Monday, 1 February 2016

محمد رافع خان -- پروفائل

Referred back
پروفائل
 Intro should be interesting? what is unique? Photo also required.This is biography not profile


نام: محمد رافع خان
رول نمبر: 2k14/MC/140
کلاس: BS III
                             محمد رضا قریشی (باڈی بلڈر)    

محمد رضا قریشی ۷ جون ۱۹۸۵ ؁ کو شہر حیدرآباد میں پیدا ہوے۔ جہاں بچپن میں بچوں میں کھیلنے کودنے کا شوق پایا جاتا ہے وہیں ان کا شوق اس کے برعکس دکھائی دیا۔ نہ انھیں پتنگ بازی کا شوق تھا ،نہ گلّی ڈندے سے محبت، نہ کبڈی کے دیوانے تھے، نہ کرکٹ بھاتی تھی،نہ کنچے کھیلا کرتے تھے،نہ فٹبال میں دلچسپی تھی۔ ہاں مگر کھانے پینے کے خاصہ شوقین تھے جس کی وجہ سے یہ بچپن میں ہی موٹاپے کا شکار ہو گے۔



طرح طرح کے کھانے کھانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، باہر کے کھانے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس کی وجہ سے موٹاپا دن بہ دن بڑھتا چلا گیا اور ان کی پریشانی کو بھی بڑھاتا چلا گیا۔ نہ تو یہ عام بچوں کی طرح دوڑ لگا سکتے تھے اور نا ہی ان کی طرح کھیل کود سکتے تھے، بے حد سُستی کا شکار ہو گے تھے۔


پڑھائی کا بھی خاصہ شوق نہیں تھا، فلموں کے شوقین تھے۔ بچپن میں اسکول سے غیر حاضر ہو کر فلم دیکھنے نکل جایا کرتے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے والد کی مار سہنی پڑھتی۔ بچپن گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی کا رہا سہا شوق بھی جتم ہو گیا۔


محمد رضا قریشی نے ۲۰۰۷ ؁ میں سٹی کالج سے انڑر کیا۔ موٹاپے کے باعس ۱۵ سال کی عمر میں ان کا وزن ۷۰ کلو تک پہنچ گیا تھا۔ موٹاپے سے تنگ آ کر انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے جاتمے کے لیے یہ کچھ بھی کر جائنگے۔ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے جم کا رخ کیا۔ آہستہ آہستہ ان میں بہتری دکھائی دینے لگی۔


جم کو انہوں نے اپنا شوق مقصد بنا لیا ۔ وقت کا خاصہ حصہ جم میں اپنے استاد کی نگرانی میں گزار دیا کرتے۔ موٹاپے کے خاتمے کے لیے خراک میں کئی کئی دن تک روٹی نہیں کھاتے اُبلے ہوے چاول پر گزارہ کرتے۔ انہوں نے ٹھان لی کہ موٹاپے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے باڈی بلڈر بھی بن کر رھینگے اب یہی ان کا مقصد بن چکا تھا۔



اس شعبے میں انہوں نے دل و جان سے محنت کی، اپنے آپ پر کافی محنت کی۔ آخر کار کافی مشکلات کا سامنہ کرنے کے بعد وہ ددن آ ہی گیا اور ان کا مقصد پورا ہوا۔۲۰۰۶ ؁ میں ڈسڑرک حیدرآباد باڈی بلڈر کا خطاب ان کے نام ہوا۔ اس خطاب کے ملنے کے بعد باڈی بلڈنگ کو انہوں نے روزی روٹی کا ذریعہ بنا لیا اور آج یے مسل مینیا جم میں بطور ٹرینر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔


محمد رضا قریشی ایک اچھے ٹرینر ہیں، اپنے شاگردوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو وہ پڑھائی لکھائی میں اپنی توجہ صرف کر دیتے اورڈاکٹر یا انجینئر بن جاتے ، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ڈاکٹر یا انجینئر کے شعبے کو اپنانے کے بجاے انہوں نے باڈے بلڈنگ کو اپنایا اور ایک اچھے باڈی بلڈر بن کر سامنے آے۔


وہ اس لیے کیوں کے موٹاپے کے خاتمے کے لیے جن مشکلات ،جن پریشانیوں سے گزرے ہیں اور اپنے موٹاپے کو شکست دی ہے،یہ اور لوگوں کو بھی جو موٹاپے کا شکار ہیں ان تمام مصیبتوں سے نکالیں اور انہیں اس مشکل سے نکالنے کے لیے بھی مددکریں، کیوں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور یہ ایسے لوگوں کے کام آئیں جو موٹاپے سے پریشان ہیں۔


محمد رضا صادہ لباس استعمال کرتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی باتوں میں مزاح بھی پایا جاتا ہے۔ان میں غروروتکبّر نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھے باڈی بلڈر اور ایک اچھے ٹرینر میں موجود ہونی چاہیں۔

Profile of Noaman Panhwar

foto is required
PROFILE By M Uzair
NOAMAN PANHWAR
A boy who believes in hardworking!

Noaman Panhwar had achieved the great success in Speech and Debate Competitions over years, served brilliantly in training new participants for speech and debate competitions, and is now working as Junior Officer in National Savings, the department under ministry of Finance, Government of Pakistan.

Mr. Panhwar actually proved that everything can be achieved by the true hard work. He as the brilliant student acquired much success one after other. In 2011 he was declared the Best Debater in All-Pakistan Inter-Universities Allama Iqbal Shield English Debate Contest (Sindh Region).
One year ago Panhwar secured Second Position in Inter-Departmental English Debate Competition at University of Sindh, Jamshoro. In the same competition of year 2009, he secured Third Position.
To Mr. Panhwar ‘Debate has been his passion since school life.’ He said, “Debate is an act of presenting your ideas and thoughts to others for convincing them.” He further added, “I have enjoyed my life as student in setting high goals then making struggles to achieve them.”

Besides his brilliance in competitions, Noaman acquired a good skill of teaching English language. Noaman continued teaching English in institutions for years with studies. He earned a great respect and fame in in the field of teaching. In this regards Mr. Noaman Panhwar has been awarded twice with Pride of Performance for rendering dedicated services for the students: once by Stream Line English language institute in Sept 2013, and second time by Student Care Centre in Dec 2014.
According to some of his university friends, “Noaman had the finest accent of speaking English among them.” They believed, ‘His way of delivering his speeches is appreciate able.’

Noaman was born in Hyderabad, completed his Matriculation in 2006 from Government High School no.1 Society, Intermediate in 2008 from Government Higher Secondary School Halepota. He was graduated in 2011 from University of Sindh, Jamshoro, and did his masters in 2014 from Quaid-e-Azam University, Islamabad. In October 2015 he was appointed in National Savings’ Head Office, Karachi as Junior Officer and currently working there.

Noaman has achieved many mile stones in his small career. He has received many awards: Certificate of Excellence by Azm-e-Nojawan Conference in recognition of meritorious performance in curricular and co-curricular activities on Feb 19, 2011, Award of 1st Position in All-Pakistan Inter-Universities Allama Iqbal Shield English Debate Contest (Sindh Region) which was organized by HEC (Higher Education Commission) at NED University, Karachi on 8th Jan 2011, award of 2nd & 3rd Positions in Inter-Departmental English Debate Competition on 2nd Nov 2010 & 18th March 2009 respectively, award of Pride o Performance by Stream Line English Language Institute in Sept 2009, and the same award from Student Care Centre in Dec 2014, award of the Best Student of the year by Stream Line English Language Institute in 2005.

Throughout his career he has had the opportunity to participate in various events such as All-Pakistan Muhammad Ali Jinnah Bi-Lingual Declamation Contest at University of Management and Technology, Lahore in January 2010, Round Table Discussion Conference on issue Challenges of the Youth which was organized by Ministry of Youth Affairs Sindh at Hotel Regent Plaza, Karachi in June 2009, Inter-Personal Communication Skills Workshop Training at University Of Karachi in Oct 2009 and so many others.

Noaman’s father said, “I am always proud of Noaman, he has been a brilliant son & student for years.” Noaman recently received a certificate from Bureau of STAGS, University of Sindh for his brilliance in as a student of university in 2009 & 2010. Noaman said, “I am looking forward to future. I am still to achieve much in future.”

He is the role model for many young students.

(Muhammad Uzair Shah-158)

WMC workshop report By Misbah


Misbah-ur-Ruda
2k14/MC/52
wmc report
Medium: Urdu
WMC REPORT
ومن میڈیا سینٹر کی طرف سے انڈس ہوٹل حیدرآباد میں لڑکیوں کے لیے ۵ دن کی الیکٹرونک میڈیا کورس ٹرینگ رکھی گئی NED کی مدد سے جو قاضی آصف ٬ زویہ خان٬ نازیہ قریشی ٬ محمد فاروق نے مل کر رکھی تھی جس کا موزوں تھا Humanistics beliefs and practices of sufism to counter ‘ Extremism ‘ جس میں مختلف  ٹرینرز کو بلایا گیا پہلے دن پریس کانفرنس کا سیشن رکھا گیا جس میں پی ۔پی۔پی کے ایڈوائزر اور فیڈرل منسٹر حیدرآباد مولا بخش چانڈیو نے پریس کانفرنس کی اور لڑکیوں کو کچھ خاص باتیں بتائیں کہ حوصلہ رکھیں اور سچائی پر اپنا یقین رکھیں گی تو کوئی طاقت آپکو آگے جانے سے روک نہیں سکتی یہی پاکستان کی ترقی کا راز ہے تنقید برداشت کرنی ہونگی آج نفرتوں کی فضاء تھم گئی ہے آپ کی کوششوں سے ٬ آپ ہمت کریں اور اسلام کا راستہ اختیار کریں اس کے علاوہ سہیل سانگی ٬ خورشید فوزیہ شاہین نے شرکت کی اور اپنے تجربات کے بارے میں لڑکیوں کو بتایا پہلے دن کے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے الیکٹرونک میڈیا کی اسکرپٹ رائٹنگ کے بارے میں سمجھایا دوسرے دن بھی سیشن رکھے گئے جس میں پہلے سیشن میں زائد کلہوڑو صاحب آئے اور انھوں نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا کہ کسی بھی خبر کے لئے کریڈیبلیٹی ہونا ضروری ہے اور خبر بنانے کا طریقہ آنا ضروری ہے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے دوسرے سیشن میں قاضی آصف نے بیسکس اوف رائٹنگ بتایا ایز ۔ لائف کا طریقہ بتایا اور کیمرے کے سامنے سب سے ایز۔لائف لی تیسرے سیشن میں زیب سندھی صاحب آئے اور پھر چوتھے سیشن میں سر قاضی آصف نے پیکج دکھایا اور اس کا طریقہ سکھایا تیسرے دن سر محمد فاروق نے ٹرینگ کا آغاز کیا اور سب سے پہلے سب کو اپنے تعارف کے ساتھ ایک خوبی اور ایک خامی بتانے کو کہا اور خود نے بھی بتائی پھر مسعود لوہار نے پہلے اپنے تجربات بتائے اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر سر محمد فاروق نے شوٹ کا طریقہ بتایا کہ کسی بھی شوٹ کے لئے پہلے اس کی تیاری کرنی چائیے پھر لڑکیوں کو ۲ گروپ میں تقسیم کر کے کیمرے کے تمام حصوں کا بتایا ٬ کیمرہ چلانا سکھایا اور لڑکیوں سے پریکٹس بھی کروائی پھر جامی چانڈیو صاحب آئے اور مزہبی انتہا پسندی کے بارے میں بتایا کہ سچ کو دیکھنا چاہئے کچھ لوگ سوچتے ہیں میری بات آخری ہے میں جو سوچ رہا ہوں وہ صحیح ہے باقی لوگوں کو ماننا پڑے گا چاہے کچھ بھی ہو نہیں مانیں گے تو آپ کو چھوڑینگے نہیں کیونکہ ان کا وجود نا گوار گزرتا ہے انتہا پسندی کی بنیاد وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں عقل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے عقل انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ہے عقل کبھی خراب نہیں ہوتی انتہا پسندی سے مراد یہی ہے کہ عقل کھودیں اور خود کو اعلی سمجھیں آخری سیشن میں سر محمد فاروق نے پی۔ٹی۔سی سیکھائی اور پھر تمام لڑکیوں سے کیمرے کے سامنے پی۔ٹی۔سی لی چوتھے دن بھٹ شاہ اور اوڈیرو لال لے کر گئے لڑکیوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور دونوں گروپوں کو پیکج بنانے کا کہا گیا دونوں گروپوں نے وہاں موجود لوگوں سے معلومات حاصل کی اور ہر منظر کو کیمرے میں قید کیا اوڈیرولال میں مندر اور مسجد دونوں برابر میں تھے ایک ہی وقت میں آزانیں بھی ہوتی اور گھنٹیاں بھی بجتیں یہ ا س بات کا ثبوت ہے کہ ہندو ہو یا مسلم سب مل کر رہتے ہیں کسی میں کسی قسم کا کوئی اختلافات نہیں آخر میں تمام لڑکیوں نے وہاں کی پی۔ٹی۔سی دی پانچویں دن دونوں گروپوں سے رپورٹ بنانے کے لئے او۔سی اور وی۔او لیا گیا پھر پیر حسام الدین راشیدی نے آکر سوشل میڈیا ٹولز کے بارے میں بتایا اور پھر لڑکیوں کے سوالات کے جوابات دئیے پھر آخر میں سہیل سانگی نے تمام کڑکیوں میں سارٹیفیکیٹ تقسیم کئے اس ٹریننگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا اور اس میں بہت مزہ آیا


WMC workshop Report by Rebecca


Rebecca Ursani
BS-III Roll no: 2K14/MC/81
WMC Report.
A five days electronic media workshop was arranged by Women Media Center (WMC) from 18th of January to 22nd January at Indus Hotel, Hyderabad. The object of this workshop was to bring forward the women journalists and the topic to be discussed was Humanistic Beliefs and Practices of Sufism to Counter Extremism. The workshop was attended by the female students of Mass Communication department, University of Sindh which were around 25 in number. The first day went occupied with Mola Bux Chandio’s press conference where he spoke regarding his own political party. The journalists were given chance to put forward their interrogation, while the girls also participated in asking questions to Mola Bux Chandio. After his departure, we were learnt about script writing by Qazi Asif, reporter on News One. The basics of script writing, how to record in a correct manner and the basic terms of media language were taught to the students. Day second was spent in learning about news reporters, how to make news, what is the reality behind live reporting, On Camera (OC), Voice over (VO), live reporting and as live reporting. The third day was attended by a senior reporter Farooq Mohammad who taught us how to record the shots, what are the objectives that a reporter requires to make his report, how to operate camera in different angles, camera handling and we also practiced Piece to Camera (PTC) that developed a confidence among all the girls to speak before the camera lens. The fourth day was quite adventurous. The trainees were taken for a trip to Udero Laal and Bhitshah shrine to practice PTC in public. For that, the girls were divided into two groups and each group was to practice their PTCs at two different places. Group A was assigned Udero Laal whereas group B was assigned Bhitshah shrine. Udero Laal was a very new place to most of the girls as and all the girls found it unique because it was the place where different groups of people, Muslims and Hindus, practiced their religions under same roof. The girls were first given chance to observe the place and then prepare their PTC. Likewise, Bhitshah was reported by group B and they followed the same criteria. Day five was the day of distribution of certificates and practicing OC, VO and Sound on Tape (SOT). The certificates were awarded to each girl by Masood Lohar and senior most journalist, Sohail Sangi.

Profile of Abbas Korejo - عباس ڪوريجو

Intro is too traditional. make some new, unique
 Un checked 
پروفائيل: عباس ڪوريجو  اديب ۽ شاعر
مشتاق علي جمالي 
2k14/MC/142
سنڌ ڌرتي جي سڳند مٽيءَ مان اهڙن مهان شخصيتن به جنم ورتو آهي، جن پنهنجي سڄي زندگي قوم جي بهتري لاءِ وقف ڪري ڇڏي. نوجوان اديب، شاعر۽ تعليمي ماهر عباس ڪوريجو  جو شمار به انهن ماڻهن ۾ ٿئي ٿو.

عباس ڪوريجو پهرين مارچ 1983ع تي قمبر شهر ۾ جنم ورتو. هن شروعاتي ۽ هائر سيڪينڊري جي تعليم قمبر مان حاصل ڪئي، ۽ شاه عبدالطيف يونيورسٽي خيرپور مان ڪمپيوٽر سائنس شعبي ۾ ماسٽرس ڪيائين. ان کان علاوه هو هڪ نجي انسٽيوٽ ۾ پرنسيپال طور ذميواريون پڻ سر انجام ڏنيون. عباس ڪوريجو کي ننڍپڻ کان ئي ادبي ڪهاڻيون پڙهڻ ۽ لکڻ جو شوق هو ان شوق کيس هڪ بهترين اديب بڻائي ڇڏيو، ۽ مختصر وقت ۾ سنڌي ادب کي ٽن ڪتابن جو تحفو ڏنو. سندس پهريون ڪتاب ‘‘ چنڊ پيرن هيٺ ’’ ان وقت پبلش ٿيو، جڏهن هو اڃا اٺين ڪلاس ۾ پڙهندو هو، ها اٺين ڪلاس ۾...اٺين ڪلاس جي شاگرد جي عمر به ڇا هوندي ؟ جيڪڏهن ائين چئجي ته اٺين ڪلاس ۾ پڙهندڙ شاگردن جي عمر اڃا رانديون ڪرڻ جي آهي ته ان ۾ ڪو به وڌاءُ نه ٿيندو، پر عباس ڪوريجو ان ٻاراڻي عمر ۾ هڪ شاهڪار ڪتاب لکي قمبر واسين کي تعجب ۾ وجھي ڇڏيو. ان ڪتاب کي پڙهندڙن طرفان پڻ زبردست موٽ ملي ۽  مڃتا طور سنڌي ادبي  سنگت  2009ع ۾ ليکڪ کي ايوارڊ سان نوازيو.

سندس ٻيو ڪتاب “ پنهجي ڌرتي” 2014ع ۾ پبلش ٿيو. جنهن کي  پڻ ڪافي موٽ ملي، ۽ ان مختصر ڪهاڻين تي مشتمل ڪتاب کي سنڌي ادبي بورڊ طرفان  سال 2014ع جو بهترين ڪتاب قرار ڏنو ويو، جنهن بعد سندس ٽيون ڪتاب “ جديد ڪهاڻي، فن ۽ موضوع ” 2015ع ۾ پبلش ٿيو. ۽ سندس چوٿون ڪتاب پڻ ڇپائي جي آخري مرحلن ۾ آهي .

عباس ڪوريجو کي ادبي ۽ تعليمي خدمتن عيوض مرزا قليچ بيگ چيئر طرفان پڻ ايوارڊ سان نوازيو ويو ۽ هن بيسٽ يونٽ رينڪرپڻ ماڻيو.هن نوجوان اديب ۽ شاعر پنهنجي ڪم کي ئي مقصد بڻايو ۽ مسلسل جدوجهد ڪري وڏي مڃتا ماڻي. ان کان علاوه هَن نوجوانن جي آن لائن  رهنمائي لاءِ 100 کان وڌيڪ ويب سائيٽون ٺاهيون، مٿان پهريون ڀيرو ڳاله فيسبوڪ تي ٿي جتي ناليوارا اديب ميسج ڏسڻ باوجود به جواب ڏيڻ جي زحمت نه ڪندا آهن، پر هن نوجوان اديب نه صرف جواب ڏنو  پر مختلف موضوعن تي ڳاله ٻولهه پڻ ڪئي. سندس مزاج نج صوفياڻو آهي. سچ ته قلم جي نوڪ مان ڳوري ڪاغذ تي اڪرندڙ هر لفظ سنڌ ۽ سنڌين جي لاءِ هجي ٿو، هو ته سندس مزاج  صوفياڻوآهي پر جيجل سنڌ جي اشوز جي حوالي سان جذباتي ٿيو وڃي  انجو ثبوت سندس انقلابي شاعري آهي....
                                              
جيجل تنهجي مٺڙي ٻولي 
هر هر مون لاءِ کولي جھولي 
ڌرتي تنهجو ڪهڙو مقدر
هر هند لاشا، هرسو گولي
سندس چوڻي ذندگي تمام مصروف گذري پئي، پر ڪڏهن ڪڏهن واندڪائي ۾ شاعري ڪري وٺندو آهيان.خواهش آهي ته شاعري سان چاه رکندڙ نوجوان شاگردن لاءِ ڪتاب آڻيان.سچ ته عباس ڪوريجو جي زندگي اڄ جي انهن شاگردن لاءِ مشعل راه آهي، جيڪي علمي ۽ ادبي حوالي سان قوم لاءِ ڪجھ ڪرڻ جا خواهشمند آهن.
پروفائيل: عباس ڪوريجو  اديب ۽ شاعر
مشتاق علي جمالي 
2k14/MC/142

WMC workshop report by Faryal


Un checked
  WMC workshop Report
 By Faryal Abbasi
WMC رپورٽ 
فريال عباسي
رول نمبر:2k14/MC/119
ومين ميڊيا سينٽر جي طرفان ٿيل ورڪ شاپ ۾ ميڊيا اينڊ ڪميونيڪيشن جي شاگردياڻين شرڪت ڪئي  جنهن ۾ سيڪنڊ ايئر ٿرڊ ايئر ۽ فائينل ايئر جي شاگردياڻين شرڪت ڪئي جنهن ۾ ھنن کي صحافت جي سکيا ڏني وئي  گڏو گڏ  اليڪٽرانڪ ميڊيا جي بہ سکيا ڏني وئي پهرين ڏينهن مولا بخش چانڊيو جي آمند ٿي ۽ هن شاگردياڻين  کي صوفي زمƓ جي حوالي ڪجھ ڳاليون  ٻڌايون تہ ڪيئن صوفيزم دهشتگردي کي ختم  ڪري سڳهي ٿو انهن پريس ڪانفرنس دوران ڪجھ شاگردياڻين مولا بخش چانڊيو کان سوال بہ ڪيا جنهن مان هڪ سوال سنوبر شورو ڪيو تہ جڏھن بسمہ فوت ٿي هئي بلاول ڀٽو جي پروٽول جي ڪري تہ انهن جو ذميوار ڪير آھي مڳلا بخش چانڊيو ذميوار تہ نہ ٻڌائين صرف اهيو چيائين تہ بلاول ڀٽو بسمہ جي گهر ويو فاتح ڪري آھيو جتي بسمہ جي پئُ کيس عزت ڏنائين آخر ۾ مولا بخش چانڊيو محبت ۽ نفرت جي سمجهاڻي ۽ مثال ڏئي پنهنجي اسپيچ ختم ڪيائين ۽ پو۽ شاگردياڻين سان گڏ سيلفي پڻ ڪڊرائين پهرين ڏينهن جي پريس ڪانفرنس ڪامياب ٿي پنهنجي پڄاڻي تي پوهتي جنهن مان سڀنين شاگردياڻين کي ميڊيا ۽ پريس ڪانفرنس جي ڄاڻ ملي شاگردياڻين جو چوڻ آهي تہ اسان انهن پريس ڪانفرنس مان گهڻو ڪجھ سکيو ۽  ميڊيا جي حوالي سان نئيون ڳالهيون بہ خبر پيون جيڪي اسان کي يونيورسٽي ۾  سکايون نہ وڃن ٿيون انهن پريس کان پو۽ پهرين ۽ ٻئي ڏينهن اليڪٽرانڪ ميڊيا جي سکيا ڏني وئي جنهن ۾ سينئير صحافي سهيل سانگي ۽ ٻئي ڏينهن ڊراما رائيٽر زيب منسور صحاب ميڊيا جي بابت ليڪچر ڏنائون سهيلسانگي جن ٻڌايو تہ اهڙا ورڪ شاپ حيدراباد ۾  ٿيندا رهن ڇو تہ عورتن لا۽ ميڊتئيا ۾ اچڻ جا ڪافي گهٽ موقعيا هوندا آھن ۽ زيب منسور صحاب پنهنجي  زندگي جو تجربو شيئر ڪيو ۽ چيائين تہ اصلي ڄاڻ ناول ڪهاڻين يا هسٽوريڪل ڪتابن مان ملي ٿي اگر اوهان هسٽوريڪل ڪتاب نہ پرهندا تہ اوهان کي اها ڄاڻ نہ هوندي جيڪا هڪ جنرلسٽ کي هئڻ گهرجي  انهن سڀني کان پو۽ قاضي آصف اليڪٽرانڪ ميڊيا جي حوالي سان ليڪچر ڏنائين  ميڊيا ڪئين ٿي ڪم ڪري ۽ هڪ سهي پيڪيج ڪئين ٺاهي انهن شاگردياڻئن کي ٻڌايو تہ هڪ پيڪيج نوين سيڪند جو هوندو آھي هن کان هيٺ تہ اها هڪ خبر ٿي ويندي گڏوگڏ ٽيڪنيڪلٽرم بہ سيکاريا ويا تہانهن ۾ ڪهڙي لفظن جو ڪيئن استعمال ڪجي  انهن کان پو۽ شاگردياڻين کي پريڪٽيڪل ڪم ڪرايو ويو ڪيمرا جي سامهون ڪئين بهي ڳالهائيجي ڪيئن هڪ خبر ٺاهجي  اها سڀ سکيا ڏني وئي ٽيئي ڏينهن محمد فاروق ليڪچر ڏنو ۽  ايندي ئي سڀني شاگردياڻين جو ڪانفيڊنس ليول چيڪ ڪيائين ۽ حوصلا افضائي ڪيائين ڪيمرا هينڊلينگ رپورٽنگ هڪ ئي ڏينهن ۾ سڀنين شاگردياڻين کي ڪيمرا جي اڳيا اچي رپورٽنگ ڪرڻ سکاري ڇڏيائين جيڪو اهي يونيورسٽي ۾ نہ ٿيون سکي سڳهن چوٿين ڏينهن شاگردياڻين کي ٻاهر آئوڊور ورڪ ڪرايو ويو جنهن ۾ هنن کي ٻن گروپن ۾ رڪسيم ڪيو ويو گروپ اي ۽ گروپ بي گروپ اي کي اوڏيرولال ۽ ڀٽ شاھ وٺي ويا اتي هنن هڪ اڏيرولال جو پيڪيج ٺاهيو اتي جي فقيرن صوفين کان انهن مزار ۽ اڏيرولال بابت سوال ڪيا اڏيرولال جيئتي هندو ۽ مسلمان  مزار جي هڪ ۽ اڱڻ ۾ وهي لنگر ڪندا آھن ۽ انهن ۾ ڪا بہ نفرت جا جنگ ناهي انهن کان پو۽ ڀٽائي سائين جي درگاھ تي ويا اتي جي بہ صوفين درويش ۽ آيل ماڻھون کان سوال جواب ڪيائو پنجئي ڏينهن انهن ورڪ شاڪ جو پڄاڻي جو ڏينهن هو جنهن ۾ مسود لوهار شرڪت ڪئي ۽ تمام سٺيون ڳالهيون ۽ محبت جو پيغام ڏنائين انهن کان پو۽ سهيل سانگهي ۽ مسود لوهار گڏجي شاگردياڻين ۾ اليڪرانڪ ميڊيا جا سرٽيفڪيٽ تقسيم ڪري ورڪ شاپ کي پڄاڻي تائين پهچائين .
شاگردياڻين جو چو ڻ آھي تہ اهڙا ورڪ شاپ عورتن لا۽ ٿيندا رهن انهن سان عورتن جي حوصلا افضائي ٿيندي آهي ۽ گڏوگڏ الاهي ڪجھ سکڻ لا۽ ملندو آهي جيڪو روزمراھ جي زندگي ۾ اسين نٿا سکهي سڳهون

Profile of Ghulam Mustafa Abbasi



فريال- پروفائل غلام مصطفٰي عباسي
  2k14/MC/119 :رول نمبر 
دڙي شھر ۾ ھڪ مڊل ڪلاس خاندان کان تعلق رکندڙ غلام مصطفٰي عباسي جنهن جي پيدائش 1938 ۾ دڙي شھر ۾ ٿي . تڏھن جي دور ۾ پاڪستان ۽ انڊيا هڪ قوم هئي ۽ تعليم حاصل ڪرڻ ھڪ عام ماڻهو جي لا۽ ڪافي مشڪل هو، اهو ائين جو تنهن جي زماني ۾ تعليم حاصل ڪرڻ جي لا۽ پري وڏن شھرن وڃڻو پوندو هو ڇو تہ ننڊڙن شھرن ۾ صرف ڏھ درجا پڙھايا ويندا هئا  اڳئي دور ۾ مائيٽ گهڻو ڪري پنهنجي ٻارڙن کي ڪاروبار ۾ آڻيندا هئا تہ جئين هنن جو اهو ڪاروبار نسل بہ نسل موجود هجي پر  اڄ جي دور ۾ اها سوچ آھستي آھستي ختم ٿيندي پئي اچي .
غلام مصطفٰي عباسي ٻڌائن ٿا تہ تڏھن جي دور ۾  پڙھيل لکيل خاندان ڪجھ ئي هئا تنهن مان هڪ سندن آهي ۽ تڏهن جي دور ۾ نياڻين کي تعليم حاصل ڪرڻ کان روڪيو ويندو هو پر ڪجھ خاندان هئا جن پنهنجي نياڻين کي پنج کان اٺ درجن تائين پڙهايو  . پاڻ ٻڌائين ٿا تہ سندن دور ۾ پڙهائي جي حوالي سان ڪو بہ ميلو يا ايوينٽ نہ ٿيندو هو بلڪہ ٻيا ميلا جئين ٿيندا هئا جيڪي اڄ بہ ٿيندا  اچن جيئن ڀٺوري شھر ۾ ھر سال هڪ درگاه جو ميلو ٿيندو هو ۽ اهو اڄ بہ هر سال وانگر ملائيندا آهن جتي آسي پاسي ڳوٺ جا ماڻهو توري دڙي شھر جا ماڻهو بہ ويندا آهن .
غلام مصطفٰي عباسي  ٻڌائي ٿو تہ ڪڻس پڙھڻ جو گهڻو شوق هو ۽ والي بال جو هڪ بهترين رانديڪر  پڻ هو ۽ ميٽرڪ کان پو۽ هائير ايجوڪيشن لا۽ نورمحمد هائي اسڪول حيدرآباد ۾ داخلا ورتي يارنهن ڪلاس جي تعليم حاصل ڪندي وقت نورمحمد هائي اسڪول ۾ والي بال جو ڪيپٽن ٿي رهيو جڏھن ٻارنهن ڪلاس پڙهي ورتئين تہ پنهنجي شھر ڏانهن واپس رک ڪيائين ۽ والي بال جي هڪ بهترين ٽيم جوڙين جنهن ۾  اڄ بہ  انهن  جي رڪارڊ ۾ هڪ بهترين رانديڪر جي حوالي نالو موجود آهي .

1955 يعني ننڊي عمر ۾ عباسي لائبريري کوليائين جنهن ۾ اسلامي تاريخ ، سنڌي تاريخ، ادب، شاعري، جاسوسي ادب، ۽ ٻين موضون جا ڪتاب پڻ شامل هئا انهي ڪتابن مان شھر جي تمام نوجوانن ، شاگردن، ۽ شھرين برپور فائدو ورتو اڄ بہ اها لائبريري  سندس گهر ۾ موجود آهي پر شھرين جي لاپرواهي جي موجب ڪجھ ڪتاب وڃائجي ويا . انهن لائبريري مان اڄ سندس نسل بہ پڻ فائدو وٺي رهي آھي .
پاڻ زنده دل تبيعت جو ماڻھو آهي هميشہ بيسهارا ماڻهون جي مدد ڪرڻ سندس اولين ترجيح رهي آهي پاڻ ڪڏهن ڪنهن جو محتاج نہ بڻائين هميشہ محنت مزدوري ڪري پنهنجو خرچ ڪڊندو هو گذر سفر ڪرڻ لا۽ سڄي عمر سونارڪو ڪم  ڪندو رهيو سونارڪي جو هنر حيدرآباد مان سکهي پو۽ پنهنجي باڻيجن کي بہ سکيا ڏنائين دڙي شھر ۾ سندس مڪام هڪ اعليٰ  درجي  تي آهي هڪ بهترين رانديڪر ، هڪ بهترين استاد، هڪ بهترين سونارو اڄ بہ شھر جي ماڻھون توڙي ٺٽي شھر مان بہ ماڻهو پنهنجي سونارڪي ڪم سان ايندا آهن پر اڄ ھو هن حالت ۾ ناهي جو سونارڪو ڪم ڪري سڳهي ڪڻس پٽ جي گهڻي خواهش هئي پر اللّه کي جيڪو منظور هوندو آهي اهو ئي ٿيندو آهي ڪڻس ماشااللّه پنج ڌيئرون آھن.  ڪڻس پنج   ڀائيٽا آهن جن جي پڙھائي ۾ برپور ڪردار ادا ڪيائين جيئن عمر وڌندي رهي هڪ مايوسي ۾ مبتلا ٿيندو رهيو سونارڪو ڪم تڪ ڇڏي ڏنائين ڪافي بيمار رهڻ لڳو هاڻي هو پنهنجي گهر ۾ آرام ڪندو آهي ۽ فريش ٿيڻ لا۽ گهر جي پاسي اوطاق تي وڃي پنهنجي دوستن سان ڪچهري ڪري واپس موٽندو آهي .
جنهن پنهنجي سموري زندگي محنت مزدوري ۾ گذاري انسانن سان محبت ۽ پيار وارو رشتو قائم رکيائين ۽ پنهنجي نسل سميت سڀنين کي محبت ۽ پيار جو سبق ڏيندو اچي چاهي امير هجي يا غريب هجي سڀنين سان هڪ ئي رويو رکندو آهي اڄ انهن جا چاهيندڙ شاگرد انهن لا۽ دعاڳو آهن تہ شل اهڙا استاد اسان جي ملڪ ۽ پوري دنيا ۾ هجن تہ نفرت جي جنگ ختم ٿي سڀ پيار ۽ محبت سان رهن