Saturday, 9 April 2016

Profile by Sidra Khalid - driving instructor

سدرہ خالد
بی-اس-ااا
ایم-سی/120/2k14
                                غلام علی بلوچ''ڈرائیونگ انسٹرکٹر"
پروفائل
''زندگی ہر ایک انسان کو بہترین بنانے کا موقع ضرور دیتی ہے"
 ایسے ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والا " غلام علی بلوچ" اسی ہی سوچ کا مالک ہے۔ جو اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جسے زندگی نے خود کو سنوارنے کا موقع دیا۔
کم عمری میں کام کی تلاش میں اور کاندھوں پر ذمیداریاں اٹھاۓ حیدرآباد آیا۔ اسٹیٹ لائف کی بلڈنگ جو اس وقت تعمیراتی مراحل میں تھی ، اس کے سامنے بنی بریانی بیچنے والی چھوٹی سی دکان میں ویٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔جس سے اس نے دن کا آٹھ روپے کمانا شروع کیا۔ ان پیسوں سے اسکی ضروریات پوری نہ ہونے کے سبب اس نے قاسم آباد کے ایک گھر میں  بطور نوکر ملازمت شروع کی۔ جہاں سے وہ  مہینے کا 700 روپے کمانے لگا اور اپنی سہولت کے لیے  20  روپے کی قسطوں پر خود کے لیے ایک سائیکل خریدی۔  وہ زیادہ کمانا چاہتا تھا تا کہ گھر والوں کو ایک اچھی رقم بھجوا سکے۔  جدھر ملازمت کرتا تھا وہیں کے ملازم جو اس گھر کا ڈرائیور تھا گاڑی سیکھنے کا مشورہ دیا۔
جس استاد نے اسکو گاڑی چلانا سکھائ وہیں اسے معاشرے کے رموزو اوقاف، ادب و آداب ، رہن سہن سے آگاہ کیا۔انھی استاد نےغلام علی کی زندگی بدل دی۔ 
 یہاں سے اسے 5 ہزار ماہانہ ملنے لگے جو آدھے گھر بھجواتا اور آدھے جمع کرنے لگا۔ کراۓ پر گھر لیا اور اپنے گھر والوں کو اپنے پاس بلالیا۔ انتھک محنت کے بعد خود کے لیے ایک اپنا گھر کرلیا۔ چند مویشی خریدے جن سے کاروبار شروع کیا۔ جسکی زمیداری اپنے چھوٹے بھائ کے سپرد کردی۔ 
سبحان الّلہ ڈرائیونگ سینٹر کے نام سے کاروبار شروع کیا۔
یہ وہ شخص ہے جس نے قلم تک نہیں کبھی اٹھایا۔ جو تعلیم سے ایک فیصد بھی آشنا نہیں۔ جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا  ، بیشک وہ ان پڑھ ہے مگر پڑھی لکھی سوچ کا مالک ہے۔
والدین کو اپنی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ماں باپ کی اتنی عزت کرتا ہے کہ دن کا آغاز اور دن کا اختتام ان کے قدموں کو چوم کے کرتا ہے۔
اس کا ماننا ہے کہ میری ہر مشکلات کا میری تکالیف کاحل میرے والدین کی دعائیں ہیں۔ 
آج میرا اپنا  سبحان اللّلہ ڈرائیونگ سینٹر ہے۔ جو کل تک دوسرے کی گاڑی چلاتا تھا آج اسکی خود کی گاڑیاں ہیں۔ جو کل تک کسی کے گھر میں ملازم تھا آج اسکا اپنا گھر ہے۔  جو کل تک ماہانہ 700 کماتا تھا آج ماہانہ 80،000 روپے  کما رہا ہے۔  
جیسے اس کے استاد نے اسکی زندگی سنواری آج وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہا ہے۔ اور آج وہ آگے بڑھنے کے لیے اور محنت کر رہا ہے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Department of Media University of Sindh

 #driving instructor #GhulamAliBaloch  #Profile, #SidraKhalid

Friday, 8 April 2016

Depression among youth - Sidra Khalid

Needs much improvements particularly for causes of suicide
آرٹیکل
سدرہ خالد
بی-ایس:ااا
ایم۔سی/2k14/120
Depression among youth - Sidra Khalid
سندھ کے نوجوان، اور ڈپریشن۔

حالات سےدل برداشتہ ہوکر خود کو ختم کرلینا انتہائ بزدلی کی بات ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ لوگوں  کو کیوں کوئ اور راستہ نظر نہیں آتا سواۓ خودکشی کے۔ ایسی کیا وجوہات ہیں جو اس حد تک ایک بندہ  پہنچ جاتا ہے۔
ماہر نفسیات کا کہنا ہے پاکستان میں بڑھتے اس رجحان کی وجہ ڈپریشن ہے ۔جسے عام لفظوں میں ذہنی دباؤ کہا جاتا ہے۔
2015 کے میڈیکل سروے سے معلوم ہوا ہےکہ 129 افراد ایک ماہ میں خودکشی کرتے ہیں۔ صوبہ سندھ میں تقریباّ 46 افراد ڈپریشن کی وجہ سے خود کو ختم کرلیتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد، بیروزگاری، والدین کی علیحدگی، بڑھتی ہوئ اقتصادی عدم استحکام، بچوں سے زیادتی، غنڈہ گردی، بڑھتی ہوئ مہنگائ ،سماجی ہم آہنگی، اس نقصان سے بچنے کے لیے آدمی یہ اذیت سہتا ہے۔۔
کبھی کبھی ہمارا معاشرہ بھی ایسا کرنے کے لیے مجبور کردیتا ہے۔  ہم پر معاشرے کا بہت دباؤہے۔ اور اس معاشرے  میں ہمارے اپنے ہی ہیں جو ہماری سوچنے کی صلاحیتوں  پرحاوی ہوجاتے ہیں۔
جن میں اکثر والدین، استاد،دوست و احباب دیگر وغیرہ شامل ہیں۔ 
یہ وہ لوگ ہیں جو اس دباؤ میں ڈالتے بھی ہیں اور نکالتے بھی ہیں۔ 
سندھ کی نوجوان نسل بھی اس سے بری طرح متاثر ہے۔ اس بڑھتے رجحان کی وجہ سے کئ لوگ خود کو ختم کر رہے ہیں۔
حال ہی میں شکارپور کا 25 سالہ نوجوان سمیت کمار معاشی حالات سے تنگ آکر خود کو موت کے حوالے کر بیٹھا۔
بدین کے 30 سال کے شخص نے بےروزگاری کی وجہ سے خود کو آگ لگادی ۔
تھرپارکر میں 12 سال کے بچے نے کنویں میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی وجہ صرف غربت کی آگ  میں وہ مزید جل نہیں پا رہا تھا۔
امتحان میں ناکامی کی وجہ سے بہت سے  طلبات اپنے والدین کے ڈر کی وجہ سے  اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
حکومت سے انصاف نہ ملنے پر بیشمار لوگ خود کو ختم کرنے پر مجبور ہیں۔

ایسے بہت سے بچے اور دوسرے افراد ہیں جو حالات سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں انھیں سمجھنے والا کوئ نہں ہوتا ان پر گھروالوں اور باہر والوں کا دباو اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، خود کو تنہا کر لیتے۔ہر ایک چیز سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔انھیں کسی چیز کا حل نظر نہیں آتا۔
 اور جب یہ دباؤ اپنی حد تجاوز کر جاتا ہے تو سبب اس نجات کا موت حل بنتی ہے۔
آخر کب تک ہم اس تسلسل کا شکار رہیں گے۔ کب تک خود کو خاموشی کی نیند سلا دیں گے۔ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کم کرنی پڑے گی۔
نوجوان نسل کے خودکش واقعات کے تناسب کو کم کرنے کے لیے طبی اور نفسیاتی مشاورت دینی چاہیے۔اس کی شروعات اپنے گھر سے کرنی چاہیے ماحول کی تبدیلی سے ہی ذہنی تبدیلی آئیگی۔
الغرض اس مقصد کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں، تعلیمی ماہرین اور سماجی کارکنوں کو اس رجحان کی روک تھام کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل اس شکنجے سے آزاد ہو سکے۔ اور ہمارے ملک اور خود کے لیے بہتر کارکردگی کر سکے۔ 
Under Supervision of Sir Sohail Sangi 
Media and Communication Studies, University of Sindh
#Depression, #youth,   #suicide #SidraKhalid, 

Thursday, 31 March 2016

Profile of Danish Nawaz

 Referred back Same composing mistakes. 
              پروفائل
             دانش نواز
 عدنان علی لاشاری
زندگی کے اتار چڑھاﺅ انسان کو بہت کچھ سےکھا دےتے ہےں اور وہی شخص کامےاب ہوتا ہے جو محنت و لگن سے اپنی منزل کو پانے کے لےے جدوجہد کرتا ہے چاہے پھر وہ منزل دنےا کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہو۔پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری مےں مزاحےہ کردار ادا کرنے والوں کی طوےل فہرست موجود ہے مگر نوجوان مزاحےہ اداکار گنے چنے ہی ہےں جنھوں نے بھرپور طرےقے سے اپنا سکّہ ڈرامہ انڈسٹری مےں جمائے رکھا ہے انھی با صلاحےت نوجوانوں مےں دانش نواز کا نام سِِر فہرست ہے۔
    دانش نواز 4اگست 1978ءکو کراچی مےں پےدا ہوئے ابتدائی تعلےم کراچی کے نجی انگلش گرامر اسکول سے حاصل کی اورگورنمنٹ پرےمےئر کالج سے اےف۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ پڑھائی مےں زےادہ قابل شاگرد نہےں تھے کےونکہ انھےں بچپن ہی سے اداکار بننے کا شوق تھااوراس بات پر انھےں اکثر اپنے والد سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔ ان کے والد فرےد نواز بلوچ کا شمار بھی ڈرامہ انڈسٹری کے مشہور اور منجھے ہوئے اداکاروں مےں ہوتا ہے جنھوں نے بغےر کسی سفارش کے صرف محنت کر کے ڈرامہ انڈسٹری مےں ا ±ونچا مقام حاصل کےا۔دانش نواز اپنے گھر مےں سب سے چھوٹے اور لاڈلے صاحبزادے ہےں۔انکے دو بھائی فراز نواز اور ےاسر نواز اور اےک بہن صنم نواز ہے۔ےاسر نواز مشہور اداکار اور ڈائرےکٹر بھی ہے۔ دانش نواز نے 2002ءمےں اپنے کرئےر کا آغاز پی۔ٹی۔وی کے شو” ٹروٹی فروٹی“ کی مےزبانی سے کےا۔ اداکار خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے دانش نواز کو شروع مےں اپنا کرئےر بنانے مےں کافی مشکلات درکار ہوئےں کےونکہ ہر کوئی انکے کام کی مماثلت ، انکے والد اور بھائی کے کام سے کرتا تھا جس کی وجہ سے انکی شناخت ختم ہوتی جا رہی تھی ۔2008ءمےں اپنے بھائی کی پروڈکشن مےں” نادانےاں“ ڈرامہ مےں پہلی بار مزاحےہ اداکاری کی جو قابلِ تعرےف ہے،اور انکے مداحوں نے انکی بہت حاصلہ افزائی بھی کی۔ پھر انھوں نے جون 2011 ءمےں اپنی اہلےہ انےلا دانش کی پروڈکشن مےں مزاحےہ ڈرامہ” اےکسٹراز“ کو ڈائرےکٹ کےا بلکہ خود بطوِر اداکار اس مےں شاندار طرےقے سے مزاحےہ اداکاری کی کہ ےہ ڈرامہ 3 سال تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس ڈرامے کے بعد انھےں ” لڑکا کراچی کا کڑی لاہور دی“ مےں کام کرنے کی پےشکش ملی اس ڈرامے نے انکے کرئےر کو پروان چڑھاےا ۔ےہ کہنا بجا ہوگا کہ اےکسٹراز ڈرامے کے بعد قسمت ان پر مہربان اےسی ہوئی کے ےکے بعد دےگرے ڈراموں کی پےشکش ملنی شروع ہوگئی بلکہ خود ےہ دانش نواز کے الفاظ ہےں کہ ”اس ڈرامے نے مجھے اسٹار بنا دےا“۔
    دانش نواز نے ”ہم تم“، ”او مےری بلّی“ ، ”مس گرم مصالحہ“ ،”بابو جی دھےرے چلنا“ ، ” نےنا“ ، پھر چاند پہ دستک اور” چار چاند“ جےسے مشہور ڈراموں مےں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر اپنی اےک الگ پہچان بنائی ۔ اس کے علاوہ 2009ءمےں سنجےدہ کہانی پر مبنی ڈرامہ تنوےر فاطمہ بی۔اے مےں بھی دانش نواز نے سنجےدہ اداکاری کر کے اپنے مداحوں کو حےران کر دےا۔2012ءمےں دانش نواز ”ھم ٹی۔وی“ اےوارڈ کے بہترےن مزاحےہ اداکاری کے لےے نامزد بھی ہوئے۔2015ءمےں پاکستانی فلم ” رانگ نمبر“ مےں بھی بہرےن اداکاری کی جس سے انھےں بہت پذےرائی حاصل ہوئی۔
     دانش نواز سادگی پسند اور عاجزانہ طبےعت کے مالک ہےں ۔بقول انکے کہ ”عاجزی انسان کو ترقی و کامرانی کی منزلوں سے ہمکنار کرتی ہے اور کبھی بھی انسان کو ترقی کی بلندی سے گرنے نہےں دےتی“۔دانش نواز اپنی کامےابی کا سہرا اپنی اہلےہ انےلا دانش کو دےتے ہوئے کہتے ہےں کہ جب مےں اپنے کرئےر سے بالکل ماےوس ہوگےا تھا تو انےلا نے مےری حاصلہ افزائی کی اور مےرے لےے اےکسڑاز ڈرامہ پروڈکٹ کےا،جس سے مجھ مےں خود اعتمادی پےدا ہوئی۔دانش نواز کی اےک بےٹی ہے جسے وہ اپنی کلُ کائنات سمجھتے ہےں۔
       دانش نواز کی بہترےن اداکاری صرف پاکستان مےں ہی نےہں مانی جاتی بلکہ ہمارے پڑوسی ملک انڈےا مےں بھی بہت سرہائی جاتی ہے۔انڈےا کے مشہور ہداےت کار مہےش بھٹ نے اپنے اےک انٹروےو مےں کہا کہ” دانش نواز بہت محنتی اداکار ہے اور اسکی مزاحےہ اداکاری لاجواب ہے ، خاص طور پر انکے فی البدےہ مزاحےہ فقرے مزاج کو تازگی بخشتے ہےں “ اور انھوں نے اپنی مزاحےہ فلم مےں بطورمزاحےہ اداکار انھےں کام کرنے کی پےشکش کی جو انھوں نے منظور کر لی اور اگلے سال وہ فلم سےنما گھروں کی زےنت بنے گی۔
    اس مےں کوئی شک نہےں کہ دانش نواز محنتی اور با صلاحےت اداکار ہےں اسی وجہ سے انکا کام دنےا بھر مےں سرہاےا جا رہا ہے اور انکی زندگی مستقبل مےں کام کرنے والے نوجوان اداکاروں کے لےے بہترےن نمونہ ہے۔
 عدنان علی لاشاری
 رول نمبر:2k14/MC/153 
Under supervision of Sir Sohail Sangi
#SohailSangi #AdnanLashari, #Profile, #DanishNawaz

Sunday, 27 March 2016

Institute of Art & Design Sabhiya Abro

Institute of Art & Design University of Sindh
Sabhiya Abro
The Institute of Art & Design was established as Department of Fine Arts in 1970 at University of Sindh, Jamshoro Campus, with two year bachelor program i.e BA(Pass) in Fine Arts. In 2005 the Department of Fine Arts was upgraded as the Institute of Art & Design, offering Four-Year Degree Program such as Bachelor of Fine Arts, (Major in Painting, Sculpture, Ceramics, each), Bachelor of Design, (Bachelor of Communication Design), (Bachelor of Textile Design), Bachelor of Art History and One year Diploma in Music. The four year Bachelor and One year diploma program in Music is designed with emphasis on Studio and research disciplines to encourage students for developing their individual style and understanding of Art as well as Design. After having completed four years Bachelor in any of the major area of studies, students may optional M. Phil leading to Ph.D in Art & Design, for further research and specialization in respective major field of studies.

Presently Institute of art and design is suffering from lack of permanent teaching faculty in Textile Design Department and Department of Art  History, Mr. Namatullah Khilji is the Director In charge of the Institution, According to Mr. Naimatullah Khilji. He feel honored to be heading the Institute where he once in 1990 Enrolled as an apprentice/ a student. The Institute at that time, used to be called Department of Fine Arts and it was been nestled in a single row of three classes in the Premises of Geography Departments building.My heart swells with pride to see it as an Institute with five independent departments i.e. sat in a magnificent and spacious two story building with imposing facade and sprawling lawns .since its inception in 1970,

The Institute has been striving to produce Finest Artists /Designers that could cater to the professional needs of the country in the field of Art and Design, As well as Art Education should be the essential part of our society.

Institute of Art and Design is running five Departments presently, where they have five permanent Faculty members in The Department of Fine Arts, five in Communication Design Department and no permanent faculty in the Department of Textile Design, rest are the Research associates and Teaching Assistants.  Institute of Art and Design is somehow managing the situation, and the Classes are Conducted by the Research Associates, and Teaching Assistants.

Mr. Naveed Akhtar senior Teaching Assistant is hired since 08 years and he is giving his Services as the Teacher/Supervisor for the Final Thesis project and Regular Classes, in the Textile Design Department, Every year there is a Huge Attendance in the Textile Design Department said Mr. Naveed. further he added that Students are very much Interested in the Field but due to lack of Facilities they are facing Problems. But despite of that fact students creatively finish their Thesis projects. Not only this Institute is facing issues like no Computers in Lab, very few hand Looms, Printing Machines, even the Electricity problem is also there, due to the fluctuation most of the Tube lights and fans are out of order. In charge Director Naimatullah Khilji sadly share that he tried his best to fix the problems but he said no one listen to him he forward applications but get no response. All the problems on one Side, every year Institute of art and Design produce Brilliant, Young and talented Artists and Designers who came from different parts of Sind and all over Pakistan.

This is the hard work of the Faculty members and Students who is working so hard to make the institute Going On. The Department of Fine Arts is one of the leading departments at Institute of art and design and it already has a History infect it is the Foundation of this Institution.In the First year all the students have Study Foundation where they enhance their Skills of Fine Arts and Design. Subjects like Sculpture, Painting, Design, Drafting, Art History and Visual Arts are been taught by the highly Professional Instructors/ Teachers.

Communication Design department is one of the most Active Departments at Institute of art and Design, Students Study the Art of Communication through the Different mediums like Electronic and Print medias, Art Education is an Independent Education in the world, because it dependent upon the Creativity are the Views of Young and talented teacher  Rabella Abro Lecturer Communication design department. Further she told us that An Artist and Designer always have to come up with Brand New Idea to design the Massage in order to hit the target Audiences. Communication Design is a modern Field every Time the Technology is changed the Medium of Art Changes with it.
Art and Design not only work as the piece of Art to appeal the eye of a viewer but also beauty and Aesthetic plays an important role so does the Art Education.

Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi 
Department of Media & Communication Studies, University of Sindh 

Thursday, 24 March 2016

English Pieces published

English published pieces till 6th issue


Issue no. 1

Feature:    Mahira Majid Ali:   Philtres, natural cure or disaster
Profile:      Rebecca Ursani:      Anita Shah
Interview:  Zain Hyder Shah:   Tufail Chandio

Issue no. 2

Feature:     Fatima Mustafa:        Attraction of Hyderabad
Profile:       M. Uzair Shah:           Noaman Panhwar
Article:       Anam Shaikh:            Single parenting
Interview:   Ayoob Rajper:        Khano Mal

Issue no. 3

Feature:    Sabhiya Mansoor:    Lal Qila (buffet restaurant)
Profile:     Minhaj-ul-Islam:        Imran Shah
Interview: Tehniyat Khan:         Zaynab Shah

Issue no. 4

Feature:   Zain Hyder Shah:     Pakistan Saeedpur College
Profile:     Ayoob Rajper:         Muhammad Hussain Qureshi
Article:     Mahira Majid Ali:    Trends of Sindhi Dramas

Issue no. 5

Department profile:   Fatima Mustafa:   Department of Genetics
Profile:   Anam Shaikh:   Educationist Talat Hidayatullah
Interview:   Rebecca Ursani:   Parvaiz Solangi

Issue no. 6

Feature:   Tehniyat Khan:   Annoying wall chalking
Profile:   Sabhiya Mansoor:   Qazi Asif
Article:   Zain Hyder Shah:   Creativity crossed borders

Interview:   Uzair Shah:   Javaid Ikhlaque

Urdu Pieces published

Urdu pieces published till 6th issue


Issue No. 1
فیچر: مزنہ رئیس: بدلتا فیشن

پروفائل: سمرہ ناصر: حیدراّباد کا چارلی چیپلین

ّّاّرٹیکل: سمعیہ کنول: برتانوی حکومت کاسرکٹ ہاؤس حیدراّباد 

انٹرویو: سائرہ ناصر: ڈاکٹر اقبال سعید خان

Issue no. 2

فیچر: محمد رافع خان: مردوں کا بیوٹی سلون کی طرف بڑھتا رجحان

پروفائل: فرحانہ ناغڑ: سعدیہ کار ڈرائیونگ ٹیچر

اّرٹیکل: فاطمہ جاوید: انگریزی سیکھنے کا شوق

Issue no. 3

فیچر: وارث بن اعظم: گورنمنٹ کالج پھلیلی

پروفائل: محمد بلال صدیقی: پولیس سپاہی سے گرافک ڈزائنر تک

اّرٹیکل: شہریار: حیدراّباد میں ڈی جے پارٹیز
انٹرویو: مصباح: مرتضی شاہ ڈاڈائی


Issue no. 4

فیچر: محمد راحیل: ٹھنڈی سڑک تاریخی شاہراہ

ڈپارٹمنٹ پروفائل: محمد زبیر: انٹرنیشنل رلیشنز

انٹرویو: ثناء شیخ: ڈاکٹر نبی بخش ناریجو

Issue no. 5
فیچر: ملک شاہجہان انصاری: عملی کام سیکھنے سے لے کر بھرپور تفریح: ور کشاپ
پروفائل: بلال مسعود: عبدالسلام انصاری
ّّاّرٹیکل: مریم ملک: حیدرآباد کا سول اسپتال 
انٹرویو: واثق احمد میمن: ڈاکٹر محمد ہارون میمن


Issue no. 6
فیچر: فرحانہ ناغڑ : 6 سے زائد افراد لادے پھرے ایسی مشین
پروفائل: مصباح: رازق ڈن سونارو
فیچر: عدنان لاشاری: نظروں سے اوجھل بلو چستان کا تفریحی مقام پیر غائب


گلوبل وارمنگ سے گلوبل کولنگ تک

گلوبل وارمنگ سے گلوبل کولنگ تک
آرٹیکل : سمرہ ناصر
موسم انسانی زندگی میں اپنا نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں اور زندگی کی طرح ہی بدلتے ہیں اور یہ ہی موسم ہیں جو انسانوں کو ، چرند پرند اور پھول پودوں کو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے خوش بخت اور خوش نما رکھتے ہیں۔ قدرت نے ہر قسم کے موسم رکھے ہیں ۔ سر دی، گرمی، خزاں ، بہار اور یہ چاروں موسم صرف پاکستان میں ہی ملتے ہیں باقی ملک میں یہ چاروں موسم نہیں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ گلوبل ورامنگ رہتی ہے اور یہ گلوبل وارمنگ کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافے ہونے کی وجہ سے بڑھتا ہے ۔ کاربن ڈائی آکسائیڈدراصل کارخانوں کے دھوئے ، ٹریفک کے دھوئے اور جنگلات کے نہ ہونے کی وجہ سے بنتا ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کو آکسیجن اور موزی بیماری کا سامنا ہوتا ہے جس میں ا مراض جلد ، فلو، اور بہت سی نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

لیکن پوری دنیا میں موسمی تبدیلی کی بات کریں تو یہاں گلوبل وارمنگ تو نہیں لیکن گلوبل کولنگ کا حال ہی انکشاف ہوا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپوٹس کے مطابق پتہ چلا کہ پوری ممالک کو پھر گلوبل کولنگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور کولنگ عمل رواں صدی کے وسط تک جاری رہے گا۔ یہ عمل اس لیے پیش آتا ہے کہ سورج Sleepin Mode میں آجاتا ہے اور سورج ایک صدی تک Sleeping Mode میں رہتا ہے جس سے گوبل کولنگ ہونی ہے اور یہ سارے براعظم میں رہتا ہے اور ایشاءممالک میں بھی یہ موسم تبدیلی ہوگی۔ برطانوی اور امریکی اخباروں ، ٹیلیگراف اور ڈیلی میل میں پیش کی گئی ہے ۔ اخبار مذکورہ کا لکھنا ہے کہ اس سال گرمیوں میں آرکٹک میں برف سے ڈھکی سطع کا رقبہ بڑھ کر کذشتہ سال کی نسبت 60فیصد زیادہ ہوگیا ہے۔ اس وقت یہ رقبہ براعظم پورے کے آدھے رقبے کے برابر ہو چکا ہے ۔ روس کے لوگوں کے لیے کڑاکے کی سردی ایک معمولی بات ہے۔ 

ساری دنیا کی بات ہو تو سرد موسم کا اپنا ہی الگ مزہ ہے۔ مثال کے طور پر جہاں برف باری ہوئی ہو اور سردی کی شدت سے برف جمی ہو تو لوگ سکیٹنگ اور مچھلی پکڑنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موسم سرما میں مچھلیاں سمندر سے اوپر آتی ہے جس کی وجہ سے مچھیرو کا کاروبار میں برکت ہوتی ہے اور جو صرف اپنے شوق سے مچھلیاں پکڑتے ہیں ان کا مزہ اور دوبالا ہو جاتا ہے ا ور یورپی کے ہم وطن موسم سرما میں کھلے آسمان تلے ندیوں اور جھیلوں کے سرد پانی میں نہانا پسند کرتے ہیں۔

ماضی کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یورپ میں موسم کافی سرد ہوجاتا تھا ۔ مثال کے طور پر 3نومبر سن 1323کو سردی کی شدت سے اٹلی کے شہر وینس کے قریب سمندر کا پانی جم گیا تھا۔ گزشتہ سال موسم سرما کے آخر تک وینس کے باشندوں کو اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے جہازوں کی بجائے گھوڑا گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایسی مثالوں سے یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے۔


بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم میں موصوف کے مطابق پچھلے ۰۱ برس کے دوران گلوبل وارمنگ کی رفتار میں سستی آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق فی الحال دنیا میں گلوبل کولنگ قدرتی عمل شروع ہوگیا ہے جو کافی مختصر عرصے یعنی تقریباََ 50سال تک جاری رہے گا۔

زمینی علم کے حوالے سے کرئہ ارض تاریخ میں کل ملا کر 4برفانی عہد ہوچکے ہیں۔ ان میں سے آخری برفانی عہد کا تقریباََ 12ہزار سال قبل اختتام ہوا۔ اس وقت جو دور ہے اس میں انسان کے لیے کافی ساز گار موسمیاتی حالات پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے دیر یا سویر نیا برفانی عہد شروع ہو جائے گا۔

آپ و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ماہرین کے بین حکومتی گروپ نے بھی اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ آرکٹک میں برف پگھلنے اور بڑھنے کے اعمال جاری ہے۔


سائنسی مقالوں سے واضح ہے کہ بحیروں میں پانی کا ٹیمپر یچر سال بسال بڑھتا جارہا ہے۔ اس عمل سے سارے کلائمٹ سسٹم سے تعلق ہے ۔ بحیروں کے پانی کا بڑھتا ہوا ٹیمپریچر ثابت کرتا ہے کہ عالمی آب و ہوا میں مدت ایک حقیقت ہے۔
..........................................................................

Do not use english words
Article
گلوبل وارمنگ سے گلوبل کولنگ تک
 سمرہ ناصر

موسم انسانی زندگی میں اپنا نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں اور زندگی کی طرح ہی بدلتے ہیں اور یہ ہی موسم ہیں جو انسانوں کو ، چرند پرند اور پھول پودوں کو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے خوش بخت اور خوش نما رکھتے ہیں۔ قدرت نے ہر قسم کے موسم رکھے ہیں ۔ سر دی، گرمی، خزاں ، بہار اور یہ چاروں موسم صرف پاکستان میں ہی ملتے ہیں باقی ملک میں یہ چاروں موسم نہیں پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ گلوبل ورامنگ رہتی ہے اور یہ گلوبل وارمنگ Carbondioxideمیں اضافے ہونے کی وجہ سے بڑھتا ہے ۔ Carbondioxideدراصل کارخانوں کے دھوئے ، ٹریفک کے دھوئے اور جنگلات کے نہ ہونے کی وجہ سے بنتا ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کو Oxygenاور موزی بیماری کا سامنا ہوتا ہے جس میں ا مراض جلد

، فلو، اور بہت سی نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

لیکن پوری دنیا میں موسمی تبدیلی کی بات کریں تو یہاں گلوبل وارمنگ تو نہیں لیکن گلوبل کولنگ کا حال ہی انکشاف ہوا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپوٹس کے مطابق پتہ چلا کہ پوری ممالک کو پھر گلوبل کولنگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور کولنگ عمل رواں صدی کے وسط تک جاری رہے گا۔ یہ عمل اس لیے پیش آتا ہے کہ سورج Sleepin Mode میں آجاتا ہے اور سورج ایک صدی تک Sleeping Mode میں رہتا ہے جس سے گوبل کولنگ ہونی ہے اور یہ سارے براعظم میں رہتا ہے اور
ایشاءممالک میں بھی یہ موسم تبدیلی ہوگی۔ برطانوی اور امریکی اخباروں ، ٹیلیگراف اور ڈیلی میل میں پیش کی گئی ہے ۔
 اخبار مذکورہ کا لکھنا ہے کہ اس سال گرمیوں میں آرکٹک میں برف سے ڈھکی سطع کا رقبہ بڑھ کر کذشتہ سال کی نسبت 60فیصد زیادہ ہوگیا ہے۔ اس وقت یہ رقبہ براعظم پورے کے آدھے رقبے کے برابر ہو چکا ہے ۔ روس کے لوگوں کے لیے
کڑاکے کی سردی ایک معمولی بات ہے۔
ساری دنیا کی بات ہو تو سرد موسم کا اپنا ہی الگ مزہ ہے۔ مثال کے طور پر جہاں برف باری ہوئی ہو اور سردی کی شدت سے برف جمی ہو تو لوگ سکیٹنگ اور مچھلی پکڑنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ موسم سرما میں مچھلیاں سمندر سے اوپر آتی ہے جس کی وجہ سے مچھیرو کا کاروبار میں برکت ہوتی ہے اور جو صرف اپنے شوق سے مچھلیاں پکڑتے ہیں ان کا مزہ اور دوبالا ہو جاتا ہے ا ور یورپی کے ہم وطن موسم سرما میں کھلے آسمان تلے ندیوں اور جھیلوں کے سرد پانی میں نہانا پسند کرتے ہیں۔

ماضی کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یورپ میں موسم کافی سرد ہوجاتا تھا ۔ مثال کے طور پر 3نومبر سن 1323کو سردی کی شدت سے اٹلی کے شہر وینس کے قریب سمندر کا پانی جم گیا تھا۔ گزشتہ سال موسم سرما کے آخر تک وینس کے باشندوں کو اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے جہازوں کی بجائے گھوڑا گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایسی مثالوں سے یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے۔

بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیم میں موصوف کے مطابق پچھلے ۰۱ برس کے دوران گلوبل وارمنگ کی رفتار میں سستی آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق فی الحال دنیا میں گلوبل کولنگ قدرتی عمل شروع ہوگیا ہے جو کافی مختصر عرصے یعنی تقریباََ 50سال تک جاری رہے گا۔
زمینی علم کے حوالے سے کرئہ ارض (زمیں کا حصہ) تاریخ میں کل ملا کر 4برفانی عہد ہوچکے ہیں۔ ان میں سے آخری برفانی عہد کا تقریباََ 12ہزار سال قبل اختتام ہوا۔ اس وقت جو دور ہے اس میں انسان کے لیے کافی ساز گار موسمیاتی حالات پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے دیر یا سویر نیا برفانی عہد شروع ہو جائے گا۔

آپ و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ماہرین کے بین حکومتی گروپ نے بھی اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ آرکٹک میں برف
پگھلنے اور بڑھنے کے اعمال جاری ہے۔
سائنسی مقالوں سے واضح ہے کہ بحیروں میں پانی کا ٹیمپر یچر سال بسال بڑھتا جارہا ہے۔ اس عمل سے سارے کلائمٹ سسٹم سے تعلق ہے ۔ بحیروں کے پانی کا بڑھتا ہوا ٹیمپریچر ثابت کرتا ہے کہ عالمی آب و ہوا میں مدت ایک حقیقت ہے۔
Fotos are used only for academic purpose


Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi, Department of Media & Communication Studies, University of Sindh 
#Globalwarming, #Environment, #ClimateChange, #SimraNasir, #SohailSangi