کو فٹ رکھ سکیں۔

سوال:آپ نے جم کھولنے کا ہی انتخاب کیوں کیا ۔کس چیز سے متاثر ہو کہ جم کھولا؟
جواب: میں ایک نےا کاروبار چاہتا تھا جوآنے والے وقتوں میں لوگوں کی ضرورت ہو۔لوگوں میں جم کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیا اس بات سے متاثر ہو کہ جم کھولنے کا فیصلہ کیا۔

سوال:حیدرآباد میں جم کھولنے کا مشوراہ کس نے دےا؟
جواب: دوست ےاروں اور والد کے مشورے سے جم حےدرآباد میں کھولا۔ 

سوال: وہ کون سی ورزش ہے سب سے زیادہ فائدے مند ہے؟
جواب: وزن کم کرنے کی ورزش سب سے زےادہ فائدے مند ہے کیوں کہ موٹاپا ایک بیماری ہے۔

سوال: مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی جم کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟
جواب: مردوں کی دیکھا دیکھی خواتین میں بھی یہ شوق با خوبی بڑھ رہا ہے، اس کی بڑی وجہ ےہ ہے کہ خواتین اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے اور اپنے حُسن میں اضافے کے لیے جم کا رخ کر رہی ہیں۔

سوال: لوگ ضمیمہ( supplement) کا استعمال کرتے ہیں تاکہ باڈی اچھی بن جائے ،کیا اس کا نقصان نہیں ہوتا؟
جواب: ضمیمہ کھانے سے کم وقت میں اچھی باڈی بن جاتی ہے، ضمیمہ کے استعمال کے بعد اگر اسے چھوڑ دےا جائے تو باڈی برقرار راکھنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔

سوال: حیدرآباد میں آپ کے جم جیسی مثال نہیں ملتی ، جم کھولنے کا خےال کیسے آےا؟
جواب: میں خود ہی باڈی بلڈر رہ چکا ہوں ہرباڈی بلڈر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا اپنا جم ہو۔ میں نے حیدرآباد میںاچھے پیمانے پر جم کھولا جس میں ورزش کے لیے جدید مشینںموجود ہیں اسی لیے بے مثال ہے۔

سوال: آپ نے اپنا پیسہ اس کاروبار میں ہی کیوں لگاےا؟
جواب: میں نے اپنے شوق کو کاروبار میں تبدیل کیا ،اپنا پیسہ اس میں لگاےا جو کہ آج بہت فائدے مند ثابت ہوا۔

سوال: کیا باڈی بلڈنگ کا کوئی نقصان ہے؟
جواب: باڈی بلڈنگ کرنے سے انسان فٹ رہتا ہے، مگر جب انسان باڈی بلڈنگ چھوڑ دیتا ہے تو معمولی سا جسم لٹک جاتا ہے۔

سوال: آپ اس شعبے مین کتنے عرصے سے ہیں؟
جواب: میں اس شعبے میں ۸ سال سے ہوں۔

سوال:آپ کے استاد کا نام جنہوں نے آپ کو ٹرینگ دینا سکھائی؟
جواب: میرے استاد کا نام محمد وہاب ہے،جن کی وجہ سے آج اس مقام پر ہوں۔

سوال: کیا سوچ کر آپ نے جم کو اچھے درجے پر کھولا جبکہ آپ ایک عام جم بھی کھول سکتے تھے؟
جواب: حیدرآباد میں کوئی ایسا جم موجود نہ تھا جو اچھے درجے پر ہو،اسی لیے میں نے ایک اچھے درجے پر جم کھولا تاکہ لوگوں میں دلچسپی اور بڑھ جاے ۔

سوال: آپ کو اس کاروبار کا مستقبل نظر آتا ہے؟
جواب: جی ہاں مجھے اس کاروبار کا بہتر مستقبل نظر آتا ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مرد وں ساتھ ساتھ خواتین میں بھی جم جوائن کرنے کا بڑہتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے۔


نام: محمد رافع خان
رول نمبر: 2k14/MC/140
کلاس: BS III

Under supervision of Sir Sohail Sangi

#SohailSangi # #Interview,  #Hyderabad, #RafiKhan, Gyme

Monday, 8 February 2016

محمد راحیل : انٹرویو سماجی کارکن بشریٰ حیاتReferred back

Referred back
Personality is very weak. No foto. Questions are also weak, neither performance nor ideas of the personality are worth mention.
 Do not give numbering to questions.
نام: محمد راحیل
رول نمبر: 68
موضوع : انٹرویو
انٹرویو  سماجی کارکن بشریٰ حیات

بشریٰ حیات  ایک اسکول کی پرنسپل ہیں آپ لطیف آبادکے علاقے نمبر6 میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم لطیف آباد نمبر5کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی ۔انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لئے آپ نے زبیدہ کالج کا رُخ کیا اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم زبیدہ کالج سے حاصل کی ۔اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ سندھ سے ایم۔ایس کیمسٹری کیا ۔سماجی کاموں کا شوق آپ کو بچپن ہی سے تھا اور یہ کام آپ کو وراثت میں ملا تھا ۔آپکے والد بھی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔

سوال نمبر۱: آپ کب سے سماجی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں اور سماجی کاموں کا شوق آپ کو کب سے ہے؟
جواب: میں سماجی کاموں میں تقریباً 20سالوں سے حصہ لے رہی ہوں اور سماجی کاموں کا شوق تو بچپن ہی سے تھا اور یہ کام اپنے والد کو بھی کرتے ہوئے دیکھا تو مزید انسانیت کا احساس دل میں پیداہوا اور سماج کے لئے اپنی زندگی کو صَرف کرنے کا سوچ لیاتھا ۔


سوال نمبر۲: آپ کو سماجی کاموں میں دلچسپی کیوں پیدا ہوئی تھی؟
جواب: میں نے ان بیس سالوں میں بہت کچھ دیکھا ہے لوگوں کے حقوقوں کو ضبط ہوتے ہوئے دیکھا ہے جب میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ یہ لوگ بنیادی سہولتیں حاصل کرنے سے قاصر ہیں پھر بھی یہ لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے تو میں نے سوچاکہ اب اس معاشرے میں بہتری کے لئے اپنا کچھ نہ کچھ کردار ادا کرنا چاہیے اور اب ان لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دلوانے کی کوشش میں لگی رہتی ہوں۔



سوال نمبر۳: بحیثیت سماجی کارکن آپ نے سماج کی بہتری کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟
جواب: جب سماجی کاموں کا میں نے باقاعدہ آغاز کیا تو دیکھا کہ اس معاشرے میں برائیاں پیدا کرنے والا بھی انسان ہی ہے میں نے اب تک زیادہ تر کام تعلیم کے لئے کیا ہے کیونکہ بنیادی چیز ہی تعلیم ہے جب انسان تعلیم حاصل کرے گا تو اس میں شعور خود بہ خود پیدا ہوگا او ر اپنے حقوق کی جنگ یہ خود لڑسکے گا۔



سوال نمبر۴: بحیثیت خاتون آپ نے عورتوں کی تعلیم کے لئے کیا کردار ادا کیا؟
جواب: ہم نے مختلف کیمپئنزکے ذریعے عورتوں میں تعلیم کے شعور کو اجاگر کرنے کی کوششیں کی ہیں ہم نے گھر گھر جا کر عورتوں کے لئے تعلیم کیوں ضروری ہے اس پر کام کیا ہے اور اللہ کے فضل وکرم سے اس کیمپئن کے ذریعے ہم عورتوں کے لئے تعلیم کے دروازے میں کھولنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔


سوال نمبر۵: ہمارے معاشرے میں کون کونسی ایسی بنیادی سہولتیں ہیں جن کو لوگ اب بھی حاصل کرنے سے قاصر ہیں؟
جواب: پہلی بنیادی چیز تو تعلیم ہی ہے ،ہمارے ملک میں تقریباً چالیس فیصد بچے تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں صحت کے مسائل ،معاشی مسائل ،خواتین کے بنیادی حقوق ،بے روزگاری ،معاشی قلت ،ظلم و بربریت اور بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر ہم اب تک قابو نہیں پاسکے ہیں اور لوگ اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں کر پائے رہے ہیں۔



سوال نمبر۶: آپ کی نظر میں یہ سہولیات فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ؟
جواب: یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہماری ریاست کی زمہ داری ہے لیکن کچھ نہ کچھ اور کہیں نہ کہیں ہم بھی ذمہ دار ہیں کہ ہم اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حقوق کے لئے آواز خود ہی بلند کریں ۔



سوال نمبر۷: آپ کیا سمجھتی ہیں ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
جواب: سب سے پہلے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو یکساں کرنا ہوگا ہر صوبے میں ایک جیسا تعلیمی نظام نئے دور کے حساب سے متعارف کروانا ہوگا تاکہ لوگ ایک جیسی تعلیم حاصل کرسکیں کوئی صوبہ کسی دوسرے صوبے سے تعلیم کے میدان میں پیچھے نہ رہے اور سب یکساں تعلیم حاصل کرسکیں۔



سوال نمبر۸: آپ ایک خاتون سماجی کارکن ہیں تو کیاآپ کو کسی قسم کی تنقید کا سامنا کرناپڑتا ہے ؟
جواب: جی! تنقید کا سامنا تو ہر کام میں کرنا پڑتا ہے چاہے وہ اچھا ہو یا برا لوگوں کا تو کام ہی تنقید کرنا ہے لیکن میں کسی بھی قسم کی تنقید پر کام دھرنے کے بجائے اپنے کام پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہوں۔



سوال نمبر۹: ہمارے معاشرے میں عورتوں پر بہت ظلم کئے جاتے ہیں آپ بھی ایک خاتون ہیں آپ نے عورتوں کے حقوق کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟
جواب: میں نے آپکو بتایا ہے کہ ہم نے مختلف کمپیئن کے ذریعے لوگوں کو ان کے حقوق اور خصوصاً خواتین کو اُن کے حقوق کے بارے میںآگاہ کیا ہے میں یہ سمجھتی ہوں جب تک ظلم نہیں ہوسکتا جب تک ظالم اور مظلوم دونوں اس میں برابر کے شراکت دار نہ ہوں اگر عورتیں خود اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آوازیں اٹھائیں تو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے سے اس چیز کا خاتمہ ہوجائیگااور عورتوں پر ہونے والے ظلم پر قابوپایا جاسکے گا۔



سوال نمبر۱۰: کیا آپ ذاتی طور پر سماج کی خدمت کرتی ہیں یا کسی سماجی ادارے سے بھی منسلک ہیں؟
جواب: جی! میں نے مختلف سماجی اداروں میں اپنے فرائض سرانجام دیئے ہیں ابھی ان دنوں فی الحال میں "اُمید دی ری ہیبلی ٹیشن ویلفیئر آرگنائزیشن "سے منسلک ہوں اور ذاتی طورپر بھی سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار اداکرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔




سوال نمبر۱۱: آپ ایک اسکول کی پرنسپل ہیں اپنے پیشے اور سماجی خدمت کا کام کس طرح سر انجام دیتی ہیں؟
جواب: کیونکہ میں ایک خاتون ہوں اور مجھے وقت نکالنے میں کافی دشواری کا سامان کرنا پڑتا ہے لیکن اوپرعائد ذمہ داریوں سے بھی دستبردار نہیں ہوسکتی اور گھر کے کاموں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے لیکن اللہ اپنے بندوں سے کام لیتا ہے تو اللہ کی رضا کی خاطر انسانی خدمت کے لئے خود ہی وقت نکل جاتا ہے۔



سوال نمبر۱۲: آپ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ معاشرے کی بہتری کے لئے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟
جواب: میں اپنے ملک کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ وہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں،اپنی ذمہ داریوں کااحساس کریں،اپنے قیمتی وقت کو فضول کاموں میں برباد نہ کریں کیونکہ دنیا میں جن ممالک نے ترقی کی ہے ان ممالک کے نوجوانوں کا بڑا کردار سامنے آیا ہے اوراللہ کے فضل وکرم سے ہمارے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو یہ نوجوان جب اپنی صلاحیتیوں کوصحیح کاموں میں استعمال کریں تو ہی ہمارا معاشرہ ترقی کرے گا۔

Thursday, 4 February 2016

Referred back Interview with Sumer Majid

Referred back Please do not send in fomrated form. it should be in simple inpage. Do not inset foto in text file. 
No numbering to questions. 
 U can see extra spacing is creating problem. its personal interview, u were asked to make it subject interview. at the most 2-3 personal questions are suffiient  
Resend it win simple inpage format, with changed file name and also mention why it was referred back
نام : بلال مسعود

رول نمبر: 132
موضوع: انٹرویو

ثمیر ماجد
ثمیر ماجد 14جنوری 1986ءکو ضلع حیدرآباد میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم لطیف نیازی اسکول اور پھر انٹرمیڈیٹ پاکستان پائلٹ کالج سے کیااور اعلیٰ تعلیم جامعہ سندھ سے ایم ۔بی۔اے ، ایم۔اے۔انگلش، ایم۔اے۔اردو کی ڈگریاں وقتاً فوقتاً حاصل کی۔آپ آر۔جے اور ٹیچرنگ کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں ۔
سوال: آپ کو بروڈکاسٹنگ فیلڈ میں آنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
جواب: والد براڈکاسٹر تھے اور والد کی خواہش تھی کہ میں بھی بحیثیت بروڈ کاسٹر اپنے والد کے پیشے کو اپناﺅںاور مجھے سیکھنے اور سکھانے کا شوق اس شعبے میںکھینچ لایا۔
سوال نمبر آپ اس شعبے میںکب آئے؟
جواب: 2004ءمیں ریڈیوپاکستان حیدرآباد میں آڈیشن دیا جو عنایت بلوچ صاحب کی زیر سرپرستی ہوااس انٹر ویو میںانہوں نے مجھ سے کچھ کہنے کو کہا تو میں نے اے۔بی۔سی۔ڈی سناڈالی جس پر وہ مسکرائے ۔
سوال: اس شعبے میں آپ نے بہت نام کمایا کیا کوئی سَنَد ±بھی حاصل کی؟
جواب: 2004ءسے 2014ءتک پی۔بی۔ سی سے بیسٹ آر۔جے ایوارڈ حاصل کرتا رہا ہوں حالانکہ اور بہت سے آر۔جیزبھی مقابلے میں موجود ہوتے تھے اور کچھ کچھ میرے سنیئرز بھی ۔
سوال: پہلا پروگرام کب کیا؟
جواب: پہلا پروگرام "گڈ اوننگ حیدرآباد" جولائی 2004ءسے شروع کیا جو FM: 105 سے نشر ہوتا تھا۔ایک سال بعد ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگیا۔
سوال: اس شعبے میں کیا آپکا کوئی رول ماڈل ہے ؟
جواب: میرے رول ماڈل معین خان ہیں۔
سوال: اس شعبے میں آپ نے کیا کام سرانجام دیئے؟
جواب: میں بحیثیت وائس اوﺅر آرٹسٹ ، کمرشل آرٹسٹ، کریٹک اسٹیج اوراسکرپٹ رائٹنگ کا کام بھی سرانجام دیا۔
سوال: کیا آپکو کبھی الیکٹرونک میڈیا میں کام کرنے کا موقع ملا؟
جواب: اُستاد ایس۔ایم حسن جعفری نے مجھے آج نیوز پرپروگرام"بلیک باکس"میں کام آفر کیا جومیں نے بحیثیت "وائس اوﺅر آرٹسٹ "سر انجام دیا۔انڈس نیوز پر (دی رپورٹر روڈ شو)پر بھی کام کرچکا ہوں۔
سوال نمبر8:میڈیا کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟
جواب: میرے مطابق میڈیا ایک ایسا شعبہ ہے جو معاشرے میں تربیت اور بہتری کے لئے ایک اہم ردارکرسکتا ہے ۔
سوال: اس شعبے میں کوئی ایسی شخصیت جن سے آپ متاثر ہوں ؟
جواب: انسان کا سب سے پہلے استاد اسکے والدین ہوتے ہیں مسٹراینڈ مسزماجد علی نے مجھے بہت کچھ سکھایااور زندگی کے ہر موڑ پر بہت سپورٹ کیا اس کے بعد مرزا سلیم بیگ ،سربدر سومرو،سر سہیل سانگی،مومن خان مومن وہ شخصیات ہیں جن سے میں بہت متاثر ہوااور ان سے مجھے سیکھنے کا بھی بہت موقع ملا۔
سوال: آپ اس فیلڈ کے ساتھ تعلیمی شعبے سے بھی وابستہ ہیں دونوں شعبے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں آپ ان دونوں کو ایک ساتھ کیسے لےکر چلتے ہیں؟
جواب: معاشرہ تنقیدی بن گیا ہے لوگ اچھا پہلو نکالنے کے بجائے تنقید برائے تنقید کرتے ہیں میری نظر میں یہ دونوں ہی شعبے سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ ہیں ۔میری نظر میںیہ دونوں ایکدوسرے سے جداگانہ نہیں ۔میںبحیثیت آر۔جے سماجی کاموں کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں اور بحیثیت ایک ٹیچر میں شاگردوں کی اصلاح کی کوشش کرتاہوں ۔
سوال نمبر11: آپ نے سماجی کاموں کی بات کی تو کیا آپ کسی سماجی تنظیم سے بھی وابستہ ہیں؟
جواب: جی ہاں ! میں ایک سماجی تنظیم بنام "اُمید دی ری ہیبلی ٹیشن ویلفیئر آرگنائزیشن "سے بطور رضاکار اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہاہوں۔
سوال نمبر12:کیا آپ کا اردو اب میں لگاﺅ ہے؟
جواب: اردو میری مادری زبان ہے اور مجھے اس سے بہت پیار ہے اس لئے مجھے شاعری کا بہت شوق ہے اور مختلف مشاعروں میں شرکت بھی کرتا ہوں ۔

Wednesday, 3 February 2016

Interview with Murtaza Dadahi by Misbah

Photo not clear. Question about press club  tell nothing it should be deleted. Lets know how u write ur name in Urdu. 
Misbah-ur-ruda
2k14/MC/52
MEDIUM: URDU 
INTERVIEW 
سید مرتضی شاہ ڈاڈائی

انٹرویو: مصباح 
مرتضی شاہ ڈاڈائی ۲۶ نومبر ۱۹۳۹ میں پیدا ہوئے آپ ایک بہت ہی مشہور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھی ٬ اردو٬ انگریزی اپنے والد سے حاصل  کرنے کے بعد ۱۹۵۳ میں چودہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ غزل٬ حمد ٬ گیت٬ وائی ٬ نظم ٬ بیت٬ قطعا٬ نعت ٬ منعقت٬ مناجات وغیرہ سے پہچان بنائی اور لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ۔ 

شاعری کے آغاز کے کچھ ہی عرصے بعد سندھی زبان میں کتابیں لکھنا شروع کیں۔ ’زھرو زم زم ‘ ۱۹۸۴ میں پہلی کتاب لکھی پھر ’تون پارس آﺅن لوھ‘ ۱۹۹۴ مےں لکھی پھر ئ’سٹھا سر ھا گل‘ ۱۹۹۶ میں لکھی پھر ’مان زرتون ماھتاب‘ ۲۰۱۱ مےں لکھی اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کتابیں لکھ کر بڑے بڑے شعراء مےں اپنا نام منوایا۔ اب تک جو مواد چھپا ہے ان مےں عشقیہ شاعری ٬ وطن کے گیت ٬ مزاحیہ نظم٬ مزاحیہ کا لم٬ زرعی نغمے اور میوزیکل فیچر ز شامل ہیں آپ پریس کلب کے بانی بھی رہ چکے ہیں۔ 

 جب میں نے ان سے انٹرویو لینے کے لئے رابطہ کیا تو آپ نے بہت خوش مزاج انداز میں حامی بھر لی اور مجھے خوش آمدید کہا مرتضی شاہ ڈاڈائی کے گھر مےں موجود کتابوں سے ان کی شاعری میں دلچسپی کا اندازہ ہو رہا تھا ان کے ساتھ کی جانے والی گفتگو نزر قارین ہے۔ 

س: شاعری کا آغاز کیسے کیا اور کن مشکلات کا سامنا رہا؟
 ج :  میرے والد زمیندار تھے اور مےں اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہوں گاﺅں میں اوطاقوں میں والد صاحب کے پاس گانے والے ٬ ادیب٬ شعراء وغیرہ آتے تھے اس سلسلے مےں فنکاروں سے دلچسپی ہوئی اور ۱۹۵۳ سے شاعری کا آغاز کیا اور شاعری مےں اللہ کے کرم سے کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔ 

س: آپ کی شاعری کے سلسلے مےں کن کن تنظیموں سے وابستگی رہی؟
 ج: بہت سی تنظیموں سے وابستگی رہی جیسے کہ بزم مسافر ٬ بزم طالب المولی ٬ بزم نور ادب ٬ سندھی ادبی ثقافتی سنگت٬ سندھ سید ایسوسیشین ٬ حلال احمر کمیٹی ٬ اینٹی نارکوٹکس کمیٹی٬ کرائم کنٹرول کمیٹی ٬ تعلیمی کمیٹی٬ پیشنٹ ویلفئیر سوسائٹی ٬ سٹیزن کمیٹی ہیلتھ مینجمینٹ کمیٹی٬ وتایو فقیر مینجمینٹ کمیٹی٬ ڈسٹرکٹ ہیریٹیج کمیٹی ٬ اور اس کے علاوہ بھی کافی عرصہ سے ریڈیو پاکستان اور پی۔ ٹی ۔وی میں کلام نشر ہوتے رہے ہیں۔ 

س: آپ نے مختلف ٹی۔وی چینلز کے ساتھ کام کیا اس سلسلے میں آپ کو کوئی اعزاز یا ایوارڈ ملے؟
 ج:  جی ہاں زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا جس میں حسن کردار گولڈ میڈل ایوارڈ٬ نئی زندگی گولڈن جوبلی ایوارڈ٬ قلندر لال شہباز ایوارڈ ٬ مہران کلچرل ایوارڈ٬ سوشل ویلفیئر کمیٹی ایوارڈ ٬ ریڈیو پاکستان حیدرآباد ایوارڈ ٬ بلدیہ حسن کارکردگی ایوارڈ اور اس کے علاوہ بھی کئی ایوارڈ شامل ہیں۔ ۱۹۹۲ میں ادبی دوستوں نے تاج پوشی کی۔ ٹنڈوالہیار میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے ’مرتضی شاہ ڈاڈائی‘ ہال تعمیر کیا گیا۔


 س: آپ نے شاعری میں اپنا ایک الگ نام بنایا کیا لوگ آپ کی شاعری سے مطمئن تھے؟ 
 ج:  جی ہاں لوگ میری شاعری سے مطمئن تھے ۔ اور سب نے پسند بھی کی تھی محمد زمان اس وقت کے سب سے بڑے شاعر امیم فھیم کے والد انھوں نے پسند کی اور اس وقت کے بڑے بڑے شاعر کو بھی دکھایا وہ بھی مطمئن تھے۔ 

س: اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ بتانا چاہیں گے؟
 ج: واقعات تو بہت ہیں لیکن ایک واقعہ یہ کہ ۳۰ سال پہلے میرے والد زندہ تھے۔ باہر دروازہ پر ایک آدمی آیا تو وہ عمر رسیدہ تھا لاڑکانہ سے آیا تھا اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بڑے سائیں ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ نہیں بابا نہیں ہیں پھر انہوں نے محلے والوں سے پوچھا تو انہوں نے دوبارہ میرا گھر بتادیا وہ پھر میرے گھر آکر پوچھنے لگے کہ کیا بڑے سائیں ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ میں مرتضی شاہ ڈاڈائی کی بات کر رہا ہو ں۔ تو آپ نے مسکراکر جواب دیا کہ میں ہی مرتضی شاہ ڈاڈائی ہوں اس شخص کو یہ بات جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ میں نے اتنی کم عمری میں اتنی ساری کتابیں لکھیں ا س کے خیال میں میں ایک بزرگ تھا میں برسوں سے شاعری کر رہا ہوں اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔ 

س: شاعری کے لحاظ سے آپ کیا سمجھتے ہیں پاکستانی نو جوانوں کے ٹیلنٹ کا گراف کتنا اوپر ہے؟
 ج: پاکستانیوں میں ٹیلنٹ کا گراف بہت اونچا ہے نوجوانوں کو چاہیے کہ ایسی شاعری کریں جس سے امن وسلامتی ٬ بھائی چارہ پیدا ہو اس کے ساتھ ساتھ دوسری شاعری بھی کریں ہم نے جو زمانہ گزارہ تھا کسی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اگر شاعری کریں تو پہلے کسی بڑے شاعر کو دکھادیں اپنی اصلاح کے لئے پھر کسی فنکار کو شایع کرنے کے لئے دیں۔ 

س: آپ بطور پریس کلب کے بانی بھی کام کر رہے ہیں اس حوالے سے کیا کیا کام ہیں؟
 ج: پریس کلب میں بہت سے کام ہوتے ہیں جیسے نیوز دینا، اخبار نکالنا پریس کلب میں ہر ۲ سال میں صدر بدلتا ہے۔ موجودہ صدر بشارت قائم خانی ہے صدر کے علاوہ جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔پریس کلب میں کوئی اختلاف نہیں ہے سندھی٬ پنجابی٬ بلوچی سب شامل ہیں 

س: شاعری کے لحاظ سے آنے والی نئی نسل کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
 ج: شاعری کے لحاظ سے یہی مشورہ دوں گا کہ شاعری کا شوق رکھتے ہیں تو شاعری کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کی عزت کریں ماں باپ کے وفادار بنیں ٬ خواتین کا احترام کریں ہم جب بنیوں پر جاتے تھے تو خواتین جہاں بھی آتی تھیں تو ہم ان کو آتے دیکھ اپنا راستہ بدلےا کرتے تھے شاعری کے زرےعے اپنا نام بنائیں۔ 

س: آپ کو ایک کے بعد ایک کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
 ج: شاعری ایک کے بعد ایک مجموعے میں آگے بڑھتی گئی میری ۵ کتابیں شایع ہو گئیں اور چھٹی کتاب بھی لکھ دی لیکن چھپی نہیں ہے شاعری کو دیکھتے ہوئے کتابیں اپنے آپ بڑھتی گئیں میرے دماغ میں جو کچھ ہوتا تھا کتاب کی صورت میں لکھ دیا کرتا ہوں ۔ 

س: آپ کو یہ خیال کیسے آیا کہ گانے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر نشر کروانے چائیے؟
 ج: اس وقت جو میوزک موسیقار تھے ان میں ۱۰۰ سے زیادہ موسیقار جیسے عابدہ پروین تک سب کے گانے نشر ہوئے تھے ایف۔ایم یا ٹی۔وی پر اس وقت سندھ میں صرف حیدرآباد اور کراچی میں ایف۔ایم ریڈیو تھا ان سب کو دیکھ کر شوق
 بھی پیدا ہوا اور مشورہ بھی ملا


Misbah-ur-ruda 
2k14/MC/52, Department of Media and Communication Studies, Sindh University Jamshoro
Jan 2016 
INTERVIEW of Syed Murtaza Dadahi Sindhi poet from Tando Allahyar.
Practical work done under supervision of Sir Sohail Sangi


Saturday, 23 January 2016

Referred back Interview of Nasreen by Maryam

Referred back
Very poor
میڈم نسرین پرنسپل نیو بنات ہائی اسکول انٹرویو: مریم ملک یہ سوالات انٹروڈکشن میں ڈالیں ابتداءمیں اسکول کی استانی تھیں۔لیکن بعد میں اسی اسکول میں بطور پرنسپل اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ س۔میڈم آپکا نام؟ ج۔نسرین س۔آپکی رہائش کہاں کی ہے؟ ج۔پہلے تو آفندی ٹاﺅن میں رہتی تھی۔اوراب لطیف آباد 6نمبر۔ س۔آپ نے شرواتی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ ج۔میں نے میمن انجمن سے میٹرک کیا پھر انٹر اور بی اے(B.A)زبیدہ کالج سے کیا۔ س۔آپ کو پڑھانے کا شوق کیوں ہوا؟ ج۔میری یہ فیلڈ نہیں تھی۔ لیکن گھریلومسائل کی وجہ سے میں اس شعبہ ہیں آئی۔آگے چل کر مجھے موقعے ملتے گئے۔ س۔آپ کب سے پڑھا رہی ہیں؟ ج۔1984سے پڑھا رہی ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سوال کا انٹرویو سے کوئی تعلق نہیں۔ اسکو نکال دیں یہ سکول کب سے چل رہا ہے وغیرہ۔ س۔آپ کواپنے اسٹوڈنٹس سے کیا تواقعات ہیں؟ ج۔مجھے اپنے بچوں سے بہت تواقعات ہیں۔میرے مالک کا شکر ہے کہ میرے بہت سے اسٹوڈنٹس اچھی اچھی پوسٹس پر ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ س۔آپکا پسندیدہ مضمون کونسا ہے؟ ج۔میرا پسندیدہ مضمون انگلش اور مطالعہ پاکستان تھا۔ جب میں ٹیچر بنی تو مجھے انگلش ہی پڑھانے کو دیا۔ اور پھر جب انھوں نے دیکھا کہ میں بچوں کو بہت لگن سے پڑھا رہی ہوں۔ تو مجھے انچارج بنا دیا۔ اور کچھ عرصہ میں پرنسپل منتخب کیا گیا۔ س۔آپ بچوں کو کیسے سنبھالتی ہیں؟ ج۔میں بچوںکو بہت پیار اور محبت سے پڑھاتی ہوںاور اگر کوئی بڑا مسئلہ ہو تو ہم والدین سے رجوع کرتے ہیں۔ ہمارے اسکول میں جو انٹر تک بچے ہیں وہ بہت احترام کرتے ہیں۔ س۔آپکا اساتذہ کے ساتھ کیسا رویہ ہوتا ہے؟ ج۔ہم بچوںکے سامنے اساتذہ کے ساتھ بہت نر می و ا حترام کے ساتھ پےش آ تے ہیں۔تاکہ بچو ں کے دل مےں بھی اساتذہ کا احترامقائم رہے۔ س۔میڈم آپکا کیا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کوکیوں پیچھے رکھا جاتا ہے؟ ج۔پرانے لوگوں کی سوچ تھی لیکن اب تو ہر سوسا ئٹی میں لڑکیوں کو آگے رکھا جاتا ہے۔مگر اب کچھ ایسے پسماندہ علاقے ہیں جہاں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی۔ س۔آپ کو پہلے کے بچوں میں اور آج کے بچوں میں کیا فرق نظر آتا ہے؟ ج۔بہت فرق نظر آتا ہے۔پہلے بچوں کو اتنی سہولیات مہیا نہیں تھی۔مگر آج کے بچوںکو ہر قسم کی سہولیات مہیا ہوتی ہیں۔ س۔آپکی نظر میں کیا وجوہات ہیں جو آج بھی دیہات کے لوگوں کا رحجان تعلیم میں دن بہ دن بڑھتا دیکھائی دیتا ہے اور شہر کے لوگ پسماندہ ہوتے نظر آرہے ہیں؟ ج۔وہ بہت محنتی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تعلیم پر بھی اب ذیادہ توجہ دیتے ہیں۔ وہ شہر کے لوگوں سے زیادہ ایماندار ہوتے ہیں۔ وہاں کے ٹیچر بہت ایماندار ہیں۔اور بہ خوبی اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ اور وہ دل سے عزت کرتے ہیں۔ س۔آپ کچھ اپنے خیالات بتائیے؟ ان والدین کت بارے میں جو اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے؟ ج۔میرا خیال ہے کہ ان والدین کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسا واحد ذریعہ ہے جو انسان کو سنوارتی ہے۔اور اچھے برے کو پہچا ننے کی صلاحیت اجاگر کرتی ہے۔ س۔ ہمیں آپ سے بات کرکے بہت اچھا لگا۔ آپ لوگوں کو تعلیم کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟ ج۔میں تعلیم کے حوالے سے یہ پیغام دینا چاہوں گی ۔کہ جتنی ہو ذیادہ سے ذیادہ تعلیم حاصل کریں۔ اور بچے صدقہ جاریہ میں کام کریں۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تعلیم دینے کی کوشش کریں اور علم بانٹنے میں میری اور ہر شخص کی مدد کریں۔

Friday, 22 January 2016

Revised - Interview of child specialist Masood

Revised version

 
          ڈاکٹر مسعود چائلڈ اسپیشلسٹ
نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائمنٹ:انڑویو
مییڈیم:اردو
سوال:چھوٹی عمر میں بچوں کو دل کی بیماریاں ہوتی ہیں جیسے پیدائشی طور پر دل میں سوراخ ہوتا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے اور اس بیماری سے بغیر علاج کے نجات مل سکتی ہے؟
جواب:جو پیدائشی طور پر دل میں سوراخ ہوتا ہے تو پیدائشی کچھ وجوہات ہوتی ہیںجب بچے کا دل بننا شروع ہوتا ہے تو کچھ ایسے نقص رہ جاتے ہیں جن سے دل 
  صحیح طریقے سے نہیں بن پاتا ۔تو علاج کے لئے اس کی حالت کے مطابق دیکھا جاتا ہے اگر چھوٹا سوراخ ہے تو وہ وقت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے اگر
   بڑا سوراخ ہو تو پھر اس کے لئے آپریشن کرنا پڑتا ہے۔

سوال:دل کے سوراخ میں مبتلا بچوں کا کس عمر میں علاج کروایا جاسکتا ہے؟
جواب:یہ تو دیکھ کر ہی بتاےا جا سکتا ہے کہ کس طرح کی دل کی بیماری اس بچے کو ہے تو دل کی بیماری کے جو سرجن ہوتے ہیں وہی بتا سکتے ہیں کے بچے کو آپریشن کے لئے 
  کب لانا ہے اور کب آپریشن کرنا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تب آپریشن کرتے ہیں ورنہ اگر دوائیوں سے ٹھیک ہو سکتا ہے تو دوائیاں دے کر علاج کیاجاتا
   ہے۔

سوال:بچوں میں استھما بھی پیدائشی طور پر دےکھنے کو ملتا ہے تو اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟
جواب:استھما سانس کی بیماریوں کی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اگر ماں باپ کو ہے تو وہ بچوں کو بھی ہوجاتا ہے۔لیکن اگر کسی کو کھانے پینے سے 
   الرجی ہو مثلا انڈا،چنے کی دال،مرغی،ٹماٹر،شہد یہ سب چیزیں گرم ہوتی ہیں ان کے اندر پروٹین ہوتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ الرجی ہوتے ہیں۔
   تو وہ سانس کی نالیوںمیں جمع ہوجاتا ہے جس سے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

سوال:نومولود بچوںمیں کونسی بیماریاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ان کا علاج کس طرح سے کیاجاتا ہے اور کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
جواب:بہت سی ہیں جو پیدائشی طور پر ہوتی ہیںجیسے ہونٹ کٹا ہوا بعض بچوں کی آنکھوں سے پانی بہت زیادہ آتا ہے۔تو اس میں آنکھ کا سوراخ بند ہوتا ہے۔
  ہاتھ پاﺅں ٹیڑ ھے ہوتے ہیں پھر ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ 

سوال:بچوں میں Inguinal hernia اور congiental diseaseبھی ہوتی ہے یہ کس طرح کی بیماری ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے 
  کیا کرنا ہوتا ہے؟
 جواب:Inguinal hernia ہرنیہ کی ایک قسم ہے ہمارے جسم میں مختلف سوراخ ہوتے ہیں inguinal پیٹ اور آنتھ کے درمیانی حصہ جو ہوتا ہے
   وہاں ایک سوراخ ہوتا ہے تو اس میں کھال کے نیچے آنتھ آجاتی ہے اور وہ آنتھ پھول جاتی ہے۔congiental پیدائشی ہوتی ہے جیسے دل الٹے
   ہاتھ کی جگہ سیدھے ہاتھ پر ہونا ،ہاتھ پاﺅں آڑھے ٹیڑھے ہونا یہ سب بیماریاں congiental disease ہوتی ہیں۔

سوال:والدین سے ملنے والی کونسی بیماریاں ہوتی ہیں؟
جواب:جو بیماریاں والدین سے ملتی ہیں ان میں تھلیسیمیا،کالایرکان وغیرہ ہوتی ہیں۔

سوال:بچپن میں جو بچے ذہنی طور پر معزور ہوتے ہیںاس کی وجہ کیا ہے؟
 جواب:بچوںمیں معزوری کے لئے بہت سی چیزیں ہوتی ہیں پیدائشی طور پر کچھ مسائل ہوجاتے ہیں جن سے ابنارملٹی ہوجاتی ہے۔

سوال:اس طرح کے بچوں کا اگر علاج کیا جائے تو کیاوہ نارمل ہوسکتے ہیں؟
جواب:علاج بیماری کو دیکھ کے ہو سکتا ہے کہ وہ صحیح ہو سکتی ہے یا نہیں اس کا باقائدہ چیک اپ کیا جاتا ہے اگر بہت زیادہ چھوٹی کھوپڑی ہے تو اس 
  کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے میں چیک اپ کر کے ہی بتایاجا سکتا ہے۔

سوال:دنےا بھر مےں پولیو بہت سے ممالک مےں ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان مےں اب تک اس پر قابو کےوں نہےں پاےا گےا؟
جواب:پولیو کے لئے حکومت اور لوگ کوشش کر رہے ہےں ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کو پو لےو کے قطرے پےلانے نہےں دےتے ان کو چھپا لےتے ہےں
  جب تک آخری بچے تک ہم نہےں پہنچے گے اور جب تک آخری بچہ قطرے نہےں پےلے گا تب تک اس چےز پر قابو نہےں پاےا جا سکتا۔
  کےونکہ اگر اےک بچے مےں پولیو ہے تو وہ باقی بچوں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوال:پولیو کا مرض کتنے فےصد بچوں مےں پاےا جاتا ہے؟
جواب:پولیو اگر ہمارے جسم مےں داخل ہو جائے تو نقصان نہےں کرتا مگر ۲ فےصد بچوں مےں ےہ ہوتا ہے کہ اگر پولیو کا جراثےم ان کے جسم مےں شامل ہوجائے توبھی ہمارے
  جسم مےں اےک قوت ہوتی ہے جو اس مرض سے قطروں کے ذرےعے بچاتے ہےں۔

سوال:بچوں کو مکمل طور پہ وےکذےنشن ملی ہو مگر پھر بھی وہ بےمارےوں کا شکار ہوجاتے ہےں اس کی کےا وجہ ہے؟
جواب:اگر والدےن دےر سے وےگذےن لگوانے آتے ےا ہم کبھی کبھار دےر سے پہنچتے ہےںےا پاکستان مےں وےکزےن کی کمی ہوجاتی ہے تو بچے وائرل ڈزےز کا نشانہ بن جاتے
  ہےں۔اس کے علاوہ اگر باقائدہ وےکزےن لگی ہر اہر نچہ پھی پھر بھی بےماری نشانہ بن جائے تو ہمارے جسم مےں فوجی ہوتے ہےں جو ان بےمارےوں سے لڑ کر انسان
  کو محفوظ رکھتے ہےں۔

سوال:چھوٹے بچے آج کل چپس چاکلےٹ جےسی چےزےں کھاتے ہےں تو ان چزوں کے ان کو کےا نقصانات ہےں؟
جواب:ان چزوں مےں مختلف قسم کے کےمیکلز موجود ہوتے ہےں جو بچوں کا پےٹ اور ہاضمہ خراب کرتے ہےںتو والدےن کو چائےے بچوں کو کھانا کھلائےں اور چزوں 
  سے دور رکھےں تا کہ وہ پےٹ کی بےمارےوں سے محفوظ رہےں۔



Referred back- It composing is incorrect.  Ap ne chhit "ye" ky bajye barri "ye" likh de hae. jo k fomrmat maintoot jati hae
 ap khud dekh len. Ye two ap ne shuru main bhi bheja tha. Refer back hua tha?  
          ڈاکٹر مسعود چائلڈ اسپےشلسٹ
نام:فرحانہ ناغڑ
رول نمبر:24
اسائمنٹ:انڑوےو
مےڈےم:اردو
سوال:چھوٹی عمر مےں بچوں کو دل کی بےمارےاں ہوتی ہےں جےسے پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہے اور اس بےماری سے بغےر علاج کے نجات مج سکتی ہے؟
جواب:جو پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو پےدائشی کچھ وجوہات ہوتی ہےںجب بچے کا دل بننا شروع ہوتا ہے تو کچھ اےسے نقص رہ جاتے ہےں جن سے دل 
   صحےح طرےقے سے نہےں بن پاتا ۔تو علاج کے لئے اس کی حالت کے مطابق دےکھا جاتا ہے اگر چھوٹا سوراخ ہے تو وہ وقت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے اگر
   بڑا سوراخ ہو تو پھر اس کے لئے آپرےشن کرنا پڑتا ہے۔

سوال:دل کے سوراخ مےں مبتلا بچوں کا کس عمر مےں علاج کرواےا جاسکتا ہے؟
جواب:ےہ تو دےکھ کر ہی بتاےا جا سکتا ہے کہ کس طرح کی دل کی بےماری اس بچے کو ہے تو دل کی بےباری کے جو سرجن ہوتے ہےں وہی بتا سکتے ہےں کے بچے کو آپرےشن کے لئے 
  کب لانا ہے اور کب آپرشن کرنا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تب آپرےشن کرتے ہےں ورنہ اگر دوائےوں سے ٹھےک ہو سکتا ہے تو دوائےاں دے کر علاج کےا جاتا
   ہے۔

سوال:بچوں مےں استھما بھی پےدائشی طور پر دےکھنے کو ملتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہوتی ہے؟
جواب:استھما سانس کی بےمارےوں کی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے اےک تو ےہ کہ اگر ماں باپ کو ہے تو وہ بچوں کو بھی ہوجاتا ہے۔لےکن اگر کسی کو کھانے پےنے سے 
   الرجی ہو مثلا انڈا،چنے کی دال،مرغی،ٹماٹر،شہد ےہ سب چےزےں گرم ہوتی ہےںان کے اندر پروٹےن ہوتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ الرجی ہوتے ہےں۔
   تو وہ سانس کی نالےوں مےں جمع ہوجاتا ہے جس سے سانس لےنے مےں مشکل ہوتی ہے۔

سوال:نومولود بچوں مےں کونسی بےمارےاں دےکھنے کو ملتی ہےں اور ان کا علاج کس طرح سے کیا جاتا ہے اور کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
جواب:بہت سی ہےن جو پےدائشی طور پر ہوتی ہےںجےسے ہونٹ کٹا ہوا بعض بچوں کی آنکھوں سے پانی بہت زےادہ آتا ہے۔تو اس مےں آنکھ کا سوراخ بند ہوتا ہے۔
  ہاتھ پاﺅں ٹےڑھے ہوتے ہےں پھر ان کی عمر کو دےکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ 

سوال:بچوں مےں Inguinal hernia اور congiental diseaseبھی ہوتی ہے ےہ کسطرح کی بےماری ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے 
  کےا کرنا ہوتا ہے؟
 جواب:Inguinal hernia ہرنےہ کی اےک قسم ہے ہمارے جسم مےن مختلف سوراخ ہوتے ہےں inguinal پےٹ اور آنتھ کے درمےانی حصہ جو ہوتا ہے
   وہاں اےک سوراخ ہوتا ہے تو اس مےں کھال کے نےچے آنتھ آجاتی ہے اور وہ آنتھ پھول جاتی ہے۔congiental پےدائشی ہوتی ہے جسے دل الٹے
   ہاتھ کی جگہ سےدھے ہاتھ پر ہونا ،ہاتھ پاﺅں آڑھے ٹےڑھے ہونا ےہ سب بےمارےاں congiental disease ہوتی ہےں۔

سوال:والدےن سے ملنے والی کونسی بےمارےاں ہوتی ہےں؟
جواب:جو بےمارےاں والدےن سے ملتی ہےں ان مےں تھلےسیمیا،کالا ےرکان وغےرہ ہوتی ہےں۔

سوال:بچپن مےں جو بچے ذہنی طور پر معزور ہوتے ہےںاس کی وجہ کیا ہے؟
 جواب:بچوں مےں معزوری کے لئے بہت سی چےزےن ہوتی ہےں پےدائشی طور پر کچھ مسائل ہوجاتے ہےں جن سے ابنارملٹی ہوجاتی ہے۔

سوال:اس طرح کے بچوں کا اگر علاج کیا جائے تو کیا وہ نارمل ہوسکتے ہےں؟
جواب:علاج بےماری کو دےکھ کے ہو سکتا ہے کہ وہ صحےح ہو سکتی ہے ےا نہےں اس کا باقائدہ چےک اپ کیا جاتا ہے اگر بہت زےادہ چھوٹی کھوپڑی ہے تو اس 
  کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے مےں چےک اپ کر کے ہی بتاےا جا سکتا ہے۔

سوال:دنےا بھر مےں پولیو بہت سے ممالک مےں ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان مےں اب تک اس پر قابو کےوں نہےں پاےا گےا؟
جواب:پولیو کے لئے حکومت اور لوگ کوشش کر رہے ہےں ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کو پو لےو کے قطرے پےلانے نہےں دےتے ان کو چھپا لےتے ہےں
  جب تک آخری بچے تک ہم نہےں پہنچے گے اور جب تک آخری بچہ قطرے نہےں پےلے گا تب تک اس چےز پر قابو نہےں پاےا جا سکتا۔
  کےونکہ اگر اےک بچے مےں پولیو ہے تو وہ باقی بچوں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوال:پولیو کا مرض کتنے فےصد بچوں مےں پاےا جاتا ہے؟
جواب:پولیو اگر ہمارے جسم مےں داخل ہو جائے تو نقصان نہےں کرتا مگر ۲ فےصد بچوں مےں ےہ ہوتا ہے کہ اگر پولیو کا جراثےم ان کے جسم مےں شامل ہوجائے توبھی ہمارے
  جسم مےں اےک قوت ہوتی ہے جو اس مرض سے قطروں کے ذرےعے بچاتے ہےں۔

سوال:بچوں کو مکمل طور پہ وےکذےنشن ملی ہو مگر پھر بھی وہ بےمارےوں کا شکار ہوجاتے ہےں اس کی کےا وجہ ہے؟
جواب:اگر والدےن دےر سے وےگذےن لگوانے آتے ےا ہم کبھی کبھار دےر سے پہنچتے ہےںےا پاکستان مےں وےکزےن کی کمی ہوجاتی ہے تو بچے وائرل ڈزےز کا نشانہ بن جاتے
  ہےں۔اس کے علاوہ اگر باقائدہ وےکزےن لگی ہر اہر نچہ پھی پھر بھی بےماری نشانہ بن جائے تو ہمارے جسم مےں فوجی ہوتے ہےں جو ان بےمارےوں سے لڑ کر انسان
  کو محفوظ رکھتے ہےں۔

سوال:چھوٹے بچے آج کل چپس چاکلےٹ جےسی چےزےں کھاتے ہےں تو ان چزوں کے ان کو کےا نقصانات ہےں؟
جواب:ان چزوں مےں مختلف قسم کے کےمیکلز موجود ہوتے ہےں جو بچوں کا پےٹ اور ہاضمہ خراب کرتے ہےںتو والدےن کو چائےے بچوں کو کھانا کھلائےں اور چزوں 
  سے دور رکھےں تا کہ وہ پےٹ کی بےمارےوں سے محفوظ رہےں۔

Referred back Sajjad Lashari Interview

Referred back, es interview main koi aisi chez nhe jo kisi k kam aye. ye profilic interview hae, jo k uss k zati zindgi k bary main hae, uss main bhi kisi k lye kch lesson ya learning nhe. this will not be accepted. Ap ne jo sawalat baye hn wo ziyada se ziyada us ky introduction ka part ban skty hn
سجاد علی لاشاری ماس کمیونیکیشن
2K14
رول نمبر: 163
کلاس: III ایئر
﴾انٹرویو﴿

ارسلان مغل

ارسلان مغل کا تعلق کوٹری کے ایک سادہ خاندان سے ہے ارسلان مغل کی پیدائش 1986 میں کوٹری سے چند منٹ کے فاصلے پر ایک گاﺅں کارو کھو میں ہوئی ان کے والد کا نام گلزار احمد مغل ہے جو کہ PIA ھائی اسکول کوٹری کے پرنسپل بھی ہیں، والد کی دینی تعلیم میں دلچسپی وہنے کے باعث انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی مدرسے میں داخلا دلوانے کا فیصلہ کیا چند سال مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے لندن جانے کا فیصلہ کیا ان کی تعلیم سمپل گریجویٹ ہے، لندن سے واپسی پر انہوں نے اپنے والد کے اسکول کی ذمیداریاں اپنے اُوپر لے لیں، اور پھر اسی اسکول میں شام میں بچوں کو انگلش بھی سکھاتے ہیں۔
سوال : آپ نے اپنی تعلیم کہا سے حاصل کی؟
جواب: مین نے اپنی تعلیم انٹر میڈیٹ تک مدرسے میں حاصل کی اور اس کے بعد کالیج سائیڈسے پرائیویٹ B.A کیا 
سوال: آپ جس مدرسے میں زیرے تعلیم تھے اس مدرسے کا نام کیا تھا ؟ 
جواب: میرے مدرسے کا نام منصورہ ہے جو کہ حیدرآباد میں ھالا کے قریب ایک گاو ¾ں میں ہے ۔
سوال: منصورہ میں آپ کے پسندیدہ استاد کون تھے؟
جواب: میرے پسندیدہ استاد محترم مفتی ولی محمد صاحب تھے۔
سوال: آپ لنڈن کس لیئے گئے تھے؟
جواب: میں لنڈن تین سال کے لیئے گیا تھا وہاں جوب اچھی مل گئی تھی کسی انجﺅئس میں تو پھر ان سے کانٹریکٹ کر لیا ۔
سوال: لنڈن میں کوئی ایساواقعہ جسے آپ یاد کر کے دکھی ہو جائیں ؟
جواب: لنڈن میں میری ایک دوست تھی جس کا نام جولی تھا جو میرے ساتھ کام کرتی تھی پر ہمیشہ میری مدد کرتی تھی لیکن کسی حادثہ کہ باعث و ہ اب اس دنیا میں نہیں جا نا تو ہر کسی کو ہے اس دنیا سے مگر ان کی یاد آج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں 
سوال: آپ کے پاس کتنے شاگرد زیرے تعلیم ہیں؟
جواب: میرے پاس تقریباچارسو شاگرد ہیں زیرے تعلیم ہیں۔
سوال: کیا یہ ممکن ہے کہ آپ چار سو شاگرد کو ایک ساتھ ٹائیم دیتے ہیں؟
جواب: نہیں یہ بلکل ممکن نہیں اسی وجہ سے میں نے سب کو الگ الگ لیول میں ڈسٹیبیوٹ کیا ہے جنہیں میرے جونیئر ٹیچر ٹائیم دیتے ہیں۔
سوال: والد کے اسکول کو بھی اتنا ہی ٹائیم دیتے ہیں جتنا لینگویج کلاسس میں مصروف رہتیں ہیں؟
جواب : میری یہ عادت ہے کہ میں اسکول کی اسیمبلی میں باقاعدہ ذمیداری سے موجود ہوتا ہوں باقی ذمیداریاں ہماری میڈم سنبھال لتیں ہیں 
سوال: آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟
جواب: میری پسندیدہ کتاب علام اقبال کی لکھی ہوئی بانگے درا ہے۔
سوال: آپ کا پسندیدہ جانور کون سا ہے؟
جواب: مجھے بلیاں بہت پسند ہیں۔
سوال: آپ پاکستان کی یوتھ کو کیا پیغام دینا چاہتیں ہیں؟
جواب: پاکستان کی یوتھ پاکستان کی فیوچر ہیں اور یہ یوتھ پاکستان کو بدلنے کا ازم رکھتیں ہیں محنت کرے اور آگے بڑے اور پاکستان کا نام روشن کریں۔

Wednesday, 20 January 2016

Interview of child specialist Masood

 Referred back Name of writer is missing. Its neither in the text, nor in file name.
There are huge composing mistakes.        
    ڈاکٹر مسعود چائلڈ اسپےشلسٹ
سوال:چھوٹی عمر مےں بچوں کو دل کی بےمارےاں ہوتی ہےں جےسے پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہے اور اس بےماری سے بغےر علاج کے نجات مج سکتی ہے؟
جواب:جو پےدائشی طور پر دل مےں سوراخ ہوتا ہے تو پےدائشی کچھ وجوہات ہوتی ہےںجب بچے کا دل بننا شروع ہوتا ہے تو کچھ اےسے نقص رہ جاتے ہےں جن سے دل 
   صحےح طرےقے سے نہےں بن پاتا ۔تو علاج کے لئے اس کی حالت کے مطابق دےکھا جاتا ہے اگر چھوٹا سوراخ ہے تو وہ وقت کے ساتھ بند ہوجاتا ہے اگر
   بڑا سوراخ ہو تو پھر اس کے لئے آپرےشن کرنا پڑتا ہے۔

سوال:دل کے سوراخ مےں مبتلا بچوں کا کس عمر مےں علاج کرواےا جاسکتا ہے؟
جواب:ےہ تو دےکھ کر ہی بتاےا جا سکتا ہے کہ کس طرح کی دل کی بےماری اس بچے کو ہے تو دل کی بےباری کے جو سرجن ہوتے ہےں وہی بتا سکتے ہےں کے بچے کو آپرےشن کے لئے 
  کب لانا ہے اور کب آپرشن کرنا ہے اور اگر ضرورت ہوتی ہے تب آپرےشن کرتے ہےں ورنہ اگر دوائےوں سے ٹھےک ہو سکتا ہے تو دوائےاں دے کر علاج کےا جاتا
   ہے۔

سوال:بچوں مےں استھما بھی پےدائشی طور پر دےکھنے کو ملتا ہے تو اس کی کےا وجہ ہوتی ہے؟
جواب:استھما سانس کی بےمارےوں کی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے اےک تو ےہ کہ اگر ماں باپ کو ہے تو وہ بچوں کو بھی ہوجاتا ہے۔لےکن اگر کسی کو کھانے پےنے سے 
   الرجی ہو مثلا انڈا،چنے کی دال،مرغی،ٹماٹر،شہد ےہ سب چےزےں گرم ہوتی ہےںان کے اندر پروٹےن ہوتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ الرجی ہوتے ہےں۔
   تو وہ سانس کی نالےوں مےں جمع ہوجاتا ہے جس سے سانس لےنے مےں مشکل ہوتی ہے۔

سوال:نومولود بچوں مےں کونسی بےمارےاں دےکھنے کو ملتی ہےں اور ان کا علاج کس طرح سے کیا جاتا ہے اور کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
جواب:بہت سی ہےن جو پےدائشی طور پر ہوتی ہےںجےسے ہونٹ کٹا ہوا بعض بچوں کی آنکھوں سے پانی بہت زےادہ آتا ہے۔تو اس مےں آنکھ کا سوراخ بند ہوتا ہے۔
  ہاتھ پاﺅں ٹےڑھے ہوتے ہےں پھر ان کی عمر کو دےکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ 

سوال:بچوں مےں Inguinal hernia اور congiental diseaseبھی ہوتی ہے ےہ کسطرح کی بےماری ہوتی ہے اس کے علاج کے لئے 
  کےا کرنا ہوتا ہے؟
 جواب:Inguinal hernia ہرنےہ کی اےک قسم ہے ہمارے جسم مےن مختلف سوراخ ہوتے ہےں inguinal پےٹ اور آنتھ کے درمےانی حصہ جو ہوتا ہے
   وہاں اےک سوراخ ہوتا ہے تو اس مےں کھال کے نےچے آنتھ آجاتی ہے اور وہ آنتھ پھول جاتی ہے۔congiental پےدائشی ہوتی ہے جسے دل الٹے
   ہاتھ کی جگہ سےدھے ہاتھ پر ہونا ،ہاتھ پاﺅں آڑھے ٹےڑھے ہونا ےہ سب بےمارےاں congiental disease ہوتی ہےں۔

سوال:والدےن سے ملنے والی کونسی بےمارےاں ہوتی ہےں؟
جواب:جو بےمارےاں والدےن سے ملتی ہےں ان مےں تھلےسیمیا،کالا ےرکان وغےرہ ہوتی ہےں۔

سوال:بچپن مےں جو بچے ذہنی طور پر معزور ہوتے ہےںاس کی وجہ کیا ہے؟
 جواب:بچوں مےں معزوری کے لئے بہت سی چےزےن ہوتی ہےں پےدائشی طور پر کچھ مسائل ہوجاتے ہےں جن سے ابنارملٹی ہوجاتی ہے۔

سوال:اس طرح کے بچوں کا اگر علاج کیا جائے تو کیا وہ نارمل ہوسکتے ہےں؟
جواب:علاج بےماری کو دےکھ کے ہو سکتا ہے کہ وہ صحےح ہو سکتی ہے ےا نہےں اس کا باقائدہ چےک اپ کیا جاتا ہے اگر بہت زےادہ چھوٹی کھوپڑی ہے تو اس 
  کا علاج کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے مےں چےک اپ کر کے ہی بتاےا جا سکتا ہے۔

سوال:دنےا بھر مےں پولیو بہت سے ممالک مےں ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان مےں اب تک اس پر قابو کےوں نہےں پاےا گےا؟
جواب:پولیو کے لئے حکومت اور لوگ کوشش کر رہے ہےں ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کو پو لےو کے قطرے پےلانے نہےں دےتے ان کو چھپا لےتے ہےں
  جب تک آخری بچے تک ہم نہےں پہنچے گے اور جب تک آخری بچہ قطرے نہےں پےلے گا تب تک اس چےز پر قابو نہےں پاےا جا سکتا۔
  کےونکہ اگر اےک بچے مےں پولیو ہے تو وہ باقی بچوں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سوال:پولیو کا مرض کتنے فےصد بچوں مےں پاےا جاتا ہے؟
جواب:پولیو اگر ہمارے جسم مےں داخل ہو جائے تو نقصان نہےں کرتا مگر ۲ فےصد بچوں مےں ےہ ہوتا ہے کہ اگر پولیو کا جراثےم ان کے جسم مےں شامل ہوجائے توبھی ہمارے
  جسم مےں اےک قوت ہوتی ہے جو اس مرض سے قطروں کے ذرےعے بچاتے ہےں۔

سوال:بچوں کو مکمل طور پہ وےکذےنشن ملی ہو مگر پھر بھی وہ بےمارےوں کا شکار ہوجاتے ہےں اس کی کےا وجہ ہے؟
جواب:اگر والدےن دےر سے وےگذےن لگوانے آتے ےا ہم کبھی کبھار دےر سے پہنچتے ہےںےا پاکستان مےں وےکزےن کی کمی ہوجاتی ہے تو بچے وائرل ڈزےز کا نشانہ بن جاتے
  ہےں۔اس کے علاوہ اگر باقائدہ وےکزےن لگی ہر اہر نچہ پھی پھر بھی بےماری نشانہ بن جائے تو ہمارے جسم مےں فوجی ہوتے ہےں جو ان بےمارےوں سے لڑ کر انسان
  کو محفوظ رکھتے ہےں۔

سوال:چھوٹے بچے آج کل چپس چاکلےٹ جےسی چےزےں کھاتے ہےں تو ان چزوں کے ان کو کےا نقصانات ہےں؟
جواب:ان چزوں مےں مختلف قسم کے کےمیکلز موجود ہوتے ہےں جو بچوں کا پےٹ اور ہاضمہ خراب کرتے ہےںتو والدےن کو چائےے بچوں کو کھانا کھلائےں اور چزوں 
  سے دور رکھےں تا کہ وہ پےٹ کی بےمارےوں سے محفوظ رہےں۔

career counselor Faiz Alam Interview

Revised version
سمعیہ کنول,
رول نمبر ۵۹
سمعیہ کنول
فائز عالم ۲ اگست ۴۹۹۱ کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلےم کمپنئن گرامر ہائی اسکول سے حاصل کی،اس کے بعدآپ نے کالج میں داخلہ لیااور وہاںسے تقاریری مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔اپنی کامےابیوں کے مراحل طے کرتے رہے آج آپ پاکستان لیول چیمپئن مزا حیہ مقرر ،استاد، Gems 3D (Oraganization of youth)
کےC.O.O ، SPELT (Society Of Pakistan English Language Teacher) کے مےمبراور کیریئر کاﺅنسلربھی ہیں۔


سوال: اپنے طالبعلمی کے دور سے ہی اپنے کام کا آغاز کیسے ممکن بناےا؟
جواب: کام کے لحاظ سے چونکہ میں استاد ہوں اور طالبعلم ہونے کی وجہ سے میرا مشاہدہ کافی تیز ہے،طالبعلمی کے دور میں جن مشکلات کا سامنا مجھے تھا انہی مشکلات سے  دوسرے طالبعلم بھی دو چار ہیں تو میں نے اپنی اور انکی مدد کرنے کا سوچا،پیشہ کے لحاظ سے میں پبلک اسپیکر،کیرئیر کاﺅنسلر اور استاد ہوںاس طرح ان تمام چیزوں کا تعلق سکھانے سے ہے۔مجھے سکھانے کا شوق اچھے استادوں کی بدولت نہیں بلکہ ایسے اساتذہ کی وجہ سے ہے ہواجو اپنی زمہ داریاں نہیں سمجھ پا رہے ہوتے،میں نے انہیں دیکھ کے دل میں عہد کیاکہ میں بھی انگلش پرھاﺅںگا لیکن ایسی نہیں پڑھاﺅنگا ۔اس طرح میں نے سیکھنے کے ساتھ ساتھ سکھانے کا عمل شروع کردےااور طالبعلمی کے دور میں ہی کام کا آغازکردیا۔

سوال: پاکستان لیول چیمپئن کا اعزازحاصل کرنے میں کس قسم کی دشواریاںپیش آئیں؟
جواب: مجھے جو اعزاز حاصل ہے وہ مزاحیہ مقرر ہونے کی بدولت ملا، دو مرتبہ مجھے پاکستان لیول چیمپئن ہونے کا اعزاز ملامگر اس سے پہلے جودشواریاں پیش آئیںان میں سب سے بڑی دشواری یہ ہوئی کہ ےہ کیسے پہچانا جائے کہ میں کیا بہتر کرسکتا ہوں ،میں آپکو بتاتا چلوں کہ میں پہلے سنجیدہ مقررتھا،جس میں مجھے انعامات تو ملے مگر میں وہ رنگ نہیں جما پاےا اور ایک بار تو ایک واقعہ ایسا ہواجس میں ایک صاحب نے مجھے خوب تنقید کا نشانہ بناےاجس کی وجہ سے میں یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوگےا کہ آج کے بعد میں تقاریر نہیں کرونگاپھر میرے ایک استاد ہیں وقار احمدوقارانہوں نے مجھے دلاسہ تو نہیں دےا مگر ہاںیہ ضرور کہا کہ آج کے بعد تم سنجیدہ تقریر کے بجائے مزاحیہ تقریر کروگے،اس کے بعد میں نے مزاحیہ تقریر کی اور پھر کرتے چلے گئے،آج جو ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں ۔اس کے بعد تو کچھ خاص دشواریاں نہیں ہوئیں ۔

سوال: آپ استاد بھی ہیں اور شاگرد بھی،آج کے وقت میں ایک پڑھا لکھا اور با صلاحیت معاشرہ کیسے تشکیل دےا جا سکتا ہے؟
جواب: آج کے معاشرے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ پڑھے لکھے اور با صلاحیت ہونے میںفرق نہیں کر پا رہے ہوتے،ہمارے ےہاں پڑھا لکھااسے سمجھا جاتا ہے جسکے گریڈز اچھے ہوںےا پھر اس کے پاس تمغات ہوں ےا میڈلز ہوںےا دیوار پر ڈگری لٹکی ہوئی ہو،جب کہ میں ےہ سمجھتا ہوں کہ پڑھا لکھا وہ ہے جو اپنے علم کا صحیح استعمال کرتا ہواور باصلاحیت ہونے سے مراد ےہ ہے کہ جو تعلیم وہ حاصل کر رہااس کا پرکٹیکل ضرور ہو،مگر ہمارے معاشرے میں آج کل ڈگریاں تو مل رہی ہے مگر صلاحیتیںنہیں پیدا ہو پارہیں اور اسکی سب سے بڑی وجہ اگر دیکھی جائے تو یونیورسٹی میں موجود ہے، ہمارے یہاں کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں اس حد تک پریکٹکل نہیں کروائے جا رہے جو آج کے وقت کامطالبہ ہے خواہ اس میں کوئی بھی ڈپارٹمنٹ ہو۔کمی ہے تو پرکٹکل کی ہے اگر علم کے ساتھ عمل بھی ہوتا جاتاہے تو ایک پڑھا لکھا اور با صلاحیت معاشرہ خود بنتا جاتا ہے۔

سوال : بہ یک وقت استاد،شاگرد اور آرگنائیزیشن کے C.O.Oمشکل نہیںہوتی؟
جواب: بہت دلچسپ سوال ہے۔بہ یک وقت استاد اور شاگرد ہونے میں بلکل پریشانی نہیں ہوتی ہے کیونکہ ایک اچھا استاد ایک اچھا شاگرد بھی ہوتا ہے اور اچھا بولنے کے لئیے اچھا سننا بھی پڑتا ہے اسلئیے ہر استاد کو ہمیشہ شاگرد بھی رہنا چاہئے رہی باتC.O.O ہونے کی تو ایک بار میرے استاد نے مجھے ایک لیکچر میںبتاےا تھا کہ نیوٹن کے پاس،آئینٹائین کے پاس اور بڑے انسان کے پاس وہی ۴۲گھنٹے تھے جو ہمارے پاس ہوتے ہیںبس فرق یہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے کون انہیں کس طرح استعمال کرتا ہے! اسکے ساتھ مجھے میرے استاد کی اےک بات بہت محرک رکھتی تھی جب جب میں انھیں کہتا تھا سر وقت نہیں ہے وہ کہتے تھے تم مجھ سے زیادہ مصروف ہو تو میں خود ہی سوچتا تھانہیںتواس طرح میں وقت کا صحیح استعمال کرتا گےا اور مشکلات ختم ہوتی گئیں۔

سوال: کیرئیر کاﺅنسلر ہونے کی حیثیت سے آپ کیا سمجھتے ہیں آج کل طالبعلموں کو کاﺅنسلنگ کی کس حد تک ضرورت ہے؟
جواب: ہمارا حال موجودہ دور میں بھی کچھ یوں ہے کہ جب بچہ انٹر کے بعد اپنی فیلڈ کا انتخاب کرنے لگتا تو اسے بہت سے کاﺅنسلرز مل جاتے ہیں چچا،تاےا،ماموںاور ابو کی صورت میں جو جس فیلڈ میں ہوتا ہے اسی کے مشورے دیتا ہے۔جب کہ جوکاﺅنسلر ہوتے ہیں وہ اس بات کہ مد نظر رکھتے ہیں کہ وہ بچہ کیا بہترین کر سکتا ہے جو سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ہمارے یہاں انٹر کرنے والے بچوں میںسے۰۸ سے ۰۹فیصدبچوںکو بس ۳ہی فیلڈز کی آگاہی ہوتی ہے میڈیکل، انجینئرنگ ےا پھر MBA اسکے علاوہ کوئی فیلڈہے بھی یہ پتہ ہی نہیں ہے۔اس لحاظ سے کاﺅنسلنگ بہت بہت ضروری ہے بجائے اسکے کہ بچے کو تاےا ےا چاچا سے مشورہ دلواےا جائے اسے ایک کاﺅنسلر کے پاس لے کہ جاےا جائے۔

سوال: SPELTکامیمبرہونے لے لحاظ سے آپ جگہ جگہ انگلش لینگوچ انسٹیٹیوٹس کو صحیح سمجھتے ہیں؟
جواب: ان تمام انسٹیٹیوٹس کو تو صحیح سمجھتا ہوں مگر ان میں پڑھائے جانے والے طریقوں کونہیں سمجھتا،کیونکہ وہاں موجود استادوں کی کوالیفکیشن اتنی ہوتی ہے کہ ایک سینٹر سے کورس کیا دوسرے میں پڑھانا شروع کردیا جبکہ انگلش پڑھانے کی کچھ کوالیفکیشن ہوتی ہے کم از کم اسے ٹرینڈ ہونا چاہئے جو کہ ےہ لوگ نہیں ہوتے ، آج تک علی آم کھاتا ہے اور علی پتنگ اڑاتاہے۔انہیں نئی تکنیکوں کا پتہ ہی نہیں ہے کہ کس طرح بچوں کو پڑھانا ہے انگلش لینگویچ کبھی بھی بولے بغےرصرف جملے لکھنے سے نہیں آتی۔ انسٹیٹیوٹس کھلیں مزید کھلیں مگر ان میں صحیح طریقے سے ٹرینڈ اساتذہ کی نگرانی میںانہیں تعلیم دی جائے۔

سوال: آنے والے وقت کے لئے کےا عزائم رکھتے ہیں؟
جواب: GEMS 3Dکے ساتھ اسکے وژن پر چلتے ہوئے میں کام کرونگا، آنے والے مستقبل میںبھی ہم مختلف سیمینار کروانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہم سوسائیٹی کی بہتری کے لئے کام کرتے رہیں اسکے علاوہ آنے والے وقت میں یونیورسٹی میں لیکچراربننے کا عزم کیا ہے۔

سوال: حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں پاکستان کی نوجوان نسل کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: اگر اس بات کا جواب میں یہ سوچتے ہوئے دوںکہ میں بھی نوجوان ہوںتو میں مستقبل کے لئے بہت عزائم رکھتا ہوںاسی طرح دوسرے نوجوان بھی رکھتے ہونگے اور نوجوان ہر وہ شخص ہے جو عقلی طور پر جوان ہے۔ شیخ سعدی کا قول ہے:
        ©        جو عقل میں بڑا ہے وہ عمر میںبڑا ہے
 آگے کے لئے میں اس نوجوان نسل سے بہت امیدیں رکھتا ہوں کیونکہ آج کے نوجوانوں میں جستجو ہے،حوصلہ ہے،ہمت ہے خود کو منوانے کی خواہش ہے اور مجھے ےقین ہے کہ ایسا ہوگا۔

سوال: گمنامی سے نامی گرامی ہونے میں آپ کے انداز زندگی میں کس حد تک تبدیلیاں آئیں؟
جواب: جب بندہ گمنام ہوتا ہے نہ تو وہ جیسے چاہے زندگی گزار سکتا ہے۔آپ اگر ایک بار پبلک ہوجاتے ہیں توپھر آپ مستقل طور پر پبلک کے ہوجاتے ہیں اس لحاظ سے تھوڑا محطاط رہ کر چلنا پڑتا ہے کیونکہ جب آپ اسٹیج پر ہوتے ہیں تو لوگ آپکو مثالی بنا لیتے ہیں اور اگر آپ انکی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو ان کے احساسات مجروح ہوسکتے ہیں اسلئے تھوڑا احطیات سے چلنا پڑتا ہے۔

سوال: آخر میں نوجوانوں کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
جواب: جو میرا پیغام ہے وہ ہر نوجوان کے دل کی آواز ہے اور وہ ہے آگے بڑھتے رہنا ہر حال میں ہرحالت میں۔ ایک قول ہے:
             خواب وہ نہیں ہوتے جو ہمیں نیند میںآتے ہیں بلکہ خواب وہ ہوتے ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے
اسلئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آگے حائل ہوتی تمام رکاوٹوںکو آسانی سے پار کرتے جائیں اور آگے بڑھتے جائیں۔


Seems ok. There are some spelling mistakes. wil give detailed feedback once i go thru it
سمعےہ کنول

رول نمبر ۵۹
کریئر کونسلر فائز عالم سے انٹرویو
فائز عالم ۲ اگست ۴۹۹۱ کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلےم کمپنئن گرامر ہائی اسکول سے حاصل کی،اس کے بعدآپ نے کالج میں داخلہ لیااور وہاںسے تقاریری مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔اپنی کامےابیوں کے مراحل طے کرتے رہے آج آپ پاکستان لیول چیمپئن مزا حیہ مقرر ،استاد، Gems 3D (Oraganization of youth)
کےC.O.O ، SPELT (Society Of Pakistan English Language Teacher) کے مےمبراور کیریئر کاﺅنسلربھی ہیں۔


سوال: اپنے طالبعلمی کے دور سے ہی اپنے کام کا آغاز کیسے ممکن بناےا؟
جواب: کام کے لحاظ سے چونکہ میں استاد ہوں اور طالبعلم ہونے کی وجہ سے میرا مشاہدہ کافی تیز ہے،طالبعلمی کے دور میں جن مشکلات کا سامنا مجھے تھا انہی مشکلات سے دوسرے طالبعلم بھی دو چار ہیں تو میں نے اپنی اور انکی مدد کرنے کا سوچا،پیشہ کے لحاظ سے میں پبلک اسپیکر،کیرئیر کاﺅنسلر اور استاد ہوںاس طرح ان تمام چیزوں کا تعلق سکھانے سے ہے۔مجھے سکھانے کا شوق اچھے استادوں کی بدولت نہیں بلکہ ایسے اساتذہ کی وجہ سے ہے ہواجو اپنی زمہ داریاں نہیں سمجھ پا رہے ہوتے،میں نے انہیں دیکھ کے دل میں عہد کیاکہ میں بھی انگلش پرھاﺅںگا لیکن ایسی نہیں پڑھاﺅنگا ۔اس طرح میں نے سیکھنے کے ساتھ ساتھ سکھانے کا عمل شروع کردےااور طالبعلمی کے دور میں ہی کام کا آغازکردیا۔

سوال: پاکستان لیول چیمپئن کا اعزازحاصل کرنے میں کس قسم کی دشواریاںپیش آئیں؟
جواب: مجھے جو اعزاز حاصل ہے وہ مزاحیہ مقرر ہونے کی بدولت ملا، دو مرتبہ مجھے پاکستان لیول چیمپئن ہونے کا اعزاز ملامگر اس سے پہلے جودشواریاں پیش آئیںان میں سب سے بڑی دشواری یہ ہوئی کہ ےہ کیسے پہچانا جائے کہ میں کیا بہتر کرسکتا ہوں ،میں آپکو بتاتا چلوں کہ میں پہلے سنجیدہ مقررتھا،جس میں مجھے انعامات تو ملے مگر میں وہ رنگ نہیں جما پاےا اور ایک بار تو ایک واقعہ ایسا ہواجس میں ایک صاحب نے مجھے خوب تنقید کا نشانہ بناےاجس کی وجہ سے میں یہ فیصلہ کرنے پر آمادہ ہوگےا کہ آج کے بعد میں تقاریر نہیں کرونگاپھر میرے ایک استاد ہیں وقار احمدوقارانہوں نے مجھے دلاسہ تو نہیں دےا مگر ہاںیہ ضرور کہا کہ آج کے بعد تم سنجیدہ تقریر کے بجائے مزاحیہ تقریر کروگے،اس کے بعد میں نے مزاحیہ تقریر کی اور پھر کرتے چلے گئے،آج جو ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں ۔اس کے بعد تو کچھ خاص دشواریاں نہیں ہوئیں ۔

سوال: آپ استاد بھی ہیں اور شاگرد بھی،آج کے وقت میں ایک پڑھا لکھا اور با صلاحیت معاشرہ کیسے تشکیل دےا جا سکتا ہے؟
جواب: آج کے معاشرے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ پڑھے لکھے اور با صلاحیت ہونے میںفرق نہیں کر پا رہے ہوتے،ہمارے ےہاں پڑھا لکھااسے سمجھا جاتا ہے جسکے گریڈز اچھے ہوںےا پھر اس کے پاس تمغات ہوں ےا میڈلز ہوںےا دیوار پر ڈگری لٹکی ہوئی ہو،جب کہ میں ےہ سمجھتا ہوں کہ پڑھا لکھا وہ ہے جو اپنے علم کا صحیح استعمال کرتا ہواور باصلاحیت ہونے سے مراد ےہ ہے کہ جو تعلیم وہ حاصل کر رہااس کا پرکٹیکل ضرور ہو،مگر ہمارے معاشرے میں آج کل ڈگریاں تو مل رہی ہے مگر صلاحیتیںنہیں پیدا ہو پارہیں اور اسکی سب سے بڑی وجہ اگر دیکھی جائے تو یونیورسٹی میں موجود ہے، ہمارے یہاں کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں اس حد تک پریکٹکل نہیں کروائے جا رہے جو آج کے وقت کامطالبہ ہے خواہ اس میں کوئی بھی ڈپارٹمنٹ ہو۔کمی ہے تو پرکٹکل کی ہے اگر علم کے ساتھ عمل بھی ہوتا جاتاہے تو ایک پڑھا لکھا اور با صلاحیت معاشرہ خود بنتا جاتا ہے۔

سوال : بہ یک وقت استاد،شاگرد اور آرگنائیزیشن کے C.O.Oمشکل نہیںہوتی؟
جواب: بہت دلچسپ سوال ہے۔بہ یک وقت استاد اور شاگرد ہونے میں بلکل پریشانی نہیں ہوتی ہے کیونکہ ایک اچھا استاد ایک اچھا شاگرد بھی ہوتا ہے اور اچھا بولنے کے لئیے اچھا سننا بھی پڑتا ہے اسلئیے ہر استاد کو ہمیشہ شاگرد بھی رہنا چاہئے رہی باتC.O.O ہونے کی تو ایک بار میرے استاد نے مجھے ایک لیکچر میںبتاےا تھا کہ نیوٹن کے پاس،آئینٹائین کے پاس اور بڑے انسان کے پاس وہی ۴۲گھنٹے تھے جو ہمارے پاس ہوتے ہیںبس فرق یہ ہوتا ہے کہ ہم میں سے کون انہیں کس طرح استعمال کرتا ہے! اسکے ساتھ مجھے میرے استاد کی اےک بات بہت محرک رکھتی تھی جب جب میں انھیں کہتا تھا سر وقت نہیں ہے وہ کہتے تھے تم مجھ سے زیادہ مصروف ہو تو میں خود ہی سوچتا تھانہیںتواس طرح میں وقت کا صحیح استعمال کرتا گےا اور مشکلات ختم ہوتی گئیں۔

سوال: کیرئیر کاﺅنسلر ہونے کی حیثیت سے آپ کیا سمجھتے ہیں آج کل طالبعلموں کو کاﺅنسلنگ کی کس حد تک ضرورت ہے؟
جواب: ہمارا حال موجودہ دور میں بھی کچھ یوں ہے کہ جب بچہ انٹر کے بعد اپنی فیلڈ کا انتخاب کرنے لگتا تو اسے بہت سے کاﺅنسلرز مل جاتے ہیں چچا،تاےا،ماموںاور ابو کی صورت میں جو جس فیلڈ میں ہوتا ہے اسی کے مشورے دیتا ہے۔جب کہ جوکاﺅنسلر ہوتے ہیں وہ اس بات کہ مد نظر رکھتے ہیں کہ وہ بچہ کیا بہترین کر سکتا ہے جو سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ہمارے یہاں انٹر کرنے والے بچوں میںسے۰۸ سے ۰۹فیصدبچوںکو بس ۳ہی فیلڈز کی آگاہی ہوتی ہے میڈیکل، انجینئرنگ ےا پھر MBA اسکے علاوہ کوئی فیلڈہے بھی یہ پتہ ہی نہیں ہے۔اس لحاظ سے کاﺅنسلنگ بہت بہت ضروری ہے بجائے اسکے کہ بچے کو تاےا ےا چاچا سے مشورہ دلواےا جائے اسے ایک کاﺅنسلر کے پاس لے کہ جاےا جائے۔

سوال: SPELTکامیمبرہونے لے لحاظ سے آپ جگہ جگہ انگلش لینگوچ انسٹیٹیوٹس کو صحیح سمجھتے ہیں؟
جواب: ان تمام انسٹیٹیوٹس کو تو صحیح سمجھتا ہوں مگر ان میں پڑھائے جانے والے طریقوں کونہیں سمجھتا،کیونکہ وہاں موجود استادوں کی کوالیفکیشن اتنی ہوتی ہے کہ ایک سینٹر سے کورس کیا دوسرے میں پڑھانا شروع کردیا جبکہ انگلش پڑھانے کی کچھ کوالیفکیشن ہوتی ہے کم از کم اسے ٹرینڈ ہونا چاہئے جو کہ ےہ لوگ نہیں ہوتے ، آج تک علی آم کھاتا ہے اور علی پتنگ اڑاتاہے۔انہیں نئی تکنیکوں کا پتہ ہی نہیں ہے کہ کس طرح بچوں کو پڑھانا ہے انگلش لینگویچ کبھی بھی بولے بغےرصرف جملے لکھنے سے نہیں آتی۔ انسٹیٹیوٹس کھلیں مزید کھلیں مگر ان میں صحیح طریقے سے ٹرینڈ اساتذہ کی نگرانی میںانہیں تعلیم دی جائے۔

سوال: آنے والے وقت کے لئے کےا عزائم رکھتے ہیں؟
جواب: GEMS 3Dکے ساتھ اسکے وژن پر چلتے ہوئے میں کام کرونگا، آنے والے مستقبل میںبھی ہم مختلف سیمینار کروانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہم سوسائیٹی کی بہتری کے لئے کام کرتے رہیں اسکے علاوہ آنے والے وقت میں یونیورسٹی میں لیکچراربننے کا عزم کیا ہے۔

سوال: حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں پاکستان کی نوجوان نسل کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: اگر اس بات کا جواب میں یہ سوچتے ہوئے دوںکہ میں بھی نوجوان ہوںتو میں مستقبل کے لئے بہت عزائم رکھتا ہوںاسی طرح دوسرے نوجوان بھی رکھتے ہونگے اور نوجوان ہر وہ شخص ہے جو عقلی طور پر جوان ہے۔ شیخ سعدی کا قول ہے:
        ©        جو عقل میں بڑا ہے وہ عمر میںبڑا ہے
 آگے کے لئے میں اس نوجوان نسل سے بہت امیدیں رکھتا ہوں کیونکہ آج کے نوجوانوں میں جستجو ہے،حوصلہ ہے،ہمت ہے خود کو منوانے کی خواہش ہے اور مجھے ےقین ہے کہ ایسا ہوگا۔

سوال: گمنامی سے نامی گرامی ہونے میں آپ کے انداز زندگی میں کس حد تک تبدیلیاں آئیں؟
جواب: جب بندہ گمنام ہوتا ہے نہ تو وہ جیسے چاہے زندگی گزار سکتا ہے۔آپ اگر ایک بار پبلک ہوجاتے ہیں توپھر آپ مستقل طور پر پبلک کے ہوجاتے ہیں اس لحاظ سے تھوڑا محطاط رہ کر چلنا پڑتا ہے کیونکہ جب آپ اسٹیج پر ہوتے ہیں تو لوگ آپکو مثالی بنا لیتے ہیں اور اگر آپ انکی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو ان کے احساسات مجروح ہوسکتے ہیں اسلئے تھوڑا احطیات سے چلنا پڑتا ہے۔

سوال: آخر میں نوجوانوں کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
جواب: جو میرا پیغام ہے وہ ہر نوجوان کے دل کی آواز ہے اور وہ ہے آگے بڑھتے رہنا ہر حال میں ہرحالت میں۔ ایک قول ہے:
   خواب وہ نہیں ہوتے جو ہمیں نیند میںآتے ہیں بلکہ خواب وہ ہوتے ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے
اسلئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آگے حائل ہوتی تمام رکاوٹوںکو آسانی سے پار کرتے جائیں اور آگے بڑھتے جائیں۔

Tuesday, 19 January 2016

Mizna Interview

Kch Khas nhe photo chahye. dekhen if u can improve it 

mizna raisuddin

2k14/156/Mc
"interview"



interview of 
Madam mehvis bhatti
مس مہوش حیدرآباد میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم بھی حیدرآباد میں ہی حاصل کی اور بزنس اینڈ فاینینس میں گولڈ میڈلسٹ رہیں اور پورے حیدرآباد میں ٹاپ کیا.
س : آپ کا پورا تعارف -
ج : میں حیدرآباد سے بلونگ کرتی ہوں یہیں تعلیم حاصل کی اور آج یونیورسٹی اوف سندھ میں ڈیپارٹمنٹ آف کامرس میں طلبہ کو علم کی روشنی سے روشناس کر رہی ہوں .
س : آپ نے اپنے کیریئر کا آغاز کس طرح کیا? 
ج: میں نے اپنے کیریر کا آغاز ایک کوچنگ سینٹر میں طلبا کو پڑھا کر کیا تھا اور پھر بس آج اس مقام پر پہنچ گی .
س : آپ کی آج تک کی اچیومنٹس ? 
ج : ویسے تو الله کے کرم سے کافی اچیومنٹس ہیں مگر سب سے بڑ ی اچیومنٹ گولڈ میڈلسٹ بننا تھی اور ٹاپ کرنا تھا.
س : کس چیز نے آپکو متاثر کیا کے آپ نے فنانس پڑھا ? 
ج : مجھے بچپن سے ہی فنانس اور اکاؤنٹنگ پڑھنے کا شوق تھا اور بس اس ہی انٹرسٹ کی وجہ سے میں نے یہ منتخب کیا اور الله نے اس مقام پر پہنچایا .
س : آپ کو سوشل ورک اور فلاح و بہبود کے کام کرنا کیسا لگتا ہے ?
س : سوشل ورک اور فلاح و بہبود کے کام بھی میں بہت شوق سے کرتی ہوں اور اکثر لوگوں کو مفت تعلیم بھی فراہم کرتی ہوں اور آرگنائزیشن کے زریۓ بھی غریب لوگوں کی مدد کرتی ہوں مجھے اچھا لگتا ہے لوگوں کی مدد کرنا .
س : آپ کے لحاظ سے پاکستان میں سکوپ کیا ہے اس فیلڈ کا? 
ج : دیکھیں سکوپ تو فنانس کا ہر جگا ہر ملک میں ہے کیوں کے بینکنگ کا نظام تو ہر ملک میں ہی ہے تو ظاہر ہے پاکستان میں بھی ہے . 
س : لکچرار شپ کے سوا اور دوسری اکٹو اٹز ? 
ج : میں اس کے سوا ایڈمنسٹریٹو اور کنسلٹنٹ ورک کرتی ہوں اور ریسرچ کرنا اور کتابیں پڑھنا بھی میری سرگرمیوں میں رہتا ہے .
س : یونیورسٹی میں لیکچرر شپ کب ملی?
ج : ٢٠١١ میں مجھے لیکچرر شپ ملی اور میں نے سندھ یونیورسٹی جوائن کی .
س : یوتھ کے لئے کوئی خاص پیغام?
ج : میرا پیغام یہ ہی ہے کے اگر آپ کامیابی چاھتے ہیں تو محنت کو عبادت کی طرح کریں ضرور کامیابی ملےگی . 

Referred back Interview Dr Shoeb Shaikh

اس کو ٹیبل فارم میں نہیں دیں۔ سمپل طور پر ان پیج میں کمپوز کر کے بھیجیں۔
 پہلا سوال تعار کا حصہ بنائیں اانٹرویو کا نہیں۔
 بہت کم الفاظ ہیں۔ کم از کم چھ سو الفاظ چاہئیں۔ 
سوالات ان کے شعبے سے ہونے چاہئےیں جس سے لوگوں کا بھلا بھی ہو۔ دو تین ذاتی سوالات چل سکتے ہیں۔ 
انگریزی الفاظ استعمال نہ کریں۔ 

 آرٹیکل کا ٹاپک منظور شدہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کیا ٹاپک ہے آپ نے کیا لکھا ہے۔ 
آپ پیر پچیس جنوری تک یہ دونوں ٹھیک کر کے دیں تو ٹھیک نہیں تو مسترد سمجھے جائیں گے۔

اس کو سوال جواب کر کے لکھیں۔ برائے مہربانی دو تین انٹرویو پڑھ بھی لیں
اپنا نام بھی انٹرویو میں اردو میں لکھنا ضروری ہے  
Referred back 
Name: Shabia Qazi
Roll No. 165
ڈاکٹر شعیب شیخ  پیڈیا ٹریشن (انٹر ویو)


آپ نے کس یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی ؟

 لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس سے MBBSکی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد اسپیشلائزیشن کیوبین میڈیکل یونیورسٹی سے سرجیکل ٹریٹمنٹ میں حاصل کی ۔ 

٭
 بین الاقوامی ڈگری حاصل کرنا یقینا آپکا خواب ہو گا یا اور بھی کوئی خواب تھا ؟
*
 باہر سے تعلیم حاصل کرنا ہر پاکستانی کا خواب ہے، یقینا میرا بھی تھا ۔لیکن اس سے بھی بڑا خواب اپنے والد صاحب کے نام سے ایک کلینک بنانے کا بھی تھا جو وطن واپسی پر تعبیر ہوا ساتھ ہی سول اسپتال جیسے انتہائی مصروف اور پریکٹس کے اعتبار سے انتہائی چیلنجنگ اسپتال میں مستقل بنیادوں پر کام کرنے کا موقع ملا جہاں اپنی زندگی کے انتہائی خوفناک اور دلچسپ آپریشن کا سامنا کرنا پڑا ۔

٭
کوئی ایسا آپریشن جو آپ کیلئے یادگار بن گیا ہو یا آپ جیسے کبھی نہیں بھول پائیں گے ؟
*
فروری 2015ءمیں دو پیدائشی جڑواں بچیوں کا آپریشن ہمیشہ یاد رہے گا جو اپنے پیٹ سے جڑواں ہوئی تھیں اور انکا آپریشن تکنیکی اعتبار سے نا صرف میرے لئے بلکہ پورے ڈاکٹری پینل کیلئے انتہائی چیلنجنگ تھا آج تقریباََ ایک سال کی مدت کے بعد ان بچیوں کو ہنستے ، کھیلتے اور زندہ دیکھنا میرے لیے پیشہ ورانہ اعتبا ر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

٭
 پروفیشنلی کبھی آپکو ڈر لگا ؟
*
اگر سچ کہوں تو ایک دفعہ جب آغا خان کراچی میں ، میں ایک سرجیکل پینل کا حصّہ تھا، اور آپریٹ ہونے والا بچہ کراچی کے ایک سیاسی جماعت کے کارکن کا تھا اور جس کی دھمکی یہ تھی کہ میرا بچّہ اگر باہوش و حواس باہر نہ آیا تو تم سب بے ہوش ہوجاﺅ گے ۔ بس پھر کیا تھا ، آپریشن کے بعد پورا پینل تب تک آپریشن تھیٹر میں ہی رہا جب تک بچے کو ہوش نہ آیا مطلب یہ کہ 30منٹ کے آپریشن کو ہم نے 6گھنٹے تک بھگتا اور بچے کو باہوش و حواس اسکے باپ تک پہنچایا ۔

٭
آپکا کوئی فیوچر پلان ہے؟
*
یقینا ہر ایک کا ہوتا ہے اور میں مستقبل میں خود کو ایک انٹرنیشنل فزیشن دیکھنا چاہتا ہوں